Original Articles Urdu Articles

شہباز بھٹی امر رہے- عامر حسینی

دو مارچ 2011ء کے ہی دن اسلام آباد کی صبح تاریکی کے ساتھ نمودار ہوئی تھی جب سابق وفاقی وزیر ملک شبہاز بھٹی کو ان کے گھر کے سامنے ان کی کار میں تکفیری جہادی دہشت گردوں نے گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ ملک شہباز بھٹی کو اس لیے شہید کیا گیا تھا کہ وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ترقی پسند،عوام دوست منشور کو حقیقی طور پہ لاگو کرنے کی جدوجہد کررہے تھے۔ وہ جنرل ضیاء الحق کے مسلط کردہ قوانین کے اندر پائی جانے والی اقلیت دشمن شقوں کے خاتمے کے لیے ان قوانین میں اصلاحات متعارف کرنے کے لیے بنائی گئی پارلیمنٹ کی کمیٹی کے سربراہ تھے۔

صرف دوماہ قبل جنوری 2011ء میں پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ایلیٹ فورس پنجاب کے ایک اہلکار ملک ممتاز نے گولیاں مار کر شہید کیا تھا کیونکہ ان کے خلاف بھی مذہبی فسطائیوں اور ملّا طاہر اشرفی (انصافی حکومت نے ان کو پنجاب علماء بورڈ کا چئیرمین بنادیا ہے) ملک اسحاق جیسے تکفیری دہشت گردوں کے مداح نے ملکر ایک اشتعال انگیز مہم چلائی تھی۔ سبب یہ تھا کہ وہ توہین کے جھوٹے الزام میں قید غریب محنت کش مسیحی عورت آسیہ بی بی کو انصاف دلانے کی مانگ کررہے تھے اور وہ بھی توہین مذہب کے قانون میں موجود مبینہ سقم دور کرکے اس قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کرنے کے لیے اصلاحات متعارف کرانے کا مطالبہ کررہے تھے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کو قریب قریب 14 سال بعد اقتدار ملا تھا اور وہ بھی اتحادیوں کے ساتھ ملکر سادہ اکثریت قائم رکھے ہوئے تھی۔ اس دور میں پارٹی نے انتہائی مشکل کے ساتھ پارلیمنٹ کی بالادستی کی طرف سفر کرنے کی کوشش کی اور جمہوری اصلاحات کو متعارف کرانے کی کوشش بھی کی۔ یہ پاکستان کی واحد وفاقی ملک گیر پارٹی تھی جو پاکستان کو ڈیپ سٹیٹ بنانے اور اس ریاست کو سعودی فنڈڈ مذہبی فسطائی بیانیہ کی حامل ریاست میں بدلنے کے پروسس کو الٹانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی۔

اس زمانے میں اس پارٹی کا راستا جوڈشل ایکٹوازم کے نام پہ روکا گیا تو دوسری جانب ڈیپ ریاست کی حامی غیر منتخب مقتدرہ کے ایک اندر موجود ضیآء الحقی باقیات اس کا راستا روکنے کے لیے تکفیری،جہادی اور دائیں بازو کے مذہبی ریڈیکل عناصر کو استعمال کیا جارہا تھا۔

اسی زمانے میں پاکستان کے نام نہاد لبرل سیکشن میں کمرشل لکھاریوں اور صحافیوں کا ہجوم تھا اور یہ ہجوم افتخار چودھری کو ہیرو قرار دے رہا تھا۔ اس کمرشل لبرل مافیا نے بھی پیپلزپارٹی کے امیج کو خراب کرنے کی کوشش جاری و ساری رکھا۔

ایسی ناموافق فضا ہونے کے باوجود پی پی پی کی حکومت نے اقلیتوں کے خلاف استعمال ہونے والے قوانین میں اصلاحات متعارف کرنے کا راستا ترک نہ کیا۔ اور جب اس حوالے سے عملی قدم اٹھانے کی منزل کی طرف سفر شروع کیا گیا تو ایک دم سے مین سٹریم میڈیا میں اشتعال انگیزی شروع کردی گئی۔ اور اس اشتعال انگیزی کا پہلا نتیجہ سلمان تاثیر کے قتل کی صورت میں نکلا۔ اس سے پہلے 2009ء میں پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے بنائے گئے وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی جو معروف صوفی سنّی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے پہ طالبان سے حملہ کروایا گیا کیونکہ وہ بھی تکفیری فاشزم کے خلاف کھل کر بول رہے تھے۔

پاکستان پیپلزپارٹی جب اپنے راستے سے پھر بھی دست بردار نہ ہوئی تو محض دو ماہ کے وقفے کے بعد شہباز بھٹی جیسا جیالا ٹارگٹ کلنگ میں شہید کردیا گیا۔ شہباز بھٹی کے قتل کے دو ماہ بعد مئی 2011ء میں ہیومن رائٹس ٹاسک فورس ملتان کے کوارڈینٹر راشد الرحمان ایڈوکیٹ کو توہین مذہب کے جھوٹے الزام میں گرفتار بی زیڈ یو کے لیکچرار جنید حفیظ کی وکالت کرنے پہ شہید کردیا گیا۔

تکفیری بنیاد پرست قوتوں اور اسٹبلشمنٹ میں بیٹھے ان کے سرپرستوں نے صرف یہیں پہ بس نہ کیا بلکہ انہوں نے سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر کو اغواء کرایا بلکہ بعد ازاں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے حیدر گیلانی کو بھی اغواء کرلیا گیا اور اس طرح سے ان پہ بے پناہ دباؤ بڑھادیا گیا۔
قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف 2011ء ہی میں اکتوبر کے مہینے میں میموگیٹ کے نام سے انتہائی خوفناک سازش بنی جاتی ہے اور بھرپور قسم کا جوڈیشل اور میڈیا ٹرائل ہوتا ہے اور بدقسمتی سے نواز شریف اور ان کی پارٹی اس سازش کا بالواسطہ حصّہ بنتی ہے۔جبکہ وہ اس سے پہلے پیپلزپارٹی کی جانب سے اقلیتوں کے خلاف قوانین کے غلط استعمال کو ختم کرنے کی کوشش کا بھی مسلم لیگ نواز نے ساتھ نہیں دیا بلکہ وہ توہین کارڈ سے لیکر ملک دشمنی کارڈ دونوں کے استعمال میں غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ میں ضیاء الحقی ٹولے کے ساتھ کھڑی رہی۔ اور یہی پوزیشن طالبان خان کی تھی۔

اور پھر وقت آنے پہ صاف دیکھا گیا کہ نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کو خود توہین مذہب اور ملک دشمنی کے کارڈ کا سامنا کرنا پڑا اور وہ آج تک اس کارڈ کو بھگت رہے ہیں۔

شہباز بھٹی نچلے متوسط طبقے کی کسان برادری سے تعلق رکھتے تھے ایک سچے اور کھرے جمہوریت پسند تھے۔انھوں نے زمانہ طالب علمی سے ذوالفقار بھٹو کی پارٹی جوائن کی اور پھر یہيں ٹک رہے اور انہوں ںے اچھے برے وقت ميں کبھی پی پی پی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔اور تادم آخر وہ جمہوریت پسند سیاسی کارکن رہے۔ایسے کارکن صرف کسی پارٹی کا سرمایہ ہی نہیں ہوتے بلکہ ساری دنیا کے لیے ایک سرمائے جیسے ہوا کرتے ہیں اور انھوں ںے یہ ثابت کردکھایا۔وہ اپنے لہو سے اپنی سچائی ثابت کرگئے۔