Original Articles Urdu Articles

کیا عدلیہ نواز شریف سے ہار جائے گی؟ – عامر حسینی

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے سابق سینٹر اور مسلم لیگ نواز کے رہنماء نہال ہاشمی ایڈوکیٹ کو توہین عدالت کا جرم ثابت ہونے پہ ایک ماہ قید سنادی ہے۔جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک شہری کی جانب سے نواز شریف،ان کی بیٹی مریم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے مسلم لیگ نواز کے دو وزراء دانیال عزیز اور طلال چوہدری کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جہاں توہین عدالت کے نوٹس مسلم لیگ نواز کے وزراء کو جاری کررہی ہے،وہیں پہ عدالت نے نااہلی کی سزا پانے والے وزیراعظم سمیت دیگر پارلیمانی اراکین کی نااہلی کی مدت کا تعین کرنے کے کیس کی سماعت کا آغاز کیا ہے۔

افتخار چوہدری کے جانے کے بعد یکے بعد دیگرے آنے والے دو چیف جسٹس صاحبان جسٹس تصدق جیلانی اور جسٹس ظہیر انور جمالی کے دور میں ایسے لگ رہا تھا جیسے جوڈیشل ایکٹوازم کو ریورس گئیر لگ گیا ہے۔اور جسٹس ثاقب نثار کی جب تعیناتی بطور چیف جسٹس ہوئی تو ان کے قانون کی دنیا میں کرئیر پہ نظر رکھنے والوں نے ان کو نواز شریف کے لئے نرم گوشہ رکھنے والا چیف جسٹس قرار دیا۔حدبیہ پیپرز مل کیس بارے ان کی سربراہی میں قائم بنچ نے جس طرح سے نیب کی درخواست کو رد کیا اور نواز شریف کی نااہلی کے بعد عدلیہ کے ججز کے خلاف جو جارحانہ مہم میاں نواز شریف اور ان کی جماعت نے شروع کی اس پہ ان کی جانب سے خاموشی پہ بھی اس تاثر کو تقویت ملی کہ عدلیہ نواز شریف کے ساتھ نرمی سے کام لے رہی ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر قانون دان لیاقت علی ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں نواز شریف پرست ہونے کا مبینہ تاثر اس لئے بنا تھا کہ ان کو نواز شریف نے مارچ 1997ء میں سیکرٹری قانون بنایا اور اس دوران بے نظیر بھٹو ،آصف علی زرداری اور پی پی پی کے دیگر لوگوں کے خلاف جو مقدمات دائر کئے گئے تھے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے پیچھے ان کا اور سیف الرحمان کا دماغ کام کررہا تھا۔ثاقب نثار کو 98ء میں لاہور ہائیکورٹ کا جج بھی میاں نواز شریف نے ہی بنوایا تھا۔۔پھر جب ان کا نام سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بطور سپریم کورٹ کے جسٹس کے پیش کیا تو اس کو آصف علی زرداری نے واپس کردیا تھا مگر اسے افتخار چوہدری نے اپنے صوابدیدی اختیارات کے زریعے سے باقی رکھا۔اس طرح کے ديگر قرائن کو مدنظر رکھ کر کہا جاتا رہا کہ وہ نواز شریف کے اپنے جج ہیں۔

لیکن گزشتہ چند ماہ سے صورت حال میں بتدریج تبدیلی آتی جارہی تھی اور چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے نواز شریف کو پانامہ کیس میں سنائی گئی نظرثانی کی درخواست پہ سنائے گئے فیصلے،نواز شریف نااہلی کیس کی سماعت ،توہین عدالت کے نوٹسز اور سوموٹو نوٹس لینے میں اضافے نے اس تاثر کو زائل کردیا ہے کہ وہ نواز شریف کے قریب ہیں۔

صورت حال کی تبدیلی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ نواز شریف، مریم نواز اور مسلم لیگ نواز کے دیگر شعلہ بیاں وزراء کی جانب سے اب پانامہ کیس اور جی آئی ٹی اور نیب عدالتوں کے ججز کے ساتھ ساتھ خود اشاروں کنایوں سے چیف جسٹس آف پاکستان پہ بھی تنقید شروع کردی گئی ہے۔نہال ہاشمی کو سنائی گئی سزا کو مسلم لیگ نواز کے حلقوں میں نواز شریف کو بالواسطہ تنبیہ خیال کیا جارہا ہے۔جبکہ نواز شریف کے حال ہی میں پنجاب میں دو جلسوں اور کراچی میں وکلاء سے خطاب کے دوران ان کے حملوں کا براہ راست نشانہ چیف جسٹس بنے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار خود بھی اپنی طرف توپوں کا رخ ہونے کے معاملے کو سمجھ رہے ہیں۔تین مختلف تقریبات میں انھوں نے جو خطابات کئے ان میں وہ بہت ہی کھل کر عدلیہ پہ ہونے والی تنقید کا جواب دیتے نظر آئے۔انھوں نے نواز شریف کی جانب سے لگایا گیا یہ الزام کہ عدلیہ نے وزیراعظم کو مفلوچ کردیا ہے کے جواب میں کہا کہ سیاست دانوں نے عدلیہ کو مفلوج کررکھا ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت اپنا کام نہیں کرے گی تو عدلیہ اپنا کام کرے گی۔

