اردو اصل

نواز شریف کیمپ کے کمرشل صحافیوں کو آصف زرداری سے کیا تکلیف ہے؟- عامر حسینی

ایک دن پہلے پاکستان میں ضیاء الحق کی بی ٹیم جماعت اسلامی کی گود میں ضیاء الحقی باقیات سے تزویراتی گہرائی کا سبق پڑھ کر فرقہ پرستی کی اتھاہ گہرائیوں میں دفن نواز شریف کے غیراعلانیہ تنخواہ دار سلیم صافی نے آصف علی زرداری سے اپنی نفرت کو ‘کالم’ کا روپ بخشا اور پھر اگلے دن مارکسی انقلاب سے غداری کرنے کے بعد نیولبرل سرمایہ داری کی گود میں بیٹھ جانے والے اور نواز شریف کے ایک اور غیراعلانیہ تنخواہ دار امتیاز عالم نے اپنے کالم کے اندر آصف علی زرداری کے خلاف اپنے بغض کا اظہار کرنے کا موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیا اور لکھا
“بی بی کی برسی پہ توقع کی جا رہی تھی کہ پیپلز پارٹی زرداری صاحب کے ’’مصالحتی نظریہ‘‘ کی موقع پرستی سے نکل کر مزاحمتی راہ اختیار کرے گی۔


https://jang.com.pk/ne…/592387-imtiaz-alam-column-30-12-2018


امتیاز عالم، سلیم صافی اور اسی قبیل کے دیگر لوگوں سے یہ سوال کیا جانا بنتا ہے کہ جس آصف علی زرداری کے نظریہ مفاہمت کو انہوں نے ‘مصالحتی نظریہ کی موقع پرستی’ قرار دیا وہ تو آصف علی زرداری نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے میثاق جمہوریت کی روشنی میں شروع کیا تھا۔ جب آصف علی زرداری نے 2008ء میں الیکشن جیت کر پنجاب میں نواز لیگ کو حکومت بنانے اور وفاق میں شریک حکومت کیا تھا، یہ اسی نظریہ کے تحت آصف علی زردار ی نے 2012ء کے این آراوز الیکشن کو قبول کیا اور اسی کے تحت عمران خان کے دھرنے کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ اور اسی سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت کے نظریہ کے تحت انہوں نے نواز شریف کو پانامہ ایشو میں سپریم کورٹ کی بجائے پارلیمنٹ میں آنے کو کہا تھا۔ اس دوران نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف نے کیا کیا؟ میمو گیٹ سے لیکر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف سوئس کیس کے حوالے سے نواز شریف کے عدالتوں میں جانے سے لیکر مینار پاکستان پہ کیمپ لگانے اور آصف علی زرداری کو سڑکوں پہ گھیسٹے جانے، اور اسی دوران ایف آئی اے کے زریعے کیسز بنوائے جانے تک سب آن دا ریکارڈ ہے۔


آصف علی زرداری نے 2018ء کے الیکشن کے بعد مسلم لیگ نواز اور اس کی اتحادی جماعتوں کو پارلیمنٹ سے نہ جانے اور پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دینے پہ راضی کیا تھا اور اپنے تمام تر تحفظات کے باوجود شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر اور پی اے سی کا چئیرمین بنوانے میں مکمل تعاون کیا۔ کیا یہ سب موقعہ پرستی تھی؟


امتیاز عالم نے اسی کالم کے اندر بیلنس کرنے کی انتہائی منافقانہ پالیسی کے تحت 90ء کی دہائی میں نواز شریف کے اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنکر پیپلزپارٹی سمیت تمام جمہوریت پسندوں کے خلاف بدترین انتقامی کاروائیاں کرنے کی حقیقت کو مسخ کیا اور اس دور کو
“نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کی ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازیاں اور انتقامی کارروائیاں”
سے تعبیر کردیا۔ اس پہ ان کو زرا شرم نہ آئی۔ اس زمانے میں امتیاز عالم ‘دی نیوز انٹرنیشنل’ میں کام کرتے تھے۔ زرا ان دنوں میں ان کے آرٹیکل اٹھاکر دیکھیں۔ اور اسی اخبار کے نام نہاد انوسٹی گیشن سیل کے ایڈیٹر کامران خان بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کا میڈیا ٹرائل کا حصّہ بنکر ‘نامعلوم’ سے ملنے والے جھوٹ کو تحقیقی رپورٹس کے نام سے شایع کررہے تھے۔


اے آر ڈی کے زمانے میں بھی کرائے پہ دستیاب سلیم صافی و امتیاز عالم جیسے صحافی بے نظیر بھٹو کے خلاف مشرف سے ڈیل کرنے اور جوہوری جدوجہد کا بیڑا غرق کرنے جیسے الزامات لگارہے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے خریدے ہوئے تاجر صحافیوں اور میڈیا گروپوں کی آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے خلاف جھوٹ اور بد زبانی کی صاف سمجھ آتی ہے، لیکن عام قاری یہ سوال کرتا ہے کہ نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کے لیے خود کو اینٹی اسٹبلشمنٹ، جمہوریت پسند بناکر پیش کرنے والے تاجر صحافیوں کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ وہ کیوں آصف علی زرداری کے خلاف سرگرم ہیں؟


ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اپنے پڑھنے والے قاری کو سچ بتائیں کہ پاکستانی لبرل، لیفٹ، دائیں بازو کے اندر ایک غالب اشراف حصّہ سر تا پا کمرشل ازم کی گندگی میں لتھڑا ہوا تو ہے ہی، ساتھ ساتھ اس کے اندر پیپلزپارٹی، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیربھٹو اور اب آصف علی زرداری کے خلاف بغض اور نفرت بھری ہوئی ہے۔ اس نفرت کے کئی اسباب ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ ‘ہڈی’ کا ہے جو ان کو نہیں ملتی تو یہ بھونکنا شروع ہوجاتے ہیں۔


امتیاز عالم جیسے صحافی پاکستانی کمرشل لبرل مافیا کا حصّہ ہیں اور یہ مافیا عالمی نیولبرل سرمایہ دار اسٹبلشمنٹ سے ہم بستر ہے۔ اس اسٹبلشمنٹ کے ڈونرز سے ان کی روٹی پانی کا بڑا حصّہ آتا ہے اور یہ پاکستان میں امریکی اسٹبلشمنٹ کی حرام زدگیوں کا ویسے ہی دفاع کرتے ہیں جیسے ان کے جیسے بے ضمیر مڈل ایسٹ کے کمرشل لبرل شام،عراق وغیرہ میں کرتے رہے ہیں۔ ان کو آصف علی زرداری سے تکلیف یہ ہے کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کو کمرشل لبرل مافیا کی خواہش کے مطابق نواز شریف کی بی ٹیم نہیں بنایا اور نواز شریف کو یہ عقل دینے کی کوشش کی کہ وہ اپنی ذات کے بچاؤ کی جنگ کرنے کی بجائے پاکستان میں جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کی لڑائی لڑے اور پارلیمنٹ کے راستے اسے مضبوط بنائے۔


اپنے گزشتہ پانچ سالوں میں نواز شریف نے پارلیمنٹ میں آنے سے گریز کیا اور نہ ہی پارلیمنٹ میں قانون سازی کرکے اداروں کے اختیارات سے تجاوز کے آگے دیوار کھڑی کرنے کی زحمت کی۔ اس سے پہلے پی پی پی کے پانچ سالہ دور میں وہ بار بار عسکری اور عدالتی اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہوا۔ یہ سچ بولنے پہ کمرشل لبرل مافیا کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔


سندھی صحافی فاروق سومرو نے بالکل ٹھیک کہا تھا کہ نواز شریف کے تنخواہ دار کمرشل لبرل اور نمائشی لیفٹ وہ ڈائن ہیں جو جمہوریت اور وفاق پاکستان کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