Original Articles Urdu Articles

ُپاکستان ، ہندؤ اقلیتی برادری کو تحفظ فراہم کرے ۔ وجیش پرتاب

پاکستان اور بھار ت کی موجودہ صورتحال نہایت کشیدہ ہے اور موجودہ حالات میں دونوں اطراف کے لوگوں میں بہت غم وغصہ پایا جارہا ہے، اور میں پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اس بات پر روشنی ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جب بھی پاک بھارت تعلقات کشیدہ اور معاملات جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو سب زیادہ متاثر ہونے والی پاکستانی ہندؤ برادری ہے کیونکہ پاکستان میں مذہبی آزادی اور روادری پیش نظر یہ تلخ حقیت ہے کہ پاکستان ہندؤ برادری نے ہمیشہ بہت ظلم بھگتا ہے، 1992میں بھارتی بابری مسجد کے واقعہ پر ملک کی ہندؤ برادری کا تحفظ غیر تسلی بخش تھا ، ہندؤ بستیوں کو آگ لگایا گیا، عبادت گاہ (مندر) غیر محفوظ تھے، ہندؤ ثقافتی لباس کو نشانہ بناگیا اور سماجی طور پر ہندؤ لوگوں نے اپنے ثقافتی لباس کو لیکر اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے رہے.

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کراچی کے ہندؤ برادری کے مرد افراد روایتی طور پر اپنے ماتھے(سر) پر سُندر کا ٹیکہ لگایا کرتے تھے مگر مذہبی انتہاپسندی کے خوف نے پاکستانی ہندؤ وں مجبور کیا کہ وہ اس طرح کے روایتی عوامل سے گریز کریں۔ پھر جنرل مشرف کے دور میں بھی پاک بھارت تعلقات کی کشیدہ صورتحال نے ملک کی انتہاپسند ذہنیت نے ہندؤ اقلیتی برادری کو تشدد کا نشانہ بنا کر اذیت سے دوچار کیا ، بعدازاں 2003 میں بھارت کے رام مند ر واقعہ نے پاکستانی اکثریت (انتہاپسندمسلمانوں) میں نفرت کی فضا کو عام کیا جس کے باعث ہندؤ برادری کا سماجی طور پر محفوظ رہنا مشکل رہا اور اُس وقت بھی ہندؤ نوجوانوں کی گمشدگی اور قتل عام تھا، کیونکہ ہندؤبرادری کو آئینی تعصب کا سامنا 1949سے چلا آ رہا ہے ۔

اس وقت پلوامہ واقعہ کے بعد پاکستان اور بھارت میں کشیدگی بڑھتی جارہی ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ دو ملکوں کے درمیان کشیدہ صورتحال ہے ، ہندؤ وں کا نہیں۔۔۔پاکستان کی ہندؤ برادری نے ملک کی سلامتی کے لیے مختلف علاقوں کے مندروں میں خصوصی پوجا کا ہتمام کیا ہے مگر پاکستان کے ہندؤں پر مسلمانوں کی جانب سے ان کی حب الوطنی پر شک کیوں کیا جاتا ہے ۔

میرا مطالبہ پاکستان کے ریاستی اداروں سے ہے کہ وہ پاکستان کی ہندؤ اقلیتی برادری کو موجودہ صورتحال میں زیادہ سے زیادہ محفوظ بنائے۔۔۔تاکہ پاکستان بخود امن کا گہوارہ ثابت ہو۔