جوڈیشل ایکٹوازم کے اس نئے مرحلے میں مسلم لیگ نواز اور اس کے حامیوں کی پریشانی اور غصّہ کافی واضح نظر آنے لگا ہے۔نہال ہاشمی کو سزا ہونے کے بعد سے نواز شریف،مریم نواز، خواجہ سعد رفیق، طلال چوہدری،دانیال عزیز،احسن اقبال سمیت نواز لیگ کے عقاب سب کے سب کیفیتی اعتبار سے ایک سا بیان دے رہے ہیں۔اور بین السطور وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر عدلیہ نے نواز شریف کو توہین عدالت کی سزا سنانے کی کوشش کی تو پھر یہ توہین ‘اجتماعی عدالتی نافرمانی’ کی تریک میں بدل دی جائے گی۔

نواز شریف عدلیہ کے خلاف جس قسم کی محاذ آرائی کی سیاست کررہے ہیں،اس کی حمایت پاکستان میں پریس کا ایک بڑا طاقتور سکشن کررہا ہے۔انگریزی پریس میں ان کی طرف جھکاؤ رکھنے والے کافی بڑے نام ہیں۔ان میں جہاں نجم سیٹھی،بینا سرور ، کا نام لیا جاسکتا ہے وہیں سب سے زیادہ سرگرم نام سیرل المیڈا کا ہے۔بلکہ اب تو یہ محسوس ہونے لگا کہ نواز شریف اپنی سیاسی لائن کا اعلان کرنے سے پہلے اپنے حامی پریس سیکشن کو اس لائن کے خدوخال بیان کرنے کا اشارہ دیتے ہیں۔اتوار کے روز سیرل المیڈا کا ایک مضمون ‘اور مصیبت’ کے عنوان سے شایع ہوا۔

If the judge avers that justice will be done in every instance, it only serves to remind everyone that maybe justice hasn’t been done in a certain instance.

If the judge starts locking up people for contempt, it may grow the queue — or, dangerously, encourage Nawaz to jump to the front of the queue. A bad idea doesn’t turn good by doing more of it.

This is a war the judiciary can’t win.

(More trouble by Cyril Almeida:
https://www.dawn.com/news/1387109/more-trouble)

اس پیراگراف سے ہم صاف سمجھ سکتے ہیں:
ان کے دل میں یہ ڈر ہے کہ معاملہ صرف نااہلی تک نہیں رکنے والا بلکہ اس سے آگے جائے گا۔اور اگر جج صاحبان لوگوں کو توہین عدالت کے الزام میں بلانے لگیں گے تو اس سے قطار بڑھ سکتی ہے ۔۔۔یا خطرناک طور پہ نواز شریف کو حوصلہ ہوگا کہ وہ اس قطار میں سب سے آگے کھڑے ہوجائیں۔اور ان کے خیال میں ایسا ہونا کوئی بہتری لیکر نہیں آئے گا اور پھر وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک جنگ ہے جو عدلیہ نہیں جیت سکتی۔

انگریزی کے جس موقر اخبار میں اتوار کے روز یہ کالم شایع ہوا،اسی دن کی اشاعت میں اس اخبار نے ایک اداریہ بھی لکھا ہے۔جس میں اخبار نے سپریم کورٹ سے ‘سوموٹو ایکشن’ لینے کے اختیار کے استعمال کی زیادتی کو خطرناک رجحان قرار دیا ہے۔اخبار یہاں پہ ایک لبرل ڈیموکریٹ مثالیت پسند ہونے کا ثبوت دیتا ہے اور وہ درپردہ پاکستان کی سول افسر شاہی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عہدے داروں سے عوامی اہمیت کے ایسے ایشوز پہ جواب طلبی کی روش پہ تنقید کرتا ہے جو بظاہر انتظامیہ کا اختیار سمجھے جاتے ہیں۔لیکن لبرل ڈیموکریٹ مثالیت پسند اپنی ‘سرمایہ دارانہ ‘ سوچ کے سبب ایک بنیادی حقیقت کو چھپاتے ہیں کہ ریپ ہو،یا ریاستی ماورائے عدالت قتل، پینے کا صاف پانی ہو کہ اختیارات کا ناجائز استعمال افسر شاہی اور سیاست دان اس معاملے میں ہمیشہ آئین اور قانونی ضابطوں کی دھجیاں اڑاتے رہتے ہیں اور متاثرین کو کوئی انصاف نہیں ملتا۔جبکہ پاکستان میں نواز شریف اینڈ کمپنی تو انتظامیہ،عدلیہ ، مقننہ ان سب کو اپنا غلام بنانے اور بادشاہت کے طرز پہ موجودہ سسٹم کو ڈھال لینے کی طرف گامزن تھے۔ان کی کوشش ہے کہ یہ اس سسٹم کو بحال کریں جس میں اس ملک کی عدلیہ، فوج، سول افسر شاہی اور پارلیمنٹ ان کی ذاتی وفاداری کا کردار ادا کرے۔اس سے آگے ان کا اور کوئی مقصد نہیں ہے۔