اردو اصل

ننیوا عراق: شباک کمیونٹی کی اکثریت نے شیعہ ہونے کی قیمت کیسے چکائی؟ – فناک ویب سائٹ رپورٹ

شباک کمیونٹی کے لوگ لسانی و نسلی ثقافتی اقلیت ہیں۔ عراق کے صوبہ ننیوا کے ضلع موصل کے چند درجن گاؤں اس برادری کی اکثریت کے گاؤں ہیں۔ 2014ء میں داعش کے آنے سے پہلے شباک لوگوں کی ایک محدود تعداد شہر موصل میں بھی رہا کرتی تھی۔ شباک لفظ اصل میں عربی لفظ شبکہ سے نکالا ہے جس کا مطلب ‘نیٹ ورک’ ہوتا ہے۔ یہ بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ برادری مختلف قبائل سے لوگوں پہ مشتمل ہے۔

اس برادری کے 70 فیصد لوگ شیعہ ہیں اور باقی سنّی ہیں۔ لیکن شباک برادری کا مذہبی شعار مختلف اسلامی فرقوں اور مقامی عقائد کے اختلاط سے ملکر بنا ہے۔ تاہم ان کی رسومات ان کے پڑوسی آرتھوڈکس شیعہ اور سنّی سے مختلف ہی۔ شباکی لوگوں کی مذہبی ثقافت میں مسیحی عناصر بھی ہیں جیسے اعتراف گناہ جو کہ کتھولک روایت کا اہم عنصر ہے بھی شامل ہے۔ پھر شباک لوگوں میں یزیدی کمیونٹی کے ثقافتی عناصر بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پہ شباک لوگ یزیدی مزارات کی یاترا بھی کرتے ہیں جو اسی علاقے میں موجود ہیں۔

شباک لوگوں کا مسکن یزیدی مذہبی برادری کے علاقے کے بہت قریب ہے۔ شمالی عراق کے صوبہ ننیوا کے ضلع شیخان میں لالش ایک چھوٹا پہاڑی گاؤں ہے اور یہاں پہ یزیدی مذہب کا سب سے مقدس مقام موجود ہے جس کی شباک لوگ بھی زیارت کرتے ہیں۔ لیکن شباک لوگوں کی زواری کی رسومات کافی لچک دار ہیں۔ وہ شیعہ اور صوفی سنّی مسلمانوں کی مشترکہ مقدس زیارات جیسے کربلاء اورنجف ہیں کی زیارت کے لیے جاتے ہیں اور شیعی تعلیمات کی پیروی بھی کرتے ہیں۔

شباک مذہب اصل میں ایک صوفی طریقہ جیسا مذہب ہے۔ اس کے عام لوگ مرید کہلاتے ہیں اور ان کو روحانی ہدایت پیروں یا مرشدوں سے ملتی ہے جوکہ علم روحانیت میں خاص مقام پہ فائز خیال کیے جاتے ہیں۔ پیروں اور مرشدوں کی صف بندی ایک باقاعدہ درجہ بندی کے نظام میں گندھی ہوئی ہے اور اس میں سب سے اونچا درجہ ‘بابا’ کا ہوتا ہے۔

ویسے تو آپ کسی بھی ‘پیر’ کے حلقہ ارادت میں داخل ہوسکتے ہیں۔ لیکن عملی طور پہ ایک خاندان نسل در نسل ایک ہی پیر گھرانے سے جڑا چلا آتا ہے۔ اس لیے شباک کمیونٹی ایک صوفی طریقے سے ڈھانچے میں مختلف نہیں ہے۔

تصوف کی طرح شباک کمیونٹی بھی روحانی نجات کے لیے پیر یا مرشد کے حلقہ بگوش ہونے کو لازم خیال کرتی ہے اور شباک روحانی و باطنی رسومات کی پیروی کو لازم سمجھتی ہے۔

قدیم ترین شباک مذہبی متون میں کتاب المناجب ہے جو عراقی ترکمانی لہجے میں لکھی گئی ہے۔ شباک کمیونٹی کے ہاں ایران کے صفوی بادشاہ اسماعیل اول کی شاعری بھی مقدس متن کے طور پہ لی جاتی ہے۔ ان کے مذہبی اجتماعات میں شاہ اسماعیل کی شاعری پڑھی جاتی ہے۔

