اردو اصل معیشت اور تعلیم

محنت کش خواتین کا عالمی دن – عامر حسینی

عورتوں کے عالمی دن کے حوالے سے اس مرتبہ جن مظاہروں کا اہتمام آٹھ مارچ کو پاکستان کے بڑے شہروں میں کیا جارہا ہے اس کو ‘ عورت آزادی مارچ’ کے بینر تلے سرانجام دیا جارہا ہے۔ اگرچہ ان مظاہروں میں بائیں بازو کی تنظیموں نے بھی شرکت کا اعلان کیا ہے اور کہیں طبقاتی فلسفے کی بھی جھلک نظر آرہی ہے لیکن زیادہ تر لبرل بورژوا/سرمایہ دار فیمنسٹ بیانیہ ہی حاوی نظر آرہا ہے۔ اس موقعہ پہ محنت کشوں کی نجات کے علمبردار سماج واد لکھاریوں کی ذمہ داری بنتی ہے وہ طبقاتی فلسفے کی روشنی میں عورتوں کی نجات پہ گفتگو کریں گے۔

عظیم سوشلسٹ انقلاب کے مظہر سوویت یونین نے جب عورتوں کی نجات پہ عظیم اشتراکی انقلابی ولادیمر لینن کی تحریروں کا ایک مجموعہ شایع کیا تو اس پہ پیش لفظ ان کی عظیم ساتھی کامریڈ کروپسکایا سے لکھوایا۔ کروپسکایا نے اپنے پیش لفظ کے آغاز میں ہی پڑھنے والوں کو بتایا کہ اپنی انقلابی سرگرمیوں کو سرانجام دیتے ہوئے لینن نے محنت کش عورتوں کی نجات بارے عمومی اور کسان عورتوں کی نجات بارے خصوصی طور پہ اکثر و بیشتر لکھا بھی اور اس موضوع پہ بات بھی کی۔ کروپسکایا کا کہنا تھا کہ لینن کو پورا یقین تھا کہ عورتوں کی نجات کی جدوجہد کو کسی بھی لحاظ سے ورکنگ کلاس کی سوشلزم کے قیام کی جدوجہد سے الگ نہیں رکھا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم لینن ک محنت کش عوام کے رہنماء، پارٹی آرکنائزر اور سوویت حکومت کے بانی کے طور پہ اور ایک مجاہد و معمار کے طور پہ جانتے ہیں۔ لیکن ہر کام کرنے والی عورت اور اور ہر ایک کسان عورت کو یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ لینن کے کام کے سارے پہلو کیا تھے اور ہمیں لینن نے محنت کش عورتوں کی حالت بارے کیا کہا اس تک خود کو محدود نہیں رکھنا چاہئیے۔ لیکن لینن کو اچھے سے پتا تھا کہ محنت کش طبقے کی مجموعی جدوجہد اور عورتوں کی حالت بہتر بنانے کے درمیان کتنا گہرا تعلق ہے تو انہوں نے اپنی تقاریر اور مضامین میں اس سوال کے حوالے دیے اور ان حوالوں میں سے ہر ایک حوالہ دوسری چیزوں کے ساتھ بندھا ہوا تھا جو اس زمانے میں ان کی دلچسپی اور مفاد سے جڑی تھیں۔

