اداریہ تعمیر پاکستان: آزادی صحافت کو سب سے بڑا خطرہ کارپوریٹ مفادات،فرقہ وارانہ و نسلی تعصبات کے تحت ابھرنے والی خودساختہ سنسرشپ سے ہے

 

فریب کے چلن کے وقت لوگوں کو سچ بتانا انقلابی قدم ہوتا ہے- جارج آرویل

پاکستان میں ضمیر نیازی کی کتاب ‘صحافت پابند سلاسل’ کے اضافہ شدہ ایک اور نئے ایڈیشن کی اشد ضرورت ہے۔ جبری گمشدگیوں، تکفیری جبر و دہشت اور معاشی بحران کے درمیان پاکستان کو آزاد اور متحرک پریس کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ماضی میں بھی حال کی طرح پاکستان میں صحافت نے ہمیشہ سول-ملٹری نوکر شاہی کی طرف سے دباؤ کا سامنا کیا ہے۔ یہاں تک کہ سویلین حکومتوں کے دور میں بھی صحافت کے لیے آزادانہ کام کرنا کچھ آسان بات نہیں رہی ہے۔ لیکن پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے لیے سب سے بڑا خطرہ خود میڈیا کے اندر سے لاحق ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا وقت کبھی نہیں آیا تھا جب میڈیا کارپوریٹ ۔ غیر ملکی اور سیکورٹی مفادات کے سامنے ایسے مصلحت کوش بنا ہو اور اس طرح سے اس نے سمجھوتے کیے ہوں جیسے وہ آج کل کررہا ہے۔ یہ صرف اردو صحافت میں دائیں بازو کے اخبارات اور ٹی وی چینل کے بارے میں ہی سچ نہیں ہے بلکہ یہ انگریزی میڈیا کے بارے میں بھی سچ ہے ۔ انگریزی پریس میں کمرشل لبرل اور نام نہاد بوتیک میں ٹنگے شو پیس ماڈل کی طرح کے نام نہاد بائیں بازو کے صحافیوں کا غلبہ ہے اور ان کا کام صرف ایشوز کو مبہم بنانا رہ گیا ہے۔

جو نیٹ ورک پاکستانی صحافت کی مالیاتی سرپرستی کرتے ہیں، ان کے لیے پاکستانی صحافت نے آزادی اظہار کو بھی مصلحت کوش بنا ڈالا ہے۔ اس مصلحت کوش صحافت کے تحت مخصوص عینک کے زریعے سے مسائل کو دیکھا جاتا ہے اور یہ بات یقینی بنائی جاتی ہے کہ ان کے نکتہ نظر سے ہٹ کر کوئی اور اختلافی آواز سامنے نہ آنے پائے۔ صحافت پہ باہر سے پڑنے والے دباؤ اور آزادی اظہار پہ خارج سے لگنے والی قدغنوں کا مقابلہ کرنا کہیں زیادہ آسان ہوتا ہے مگر اندر سے ایک ناسور کی صورت جو دباؤ اور قدغن آتی ہے اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

ہمارے ہاں صحافت میں ‘بغاوت’ بھی مخصوص ایجنڈوں کے ساتھ نتھی ہوگئی ہے۔ ایسی مخصوص ایچنڈے سے جڑی بغاوت کی ایک مثال مخصوص کمپئن کی ہے جو سلیم صافی کے وقار اور شہرت کے تحفظ کے لیے چلائی جارہی ہے۔ سلیم صافی نے نواز شریف کے حق میں جو رپورٹ دی اس کو لیکر سلیم صافی سے بدسلوکی کرنا کسی شک و شبہ کے بغیر قابل مذمت ہے۔ لیکن اس کے حق میں چلنے والی کمپئن بھی اس سیاق و سباق کو بالکل سنسر کررہی ہے جس کے سبب چیزیں یہاں تک پہنچی ہیں۔
کئی ماہ تک سلیم صافی نے پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف مبینہ گھناؤنی فرقہ وارانہ مہم چلائی رکھی۔ صافی کے بے ہودہ ہتھکنڈوں پہ مبنی مہم اس مقدمے پہ مشتمل تھیں کہ پی ٹی آئی کا ایک سینئر رہنماء کی شناخت شیعہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایران کا چمچہ ہے۔ یہ ان روایتی ہتھکنڈوں میں سے ایک ہتھکنڈہ ہے جس کا ہدف پی ٹی آئی کے وہ شیعہ اراکین ہوتے ہیں جو صافی کی مہم کا ہدف ہیں۔یہ ہتھکنڈے سپاہ صحابہ کے ہیں جو شیعہ کی ٹارگٹ کلنگ کے جواز کے لیے وہ آج تک اپناتی آئی ہے۔ سلیم صافی نے اپنی مہم کے زریعے اس اشتعال انگیزی کے پٹرول کو آگ دکھانے کی کوشش کی جو پہلے ہی سپاہ صحابہ بھڑکارہی ہے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے جو لبرل صافی کی حمایت کررہے ہیں انھوں نے اس پس منظر کا ذکر کہیں بھی نہیں کیا ہے۔ ان میں سے بعض کے فرقہ وارانہ دوہرے رویے اور ان کے مخصوص قسم کی صحافت کے طریقے جانے پہچانے ہیں۔ ان میں سے اکثر مظلوم اور ظالم دونوں کی نظریاتی شناخت کو چھپانے کے ماہررہے ہیں۔ یہ مخصوص ایجنڈے کے ساتھ بغاوت اور انحراف کی ایسی مثال ہے جس کے ساتھ میڈیا نے خود اپنے آزادی اظہار کو مجروح کیا ہے۔

سیکورٹی اسٹبلشمنٹ کے خلاف بین السطور متبادل تنقیدی الفاظ کی پوری لغت تیار کرنے والے میڈیا کا ایک سیکشن پاکستان کے اندر دہشت گردی میں سب سے زیادہ ملوث گروپوں کو ہائی لائٹ کرنے کی زحمت نہیں کرتا۔ اس کی بجائے کچھ تو سلیم صافی جیسے صحافیوں کی حمایت کے لیے صف آراء ہوجاتے ہیں جو اپنے سیاسی مخالفوں کے خلاف اشتعال بڑھانے والے مواد کی فراہمی کرتے ہیں اور فرقہ وارانہ تعصبات بھی اس میں شامل کردیتے ہیں۔

پاکستان کے میڈیا کے لیے سیکورٹی اسٹبلشمنٹ،تکفیری دہشت گرد، غیر ملکی مفادات اور دائیں بازو کی جماعتوں کے بارے میں بالکل صاف صاف الفاظ کے ساتھ بات کرنا نایاب بلکہ ناممکن بات ہوچکی ہے۔ ان معاملات میں صحافت کو صرف بیرونی دباؤ اور پابندیوں نے پابند سلاسل نہیں کیا بلکہ کارپوریٹ مفادات اور فرقہ وارانہ تعصبات کا بھی بڑا دخل ہے۔ جب تک اس معاملے پہ آزادانہ بات نہیں کی جائے گی تب تک آزادی اظہار کی کمی کے پیچھے کار فرما سامنے نظر آنے والی وجوہات پہ بھاشن بے کار ہوگا۔ آخرکار یہ ‘آزادی اظہار’ پہ پابندیوں میں سے داخلی سنسر شپ، کارپوریٹ مفادات کی تابع داری اور فرقہ وارانہ و نسلی تعصبات کے ماتحت ابھرنے والی سنسر شپ بارے خاموشی ہے جو آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے بھاشن کو منافقت بنادیتی ہے۔

 

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*