Urdu Articles اردو اصل نمایاں

جاوید بھٹو: فراموشی کے خلاف حافظے کی مزاحمت – عامر حسینی

سال تھا 1986ء کا اور عمارت تھی شعبہ فلاسفی کراچی یونیورسٹی کی اور ایک گورا چٹّا اور ایک دبلا پتلا سا نوجوان جو اپنے خدوخال سے روسی لگتا تھا،جینز کی پتلون اور پورے بازؤں کی شرٹ پہنے اور پیروں میں اکثر و بیشتر جاگرز ڈالے اور ہاتھوں میں دو یا تین کتابیں پکڑے  اس عمارت میں چلتا پھرتا نظر آیا کرتا تھا۔اس کے چہرے پہ سنجیدگی کی ایک گہری تہہ ہمیشہ بچھی نظر آتی تھی۔ آنکھیں ہمیشہ تھوڑی سوئی سوئی مگر کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہے۔ کبھی کبھار وہ چند طالب علموں کے گھیرے میں کھڑا نظر آتا اور دیکھنے والے دیکھا کرتے کہ وہ بہت انہماک سے دوسروں کو سنا کرتا تھا اور خود سے زرا بھی مداخلت نہ کرتا اور جب سب اس کے کچھ کہنے کے منتظر دکھائی دیتے اور اس سے کہا جاتا تو وہ بہت ٹھہرے ٹھہرے انداز میں گویا ہوتا اور سندھی لہجے میں وہ جب اردو میں بات کرتا اور درمیان میں انگریزی کی اصطلاحات بھی استعمال کرتا تو بہت ہی پیارا لگتا اور اس کے ہونٹوں کی شیرینی سخنی کو چومنے کو دل کرنے لگتا تھا۔

یہ نوجوان تھا جاوید بھٹو۔ اس کی ذات میں ایک پراسراریت ہمیشہ سے رہی تھی اور وہ خود سے کسی سے تعلق بنانے میں پہل نہ کرتا لیکن جب تعلق بن جاتا تو جس سے تعلق بنتا وہ جاوید کا گرویدہ ہوجایا کرتا تھا۔

جاوید بھٹو نے سندھ کے معروف شہر شکار پور میں آنکھ کھولی تھی۔ اور جب وہ سن شعور کو پہنچا تو اس وقت پورا ملک جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے پنچے میں جکڑا ہوا تھا اور اس جکڑ میں سندھ تو بہت ہی زیادہ تھا۔ اس وقت سندھ میں ترقی پسند طلباء تحریک بہت عروج پہ تھی اور جاوید بھٹو نے بھی ترقی پسند سوشلسٹ نظریات کو قبول کرتے ہوئے اپنی طلباء سیاست کا آغاز کیا تھا۔ اور جب وہ بولان میڈیکل کالج کوئٹہ میں ڈاکٹر بننے کی نیت سے پہنچا تو وہاں اس وقت ایک طرف تو قوم پرست طلباء تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس فیڈریشن- بی ایس او کے دو دھڑوں کا توتی بول رہا تھا تو دوسری جانب ایک مختصر مگر خاصی منظم تنظیم سوشلسٹ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن-ایس ایس او بھی سرگرم تھی۔ یہ ماسکو نواز طلباء تنظیم تھی جسے سی آر اسلم کی سوشلسٹ پارٹی کی سرپرستی حاصل تھی۔ جاوید بھٹو اسی طلباء تنظیم کا حصّہ بن گئے۔

اسی دوران جاوید بھٹو نے جب مارکسزم کا مربوط مطالعہ شروع کیا تو بقول ان کے ان کو یہ احساس ہوا کہ مارکس ازم کے فلسفے سے پوری طرح آشنائی حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ خود علم فلسفہ پہ عبور حاصل کیا جائے۔جاوید بھٹو کریئرسٹ کبھی بھی نہیں رہے تھے۔ انھوں نے جب یہ سمجھا کہ ان کے ذوق اور طبعیت کے مطابق علم  فلسفہ ہے تو انھوں نے ایم بی بی ایس کی تعلیم کو ادھورا چھوڑا اور کراچی یونیورسٹی میں شعبہ فلسفہ میں داخل ہوگئے۔ یہاں آکر ان کو ڈاکٹر حسن ظفر عارف جیسا استاد میسر آگیا جو نہ صرف مارکس واد تھا بلکہ علم فلسفہ میں اس نے اعزاز کے ساتھ ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی تھی اور اسے رائل سوسائٹی آف فلاسفی برطانیہ کی رکنیت بھی حاصل تھی۔