لینن نے اپنے انقلابی دور کی زندگی کے آغاز پہ سب سے زیادہ توجہ مزدور اور کسان عورتوں کے مقام اور ان کو محنت کش تحریک میں شامل کرنے پہ دی۔ لینن نے اس حوالے سے پہلا عملی انقلابی کام سینٹ پترس برگ ( جو بعد میں لینن گراڈ کہلایا) میں سرانجام دیا، جہان اس نے سوشل ڈیموکریٹس کا ایک گروپ تشکیل دیا جو سینٹ پیترس برگ کے مزدروں میں بہت سرگرم ہوا اور اس نے کارخانوں اور فیکڑیوں میں غیرقانونی پرچے چھاپ کر بانٹنا شروع کیے۔ عام طور پہ ان پرچوں اور پوسٹرز کے مخاطب مزدور مرد ہوتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب محنت کشوں کا طبقاتی شعور ابھی بیدار ہورہا تھا اور ان میں سب سے زیادہ پسماندہ طبقاتی شعور کی حامل محنت کش عورتیں تھیں۔ ان کو بہت کم تنخوا ملا کرتی تھی اور اکثر ان کے حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی تھی۔( پاکستان میں آج بھی اس حوالے سے کچھ نہیں بدلا۔) تو اس زمانے میں اکثر پوسٹرز کے مخاطب مرد محنت کش ہوتے اور کروپسکایا کا کہنا ہے کہ دو پوسٹرز اس حوالے سے استثنی تھے جو ٹورنٹن لافرم ٹوبیکو فیکٹری میں کام کرنے والی مزدور عورتوں کے لیے چھاپے گئے تھے۔ یہ پوسٹر 1895ء میں لکھا گیا اور اس پوسٹر کا عنوان تھا۔’ٹورنٹن مل کے مزدور مرد و عورتوں کے نام۔’

جب لینن 1989ء میں، جلاوطنی کاٹ رہا تھا تو لینن نے پارٹی تنظیم کے ساتھ جس کی پہلی کانگریس 1898ء میں ہوئی تھی خط و کتابت کی اور اس میں اس نے ان موضوعات کا زکر کیا جسے وہ غیرقانونی پریس میں لکھنا چاہتا تھا۔ ان میں ایک پمفلٹ ‘ عورتیں اور محنت کشوں کا مقصد’ کے عنوان سے بھی تھا۔اس پمفلٹ میں لین نے فیکٹری مزدور عورتوں کی حالت بیان کرنے کے ساتھ کسان عورتوں کی حالت زار پہ بھی بات کی اور یہ دکھانا چاہا کہ ان کی نجات کا ایک ہی حل ہے کہ ول انقلابی تحریک میں شریک ہوجائیں اور یہ بھی باور کرایا کہ محنت کش طبقے کی فتح ہی مزدور و کسان عورتوں کی نجات لیکر آئے گی۔

سن 1901ء میں جب سینٹ پیترس برگ میں اوبوخوف فیکٹری دفاع کی تحریک سامنے آئی اور اس تحریک نے پورے پیترس برگ کے مزدوروں کو اپنی لپیٹ میں لیکر محنت کشوں کے حقوق کے مطالبات کو آگے بڑھایا تو لینن نے اس تحریک میں جن محنت کش عورتوں نے حصّہ لیا تھا ان کے بارے میں لکھتے ہوئے عدالت میں ایک مزدور عورت مارفا یاکولوا کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا

ہمارےوہ بہادر کامریڈ/ ساتھی جو جیلوں میں مار ڈالے گئے یا ان کو اذیتیں دے دے کر مارا گیا، ان کی یاد نئے مجاہدوں کی قوت کو دس گنا زیادہ کرے گی اور ہزاروں ان کی مدد کے لیے اٹھیں گے اور جیسے 18 سال کی مارفا یاکولوا نے کہا وہ بھی سرعام کہیں گی کہ ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہیں! پولیس فوج کے مظاہروں میں شرکت کرنے والوں کے خلاف تادیبی ہتھکنڈوں کے علاوہ، حکومت ان کو بغاوت کے الزام میں ملوث کرکے سزا دینا چاہتی ہے؛ ہم اپنی انقلابی قوتوں کو اکٹھا کرکے اور جو زار ازم کے ستائے ہوئے مجبور و محکوم لوگ ہیں کو اکٹھا کرنے کی صورت میں جواب دیں گے، اور مربوط طریقے سے اپنی عوام کو اٹھ کھڑا کریں گے۔( مجموعہ تصانیف لینن جلد پنجم ص 248-49)

