Original Articles Urdu Articles

جگندر ناتھ منڈل جی ، پاکستان کا وفادار- قلم – روشن آگاہی – تحریر- وجیش پرتاب

میرے لیے یہ اعزاز سے کم نہیں کہ آج مجھے یہ موقع نصیب ہوا کہ اپنی تحریر کے ذریعے اس شخصیت کو خراج عقیدت پیش کروں جو تحریک پاکستان کے بعدگمنام کردار بن گیا ۔۔۔جی ہاں۔۔۔ جگندر ناتھ منڈل جن کا تعلق ہندؤ مذہب کے شودر طبقے جسے سماجی ذات پات کے نظام کے تحت انہیں شیڈول کاسٹ یا دلت (اچھوت) کہا جاتا ہے ۔ ویسے میرے ابواجدا د نے بتا یا تھا کہ راجھستان کے ضلع ناگور کے مہشور روحانی گرو نول سوامی جی کے پرچار میں ’’مہتر کل‘‘ یعنی اچھوت برادری کے بنیادی حقوق کے حصول کی جدوجہد نے مشترکہ ہندؤستان میں ہلچل مچادی تھی، جس کے بعد برٹش انڈیا کے سیاسی رہنماؤں خاص کر بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر جی کے علاوہ جگندرناتھ منڈل جی کی جدوجہد مثال ہیں، اور طویل عرصے سے انہوں نے اپنی شناخت ’’دلت‘‘ بنالی ۔ تحریک آزادی ہندؤستان میں گاندھی جی نے سیاسی فائدے کے لیے ’’دلت لوگوں ‘‘ کو ’’ہریجن ‘‘کا لقب دیا تھا جو کہ ’’مہترکل، دلتوں، اچھوتوں‘‘ نے ہر گزقبول نہیں کیا۔

ہماری بات جگندر ناتھ منڈل جی کے لیے ہورہی تھی ، جن کی پیدائش 29 جنوری 1904 برطانوی بھارت (برٹش انڈیا) ، بنگال کے ضلع ’’باریسال ‘‘] میں ہوئی تھی۔ منڈل جی برطانوی بھارت کے صوبے بنگال کے وزیر قانون بھی تھے۔ پاکستان کے لیے یہ اعزاز تھا کہ مملکت پاکستان کی پہلی حکومتی کابینہ میں شامل جگندر ناتھ منڈل وہ واحد سیاسی شخصیت تھی جو کہ قیام پاکستان سے قبل بھی وزیر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔برطانوی راج میں ہندؤستان کے لیے مقامی نمائندوں پر بنائی گئی عارضی کابینہ میں مسلم لیگ کی جانب سے جگندر ناتھ جی کو نامزد کیا جانا پورے ہندؤستان کے لیے ایک حیران کن بات تھی ، بلخصوص ایک ایسی جماعت جو کہ ہندؤ ستان میں مسلم اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنے والی جماعت نے عبوری کابینہ کے لیے ہندؤ شیڈول کاسٹ (اچھوت) کو اپنی جماعت کی جانب سے وزیر نامزد کیا ۔۔اس کی وجہ یہ تھی کہ قائداعظم کا نظریہ پاکستان ایک آزاد فلاحی ریاست بنانا تھی جس کا عندیہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قائداعظم کو جب گورنر جنرل کا حلف اٹھا نا تھا ، اس وقت قائداعظم کی یہ دیرانہ خواہش تھی کہ وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی صدارت دلت اقلیتی رہنما جگندر ناتھ منڈل انجام دیں۔۔۔لیاقت علی خان نے بھی ان کا نام صدارت کے لیے تجویز کیا اور خواجہ ناظم الدین نے اس کی بھر پور حمایت کی۔ جگندر ناتھ جی نے بطور صدر اپنے نظریاتی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ قائداعظم محمدعلی جناح کی قیادت میں پاکستان ترقی کے ساتھ ساتھ خطے میں جدید فلاحی ریاست کے طور پر ابھرے گا۔ ۔۔جناح صاحب کے اس عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے وہ اپنے پاکستان میں اقلیتوں کو کتنی اہمیت دینا پسند کرتے تھے، بلکہ اس بات کا اظہار انہوں نے دستور ساز اسمبلی کی تقریر میں بھی کیا کہ آپ کسی بھی مذہب ، رنگ ونسل سے تعلق رکھتے ہوں آپ کو یہاں مکمل آزادی ہے اور اس سے ریاست کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

