Original Articles Urdu Articles

سعودی عرب سے تعلقات پہ موقف – عامر حسینی

 

سعودی عرب سے تعلقات پہ موقف

مجھ سمیت بہت سارے ساتھیوں نے سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد پہ پاکستانی حکومت کی غیر معمولی تیاریوں اور استقبال کو دیکھتے ہوئے سعودی ولی عہد اور ان کے خاندان کی بادشاہت کے دلال کردار اور پوری دنیا میں ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں کے ریکارڈ کی نشاندہی کرنے کا فریضہ اس بار اس لیے ادا کرنا ضروری سمجھا کہ کہیں اپنی نالائقی اور بڑی کارکردگی کی وجہ سے معیشت کو سنبھال نہ پانے والی سلیکٹ حکومت سابقہ وائسرائے سعودی عرب نواز شریف سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر ان جنگوں کا حصہ پاکستانی فوج کو نہ بنا ڈالے جن جنگوں میں شامل ہوکر سعودی عرب گھٹنوں گھٹنوں دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔

ہمیں تو اس بات سے بھی اختلاف ہے کہ پاکستان آل سعود کی سعودی عرب کے اندر حکومت کی سلامتی کے لیے اپنی فوجی خدمات کیوں پیش کرتا ہے۔

ہاں ہمیں ایران اور سعودی عرب سے کاروباری تعلقات قائم کرنے، ان دونوں ممالک سے مل کر آئل ریفانئری بنانے، دونوں ممالک کے بزنس گروپوں کے پاکستان کے بزنس میں گروپوں سے ملکر کاروبار کرنے اور سرمایہ کاری کرنے پہ اعتراض نہیں ہے۔

ہم سعودی عرب ہو یا ایران ہو ان کی جانب پاکستان میں مذھبی مدرسوں، مساجد ، مذھبی تنظیموں پہ سرمایہ کاری کرنے کے خلاف ہیں۔
ہم بنیاد پرست، مذھبی منافرت پہ مبنی اور فرقہ پرستانہ نظریات کو سعودی یا ایرانی پیسے سے پاکستان میں درآمد کرنے کے خلاف ہیں۔

ہم پاکستانی فوج کے کسی اور ملک کے کرائے کے فوجی بنکر اور کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کے خلاف ہیں۔

اور ہم بطور انسان دوست فرد کے کسی بھی ملک میں انسانی حقوق کی پامالی اور نسلی و مذھبی بنیادوں پہ استحصال و جبر کے خلاف ہیں۔
ہم اس پہ اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے جیسے ماضی میں بلند کی تھی۔

ہمیں اطمینان ہے کہ جب ہم نے سعودی عرب کے ولی عہد کے ٹریک ریکارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے ولی عہد کو آئینہ دکھانے کی بات کی تو آہستہ آہستہ لوگوں نے آواز اٹھائی اور بھرپور ساتھ دیا۔

پاکستانی عوام کا دباءو حکومت وقت کو محسوس ہوا ہے۔ اور لوگوں کا شدید ردعمل حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کو باور کرا رہا ہے کہ وہ معیشت کو بہتر ضرور بنائیں لیکن اس کے لیے پاکستانی فوج کو کسی بھی جنگ میں جھونکنے اور ریاست میں رہنے والے کسی بھی گروہ یا قوم کو قربانی کا بکرا مت بنائیں۔

بھارت نے بھی سعودی عرب سے معاشی مفادات لیے ہیں۔ اس نے بھی سعودی عرب سمیت مڈل ایسٹ کے عرب ممالک سے بہترین تعلقات رکھے ہیں۔لیکن اس نے اپنے ہاں سعودی فنڈنگ کو ذاکر نائیک جیسے لوگوں کے ذریعے سے وہابی ازم کے پھیلاءو سے روکنے کے اقدامات کیے ہیں۔

پاکستان میں رہنے والے سلفی اور دیوبندی مکاتب فکر کے لوگوں کی مذھبی آزادی اور دیگر حقوق اتنے ہی محترم ہیں جتنے دوسرے فرقوں اور مسالک کے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی گروہ یا تنظیم سعودی یا کہیں اور سے آئے پیسے یا عسکریت پسندی کے بل بوتے پہ اور مینوفیکچرڈ طریقے سے کسی اور مسلک اور فرقے کو مارجنلائز کرے یا ان کی نسل کشی کرے یا ان پہ جبر کرے یا ان کو مشرک و بدعتی اور مرتد و کافر قرار دیکر ان کے خلاف اقدامات اٹھائے ایسا کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ بالکل حق بجانب ہے۔

پاکستان میں بیرون ملک فنڈنگ، ریاست کے اندر سے ضیاء الحقی باقیات کی سرپرستی اور ریاست کی افغان و کشمیر بارے کچھ غلط پالیسیوں کے سبب ایک عرصے سے یہ سب ہوتا آرہا ہے۔ آج تک مدارس و مذھبی تنظیموں کو سعودی عرب و ایران و دیگر ممالک سے آنے والی فنڈنگ روکی نہیں جاسکی اور اس نے اس ملک کے غیرملکی امداد پہ انحصار نہ کرنے اور عسکریت پسندی سے دور رہنے والوں کو مارجنلائز کیا ہے۔

ہم اس عمل کے کل بھی مخالف تھے آج بھی مخالف ہیں۔ اور اس چیز کی مخالفت کوئی فرقہ واریت نہیں ہے۔ نہ یا کسی دوسرے ملک کے خلاف سازش ہے نہ یہ ملک و ریاست کے خلاف ہے بلکہ یہ تو اس ملک اور اس ریاست کے رہنے والوں کے لیے خیرخواہی کی بات ہے۔