لینن محنت کش عورتوں اور کسان عورتوں کو محنت کش طبقے کی انقلابی تحریک میں شامل کرنے میں اس لیے کامیاب ہوئے کہ انہوں نے ایک طرف تو فیکٹریوں ، کارخانوں میں کام کرنے والی محنت کش عورتوں کی زندگی اور کام کی حالت زار کا مطالعہ کیا تو دوسری طرف انہوں نے کسان عورتوں کی محنت اور ان کی حالت زار پہ تحقیق کی اور ایسے ہی وہ عورتیں جو دست کار تھیں ان کی زندگی اور کام کی نوعیت پہ بھی تحقیقات کیں۔

لینن جب جیل میں تھا تواس دوران انہوں نے اعداد و شمار اور رپورٹوں کا جائزہ لیکر کسانوں کی حالت کا جائزہ لیا۔ اس نے دست کاری ، کسانوں کو زمین سے نکال باہر کرنے اور پھر فیکٹریوں میں دھکیلنے ان کے کلچر اور طرز زندگی پہ ان کارخانوں نے کیا اثر ڈالا کا مطالعہ کیا۔اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے عورتوں کی محنت کے نکتہ نظر سے تمام سوالوں  کو بھی دیکھا بھالا۔ اس نے کسانوں کی عورتوں کے مقام بارے ملکیتی نفسیات کی نشان دہی کی جس ان پہ غیر ضروری اور عقل وشعور سے عاری محنت کا بوجھ ڈال رکھا تھا۔

لینن نے اپنی کتاب ‘ روس میں سرمایہ دارانہ نظام کا ارتقاء’ میں بتایا کہ کیسے مویشی پال کسان مرد کسان عورتوں کا استحصال کرتے ہیں، کیسے سوداگر خریدارعورتیں جو لیس بنتی ہیں کی محنت کا استحصال کرتے ہیں۔ اس نے اس کتاب میں دکھایا ہے کہ بڑے پیمانے کی صعنت عورتوں کو آزاد کرتی ہے اور فیکٹریوں میں ان کی محنت کیسے ان کے نکتہ نگاہ کو کشادگی بخشتی ہے۔ان کو اور زیادہ کلچرڈ بناتی ہے۔ ان کو خودمختار بناتی ہےاور ان کو پدر سری زنجیروں کو توڑنے میں مدد دیتی ہے۔ لینن کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے کی صنعت عورتوں کی مکمل نجات کی بنیاد جنم دے گی۔لینن نے 1913ء میں انہی شواہد کے ساتھ  ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا،’ ایک عظیم تکنیکی فتح’۔

سرمایہ دار ممالک میں محنت کشوں کو مرد و عورتوں کے مساوی حقوق کی جنگ کرنا چاہئیے۔

جلاوطنی کے زمانے میں لینن نے زیادہ وقت پارٹی پروگرام کی تشکیل میں صرف کیا۔ اس وقت پارٹی کے پاس کوئی پروگرام نہیں تھا۔ اس زمانے میں صرف ایک ہی پروگرام کا ڈرافٹ تھا جو محنت کشوں کی نجات نامی گروپ نے مرتب کیا تھا۔اپنے مضمون بعںوان ؛ ہماری پارٹی کے پروگرام کا ڈرافٹ’ میں اس نے اس پروگرام کا جائزہ لیا۔ اس میں جہاں پہ ‘ سارے دیوانی و فوجداری قوانین پہ نظرثانی کرنے، سماجی ملکیتی بنیادوں پہ تمام تر تقسیم اور سزاؤں کے خاتمے جو انسانی وقار کے خلاف ہیں کے مطالبات کے ساتھ لینن نے یہ اضافہ ـھی کیا’ تمام مردوزن کے مکمل مساوی حقوق۔(مجموعہ تصانیف لینن جلد چہارم ص 239)

سن 1903ء میں جب پارٹی پروگرام منظور ہوا تو اس میں ایک شق یہ شامل کی گئی کہ محنت کش عورتوں اور مردوں میں مکمل طور پہ مساوی حقوق کا حصول۔

