اردو عنوانات

کراچی میں سرکاری افسر اور شیعہ علماء کونسل سندھ کے عہدے دار کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا

 کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ملازم اور شیعہ علماء کونسل سندھ کے نائب صدر سید محمد علی شاہ کو نامعلوم حملہ آوروں نے نورانی کباب ہاؤس طارق روڈ کراچی کے قریب سر پہ گولیاں مار کر قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔ جائے وقوعہ تھانہ فیروز آباد کے حدود میں آتی ہے۔

 تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ تھانہ فیروزآباد نورانی کباب ہاؤس طارق روڈ کراچی پر کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے گریڈ 15 کے افسر محمد علی شاہ اپنی گاڑی چلاکر جارہے تھے جب نامعلوم موٹر سائیکل پہ سوار دو دہشت گردوں میں سے ایک نے محمد علی شاہ پہ فائرنگ کردی، گولیاں ان کو سر پہ ماری گئیں، جس سے وہ موقعہ پہ ہی جاں بحق ہوگئے۔ جائے وقوعہ سے 30 بور پسٹل کی گولیوں کے خول ملے ہیں۔ مقتول کا مدمہ قتل تھانہ فیروزآباد میں درج کرلیا گیا، پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی میت ورثا کے حوالے کردی گئی۔

محمد علی شاہ شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا گھرانہ پہلے بھی دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہے۔ ان کا گھرانہ شیعہ نسل کشی کے خلاف خاصا سرگرم رہا ہے۔

 مقتول سید محمد علی شاہ معروف شیعہ رہنما حسن رضا عسکری کے برادر نسبتی تھے۔ حسن رضا عسکری 31 دسمبر 2011ء کو قتل کیا گیا۔ وہ ایک شیعہ ایکٹوسٹ منتظر امام کی گرفتاری اور ان پہ قائم کیے گئے مقدمات کو جعلی قرار دیکر اس کی رہائی کی کوشش کررہے تھے۔ حسن رضا  عسکری کے والد نے مئی 2012ء میں کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت ون میں ایک درخواست کی سماعت کے دوران پیش ہوئے اور انھوں نے اس موقعہ پہ یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے بیٹے حسن رضا عسکری، منتظر امام کے وکیل مختار عباس بخاری ایڈوکیٹ کا قتل ایس پی چودھری اسلم اور سپاہ صحابہ پاکستان / اہلسنت والجماعت کے اورنگ زیب فاروقی کی باہمی ملی بھگت سے ہوا ہے۔ کیونکہ حسن رضا عسکری کالعدم تنظیم کے خلاف مہم چلارہے تھے اور وہ چودھری اسلم کی طرف سے شیعہ کمیونٹی کے نوجوانوں کو جعلی مقدمات میں پھانسنے کے ساتھ ساتھ جعلی پولیس مقابلوں میں ان کو ہلاک کررہے تھے۔

شیعہ کمیونٹی کی جانب سے سید محمد علی شاہ کے قتل کی شدید مذمت کی گئی ہے اور انہوں نے اس کا الزام بھی کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان/ اہل سنت والجماعت پہ عائد کیا ہے۔

Source:

کراچی میں سرکاری افسر اور شیعہ علماء کونسل سندھ کے عہدے دار کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا