اردو نمایاں

حوثی قبائل نے سعودی عرب کا پندار غرور ترک عثمانیوں کی طرح توڑا ہے – رابرٹ فسک

ایسا موقعہ شاذ و نادر ہی آتا ہے جب ترک سفیروں کا میں شکریہ ادا کروں ۔ ان کا 1915ء میں آرمینی ہالوکاسٹ پہ مختلف خیال ہے۔ اس المیہ میں 15 لاکھ آرمینی مسیحی عثمانی ترکوں کی منظم منصوبہ بند نسل کشی کا شکار ہوئے تھے ۔ وہ آرمینی باشندوں کے بہت زیادہ دکھ اور تکلیف سے گزرنے پہ متفق ہوتے ہیں۔ لیکن ‘نسل کشی’ پہ بالکل بھی اتفاق نہیں کرتے۔

لیکن نسل کشی پہ تحقیق کرنے والوں کا یہ خیال نہیں ہے۔ بشمول اسرائیلی ماہرین تاریخ کے ۔۔۔ نہ ہی ترک محقق اساتذہ میں سب سے جرآت مند

،
Taner Akcam


کا ، جس نے تلاش کرنے کے لیے عثمان آرکائیوز کے ڈھیر کے ڈھیر کھنگال ڈالے۔ ہائے افسوس، آرمینیوں نے نسل کشی کا سامنا کیا۔


Umit Yalcin


عزت مآب ترک سفیر کا شکریہ میں اس لیے ادا نہیں کررہا ہے کہ اس نے مجھے خط لکھا، جس میں اس کا کہنا ہے کہ آرمینی نسل کشی ایک یک طرفہ بیانیہ ہے۔ بلکہ اس نے ایک چھوٹی سی کتاب اس میں مجھے بھیجی ہے، جو پانچ سال پہے ایدورڈ ارکسن نے شایع کی، جس کے اندر آرمینیوں کی بڑے پیمانے پہ نسل کشی کو چھپایا گیا ہے ، بلکہ وہ تو اس نے تو یہاں تک مشورہ دینے کی ہمت کر ڈالی کہ عثمانیوں کی ‘آبادی کے تبادلے’ کی حکمت عملی کو جنوبی افریقہ میں بوئر جنگ کے دوران شہریوں کو ‘کنسٹرشن کیمپوں’ میں بھیجنے کی معاصر پالیسی کے تناظر میں دیکھنی چاہیے یا فلپائن میں امریکیوں کی ایسی ہی پالیسی سے مماثل خیال کرنا چاہئیے۔

ارکسن ایک امریکی فوجی کرنل تھا اور اب وہ ورجنیا میں میرین کور یونیورسٹی میں ملٹری ہسٹری کا استاد ہے۔ اس کا اصرار ہے کہ جس وقت یہ ہلاکتیں ہوئیں تو اس وقت بڑے پیمانے پہ آرمینی شورش پھیلی ہوئی تھی۔ ایک بڑا شاندارکرد محقق اس کی کتاب ‘ عثمان اور آرمینی: ایک رد شورش مطالعہ’ کو ماخذ کے اعتبار سے بہت زرخیز کتاب قرار دیتا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ ان ماخذ کو مسخ کیا گیا ہے۔ اکیم خود بھی یہ کہتا ہے کہ اگر ارکسن کے بقول وہاں پہ ایک آرمینی شورش تھی بھی (وہ اس سے اختلاف کرتا ہے)، تو بھی اس سے نسل کشی کیوں ہوئی، اس امر کی وضاحت تو ہوگی لیکن یہ پتا نہیں چلے گا کہ یہ کیوں نہیں ہوئی تھی؟