سن 1907ء میں، سٹوٹگرٹ میں انٹرنیشنل کانگریس لینن نے اپنی رپورٹ میں اس بات پہ اطمینان کا اظہار کیا کہ کانگریس نے آسٹریائی سوشل ڈیموکریٹس کے موقعہ پرستانہ روش کی مذمت کی جو مردوں کے لیے تو ووٹ کا حق مانگ رہے لیکن عورتوں کے ووٹ کے حق کی جدوجہد کو انہوں نے  ایک دوسری تاریخ کے لیے موخر کردیا۔

جب سوویت یونین  کا قیام عمل میں آیا تو حکومت نے مرد و زن میں مکمل طور پہ مساوی حقوق کے مطالبے کو مان لیا۔

لینن نےکہا کہ آج روس میں عورتوں کے حقوق کی نفی جیسا ذلیل، بدنام ترین اور کمینگی پہ مبنی انکار موجود نہیں ہے یا صنفی بنیادوں پہ کوئی تفریق نہیں ہے اور نہ ہی کہیں پہ جاگیرداریت اور قرون وسطی کی تارکیوں کا وجود ہے جو روس کو چھوڑ کر ہر دوسرے ملک میں کسی استثنا کے بغیر بنا سنوار کر ابھی باقی رکھا جارہا ہے۔

سن 1913ء میں لینن نے جہاں سرمایہ دارانہ جمہوریت کی اشکال کا مطالعہ کیا اور سرمایہ داروں کی منافقت کو بے نقاب کیا تو ساتھ ہی لینن نے ‘جسم فروشی’ کے سوال کو بھی ڈسکس کیا۔اور یہ دکھایا کہ کیسے سفید فام اسمگلر غلاموں کی تجارت کرتے ہیں اور اپنی نوآبادیوں میں لڑکیوں کا ریپ کرتے ہیں اور سرمایہ داری کے نمآئندے عین اسی وقت منافقانہ طریقے سے جسم فروشی کے خلاف مہم بھی چلاتے ہیں۔

لینن ‘جسم فروشی اور سرمایہ داروں کی منافقت’ کے سوال پہ دسمبر 1919ء میں واپس پلٹا اور اس نے لکھا کہ ‘ آزاد، مہذب امریکہ’ شکستہ ملکوں میں عورتوں کے لیے چکلوں کی ٹاؤٹی کررہا ہے۔

لینن نے جسم فروشی کے سوال کو بچے جننے کے سوال کے ساتھ جوڑ کر دیکھا اور اس میں موجود ذلت کا بخوبي معائنہ کیا اور بعض دانشوروں کی جانب سے مزدوروں کو برتھ کنٹرول پہ عمل پیرا ہونے کی تلقین بارے درج کیا کہ ان کے بچے اگر ہوئے تو وہ غربت اور محرومی کے مارے ہوں گے۔ لینن نے اس نکتہ نظر کو پیٹی بورژوازی کا نکتہ نظر قرار دیا۔ لینن نے باور کرایا کہ محنت کش تو افزائش نسل کے سوال کو اور طرح سے دیکھتے ہیں۔ ان کے ںودیک تو بچے ان کا مستقبل ہیں۔جہاں غربت کا تعلق ہے تو اس کے علاج موجود ہے۔ ہم سرمایہ داری نظام کے خلاف  لڑرہے ہیں اور جب ہمیں فتح ہوتی ہے تو ہم اپنے بچوں کا ایک روشن مستقبل تعمیر کررہے ہوتے ہین۔

