Original Articles Urdu Articles

نوشتہ دیوار کوئی نہیں پڑھتا – عامر حسینی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کیا۔ ان کے خطاب میں کچھ باتیں تو قابل تعریف ہیں۔ لیکن ایک دو بات ایسی ہیں جو ان کو کہنی نہیں بنتی تھیں۔

سب سے پہلے جو بات ان کو کہنی نہیں بنتی تھی وہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ جو کہا کہ

“پلوامہ حملہ مودی اور بھارتی حکومت کی کشمیر میں جاری ظلم و جبر کی پالیسی کا نتیجہ ہے اور اس کی ذمہ داری تنہا صرف و صرف مودی پہ عائد ہوتی ہے۔”

یہ ایک معذرت خواہانہ موقف ہے۔ اور یہ موقف کم از کم بنیاد پرست مذھبی بنیاد پہ ہونے والی وائلنس اور دہشت گردی کا جواز بن جاتا ہے۔ وجہ:

جیش محمد نے پلوامہ حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ جیش محمد ایک بنیاد پرست فرقہ پرست مسلم دیوبندی عسکری تنظیم ہے جس کی بنیاد مذھبی انتہاپسندی پہ ہے اور یہ سرے سے کشمیر کی سیکولر قومی بنیادوں پہ آزادی کی قائل نہیں ہے اور نہ ہی اس کا ایجنڈا کشمیر کے باسیوں کو ان کے مذھب و نسل و فرقہ سے بالاتر ہوکر قومی آزادی دلوانا ہے۔ بلکہ یہ کشمیر کے اندر اور کشمیر سے باہر بھارت اور یہاں پاکستان کے اندر بھی لوگوں کو ان کے مذھب کے سبب نشانہ بناتی ہے۔ یہ کشمیر کے تنازعے کو برصغیر کی تقسیم کے سوال کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کی بجائے اسے جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا میں اپنے نام نہاد تصور جہاد کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں جس کے تحت ان کا حتمی مقصد دہشت گردی اور گوریلا جنگ سمیت ہر حربی حربہ استعمال کرکے اپنے خاص سیاسی تصور اسلام ( جس کا مذھب اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے) کو مسلط کرنا ہے۔

اس لیے کشمیر ہو یا فلسطین ہو یا کوئی اور جگہ جہاں قومی آزادی کی تحریک چل رہی ہو اور لوگ مسلح و غیر مسلح طریقے سے اس تحریک کا حصہ ہوں وہاں پہ کسی لشکر، جیش وغیرہ کا مذھبی انتہاپسندی کی بنیاد پہ عسکریت پسندی کرنے کا سیدھا سیدھا مطلب اس قوم کی آزادی کی تحریک کو مذھبی بنیادوں پہ تقسیم کرنا ہوا کرتا ہے۔

پلوامہ حملے نے کشمیر کی قومی آزادی کی تحریک پہ خودکش حملہ کیا۔ اس حملے نے ہندوستان میں کشمیر کی قومی تحریک کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو ہندوستان میں اٹھنے والے بڑے قومی شاءونزم اور اینٹی کشمیری جذبات کی رو میں بہت پیچھے دھکیلا اور خود کشمیری مسلمانوں کے خلاف ہندوستان میں بڑے پیمانے پہ شاءونسٹ خیالات کو عملی فساد میں بدل ڈالا۔ اس حملے نے جموں کی غیر مسلم کشمیری آبادی کو مسلم کشمیری آبادی سے دور کرنے اور ان کے آپس میں ممکنہ تصادم کو ہوا دینے کی راہ ہموار کی۔

اس حملے کی تنہا ذمہ داری مودی اور ہندوتوا پہ نہیں ڈالی جاسکتی بلکہ اس کی ذمہ داری جہادی ملا اور ان کو بطور پراکسیز استعمال کرنے اور ان کی کالعدم تنظیموں کو پاکستان کے اندر پھلنے پھولنے دینے والی عسکری اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا جرنیلوں چاہے وہ سابق ہوں یا موجودہ دور میں حاضر سروس ہوں پہ بھی عائد ہوتی ہے۔

کشمیر کی قومی تحریک کو مذھبی بنیادوں پہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی سے آلودہ کرنے کے عمل نے جتنا نقصان پہنچایا اتنا کسی اور چیز نے نہیں پہنچایا۔

