Featured Original Articles Urdu Articles

او آئی سی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنا غیر دانشمند اقدام ہے

او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت سے انکاری ہونا شاہ محمود قریشی کی بے اعتباری کا ایک اور اشارہ ہے۔

شاہ محمود قریشی کبھی بھی ٹیم کے ساتھ مل کر کھیلنے والے کھلاڑی نہیں رہے۔ انہوں نے مشکل وقت میں پی پی پی کو دھوکہ دیا اور اگلے چند سال وہ اپنی سابقہ پارٹی کے بدترین اور منحرف مخالف کے طور پہ گزارے ہیں۔

پی ٹی آئی میں شامل ہونے کے بعد ان کے بلند بانگ دعوے کھوکھلے ہی ثابت ہوئے۔ ان کی غلام ذہنیت اس وقت دیکھنے کو ملی جب سعودی وزیر خارجہ پاکستان کے ہمسایہ ملک ایران کے خلاف اپنے نسل کشی پہ مبنی ایجنڈے کی الٹی کررہے تھے اور وہ مٹی کے مادھو بنے خاموش رہے اور یہی ان کی نام نہاد غیرجانبدارانہ اور یادگاری پوزیشن ہے۔

سعودی عرب آج ہندوستان کے سے زیادہ تعلق رکھتا ہے۔ جو خود ہندوستان کے لیے بھی اچھی چيز نہیں ہے۔ آخرکار جتنے بھی دیوبندی اور سلفی نیٹ ورک ہندوستان میں ہیں جو زیادہ تر بعد میں پھلے پھولے ان کو سعودی عرب کی جانب مدد ملی اور سرپرستی بھی۔ سعودی عرب نے ہندوستانی وزیر خارجہ کو سعودی عرب نے او آئی سی کے قابل قدر مہمان کے طور پہ مدعو کیا۔

یہ پاکستان کے حکمران طبقات کے منہ پہ طمانچہ ہے جنھوں نے سعودی عرب کی گھناؤنی فرقہ وارانہ علاقائی سیاست کے ساتھ جڑجانے سے بڑا صلہ ملنے کی امیدیں وابستہ کررکھی تھیں۔

شاہ محمود قریشی جیسے شکستہ کرداروں کو یہ جان لینے کی ضرورت ہے کہ ان کا کردار اب محض ایک رہن رکھے غلام سے زیادہ نہیں رہا۔ انہیں اس ہی کردار پہ قناعت کرنا ہوگآ چاہے اس سے ان کا وقار کتنا ہی کم نہ رہ جائے۔

کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ تلاش کیا جائے تو پتا چل جائے گا کہ غداری، غلامی اور دھوکہ دہی تو ان کی وراثت میں چلی آتی ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت اور ان کو لانے والوں نے او آئی سی میں نہ جانے کے فیصلے پہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے مہرثبت کرائی اور ہماری اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے بھی اس پہ مہر تصدیق ثبت کردی۔ گویا کوئی بھی سیاسی جماعت انڈیا مخالف جنگی ذہنیت کی مخالفت مول لینے کو تیار نہیں ہے۔اگرچہ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ ذاتی طور پہ او آئی سی کے خارجہ اجلاس کے بائیکاٹ کرنے کے حق میں نہیں تھے مگرمشترکہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے خلاف جانا نہیں چاہتے۔

شاہ محمود قریشی کے انکار نے پاکستان کے علاقائی سیاست میں مفاد کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہمیں یہ حقیقت ماننا ہوگی کہ ہماری گرتی پڑتی معشیت جب تک ہے اس وقت تک ہمیں کوئی عزت حاصل نہیں ہوسکتی ۔

ہمیں یہ تسلیم کرلینا چاہئیے کہ تکفیری دیوبندی دہشت گرد گروہ اور ان کی سعودی و امریکی سپانسرشپ پاکستان کے بہترین مفاد میں نہیں ہے۔ پاکستان کو سعودی-امریکہ کی فرقہ وارانہ حکمت عملی کا آلہ کار بننے سے رک جانے کی ضرورت ہے اور دیوبندی فرقے سے نکلنے والے دہشت گردوں کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئیے۔

جب تک یہ تکفیری دیوبندی نیٹ ورک پاکستان میں موجود رہے گا، ہ ہمیشہ مبتلائے تکلیف رہیں گے۔