واقعہ کربلا: دور بنو امیہ میں رثائی و مزاحمتی شاعری کا قتل – عامر حسینی

واقعہ کربلاء پہ رثائی نثر اور رثائی نظم جسے عرب والے رثاء الحسین کہتے ہیں لکھنا کبھی بھی آسان کام نہیں رہا۔ پہلی صدی ہجری/ساتویں صدی عیسوی میں جب 61ھجری کو واقعہ کربلاء جسے عرب مورخ ‘واقعہ الطف /ذبح عظیم بھی کہتے ہیں جب واقع ہوگیا تو اس کے بعد اس موضوع پہ رثائی ادب تخلیق کرنا اپنے موت کے پروانے پہ دستخط کرنے کے مترادف تھا۔

واقعہ کربلاء کو ‘عرب حافظے’ سے نکالنے کے لیے بہت سے پاپڑ بنو امیہ کی اسٹبلشمنٹ نے پیلے۔ اور یہ پاپڑ بعد میں بنوعباس نے بھی پیلے۔

تاریخ کے باب میں اس واقعے کے ذمہ داروں کے نام ذہنوں سے کھرچنے کے لیے اور بنو امیہ کی حکومت سے اس کی ذمہ داری کہیں اور منتقل کرنے کے لیے تاریخی واقعات پہ پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی اور یہ کوشش آج تک جاری ہے کہ قاتلوں کو نیکوکار اور معصوم ظاہر کرکے اس قتل کا مدعا مقتولوں کے چاہنے والوں اور ان سے محبت کرنے والوں کے سر ڈال ڈیا جائے۔

ظلم کے خلاف لڑنے والے سپارٹیکس یونانی کسانوں کی مزاحمت کے تذکروں کو لانے والے اور ان پہ داد و تحسین کی بارش کرنے والوں کے لیے کوفہ کے مزاحمت کاروں کا نام ‘گالی’ ہے اور وہ ان کے خلاف ماضی میں قلم کی تلواریں سونتے تھے اور آج وہ اپنے سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ کے کیي بورڈ پہ انگلیوں کو تلوار بناکر نفرت میں بجھے الفاظوں اور جملوں کے تیروں سے حملہ آور ہوتے ہیں۔

وہ لاطینی امریکہ کے چی گیویرا کی تصویروں کو سجائے اس کی جدوجہد کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں اور اس کے خون سے انقلاب کا سویرا طلوع ہوتے دکھاتے ہیں لیکن کربلا میں امام حسین کا خون ان کو ‘دو قبیلوں کی لڑائی’ میں بہتا نظر آتا ہے۔

وہ پابلونرودا سے لیکر جان لینن کے گیتوں کو بار بار پیش کرتے ہیں، محمود درویش سے لیکر ناظم حکمت اور نزار قبانی کی رثائی اور مزاحمتی نظموں کو بار بار سامنے لیکر آتے ہیں لیکن سید حمیری سے کمیت الاسدی تک اور اس سے آگے میر انیس و میر دبیر تک اور ایسے رثاء حسین کے باب میں لکھی گئی نظموں کو ‘فرقہ پرستی’ اور کبھی ‘رجعت پرستی’ کہہ کر مسترد کرنے لگتے ہیں۔
نجانے واقعہ کربلاء سے جڑے ادب سے ان کو ترقی پسندی، انقلابیت، روشن خیالی ، حریت فکر کی خوشبو کیوں نہیں آتی؟ اور یہاں آکر ان کو ‘سفیانی و اموی فلو/ نزلہ و زکام کیوں ہوجاتا ہے اور ان کی ناک امووی فلو وائرس کے سبب بند کیوں جاتی ہے اور یزیدی وائرس کے سبب ان کو سینے کی انفیکشن کیوں ہوجاتی ہے؟ ان کا سینہ تنگ ہونے لگتا ہے اور دماغ ماؤف ہونے لگتا ہے؟

عرب بمقابلہ عجم اور شعوبیت بمقابلہ فارسیت جیسے گھٹیا سازشی مفروضات ان کو جکڑ کیوں لیتے ہیں؟

ہمارے فرقہ پرستوں کے سوانگ میں رچے بازی گروں کے سٹیج پہ بپا اودھم سے لیکر غم حسین و عزاداری کا مذاق اڑانے والے شیعہ انکل ٹام اور آنٹی تہمیناؤں کی ہاؤ ہو تک ہی ‘رثاء حسین’ سے خوفزدہ ہونے والوں کی کہانی ختم نہیں ہوجاتی ۔ بلکہ ایسے بھی ہیں جن کو اپنے سیاسی مقاصد اور اہداف بہت غیر محفوظ لگتے ہیں تو وہ بھی کربلاء پہ راہزن بن کر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