لیکن ارکسن کی کتاب میں جس چیز نے مجھے پرجوش کیا وہ اس کتاب میں ایک باب ہے جو شاید ترک سفیر کے لیے کم دلچسپی کا سبب ہو۔۔۔ لیکن وہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے بہت ہی خوفناک پیغمبرانہ پیشن گوئی ہوسکتا ہے۔ اس باب میں محض آٹھ صفحات ہیں۔ لیکن یہ یمن کے زیدی قبائل اور قسطنطنیہ سے وفادار ترک عثمانی افواج کی انسیویں اور 20ویں صدی میں مسلسل، سرمائے کے بے پناہ اصراف ، خون آشام اور ناامیدی والی جنگوں کا بیان کرتا ہے۔ آج کی یمنی فوج کی تاریخ کے حوثی قائل زیدی شیعہ ہیں جو شیعہ امامیہ کی ایک شاخ ہیں۔ اور زیدیوں نے عثمانیوں کے خلاف اپنی لڑائی میں، نئے اور انتہائی جدید ہتھیار حاصل کیے۔ عثمانیوں نے ایک بندرگاہ جو حدیدہ کہلاتی تھی پہ حملہ کیا تھا۔ اس زمانے میں بھی وہاں پہ قحط پھیل گیا تھا۔
کیا یہ جانی پہچانی صورت حال نہیں لگتی؟ اور سعودی عرب کے لیے ایک بری خبر نہیں ہے۔۔۔ آل سعود جو آج کل وہی کردار ادا کررہے ہیں جو ایک صدی پہلے ترک عثمانیوں نے ادا کیا تھا، وہ بھی مقامی شیعہ بغاوت کو اپنے مفاد کے لیے بہت ہی بیش بہا ہتھیاروں اور بیش بہا تربیت جو رقم سے خریدی جاسکتی ہے دبانے ک کوشش کررہے ہیں۔ اور ان کو بھی عثمانیوں کی طرح کا گھمنڈ ہے کہ وہ مڈل ایسٹ کی سب سے مضبوط ترین فوجی قوت ہیں۔
اب میرا خیال ہے ترک سفیر سمجھ گئے ہوں گے کہ میں اس کتاب کو بھیجے جانے پہ ان کا واقعی شکر گزار کیوں ہوں؟ اور یہاں پہ میں اس بات کا اضافہ بھی کروں گا کہ عثمان ترک بھی اپنی یمن میں جاری جنگ کا ویسے ہی خاتمہ کرنے پہ مجبور ہوئے تھے جیسے اب خطے کا سب سے بڑا جنگی وار لارڈ سعودی عرب ہورہا ہے: مذاکرات کے زریعے معاملات طے کرنا۔

تاریخی نظیر اور امثال کبھی بھی مکمل ایک جیسی نہیں ہوا کرتیں ۔ سعودی عرب والوں کے برعکس ، عثمان ترک حکمرانوں کے یمن میں فوجی ایڈونچر کو کسی بڑی طاقت کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ اور اس وقت ائر فورس بھی ان کے پاس نہیں تھی۔ زیدی اپنے ہم مذہب سنّیوں کے بہت قریب تھے بنسبت سعودیہ والوں کے اسلام کے۔ صدیوں تک انہوں نے ایک ہی مساجد میں نمازیں پڑھی تھیں۔ لیکن پریشان حال عثمانی فوج جو اس وقت یمن کے صحراؤں اور پہاڑوں میں سخت جان اور جفاکش بہادر باغیوں سے لڑ رہی تھی کی کہانی شمال میں لڑی جانے والی آج کی ڈرادینے والی جنگوں سے کہیں مختلف ہے۔

بے رحم عثمان ملٹری گورنر فیضی پاشا نے امام المنصور کی 19ویں صدی کے آخر میں ہوئی بغاوت کو جدید رد شورش ہتکھنڈوں سے کچل ڈالا تھا۔ چھوٹی ٹکڑیوں میں اپنی فوج کو بانٹ کر اس نے ایسا کیا اور اسے ارکسن تباہ کن مغربی سٹائل فائر پاور برتری کا نام دیتا ہے۔ لیکن ترکوں کے پاس یمنیوں کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے درکار رقم ختم ہوگئی۔ 20ویں صدی کی ابتداء میں عثمانیوں کا کنٹرول صنعا تک محدود تھا اور وہاں فوجی ہیڈکوارٹر میں اس کے 18 ہزار سپاہی تھے۔ امام منصور کے بیٹے کی قیادت میں ایک دوسری بغاوت 1904ء کے ابتداء میں شروع ہوئی اور ایک ماہ میں زیدیوں نے صنعء اور بندرگاہ حدیدہ کے درمیان راستے کی ناکہ بندی کردی۔ ٹیلی گراف تاریں کاٹ دی گئیں، قافلے رک گئے اور صنعاء کا محاصرہ ہوگیا۔ باغیوں کے پاس اب نئی میگزین کے ساتھ جدید بندوقیں تھیں ۔ عثمان اپنی سلطنت سے اور فوجی دستے اکٹھے کرکے لائے۔ مقدونیہ، البانیہ سے یہ فوجی دستے لائے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شام سے عرب دستے منگوائے گئے۔