ڈاکٹر حسن ظفر عارف خود بھی جوہر شناس تھے اور ان کی جوہری کی سی پرکھ تھی۔ انہوں نے بھی جاوید بھٹو کے جوہر کو تلاش کرلیا تھا۔ جاوید بھٹو عمل سے کہیں زیادہ تھیوری کے آدمی تھے۔اور جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ اکثر ڈاکٹر حسن ظفر عارف کے گھر پائے جاتے اور ان سے بے تحاشہ علمی استفادہ کیا۔اور جاوید بھٹو نے اپنے آپ کو فلسفے کے لیے وقف کردیا۔

فلسفے میں ایم اے کرنے کے بعد وہ بلغاریہ چلے گئے اور وہاں سے فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لیکر واپس لوٹے اور یہاں وہ سندھ یونیورسٹی میں شعبہ فلسفے میں استاد کے لیے منتخب ہوگئے اور پھر اسی شعبہ کے صدر بھی رہے اور اس دوران انھوں نے بلامبالغہ کم از کم تین سے چار سو ایسے شاگرد تیار کیے جو علم فلسفہ کے ہتھیاروں سے لیس تھے۔ سر سے پیر تک مارکس واد تھے اور انھوں نے سندھی زبان میں مارکس ازم کو آگے بڑھانے کا کام سرانجام دیا۔ ان ہی شاگردوں میں ایک نام ڈاکٹر عاصم اخوند کا تھا۔

جاوید بھٹو شاید وہ پہلے سندھی مارکس واد دانشور تھے جنھوں نے سندھی قومی سوال اور مارکس ازم کے نظریہ کی رو سے قومی تحریک کے نظریات کو لیکر ایسی تھیوری بنانے کی کوشش جس سے وہ اعتراضات دور ہوسکیں جو عام طور پہ سندھی قوم پرستوں کی جانب سے مارکس ازم اور اس کی فکر کے حامل لوگوں کے سندھی قومی سوال پہ موقف اور پوزیشن پہ وارد کیے جاتے رہے تھے اور سندھی زبان میں 90ء کی دہائی کے آخر میں مارکس وادی لٹریچر کی اشاعت اور فروغ کا کریڈٹ جاوید بھٹو کے شاگردوں کو ہی جاتا ہے۔ اور ایک طرح سے یہ کریڈٹ جاوید بھٹو کا بھی ہے۔

جاوید بھٹو سندھ کی مزاحمتی اور ترقی پسند تحریک کے اندر شامل اس نسل کا حصّہ تھے جسے ہم اس تحریک کی تیسری نسل قرار دے سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی دانش کے ساتھ اس تحریک میں اپنا حصّہ ڈالا اور وہ ان لوگوں میں سے ہرگز نہیں تھے جو رند کے رند رہے اور ہاتھ سے جنت نہ گئی والے محاورے پہ عمل کرتے ہیں۔ ابھی میلہ بھرا ہوا تھا کہ انہوں نے سندھ یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ سے استعفا دے ڈالا اور کچھ عرصے کے بعد وہ عازم امریکہ ہوگئے۔

انھوں نے کبھی بھی این جی اوز کلچر کی توثیق نہیں کی اور نہ ہی ان کو ترقی پسندانہ عنصر کے طور پہ دیکھا اور وہ اسے ردانقلاب اور رجعت پرستی کی شکل ہی سمجھتے رہے۔

جاوید بھٹو ایسے سندھی مارکس واد دانشور تھے جنھوں نے سوویت یونین ٹوٹ جانے کے بعد بھی اپنی نظریاتی وابستگی کو شک کی نظر سے نہیں دیکھا اور نہ ہی اس خاتمے کو تاریخ کے خاتمے سے تعبیر کیا۔وہ زوال کے ایک بڑے لمبے دورانیہ میں ثابت قدم رہے اور سرخرو ہوکر نکلے۔

جاوید بھٹو کے بارے میں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ ایک جاہل کی جہالت اور طیش کی حالت کا شکار بن جائیں گے اور ان کی زندگی کا اختتام ایسے ہوگا کہ ایک شرابی شخص کی اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آجائیں گے۔

پاکستان جب سے تشکیل پایا ہے تب سے سرکاری دانشوروں اور تاریخ سازوں نے ماضی کی کانٹ چھانٹ، کتر بیونت کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ وہ ماضی کے ان حصوں کو فراموش کرنے کی سعی میں مصروف ہیں جو سرکار اور دربار کے بیانیہ کے آڑے آتے ہوں۔ جاوید بھٹو ان دانشوروں میں شامل تھے جو فراموشی کے خلاف ماضی کی انہی یادوں کے قصوں کی باز خوانی میں مصروف رہا کرتے تھے اور حال و مستقبل میں محنت کشوں کی نجات کا سامان کرنے میں مصروف تھے۔

جاوید بھٹو کا ماتم اور سوگ صرف سندھ میں ہی نہیں منایا جارہا بلکہ یہ ماتم اور سوگ سارے انسان دوست حلقوں میں منایا جارہا ہے۔ اور وہ اپنی ترقی پسند،انسان دوست سوچ کے سبب ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