اس لیے پلوامہ حملے کی ذمہ داری مودی اور ہندوتوا پہ ہی عائد کرنا کشمیر میں مذھبی بنیادوں پہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے لیے جواز پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے بالکل درست کہا کہ اگر ان کے ناشتے پہ جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو کالعدم تنظیموں پہ جے آئی ٹی کیوں نہیں بننی چاہئیے؟

حقیقت الامر یہ ہے کہ کشمیر ہو یا افغانستان اس حوالے سے جو ڈیپ سٹیٹ تھیوری اور جہادی پراکسی ہے اس بارے ایک ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن بنایا جانا اشد ضروری ہے اور اس سے ہی اصل حقیقت حال کا پتا لگایا جاسکے گا۔

پاکستان کو مسئلہ کشمیر کو مسلم سوال کے طور پہ دیکھنے کا رویہ ترک کرنا ہوگا کیونکہ کشمیر صرف مسلمانوں کا خطہ نہیں ہے۔ جموں و کشمیر و لداخ و گلگت بلتستان یہ ہندءو، مسلم، سکھ، مسیحی اور خود مسلمانوں کے مختلف مسالک اور فرقوں کا خطہ ہے۔ کشمیر میں جموں اس وقت بجا طور پہ غیر مسلم ہندو اور سکھوں کی اکثریت کا علاقہ ہے اور لداخ کی پوزیشن بھی یہی ہے۔ کشمیر میں اس وقت جو جہادی تنظیمیں متحرک ہیں ان کی بنیاد پرستی سے خود صوفی سنی مسلمان ، شیعہ مسلمان، احمدی بھی انتہائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اور مذھبی بنیادوں پہ عسکریت لامحالہ کمیونل اور فرقہ وارانہ فسادات اور تقسیم کو گہرا کرنے پہ منتج ہوتی ہے۔

اور میں یہاں پہ یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پہ پاکستانی حکومت کی جانب سے آواز اٹھانے کا عمل اس وقت تک بے معنی رہے گا جب اس سے ملتی جلتی انسانی حقوق کی پامالی ہم بلوچستان ، اندرون سندھ، کراچی، سرائیکی وسیب اور خیبرپختون خوا اور اس کا حصہ بننے والے فاٹا میں دیکھیں گے اور ان پہ میڈیا میں بات کرنے پہ بھی پابندی ہوگی اور بلوچستان میں ایسے معاملات پہ مکمل میڈیا سنسر لگے دو عشرے ہونے کو آئے ہیں۔

شرمناک عمل یہ ہے کہ جنوبی بلوچستان سیلابی بارشوں سے تباہ و برباد ہے اور آج ہماری قومی اسمبلی میں اس پہ کوئی بات ہی سرے سے نہیں کی گئی۔

ابھی جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو ایک اور بلوچ ادیب نذر دوست کو تربت سے جبری لاپتا کردیا گیا ہے۔ وہ کئی بلوچی زبان میں لکھی گئی کتابوں کا مصنف ہے۔
بلوچ ادیب، شاعر، طالب علم، سیاسی کارکن اور انسانی حقوق کے کارکن بڑی تعداد میں جبری لاپتا ہیں۔ بہت سارے مسخ شدہ لاشوں میں برآمد ہوئے ہیں۔ اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی مبینہ انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آج تک ان پامالی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف دکھائی دینے والی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

ہمارےآئی ایس پی آر کے ترجمان نے سی این این کو انٹرویو کے دوران کہا کہ کشمیر میں خواتین سے زیادتی، معصوم شہریوں اور بچوں پہ پیلٹ گنز کے استعمال اور ماورائے عدالت قتل و جبری گمشدگیوں پہ ردعمل تو آئے گا’ ہندوستان سے جب اس ردعمل کی بات کریں تو وہ فوری کہتا ہے کہ یہ سب پاکستان کی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ اور جب پاکستانی فوجی و سویلین حکام کی توجہ بلوچستان سمیت پاکستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی بارے دلائی جائے تو وہ فوری اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دے ڈالتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت دونوں اطراف کے حکام اور دونوں طرف کی اسٹیبلشمنٹ حیرت انگیز طور پہ ایک دوسرے کو نوشتہ دیوار پڑھنے کا کہتی ہیں۔ اور دونوں اپنے اپنے ہاں ناشتہ دیوار پڑھنے کو تیار نہیں ہیں۔ دونوں حقوق دینے کی بجائے ان کو مزید سلب کرنے کا رویہ رکھتے ہیں۔