شباکی زبان پہ ترک،فارسی، کردش اور عربی زبانوں کے اثرات ہیں۔ شباک عراقی ننیوا علاقے میں 1502ء سے موجود ہیں۔ شباک لوگوں کی اکٹریت کسانوں پہ مشتمل ہے۔ ان کی اـادی تین لاکھ کے قریب ہے۔ کچھ سالوں سے شباک لوگوں کے ہاں اپنی نسلی ثقافتی مقام کے حوالے سے الگ شناخت پہ زور دیا جارہا ہے۔ وہ اپنی شناخت بطور شباک کے عرب اور کردوں سے الگ قائم کرنا چاہتے ہیں۔

جیسے پاکستان میں سرائیکی اپنے آپ کو پنجابی، پوٹھاری، سندھیوں سے الگ نسلی ثقافتی شناخت کے طور پہ سامنے لائے ہیں۔ تاہم سیاسی وجوہات کی بنا پہ عرب اور ترکمان بھی شباک برادری کو اپنا حصّہ کہتے ہیں۔ بعث پارٹی کے دور میں صدام حکومت نے شباک لوگوں کو ‘عربیانے’ کا پروسس اختیار کیا تھا تاکہ ملک کے سب سے زیادہ تیل کی دولت سے مالا مال علاقے کو عرب علاقہ قرار دیا جاسکے جبکہ وہاں اکثریت غیر عرب جیسے کرد ہیں کی تھی۔ بعث حکومت کے خاتمے اور نئی سیاسی انتظامیہ کے آنے سے بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔ کرد ننیوا کے میدانی علاقوں تک اپنا کنٹرول بڑھانا چاہتے ہیں اور وہ اس لیے ‘شباک’ کمیونٹی کو ‘کردیانا’ چاہتے ہیں۔ اس لیے شباک لوگ عراقی مرکزی حکومت اور مقامی کرد حکومت کے درمیان چل رہی جنگ میں سینڈوچ بنے ہوئے ہیں۔

شباک عوام کے مسائل عربوں اور کردوں کی باہمی حریفانہ کشاکش تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کو مذہبی امتیازی سلوک کا بھی سامنا ہے۔ حالیہ سالوں میں جب عراق کے سنّی اکثریتی علاقوں میں سعودی عرب کی مداخلت کے سبب تکفیری جہادی عسکریت پسندوں کا غلبہ ہوا تو ان کو بھی دہشت گردی،مذہبی مارجنلائزیشن کا ساما کرنا پڑا۔2003ء سے 2014ء کے درمیان تکفیری جہادیوں نے 13 ہزار سے زائد شباک لوگوں کو قتل کیا اور ان کو ‘رافضی/شیعہ’ کہہ کر قتل کیا گیا۔ شباک لوگ جو موصل شہر میں آباد تھے ان کو خارجی عسکریت پسندوں کی کاروائیوں کے سبب گردونواح کے دیہی علاقوں میں پناہ لینا پڑی۔ اس دوران ان کو مسلسل ڈرایا دھمکایا جاتا رہا۔

داعش کے ننیوا پہ قبضے کے سبب یزیدی، کرسچن کے ساتھ ساتھ شباک کمیونٹی کے لوگوں کو بھی سخت مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ شباک کے خلاف اکثر مظالم ریکارڈ ہی نہ ہوئے۔ مشرقی موصل سے ہی 2014ء میں داعش نے 21 کے قریب شباکی لوگوں کو اغواء کیا،

شباک لوگوں کے گھروں کو موصل میں عرب لفظ ‘ر’ سے نشان زد کیا گیا اور اس سے مراد تھی ‘رافضہ کے گھر’ اور اس میں وہ صوفی سنّی مسلمانوں کے گھر بھی شامل ہوتے تھے جو داعش جیسی تنظیموں کے عقائد سے متفق نہ ہوتے۔ اگست 2014ء میں قریب قریب 60 شباک گاؤں داعش کے کنٹرول میں آگئے۔ شباک لوگوں کا اغواء، قتل عام ہوا اور ایک سو ساٹھ شباک خاندان مارے گئے۔ بہت سارے گھروں سے فرار ہوگئے۔ ان میں سے اکثریت شیعہ اکثریت کے وسطی اور شمالی عراق کے علاقوں میں چلے گئے۔

گزشتہ سال جب ننیوا کو داعش کی گرفت سے آزاد کروایا گیا تب شباک لوگوں نے اپنے گاؤں اور ان علاقوں میں آنا شروع کیا جہاں وہ رہتے تھے اور وہ اب پھر بطور کمیونٹی اپنی زندگی کی شروعات کرنے میں مصروف ہیں۔

Link:

https://fanack.com/religions/shabak-minority/