عمران خان کا حالیہ بیان اور کراچی کے عوام میں تشویش کی لہر – محمد فیصل یونس ( Muhammad Faisal Younus )

وزیر اعظم عمران خان نے کراچی میں اپنے حالیہ دورہ کے دوران یہ بیان دیا کہ پاکستان میں موجود بنگالیوں اور افغانیوں کو شہریت دیں گے اور مزید وضاحت بھی کی کہ اس فیصلے کا اطلاق صرف کراچی پر ہوگا. وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کے بعد پاکستانیوں خصوصا کراچی کے عوام میں بے انتہا تشویش پائی جاتی ہے. یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دنیا کے کسی حصے میں شہریت سے متعلق ایسی انوکھی پالیسی کا وجود نہیں جو صرف ایک شہر کی حد تک محدود ہو

کراچی کے عوام کو شاید بنگالیوں سے اتنے تحفظات نہ ہوں جتنے افغانیوں سے ہیں. اسی (٨٠) کی دہائی میں جب جنرل ضیا نے امریکی جنگ میں پاکستان کو جھونکا تو نہ صرف جہادیوں کو ٹریننگ دے کر بڑے پیمانے پر لڑنے کے لئے بھیجا گیا بلکہ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو بھی پاکستان میں بسایا گیا بدلے میں اقوام متحدہ اور امریکا سے کروڑوں ڈالر وصول کئے گئے افغان مہاجرین کے کراچی آنے سے شہر کے پرامن حالات بڑی تیزی سے خراب ہوئے. افغان مہاجرین نے پاکستان میں کلاشنکوف اور ہیروئن کو متعارف کروایا. لاتعداد پاکستانی نوجوان منشیات کی لت کا شکار ہوئے اور لاتعداد افراد افغانیوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کی بھینٹ چڑھ گئے. خونریزی کے کئی واقعات ہوئے جس میں علیگڑھ و قصبہ کالونی کا واقعہ پیش پیش ہے اس سانحے میں سینکڑوں افراد شہید ہوئے. پاکستان میں انتہاپسندی کا بیج بھی انہیں افغان مہاجرین نے بویا جسے پاکستان کے عسکری اداروں اور مذہبی سیاسی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام نے پروان چڑھایا

جب افغان جنگ میں ڈالروں کی لالچ میں عسکری اداروں نے ملک کو پرائی جنگ میں جھونکا تو پاکستان میں اسکا خمیازہ سب سے زیادہ کراچی کے عوام کوبھگتنا پڑا. افغان مہاجرین نے کراچی میں جرائم کا بازار گرم کر دیا ان میں منشیات فروشی،چوری، ڈکیتی ،قتل، بھتہ خوری اور آبروریزی جیسے سنگین جرائم شامل تھے. جب اس وقت کی سندھ حکومت نے ان عناصر کے خلاف آپریشن کیا تو ردعمل کے طور پر افغان اور پشتون دہشت گردوں نے علیگڑھ و قصبہ کالونی کی پر امن آبادی پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے، درجنوں بچوں کو زندہ جلا دیا گیا، خواتین کی آبرو ریزی کی گئی اور مکانات مسمار کر دیئے گئے. اس سانحے کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے رہے اور سالوں گزرنے کے باوجود کسی مجرم کو آج تک سزا نہیں دی گئی

 

کراچی میں آج بھی بڑی تعداد میں افغانی آباد ہیں جن کی مجرمانہ سرگرمیوں سے کراچی کی پر امن آبادی اکثر پریشان رہتی ہے. ان کی ایک بڑی تعداد ان دہشت گرد تنظیموں کا حصہ بھی ہے جس پر بین الاقوامی طور پر پابندیاں لگائی جاچکی ہیں لیکن عسکری اداروں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی معاونت سے ان کی ایک بڑی تعداد نہ صرف شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرچکی ہے بلکہ انہوں نے انتہا پسند مذہبی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام کی طرف سے نہ صرف مختلف ادوار میں ہونے والے الیکشن میں حصہ لیا ہے بلکہ کامیابی بھی حاصل کی ہے

جہاں تک عمران خان کے متنازعہ اعلان کا تعلق ہے اس کا واضح مقصد کراچی میں اپنا ووٹ بینک بنانا نظر آتا ہے گو کہ حالیہ الیکشن میں کراچی کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے بائیکاٹ اور عسکری اداروں کی بھرپور معاونت سے پی ٹی آئی کو کچھ نشستیں حاصل تو ضرور ہوئی ہیں مگر عمران خان یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب بھی متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف عسکری آپریشن ختم ہوا اور اس نے الیکشن میں حصہ لیا تو یہ سیٹیں بآسانی ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گی. عمران خان کا تعصب اور کراچی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے. کبھی عمران خان کراچی میں بسنے والی سب سے بڑی مہاجر کمیونٹی کو زندہ لاشیں قرار دیتے ہیں تو کبھی کراچی کو لاوارث کہتے ہیں. گو کہ عمران خان نواز شریف کے سب سے بڑے مخالف سمجھے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود نواز شریف حکومت میں شروع ہونے والے عسکری آپریشن کی نہ صرف بھرپور حمایت کی بلکہ الیکشن کمپین کے دوران کراچی کو صوبہ بنانے کی مخالفت بھی کی

حالیہ دورہ کراچی میں عمران خان نے کراچی کے بنیادی مسائل کو یکسر نظر انداز کردیا نا تو کوٹہ سسٹم پر بات کی نہ ہی کراچی کو الگ انتظامی یونٹ یا صوبہ بنانے جیسے اہم موضوعات   کو زیر بحث لائے اور نہ ہی بنگلہ دیشی کیمپوں میں سالوں سے انسانیت سوز زندگی گزارنے والے محصورین پاکستان کا کوئی تذکرہ کیا. حسب عادت عمران خان نے صرف ڈیم بنانے کے لیے چندہ مانگا جس پر کراچی کی عوام نے انہیں مایوس نہیں کیا. اگر عمران خان نے اپنے بیان کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی تو نہ صرف کراچی میں لسانی فسادات کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے بلکہ کراچی کے عوام کی احساس محرومی میں بھی مزید اضافہ ہوگا. وزیراعظم عمران خان کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ افغان مہاجرین کو پاکستان میں بسانے کی بجائے افغانستان میں پرامن منتقلی کا عمل تیز کریں شاید کسی کو اس اقدام پر اعتراض بھی نہیں ہوگا کیوں کہ افغانستان میں جنگ ختم ہوئے ایک عرصہ ہو چکا ہے اور اب وہاں ایک مستحکم حکومت قائم ہے

Comments

comments

Latest Comments
  1. Salman Anwar
    Reply -
  2. Fahad
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*