Original Articles Urdu Articles

بین المذاہب پسند کی شادی اور مسلم مخالف جذبات – رافعہ زکریا

“ہاں،جنھوں نے میرے بیٹے کو مارا مسلمان تھے لیکن ہر مسلمان کو اس میں لپیٹا نہیں جاسکتا۔فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کے لئے مجھے استعمال مت کریں،مجھے اس میں مت گھسیٹیں۔میں ہر ایک سے درخواست کرتا ہوں کہ اس کو مذہب سے مت جوڑیں اور فضا کو خراب نہ کریں۔”یہ الفاظ 22 سالہ دہلی کے فوٹو گرافر انکیت سیکسنہ کے والد کے تھے جس کی اس کی دوست کے والدین نے قتل کردیا،جو ان کے درمیان تعلقات کے مخالف تھے۔

انکیت ہندؤ تھا اور لڑکی کا تعلق مسلمان گھرانے سے تھا،ایسا جوڑ جس نے میڈیا اور ہندوستانی سیاست کو غم سے نڈھال باپ کی درخواست کا لحاظ نہ کرنے کی طرف رہنمائی کی۔قتل کے بعد دنوں میں ہی،ہندؤ قوم پرستوں نے ٹوئٹر کو اپنے پہلے سے مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے غصّے کو اور تیز کرنے کے لئے استعمال کیا،اور بغیر شرمسار ہوئے انھوں نے ایک المیہ سے اور کئی المیوں کی پیدائش کا سامان کرڈالا ہے۔

یہ سب موبائل فون سے شروع ہوا،جیسے آج کل جنوبی ایشیا میں واقعات کی شروعات ہوتی ہے۔لڑکی کے بھائی نے اس کے موبائل فون کی تلاشی لی اور اس میں محبت بھرے پیغامات پائے جن کا اس نے انکیت کے ساتھ تبادلہ کیا تھا۔

اس نے خاندان کے اندر ایک ہنگامہ کھڑا کردیا؛بھائی نے موبائل فون والد کو دے دیا،جسے اس بات پہ انتہائی غصّہ تھا کہ اس کی بیٹی ایک ہندؤ لڑکے کے پیار میں مبتلا تھی؛اس نے لڑکی سے مار پیٹ کرتے ہوئے جلد اس کی شادی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔لڑکی کی والدہ نے مداخلت کی اور والد کو لڑکے پہ حملہ کرنے کے ارادے سے روک دیا۔حالات اگلے کئی گھنٹوں تک شانت دکھائی دئے۔

لیکن یہ زیادہ دیر پرسکون نہ رہے۔اگلی صبح،لڑکی گھر سے کھسک لی اور اس نے انکیت کو میٹرو اسٹیشن پہ ملنے کا پیغام بھیجا۔دونوں ایک دوسرے کو اچھے سے جان چکے تھے اور دونوں نے مارچ میں کورٹ میرج کا پروگرام طے کررکھا تھا۔انکیت نے اپنے دوستوں کو بھی بطور گواہوں کے مدعو کرلیا تھا۔باہر نکلتے ہوئے،اس نے اپنے والدین اور گھر کے دیگر افراد کو گھر کے اندر لاک کردیا تھا۔انھوں نے لاک توڑ لیا اور باہر آئے،ان کو یقین تھا کہ ان کی بیٹی کو اغواء کرلیا گیا ہے۔

وہ سب فوری طور پہ انکیت کے گھر کی طرف دوڑے،جو کہ تھوڑے ہی فاصلے پہ تھا۔وہاں، انکیت کے خاندان سے انکیت پہ لڑکی کے اغوء کے الزام کو لیکر کافی سخت لڑائی ہوئی۔اس نے الزام سے انکار کیا اور معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی،لیکن لڑکی کے والد نے چاقو سے حملہ کردیا۔جب انکیت کی ماں نے مداخلت کی کوشش کی،اسے بھی دھکا مارکر ایک طرف کردیا گیا۔لڑکی کے باپ،اس کے بھائی اور چچا سب اس موقعہ پہ موجود تھے،اور پھر لڑکی کے والد نے نوجوان کا گلا چاقو سے کاٹ دیا۔خوب بہتے خون کے ساتھ انکیت کو ہسپتال لیجانے کی طرف بھاگا گیا،جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔

یہ سب مصروف شارع عام پہ ہوا۔سی سی ٹی وی ویڈیو نے حملے سے ذرا پہلے کا منظر قید کیا ہے،انکیت کو ایک طرف چلتا ہوا موبائل فون پہ بات کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔کاریں اور پیدل چلتے لوگ اس کے ارد گرد ہیں۔اس کے باپ کے بقول،بہت سے لوگ اس وقت بھی موجود تھے جب حملہ ہوا۔کسی نے ٹھہرنے کی زحمت نہیں کی یا کسی نے مداخلت کی کوشش نہیں کی،ان سات منٹوں میں جو اس حملے کو انجام تک پہنچنے میں لگے۔ان میں سے کسی نے حملہ آوروں کو نہیں روکا جب کہ وہ آسانی سے موقعہ واردات سے چلے گئے۔دہلی کی مصروف سڑک پہ، حملے ہوسکتے ہیں اور حملہ آور بھی غائب ہوسکتے ہیں۔