عثمان ترک رضا پاشا کی سربراہی میں کئی بار باغيوں کے شب خون کا نشانہ بنے۔ ترکوں کا مورال گرگیا۔ عثمان فوجوں میں کچھ عرب دستے زیدی بائیوں کی طرف ہمدردی رکھنے لگے ، کیا وہ شیعی یا علوی شامی تھے؟ ہمیں کچھ پتا نہیں۔

ہزاروں اور دستے بغاوت کچلنے پہنچے، لیکن صنعاء پہلے ہی ہاتھوں سے نکل گیا تدا۔ تب عثمان ترکوں کو اپنی سلطنت میں کئی دوسری جگہوں سے اپنی فوجی مہم ختم کرنے کی ضرورت پڑی ۔ جیسا کہ ارکسن لکھتا ہے،” عثمان ترک سلطنت کے لیے مہم ایک دلدل بن گئی اور حملہ آور فوج میں شامی دستوں میں بغاوت پھوٹ پڑی۔” ایک لاکھ دس ہزار عثمانی فوجیوں میں سے 1905 تک 25 ہزار فوجی کھیت ہوگئے تھے۔

ترکی کی جنگ یمن جنگ بندی اور صلح کے لیے مذاکرات کی تاریخ میں بدل گئی ۔ جبکہ ترک فوج ک اپنی بقا کے لیے ریفارم کرنا پڑیں اور ایک نئی افسر کور بنانا پڑی اور اسے اس جنگ کی سرپرستی سے دست بردار ہونا پڑا۔ یہ ویسی ہی سرپرستی تھ جیسی آج جنگ کی سرپرستی سعودی شہزادے سعودی فوج کی کررہے ہیں- لیکن عثمان اس بغاوت کو کچلنے میں ناکام رہے جو 1912ء میں کہیں جاکر ختم ہوئی – اور پھر دو سالوں کے اندر اندر پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی اور اس نے آنجام کار ساری عثمانی سلطنت کو ہی تباہ کرڈالا۔
تو اس طرح سے عثمان یمن سے اپنی جنگ کے آخر میں امپریل پاور تو رہے، لیکن ان کی شان و شوکت اور مورال دونوں ہی چھن گئے تھے ۔ انہوں نے اپنے بچے کچھے وسائل 1915ء میں آرمینیوں کو نیست و نابود کرنے میں خرچ کرڈالے اور آخرکار 1918ء میں ایلن بے کی فوجوں کی پیش قدمی سے پہلے ہی ڈھے گئے۔ نہیں ، تاریخ عین ایک جیسی نہین ہوتی ۔ 1916ء میں برٹش حمایت یافتہ عرب بغاوت کی وجہ سے اپنے عثمان آقاؤں سے بالکل کٹ کر رہ گئے۔ اور خطہ عرب کو پہلے ہاشمیوں نے اور پھر آل سعود نے کنٹرول کیا۔