رثاء حسین جو بدترین ادوار میں بھی اپنے آپ کو فنا ہونے سے بچا پایا ہے یہ اس طاقتور بیانیہ اور ڈسکورس کے خلاف اپنی ساری توانائی صرف کرتے ہیں۔

طاہر الصفار نے اپنے مضمون ‘ کربلاء ، شاعری اور شعراء ‘ میں بڑی تفصیل سے اس موضوع پہ روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مضمون کے چند حصّے یہاں پیش کررہا ہوں:

ونجد من الضروري الحديث عن الجريمة التي ارتكبها الأمويون والتي تضاف إلى سجل جرائمهم وهي جريمة قتل الكثير من شعر كربلاء، والذي يمثل ذروة التراث الإسلامي ومحاولة إبادته لما يشكله من رعب لهم، لأنه يكشف جرائمهم ويثير الرأي العام ضدهم، فالسيد الحميري – مثلاً – وهو شاعر أهل البيت، وقد اقتصر شعره عليهم كان من الشعراء الثلاثة الذين لا يدرك شعرهم لكثرته، وهم بشار، وأبو العتاهية، وفي مقدمتهم السيد، كما وصفه جميع المؤرخين حتى قال أحد معاصريه: (جمعت للسيد ألفي قصيدة، وظننت أنه ما بقي عليّ شيء، فكنت لا أزال أرى من ينشدني ما ليس عندي فكتبت حتى ضجرت، ثم تركت)! ولكنك تتفاجأ حينما تقارن بين هذا القول وبين ديوانه المطبوع الذي لا يحتوي سوى قصائد ومقطوعات معدودة

بنو امیہ کی حکومتوں کے جرائم میں سے ایک بہت بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے ‘کربلاء کے واقعہ سے متعلق’ شاعری کا ایک بڑے حصّے کا قتل کیا۔ یہ اسلامی ورثے کا خاتمہ تھا اور اس کو انھوں نے اس لیے ختم کرنا چاہا کہ یہ شعری بیانیہ ان کے لیے بہت خوفناک تھا کیونکہ یہ ان کے جرائم کو بے نقاب کرتا تھا اور رائے عامہ کو ان کے خلاف کرتا تھا۔ مثال کے طور شاعر اہل بیت ‘سید حمیری’ ان تین شعراء میں سے تھا جن کے اکثر اشعار ہم تک نہیں پہنچے۔ ان میں باقی کے دو شاعر اہل بیت بشار اور ابو العتاھیہ ہیں۔ ان سب میں مقدم سید حمیری تھے۔ جیسا کہ ان کے مقدم ہونے کی بات سبھی مورخین نے کی ہے یہاں تک کہ ان کے ایک معاصر نے کہا
“میں نے سید حمیری کے ایک ہزار قصیدے جمع کیے۔ اور میرا گمان ہے کہ ان کے کلام میں بس یہی باقی رہا ہے۔ کیونکہ میں نے بہت کوشش کی اور انتظار کیا کہ جو میرے پاس نہیں ہے اس کلام میں سے میں اس کو پالوں لیکن نہیں پاسکا تو میں نے مایوس ہوکر اس کو چھوڑ دیا

لیکن آپ جب ان کے مطبوعہ دیوان اور اس بیان کا تقابل کرتے ہو تو حیران ہوتے ہو کہ یہ کلام تو چند قصیدوں پہ اور اشعار کے ٹکڑوں پہ مشتمل ہے۔ باقی کہاں گیا۔

وتستمر عملية الإبادة الشعرية، فالكميت بن زيد الأسدي يموت مخلّفاً خمسة آلاف ومائتين وتسعة وثمانين بيتاً، (5289) كما ذكر ذلك أبو الفرج الأصفهاني في (الأغاني) والطبري في (تاريخه)، ولكن شعره الآن لا يساوي ربع هذا العدد ! وهناك من الشعراء من اختفى اسمه مع شعره، فقد ذكر الطبري في تاريخه: (إن عبد الله بن عمرو البدّي من أشجع الناس، وأشعرهم، وأشدهم حباً لعلي ؟

یہ ‘شعری نسل کشی’ جاری رہی۔ جیسے کمیتبن زید الاسدی کی جب وفات ہوئی تو اس نے اپنے پیچھے پانچ ہزار دو سو ننانوے اشعار چھوڑے تھے جیسا کہ ابو الفرج اصفہانی نے کتاب الاغانی اور طبری نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا۔ لیکن ہمارے تک اس کا ایک چوتھائی بھی نہیں پہنچا۔ پھر ایسے شاعر بھی تھے جو اپنے ایسے کلام پہ اپنا نام ظاہر نہیں کرتے تھے۔ جیسے طبری نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا: بے شک عبد اللہ بن عمرو البدی بہت بہادر انسانوں میں شمار ہوتے تھے۔ اور وہ جو شعر کہتے ان سے شدید حب علی المرتضی کا اظہار ہوتا تھا۔”

