Original Articles Urdu Articles

پشتون لانگ مارچ کو ہائی جیک مت ہونے دیں تحریر – محمد عثمان عبداللہ فاروقی

آپ جب یہ کہتے ہیں کہ پشتون لانگ مارچ میں کسی کو آنے سے روکا نہیں گیا۔اور نہ ہم روک سکتے ہیں۔تو اس کے ساتھ ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ جب پاکستان پیپلزپارٹی کے نمائندے اس لانگ مارچ میں پہنچے تو ان کو وہاں سے بھگادیا گیا،ان سے بدتمیزی بھی کی گئی لیکن یہ سلوک کالعدم مذہبی فرقہ پرست جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ کیوں روا نہیں رکھا گیا؟ کیا فرقہ پرستی اور فرقوں کو کافر قرار دینے والے گروہوں کو یہ اجازت دی جانی چاہئیے کہ وہ عوامی احتجاج میں دھوم دھڑکے سے شریک ہوں اور ان کو سٹیج پہ آنے اور خطاب کی اجازت مل جائے۔اس کو کیسے جواز فراہم کیا جاسکتا ہے۔

میں اسلام آباد میں جاری پشتون قبائل کے احتجاج کے اس موقعہ پہ بہت ساری باتیں جو تلخ ہیں کہنا نہیں چاہتا تھا مگر مجبور کیا جارہا ہے کہ ان باتوں کو یہاں کرہی دیا جائے۔

پشتون قبائل لانگ مارچ کے شرکاء نے حکومت بلکہ درحقیقت فوج کے سامنے کئی مطالبات رکھے ہیں۔ان مطالبات میں کہیں پہ بھی پشتون قبائل کے اس لانگ مارچ کے قراردادیں تیار کرنے والوں نے یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ پورے فاٹا میں ازخود کسی کالعدم تنظیم اور کسی فرقہ پرست تنظیم جو شیعہ یا سنّی مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے خلاف نفرت پھیلائے ، ان کے کافر ہونے کی مہم چلائے اس کا حقّہ پانی بند کردیں گے۔

قبائل اگر چاہیں تو کسی تکفیری،جہادی ملّا کی کیا جرات کہ وہ ان قبائل کی سرزمین پہ قدم بھی رکھ سکے اور ان کو کسی فرقے یا نسلی گروہ کے خلاف اکسائے۔

اگر پشتون قبائل کی اکثریت فاٹا کے اندر فرقہ پرستانہ منافرت پھیلانے والی تنظیموں کے سماجی مقاطعہ کا اعلان کردیں اور فاٹا میں کسی کو اجازت نہ دیں کہ وہ کسی مسلک کے خلاف مہم چلائے اور اس کی تبلیغ کرے،اور فاٹا میں جہاں پہ تکفیری و جہادی دیوبندی عسکریت پسندی نے لوگوں کو یرغمال بنارکھا ہے اگر وہ سب اسلام آباد میں آکر اسلام آباد کی حکومت سے مطالبہ کرسکتے ہیں کہ ریاست انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے تو ان کو اپنے علاقوں سے بھی تکفیری اور جہادیوں کو بھگانا ہوگا۔اور ان کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ کرنے کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔

میں صاف صاف کہتا ہوں کہ اگر کسی قبائل کے دیوبندی پشتون دیوبندی عسکریت پسندوں اور تکفیریت کے علمبرداروں کو اپنے علاقوں میں کام کرنے سے نہیں روکتے اور ان کو اپنے احتجاج میں شامل کرتے ہیں تو پھر پشتون قبائل کے حقوق کی لڑائی کبھی جیتی نہیں جاسکے گی۔

ایسے جیسے اگر پشتون شیعہ کسی شیعہ تکفیری گروہ کو اپنے سٹیج پہ چڑھنے دیں اور اس کو اپنے حقوق کی جنگ میں شامل کرلیں تو وہ بھی بھول جائيں کہ ان کو ان کے حقوق ملیں گے۔ اور یہی بات بریلوی اور دیگر مسالک اور فرقوں کے بارے میں بھی درست ہے۔

قبائل کے مشران،ملک ، نوجوانوں کو اس بات کا اعلان کرنا چاہئیے کہ وہ فاٹا کے اندر مسجد،امام بارگاہ،مزارات ، عرس ،مجالس ، اور دیگر شعائر کے تحفظ میں سرگرم ہوں گے۔اور قبائل کو مذہب و فرقہ اور مسلک کی بنیاد پہ تقسیم کرنے کی کوشش کرے گا اسے قبیلہ سے نکال دیا جائے گا۔

پشتون قبائل کے لانگ مارچ میں ابتک جو مطالبات سامنے آئے ہیں، ان مطالبات کو دیکھتے ہوئے یہ تاثر لوگوں کے ذہنوں میں پختہ ہورہا ہے کہ فاٹا کی قبائلی ایجنسیوں سے آنے والے اس لانگ مارچ کو ایسے لوگوں نے ہائی جیک کرلیا ہے جن کی طالبان ازم ، جہاد ازم، تکفیر ازم، اینٹی شیعہ و اینٹی صوفی سنّی اسلام عناصر سے ہمدردیاں ہیں اور وہ پشتون حقوق کی آڑ میں پشتون قبائلی علاقوں کو ایک بار پھر ایسے عناصر کے کنٹرول میں لانا چاہتے ہیں جو اس ملک کی نسلی و مذہبی برادریوں کی نسل کشی کا جواز مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں میں تلاش کرتے ہیں۔