یہ تاریخ ہمیں واپس سعودی عرب اور اس کی اپنی تباہی لانے والی بے کار کی یمن کے باغیوں سے جنگ کی طرف واپس لیکر آتی ہے ۔ یہ یمنی باقی انہی زیدی قبائل کی اولاد ہیں جنھوں نے عثمانیوں کو بہت ذلیل و خوار کیا تھا ۔ اب کی بار یہ محمد بن سلمان ہے جس نے اس لڑائی کا آغاز کیا ۔ جو اپنے تئیں سنّی دنیا کا ایرانی شیعہ اور اس کے اتحادیوں سے حفاظت کرنے میں لگا ہوا تھا۔ (ویسے محمد بن سلام اکثر سنّیوں کا بھی دشمن ہی ثابت ہوا ، یہ وہابی و دیوبندی (ریڈیکل ) برانڈ کا ہی سرپرست ہے۔) اور وہی اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا ۔ اس نے یو اے ای کو زمین پہ لڑائی کی اجازت دی ۔ اور جو ہم نہیں جانتے ۔۔۔ اور جو مغرب جاننا نہیں چاہتا اور نہ ہی اس بارے میں پوچھتا ہے ۔۔۔ اس تباہ کن ملم کے سعودی عرب اور امارات کی افواج پہ اثرات ہیں ۔

جبکہ اب سعودی ولی عہد اپنی ذاتی شان و شوکت خاشقعجی کے قتل سے ہونے والی بے عزتی کے بعد سے بحال کرنے کی کوشش میں وقت ضایع کررہا ہے، تو اس کے جرنیل اپنی فوجی شان و شوکت بارے کیا سوچ رہے ہیں؟ سعودی نیشنل گارڈ، بادشاہ کی نجی فوج ، اور سعودی مسلح افواج ۔۔۔۔سب کے سب بہرحال وفادار،قابل اعتماد ہیں ، جیسا کہ ہمیں بتایا گیا ہے یمنی جنگ جس رخ پہ جارہی ہیں اس پہ پریشان ہی ہوسکتے ہیں ۔ اگر یمنی باغیوں کے ہاتھوں عثمانی ذلت اٹھاسکتے ہیں، تو کیا سعودی عرب کی مسلح افواج حوثیوں کے ہاتھوں شرمساری اور ذلت نہیں اٹھا سکتیں؟

سعودی ائر فورس کے لڑاکے کیا سوچتے ہوں گے جب وہ اپنے بم اور مزائیل کمزور حوثتان کی افواج پہ گراتے ہیں ۔ جب ان کے دشمن سویڈش قصبے رمبو میں مذاکرات کررہے ہیں تو ہ کیا سوچتے ہوں گے؟ اگر عثمانیوں کو اپنی فوج میں اصلاحات کرنا پڑیں تھیں تو سعودی افواج کے ساتھ کیا ہوگا؟ ولی عہد کا خیال ہے کہ وہ سعودی عرب کی معشیت کی اصلاح کرسکتا ہے۔ لیکن اس کے سپاہی بھی خود اپنی اصلاح بھی کرسکتے ہیں- وہ اپنے مربی کی سرپرستی سے دست بردارہوسکتے ہیں شاید ؟ یہ ذہن میں رہے کہ عثمانیوں کی مثال موجود ہے۔ تو کیا ولی عہد شہزادہ اس سے بچ پائے گا؟

مجھے ارکسن کے آرمینی نسل کشی کے تجزیہ پہ اعتماد نہیں ہے ۔ نہ ہی ترک سفیر جو کورٹ آف سینٹ جیمس کے بارے میں تجزیہ کرتا ہے اس پہ اعتماد ہے ۔ لیکن میں ان دونوں کا ان خیالات کے سبب شکریہ ادا کرتا ہوں جو کہ عثمانیوں پہ لکھی ایک چھوٹی سی کتاب میں یمن کے بارے میں موجود ہیں۔ ہوسکتا ہے اسے سعودی فوجی کالجز میں پڑھایا جانا ضروری ہوجائے ۔ خاص طور پہ کنگ عبدالعزیز ملٹری اکیڈیمی اور کنگ خالد ملٹری اکیڈیمی میں۔

ایک اور بات مزید ، اس کتاب کو کنگ فیصل ائر اکیڈیمی کی لائبریری میں طلباء کے لیے دستیاب ہونی چاہئیے، جہاں پہ ملک کے نوجوان فائٹر پائلٹ اور ویپن ڈائریکٹرز کی تربیت کی جاتی ہے جوکہ یمن میں شہزادے کی جنگ میں نایاب دھات کی طرح ہیں۔ کیا ان کے اپنے خیالات نہیں ہوں گے؟