سن 1916-17 میں جب آخرکار وہ سوشلسٹ انقلاب کی دھمک قریب آتے دیکھ رہا تھا اور وہ سوشلسٹ تعمیر کے جو ممکنہ ناگزیر جزو ہوسکتے تھے پہ غور کررہا تھا اور کیسے عوام اس تعمیر کا حصّہ ہوسکتے تھے تو اس نے خاص طور پہ سماجی کاموں میں محنت کش عورتوں کی شمولیت پہ زور دیا۔اور کہا کہ اس امر کو ممکن بنایا جائے کہ تمام عورتیں سماج کے فائدے کے لیے کام کریں۔اس زمانے میں دس میں آٹھ مضامین اسی سوال سے بحث کرتے ہیں۔اور وہ اس سوال کو سوشلزم میں  نئے خطوط کے ساتھ  سماجی زندگی کو منظم کرنے کی ضرورت سے جوڑتا ہے۔ عورتوں کی نجات کو لینن نے عورتوں کے پسماندہ گروپوں  کو ملک کی حکمرانی کے کام میں دھکیلنے سے جوڑا۔اور سماجی کام کے حقیقی عمل میں عوام کی تعلیم نو کی ضرورت سے  جوڑا ۔

اکتوبر انقلاب سے پہلے لینن نے لکھا کہ سماجی کام حکومت کرنے کہ فن کو سکھاتا ہے۔:” ہم خیالوں کی جنت میں نہیں رہتے۔ہمیں بخوبی پتا ہے کہ بے ہنر محنت کش فوری طور پہ ریاستی انتظامیہ میں نوکری نہیں پاسکتے۔اس معاملے میں ہم کیڈٹ پارٹی، بریشکووسکویا سے متفق ہیں۔ تاہم ہمیں اس بات سے اختلاف کہ صرف امیر یا امیر خاندانون سے چنے گئے لوگ ہی ریاست کو چلانے کے قابل ہیں اور وہی عام اور روزمرہ کے انتظامی امور چلانے کے اہل ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے ریاستی ایڈمنسٹریشن کو چلانے کی تربیت طبقاتی شعور سے آراستہ مزدوروں اور سپاہیوں کو دی جائے اور یہ تربیت فی الفور شروع ہو۔

سوویت حکومت نے یہ سب کیا بھی اور محنت کش عورتوں کو بھی انتظامی امور چلانے کی ذمہ داری میں شامل کیا۔اور اس محاذ پہ بے مثال کامیابیاں بھی سمیٹی گئیں۔

لینن نے مشرقی سوویت کی خواتین کی بیداری کا گرم جوشی کے ساتھ سواگت کیا تھا، جبکہ اس نے مشرقی قومیتوں کی سطح کو بلند کرنے کو خاص اہمیت دی تھی جن کو زار ازم اور سرمایہ داری نے بڑی طرح سے دبا کر رکھا تھا تو جب سوویت علاقوں کے محکموں سے عورتوں کے وفود کانفرنس میں آئے تو اس کی گرمجوشی کی واضح سمجھ آتی تھی۔

دوسری انٹرنیشنل کمیونسٹ کاںگریس کے کارناموں کے بارے میں بات کرتے ہوئے لینن نے نشاندہی کی تھی کہ کانگریس عورتوں کی کمیونسٹ تحریک کے ساتھ تعلقات کو اور طاقتور بنائے گی اور اسی دوران محنت کش عورتوں کی عالمی کانفرنس کے انعقاد پہ اس نے شکریہ بھی ادا کیا تھا۔(مجموعہ تصانیف لینن،جلد 31)

کروپسکایا نے اپنے پیش لفظ میں یہ بھی کہا کہ 1932ء میں سوویت پاور کی 15 ویں سالگرہ کا مشاہدہ کرتے ہم نے اس کے تمام محاذوں پہ کارناموں کو دیکھا جن میں عورتوں کی نجات کے محاذ کے کارناموں کا جائزہ بھی شامل تھا۔

کروپسکایا کہ بقول محنت کش تحریک میں روسی محنت کش عورتوں کی شمولیت کا ثمر تھا کہ عورتوں نے روس میں خانہ جنگی میں بھی سرگرم کردار ادا کیا اور بہت سی عورتیں عمل کے میدان میں ہوتے ہوئے ماری گئیں لیکن بہت سی دوسری عورتیں اس لڑائی میں کندن بنکر نکلیں۔

