Original Articles Urdu Articles

مدینہ میں سعودی وہابی ڈرایٗئور کے ہاتھوں چھ سالہ شیعہ بچے زکریا کا بہیمانہ قتل – از گل زہرا

سوچئے ایک پل کیلیے ۔ اگر آپکے نظر کے سامنے آپکے چھے سات سالہ بچے /بچی کو ذبح کیا جائے، کیونکہ آپ شیعہ ہیں اور آل_محمد ص پر درود و سلام بھیجتے ہیں ، تو آپ کیا کرینگے؟

زکریا اور اسکی ماں ٹیکسی میں سوار ہوتے ہیں تاکہ رحمت اللعالمین کی زیارت کر سکیں ۔ ماں درود پڑھتی ہے ۔ ٹیکسی ڈرائیور غضب ناک ہو کر پوچھتا ہے ، کیا تم شیعہ ہو ؟ ماں کہتی ہے ہاں ۔ ٹیکسی ڈرائیور یہ سنکر گاڑی روکتا ہے ، شیشے کی بوتل توڑتا ہے ، ماں سے بچہ چھینتاہے اور بوتل کے نوکیلے کونے سے بچے کی نرم گردن ذبح کر دیتا ہے ۔ ماں کا سانس رک جاتا ہے اور وہ بے ہوش ہو جاتی ہے ۔ اور وہ کیا کرے ؟

اگر اب بھی آپ سے کوئی کہے کہ شیعہ نسل کشی حقیقت نہیں ہے تو اسے زکریا کی تصویر بھیج دیں

اگر اب بھی آپ کے سامنے کوئی آل سعود کو خادم حرمین پکارے، اسے زکریا کی تصویر بھیج دیں

اگر اب بھی کسی کو وہابیوں کے تکفیری ہونے پر شبہ ہے ، اسے ذکریا کی تصویر بھیج دیں

اگر اب بھی آپ سے کوئی بحث کرے کہ شیعہ نہیں ، مسلمان مارے جا رہے ہیں ، اسے فرقے کا مسئلہ نہ بنائو، اسے زکریا کی تصویر بھیج دیں ۔کتنی عجیب بات ہے کہ ننھے زکریا کی تصاویر دیکھ کر ، جنازے کی ویڈیو دیکھ کر بھی کمرشل لبرلز اور انکے پروپیگنڈے کا شکار بھولے لوگ پوچھ رہے ہیں “کیا یہ واقعہ درست ہے ؟ کیا واقعی ایسا ہوا ہے؟” ۔ بھائی اتنی حیرت کس بات کی ہے ؟ کیا آل سعود دودھ کی دھلی ہے جو ایسا واقعہ سعودی عرب میں نہیں ہو سکتا ؟ کیا دنیا بھر میں شیعوں کا گلا کاٹنے والے تکفیری وہابی نہیں ہیں ؟ کیا دنیا بھر کی دہشتگرد تنظیموں کا مسلک وہابی/دیوبندی نہیں ہے ؟ اسی سعودی عرب میں شیخ نمر کو شہید کیا گیا یا نہیں ؟ قطیف اور مشرقی صوبے میں کیا شیعوں کو عقیدے کی بنیاد پر شہید نہیں کیا گیا ؟ 2014 میں عاشورہ کے جلوس پر سعودی وہابی حملے سے درجنوں شیعہ شہید ہوئے یا نہیں ؟ 2015 میں آل سعود کے شرطوں نے پانچ شیعوں کو شہید کیا یا نہیں ؟ عوامیہ میں درجنوں شیعہ چھپ کر زندگی بسر کر رہے ہیں یا نہیں کیونکہ سعودی وہابی حکومت انکی جان لینے کے درپے ہیں ۔ ان سب حقائق کے باوجود حیرت ہوتی ہے ان کمرشل لبرلز اور جماعتیوں پر ، جو ننھے ذکریا کی شہادت پر مصنوعی حیرت کا اظہار کرتے ہیں گویا سعودی عرب نے کبھی انسانی حقوق کی پامالی ہی نہیں کی ۔

بات کچھ اور نہیں ، صرف اور صرف شیعہ نسل کشی سے نظریں چرانا ہے۔ اس تلخ حقیقت سے انکار کرنا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں شیعوں کو انکے مسلک و عقیدے کی بنیاد پر مارا جا رہا ہے۔ ورنہ یہی کمرشل لبرل مافیہ ہے جو جمال خشوقجی کی المناک موت پر ہلکان ہوا جا رہا تھا اور سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہرا رہا تھا ۔انہیں حلب تو جلتا نظر آتا ہے لیکن کسی شیعہ کی شہادت ہو تو یہ فورا جوڑ توڑ میں گم ہو جاتے ہیں تاوقتیکہ لوگوں کو اس حوالے سے شک و شبے میں ڈال دیں ۔ ننھے ذکریا کا کسی تکفیری وہابی کے ہاتھوں ذبح ہونا بعید نہیں ہے ۔ یہ تکفیری وہابی خارجی گروہ ہی ہے جو داعش کے نام سے لوگوں کو ذبح کرتی پھر رہی ہے ۔

یہ تکفیری وہابی خارجی گروہ ہی ہے جو بوکو حرام کے نام سے نائیجیریا میں لوگوں کے گلے کاٹ رہی ہے ۔ یہ تکفیری وہابی خارجی گروہ ہی ہے جو سپہ صحابہ اہلسنت و الجماعت کے نام سے پاکستان میں لوگوں کے سروں سے فٹبال کھیل رہی ہے ۔ان سب شواہد و حقائق کے بعد ننھے ذکریا کا تکفیری وہابی سعودی ڈرائیور کے ہاتھوں زبح کیا جانا ، ہر گز بھی ناقابل_یقین نہیں بلکہ عین ممکن ہے ۔