كم من أمثال هذا الشاعر الفارس قد أضاعهم التاريخ أو بالأحرى المؤرخون؟ يقول أبو الفرج الأصفهاني في الأغاني: (كانت الشعراء لا تقدم على رثاء الحسين مخافة من بني أمية وخشية منهم)، كما ضاع أو أُضيع الكثير من شعر التوابين، (وكان مما قيل في ذلك قول أعشى همدان)، كما ذكر الطبري، وكان يسمى شعر (المكتّمات). وقد أورد ابن الأثير قصيدة منه في تاريخه

الفارس کی طرح کتنے شاعر ہوں گے جن کو تاریخ میں ضایع کردیا گیا اور ان کے تذکرے سے مورخین دور رہے؟ ابو الفرح اصفہانی نے ‘کتاب الاغانی’ میں لکھا

‘ بہت سے شعراء ایسے تھے جو مراثی امام حسین پ مبنی اپنی شاعری پہ بنو امیہ کے ڈر اور عتاب کے خوف سے اپنا نام نہیں لکھا کرتے تھے۔

جیسے تحریک توابین کے بہت سے شعر ضایع ہوگئے یا ضایع کردیے گئے۔ جیسے اس بارے میں اعشی ھمدان بارے کہا گیا ہے۔ جیسے طبری نے ذکر کیا کہ وہ اپنے اشعار کو ‘ شعر المکتمات / خاموش کی شاعری کہا کرتا تھا۔ اور اس کا ایک قصیدہ ابن اثیر نے اپنی تاریخ الکامل میں ذکر کیا ہے۔

ما يورد المرزباني (مكتّمة) أخرى لعوف بن عبد الله الأزدي وهو ممن شهد مع أمير المؤمنين، عليه السلام، في صفين ومن التوابين وله قصيدة في رثاء الحسين، عليه السلام، قال عنها المرزباني إنها كانت تخبأ أيام بني أميةا

جیسا کہ المرزبانی نے ایسے ہی ایک گمنام شاعر عوف بن عبداللہ الاذدی کا ذکر کیا ہے۔ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ صفین میں رہا اور اس نے توابین کی تحریک میں بھی شرکت کی، ان کا ایک قصیدہ رثاء حسین رضی اللہ عنہ بارے ہے ان کے بارےمیں مرزبانی نے کہا وہ مرثیہ امام حسین بنی امیہ کے دور میں بالکل ہی گمنامی میں پڑا رہا اور سینہ در سینہ محبان اہل بیت میں منتقل ہوتا رہا۔

إذ قام يدعو إلى الهدى
وقبل الدعا لبيك لبيك داعيا

جب اس نے ہدایت کے لیے قیام کرتے ہوئے لوگوں کو پکارا

اور اس کی دعوت کو لبیک لبیک اے دعوت دینے والے کہہ کر قبول کرلیا گیا

كما ظهر في ذلك الوقت شعر (الجداريات)، وهو الشعر الذي كان يكتبه الشاعر على جدران الأماكن التي أعدت للاستراحة في السفر فيمر بها الناس ويقرؤونها وتتناقل على الألسن ولا يعرفون لمن هي، وقد اشتهر بذلك الشاعر يزيد بن مفرغ الحميري الذي كان من الشعراء الذين رثوا الحسين، كما عُرف بهجائه الشديد للأمويين، فناله منهم أشد العذاب والتنكيل

جیسا کہ ظاہر کہ وہ زمانہ دیواروں پہ شعر لکھنے کا تھا۔ شاعر شہروں میں ان سرائے کی دیواروں پہ اشعار لکھ دیا کرتے تھے جہاں لوگ دوران سفر آکر ٹھہرتے اور آرام کرتے تھے اور لوگ جب ان دیواروں کے سامنے سے گزرتے تو ان اشعار کو پڑھا کرتے تھے اور اس طرح سے یہ اشعار ان کی زبانوں پہ رواں ہوجایا کرتے تھے۔ اور ان کو پتا بھی نہیں ہوتا تھا کہ وہ اشعار کن کے ہیں۔ اس طرح دیواروں پہ شعر لکھنے میں ایک شاعر یزید بن مفرغ الخمیری بہت مشہور تھا جو امام حسین کے مرثیے لکھا کرتا تھا۔ وہ امویوں کی شدید ہجو لکھنے میں بہت جانا پہچانا جاتا تھا۔ بنو امیہ کی طرف سے اسے شدید تکلیف اور اذیت پہنچائی گئی۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*