کروپسکایا نے کہا کہ محنت کش عورتوں کی کانفرنسیں ایک سوشل ورک اسکول کا درجہ اختیار کرگئیں اور اس اسکول سے ایک کروڑ عورتوں کے وفود تربیت پاکر نکلے۔

جب اکتوبر انقلاب کی پندرھویں سالگرہ منائی جارہی تھی تو بیس سے 25 فیصد گاؤں کی سوویتوں، ضلع کی ایگزیگٹو کمیٹیوں اور شہر کی سوویتوں  میں ڈپٹی عہدے دار محنت کش خواتیں تھیں۔ اور کل روس سنٹرل ایگزیگٹو کمیٹی اور سنٹرل ایگزیگٹو کمیٹی آف یو ایس ایس آر میں 186 خواتین محنت کش و کسان عورتیں ممبر تھیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف سوویت یونین میں بھی عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا اور 1922ء میں یہ تعداد چالیس ہزار تھی جو 1932ء میں بڑھ کر پانچ لاکھ ہوگئی تھی۔

تو عظیم روسی محنت کش تحریک اور اس کے نتیجے میں جو عظیم اشتراکی انقلاب برپا ہوا تھا وہ انقلاب محنت کش عورتوں اور کسان عورتوں کی نجات کی تحریک کو محنت کش طبقے کی نجات کی تحریک کے ساتھ جوڑنے کے سبب ہی ممکن ہوپایا تھا۔ پاکستان میں آج جب آٹھ مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کو عورتوں کی آزادی کے دن کے طور پہ منایا جارہا ہے تو یہ سمجھ لینا انتہائی ضروری ہے کہ عورتوں کی آزادی خاص طور پہ ورکنگ کلاس اور کسان عورتوں کی آزادی و نجات محنت کش طبقے کی نجات کی تحریک کے ساتھ جڑ کر ہی ہوسکتی ہے۔

آج ہمیں نہ صرف محنت کش مردوں اور محنت کش کسانوں کے اندر طبقاتی شعور کی بیداری کی اشد ضرورت ہے بلکہ محنت کش عورتوں اور کسان عورتوں میں طبقاتی شعور کی بیداری کی بھرپور کوشش کرنا ہے اور ہم اس وقت ایسے جبر کے حالات سے گزر رہے ہیں جب ایک طرف تو حکومتیں بچے کھچے پبلک سیکٹر کی نجکاری کے ایجنڈے پہ عمل پیرا ہے جس میں سماجی خدمات جیسے صحت اور تعلیم کے پبلک سیکڑ ہیں کی نجکاری کی جارہی ہے۔ ٹھیکے داری سسٹم جو کارخانوں اور فیکٹریوں میں بدترین سرطان کی طرح نافذ ہے وہ محنت کش عورتوں اور مردوں کے زبردست استحصال کا سبب بن رہا ہے۔ بلکہ محنت کش عورتوں کو عورت ہونے کے سبب زیادہ کم تنخوا اور مراعات دی جاتی ہیں۔

اس وقت فارمل سیکٹر مسلسل سکڑ رہا ہے اور فارمل لیبر و سروسز سیکٹر میں بھی ورکنگ ویمن اور مرد دونوں کے حقوق شدید خطرے میں ہیں لیکن زیادہ تر محنت کش مرد و عورتوں کا تعلق انفارمل لیبر سے ہے جہاں پہ لیبر لاءز کا اطلاق سرے سے نہیں ہے۔ انفارمل ‎لیبر سیکٹر ایک ایسا سیکٹر ہے جس میں لاکھوں کی تعداد میں سیلز چین سے جڑے مرد اور خواتین محنت کش سرے سے یونین اور تنظیموں میں منظم ہی نہیں ہیں۔ ان کی تنظیم کاری سوشلسٹ تحریک کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے اور ان کو منظم کیے بغیر نیولبرل سرمایہ دار پالیسیوں کو چیلنج کرنا اور ان کو شکست دینا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔

عورتوں کی نجات اور آزادی کا نصب العین محنت کش طبقے کی تحریک سے عورتوں کی نجات کی تحریک کے جڑنے سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