میرے جناح کے اس عظیم عمل ومفکر سوچ سے یہ ادراک ہوتا ہے کہ اقلیتی رہنماکا صدر کے لیے منتخب ہونا، پاکستان کے لیے روشن خیالی کی بہترین عکاسی کرتاہے ، کیونکہ برطانوی بھارت میں مسلمان اقلیتی حیثیت رکھتے تھے اور پاکستان کا وجود بھی اسی نکتہ کی وجہ تھی ۔ اقوام عالم کی نظریں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی پر تھی کیونکہ یہ حیران کن بات تھی کہ مسلم لیگ کے لیڈر قائداعظم نے غیرمسلم کو یہ یقین دلایا کہ نئے ملک میں اُن کے ساتھ انصاف و رواداری کے سلوک رکھنے کے ساتھ ساتھ بغیر کسی تعصب کے برابر کا شہری کے طور پر رکھا جائے گا۔۔۔اور اُن کا بھی مملکت پر اتنا ہی حق ہوگا جتنا کہ مسلمانوں کاحق ہیں۔ لہٰذا شہریوں کے درمیان درجہ بندی کاتصور نہیں ہوگا۔۔۔۔مگر میرے قائداعظم کی وفات کے بعد ان کی عظیم سوچ کو بھی دفن کردیا گیا کیونکہ قیام پاکستان کے بعد اقتدار پر بیوروکریسی طبقے کا قبضہ تھا جن کو یہ ہر گز نہ منظور تھا کہ وہ کسی غیرمسلم کو جوابدہ ہو، اور اس عمل کی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے ہندؤ ں کے بارے میں عدم اعتماد کو فعال کرنا تھا تاکہ مملکت کے امور کے لیے ہندؤں کے کردار کو محدود کردیا جائے کیونکہ ان کا تاثر یہ بھی تھا کہ ہندؤ ں کی پاکستان سے وفاداری غیراطمینان ہے۔ مگر جگندر ناتھ جی وہ واحد غیر مسلم شخصیت تھی جس نے جناح صاحب کو قائداعظم کا لقب دینے کی بھر پور حمایت کی تھی۔

1949مارچ کو جگندر ناتھ منڈل کو قرارداد مقاصد کی حمایت کرنی پڑی جس کے ذریعے قائداعظم کے پاکستان کو ’’روشن خیال اور سیکولر ریاست‘‘ کے بجائے مذہبی ریاست کی شناخت دی گئی ۔ اس طرح جگندرناتھ جی پر دباؤ بڑا اور وہ اپنے آپ کو سیاسی طور پر تنہامحسوس کرنے لگے، جس کی وجہ 1950انہیں اپنی وزارت سے فارغ ہونا پڑا، جس پر منڈل جی کو کافی مایوسی اور بے بسی بھی تھی اورقائد اعظم کی وفات کے بعد جگندر ناتھ جی کے لیے حالات بہتر نہ تھے 1950میں جگندر ناتھ منڈل جی کو پاکستان سے وفاداری کے حوالے سے شک وشہبات کے طعنے سننے پڑے اور یہ کام پاکستان کے بیوروکریٹ چوہدری محمد علی نے کیا تھا ۔۔۔چوہدری ہی نے انہیں مجبور کیا تھا کہ وہ اپنی وزارت چھوڑے ۔۔۔جی ہاں۔۔۔انہیں ملک چھوڑنا پڑا، 1950میں جگندرناتھ منڈل جی بھارت کے مغربی بنگال کے شہر کولکتہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے اور وہاں اپنی بقیہ زندگی گذاری اور ساتھ ہی ہندؤستانیوں کے طعنہ کشی کو بھی برادشت کرنا پڑا۔جگندر ناتھ منڈل جی کی تحریک پاکستان کے لیے قربانیاں اپنی جگہ ہیں لیکن ان کا قائداعظم سے مخلص ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ وہ واحد ہندؤ شخصیت تھی جس نے تاج برطانیہ کے دور میں تحریک ہندؤستان کے خلاف پاکستان اور قائداعظم کا ساتھ دیا۔۔۔اور جب 1947میں ضلع سلہٹ کی عوام کو یہ فیصلہ کرناتھا کہ وہ اپنے ضلع کو آسام ضلع میں ضم کرینگے یا اسے پاکستان کا حصہ بنایا جائے ، اُس وقت ضلع سلہٹ کے ہندؤوں اور مسلمانوں کے ووٹوں کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہ تھا مگر اچھوت برادری کا ایک بہت بڑا ووٹ بینک تھا جو کسی ایک جماعت کو نمایا ں کامیابی دلاسکتا تھا، قائداعظم کے کہنے پر جگندر ناتھ منڈل نے سلہٹ کا رُخ کیا اور اچھوتوں کے ووٹوں کے ذریعے ریفرنڈم کا فیصلہ پاکستان کے حق میں کروادیا۔

بے شک جگندرناتھ منڈل جی ایک خود دار اور اصول پسند سیاست دان تھے، ان کی ملک سے وفاداری پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے ، مگریہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان کی خدمات اور فربانیوں کو ایک بیوروکریٹ نے تاریک کردیااور تاریخ میں اس عظیم شخصیت کا باب بند کردیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے بہت سے غیر مسلم اقلیتی چہرے ہیں جو جگندرناتھ جی کی طرح پاکستان سے وفادار ہونے کا ثبوت دیتے دیتے تھک گئے ہیں، مگر کوئی پرُسان حال نہیں۔

پاکستان کی موجودہ حکومت تحریک انصاف کی ہے اور وزیراعظم عمران خان کا دعوی تھا کہ وہ پاکستان کو نیاپاکستان بنائینگے، جس میں اقلیتوں کو وی آئی پی بنائینگے۔۔۔۔جی بکل آپ کی کابنیہ میں کوئی بھی اقلیتی رکن موجود نہیں ۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں پراناپاکستان چاہیے نہ ہی نیا پاکستان بلکہ ہمیں قائداعظم محمد علی جنا ح کا پاکستان چاہیے ۔