حملے کے چند دن کے اندر،تمام حملہ آور پکڑے گئے۔اسلامو فوبک(مسلمانوں کے خلاف ان کی مسلم شناخت کے سبب تعصب اور نفرت کا رجحان رکھنے والا رجحان اسلامو فوبیا کہلاتا ہے) غصّہ جوکہ مودی کے اندوستان میں تہہ کے نیچے ہی نیچے ابلتا ہے ایسا لگتا ہے کہ اسے ایک نیا ہدف اور ایک نیا بیانیہ مل گیا ہے۔

اگر پرانا بیانیہ یہ تھا کہ تمام مسلمان دہشت گرد اور اس یا اوس جہادی گروپ سے تعلق رکھتے ہيں،تو نیا بیانیہ ہے کہ اگر وہ جہادی نہیں ہوتے تو قاتل ضرور ہوتے ہیں۔اور ذرا سی بات پہ وہ ہندؤں سے حساب چکتا کرڈالتے ہیں۔

یہ اس قسم کا شور شرابا ہے جو کہ فرقہ وارانہ غیظ و غضب کو اس سطح پہ پہنچاسکتا ہے جہاں سے اس کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔لیکن ایسا نظر جو ارباب اختیار ہیں ان کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔اروند کیجروال، دہلی کے چیف منسٹر،نے انکیت سیکسنہ کی موت کا بدلہ لینے اور مقدمہ چلانے کے لئے بہتریں وکلاء کو ہائر کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

نامور مسلمان، جو ہمیشہ مودی کے ہندوستان میں مدافعت پہ نظر آتے ہیں نے بیانیہ کو بدلنے اور پرانے خیالات کو واپس لانے کی کوشش کی ہے،جن کے مطابق پسند کے رشتے غیرت کے نام پہ جرائم کو جنم دیتے ہیں۔ہندوستانی کرکٹر محمد کیف کا ٹوئٹ آیا،” کس زمانے میں سانس لے رہے ہیں ہم؟کوئی نہ پیار کرسکتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے شادی کرسکتا ہے/کرسکتی ہے اور یہ سب دہلی جیسے اربن سٹی میں ہورہا ہے۔قاتلوں کے لئے بڑی شرم کا مقام ہے۔انصاف کا بول بالا ہونا چاہئیے اور سب سے اہم ذہنیت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔امن کا الف بھی نہیں ہے۔”

اگر اس سے ایسے مکروہ فعل سرانجام دینے والے برے مسلمانوں کو الگ تھلگ کیا جاسکتا تو کیف کے سوال کی واقعی اہمیت بنتی ہے۔

ایک ممکنہ طریقہ جس میں اسے دوبارہ سے آج کے ہندوستان کے سیاق و سباق میں دوبارہ ترتیب دیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا بین المذاہب پسند کی شادیاں ان الزامات سے بچ سکتی ہیں کہ اس طرف یا اس طرف والے تبدیلی مذہب کے لئے ان کو استعمال کررہے ہیں۔یہاں تک کہ تیزی سے اربنائزیشن کی طرف بڑھنے والے جنوبی ایشیا میں،پسند کی شادیاں،غصّہ اور ناراضگی کو لیکر آتی ہیں، لیکن مودی کے مذہبی جنونیت کے آسیب میں گرفتار ہندوستان میں تو ان کا ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔

یہ نتیجہ کہ پیار کے لئے چاہے یہ بین المذاہب ہو یا عمومی طور پہ کوئی جگہ نہیں ہے نکالنا ایک ایسے ملک بارے جو اپنی قومی سوغات کے اعتبار سے فلموں کے ذریعے سے جانا جاتا ہو جس میں عام طور پہ لوگوں کو گرفتار محبت ہوتے دکھایا جاتا ہے کافی عجیب لگتا ہے۔پھر اس تناظر میں تاہم،اسلاموفوبیا نے بھی رسنا شروع کردیا ہے۔ہفتہ پہلے پدماوت فلم ریلیز ہوئی، ایک ایسی فلم جو بادی النظر میں بہت زور وشور سے دشمن حملہ آور بناکر پیش کئے گئے مسلمانوں کے مقابلے میں ہندؤ عورتوں کی اجتماعی خود کشی کی تعریف کرتی نظر آتی ہے۔

المیہ اور پسند کی شادی پہ لڑتے خاندان ہندوستان یا جنوبی ایشیا کے لئے نئی بات نہیں ہے۔اس سطح کی نفرت نیا مظہر ہے، جس میں ایک مسلم خاندان بہت زیادہ (مسلم شناخت) کے ساتھ نمایاں کیا جارہا ہے اور پھر سب مسلمانوں کو مجرموں کے طور پہ پیش کیا جارہا ہو،ایک خودساختہ تیار اور دستیاب عذر ہے جس سے احتساب اور قتل عام میں آسانی ہوتی ہو۔انکیت کے باپ سیکسنہ ،جس نے سب سے بڑا نقصان برداشت کیا ہے،وہ اس طرح کی نفرت اور پروپیگنڈا کا انکار کررہا ہے۔اس قسم کی نفرت سے جڑے بہت سو کے درمیان،کم از کم ایک دکھی اور غمزدہ باپ تو ہے جو اس کے آگے سپر ڈالنے سے انکاری ہے۔

(بشکریہ ڈیلی ڈان۔مترجم عامر حسینی)