اردو نمایاں

لہو میں ڈوبا دیرہ پھُلاں دا سہرا ( پہلا حصّہ) – حیدر جاوید سید

 

سندھ دریا کے کنارے صدیوں سے آباد دیرہ اسماعیل خان(اب عام طور پر ڈیرہ اسماعیل خان بولا لکھا جاتا ہے) تک کے حالیہ سفر اور تین روزہ قیام کے ذمہ دار میر ے ادارے (یو این این) اوروہ چند دوست ہیں جو اس امر پر اصرار کرتے چلے آرہے تھے کہ پچھلے اڑھائی تین عشروں سے عموماً اور 9/11کے بعد سے خصوصی طور پر بدترین دہشت گردی کا شکار ڈیرہ اسماعیل خان کو چونکہ مین سٹریم میڈیا پر جگہ نہیں ملتی اس لئے اس شہر کے حالات اور لوگوں کے تاثرات ہر دو سے ذاتی طور پر آگاہی حاصل کرنے کیلئے لہو میں ڈوبے اس شہر کی المناک داستان پڑھنے والوں تک پہنچائی جائے۔

ڈیرہ اسماعیل خان وہ شہر ناپرُساں ہے جس میں بہتے لہو اُٹھتے جنازوں اور بنتی قبروں سے پیدا شدہ حالات کو فقط ریاست ہی نہیں مرکزی و صوبائی حکومت بھی یکسرنظر انداز کرتے ہیں۔ بلکہ نوازشریف کے مجھے ’’کیوں نکالا‘‘ اور شہباز شریف کے ’’مجھے کیوں بلایا‘‘ پر گھنٹوں سیاپا کرنے والے الیکٹرانک میڈیا کے سیاپا فروش ہی نہیں پرنٹ میڈیا نے بھی یکسر نظر انداز کر رکھا ہے۔ ڈیرہ میں رونما ہوا کوئی سانحہ ملکی اخبارات کی چند سطری خبر ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ صدیوں کا سفر طے کرچکا ڈیرہ اسماعیل خان قاتلوں کے رحم و کرم پر ہے۔

ایک طرف دہشت گرد اس شہر میں انسانی لہو بہانے میں آزاد ہیں تو دوسری طرف بعض ریاستی ادارے متاثرہ خاندانوں کے نوجوانوں پر ہاتھ صاف کررہے ہیں۔ بیرون ملک مقیم ایک دوست نے کہا ’’سندھ دریا کے ہم جولی ڈیرہ اسماعیل خان پر آسیب کا سایہ ہے‘‘۔ کوئی پیر کرامات، سیاست کار، عامل ثقہ بند اس آسیب کو اپنے چمتکار سے بھگا کیوں نہیں پاتا؟۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جب ریاست پاکستان ہی اس شہر کو نومین لینڈ جتنی اہمیت دینے کو تیار نہیں تو کسی اور کو کیا پڑی ہے وہ سردرد مول لے۔

دیرہ کے کچھ باسیوں کا خیال ہے کہ ان کی نسل کشی میں 1988ء کے عام انتخابات کے نتائج کا بہت ہاتھ ہے ان انتخابات میں تحریک جعفریہ کے انتخابی نشان پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے والے علی حسن شاہ کاظمی نے حیران کن طور پر 30ہزار کے قریب ووٹ لئے مگر اپنے مدِ مقابل مولانا فضل الرحمن سے ہار گئے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے علی حسن شاہ کی عمومی شہرت ترقی پسندسیاسی کارکن کی تھی پیپلزپارٹی نے انہیں اپنا امیدوار کیوں نہ بنایا اور انہوں نے تحریک جعفریہ کے ٹکٹ پر الیکشن کیوں لڑا یہ ایک الگ موضوع ہے مگر حقیقت بہر طور یہی ہے کہ انہیں ووٹ دینے والوں میں اپنی برادری کے علاوہ صوفی سنُی اور بہت سارے سیاسی خاندان بھی شامل تھے۔ 30ہزار کے قریب ووٹ لے کر وہ تو ہار گئے مگر شہر میں دو طرح کے لوگ اس نتیجے سے خوفزدہ ہوئے اولاً وہ جو ڈیرہ کو اپنی مذہبی جاگیر سمجھتے تھے اور ہیں اور ثانیاً وہ جو سرائیکی بولنے والے شیعہ اور صوفی سنیوں کے اتحاد سے خوفزدہ ہوئے۔

1988ء کے انتخابی نتائج کے بعد پہلے مرحلہ میں شہر کی مہاجر آبادی کو منظم طور پر یہ تاثر دیا گیا کہ اگر وہ سپاہ صحابہ کے جھنڈے کے نیچے متحد نہ ہوئے تو انہیں آنے والے برسوں میں مسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔ کچھ دیرے والوں کا خیال ہے کہ اس فکر کو خود ڈیرہ سے ایم این اے بننے والے مولانا فضل الرحمن کی تائید و سرپرستی بھی حاصل تھی۔ ممکن ہے کہ یہ رائے کسی ناراضگی سے عبارت ہو لیکن جب ہم ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ اور اجتماعی قتل عام پر مولانا فضل الرحمن کی بصیرت بھری سیاسی خاموشی کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ رائے حقیقت کے قریب تر لگتی ہے۔

دیرہ میں ایک طبقہ بہر طور ایسا بھی موجود ہے جو شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور اجتماعی قتل عام کو سرائیکی شناخت رکھنے والوں کی نسل کشی قرار دیتا ہے اس طبقے کا موقف ہے کہ قیام پاکستان سے قبل اور پھر بعد کے برسوں یہاں تک کی 1988ء تک یہ شہر اپنے سیاسی شعور علم دوستی اور زندہ کلچر کے حوالے سے اپنی مثال آپ تھا سرائیکی بولنے والی آبادی لارڈ کزن کی مجرمانہ تقسیم جس کے نتیجے میں دیرہ اور ٹانک کے سرائیکی اکثریت کے علاقے برطانوی دور میں بننے والے صوبہ سرحد (این ڈبلیو ایف پی) اب خیبر پختونخوا میں شامل کردیئے گئے کو اپنی قومی شناخت پر سامراجی حملہ قرار دیتا ہے۔ اس کے خیال میں ڈیرہ اور ٹانک کے سرائیکی بولنے والوں کی اکثریت جونکہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے اس لئے ایک سازش کے تحت سرائیکی نسل کشی کو شیعہ نسل کشی کا رنگ د یا گیا۔یہیں سے بربادیاں شروع ہوئیں کیونکہ پنجاب میں شامل سرائیکی وسیب کے لوگوں نے ڈیرہ میں ہونے والے قتل عام کو فرقہ وارانہ سمجھ کر اس طور احتجاج نہیں کیا جسکی ضرورت تھی۔

سرائیکی قوم پرست اس صورتحال سے الگ تھلگ رہے اس لئے شیعہ مسلک کی تنظیموں کو اپنی جگہ بنانے کا موقع ملا وہ مقتولین کے لئے انصاف مانگ رہی ہوتی تھیں جس سے فرقہ وارانہ رنگ گہرا ہوتا چلا گیا۔ یہ رائے رکھنے والے اس شہر کے عام لوگ بھی ہیں۔ کاروباری بھی اور اہل دانش بھی۔ اس کے برعکس ایک دوسری رائے بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ ڈیرہ کے خونی واقعات اصل میں شیعہ نسل کشی ہے اور نسل کشی کے مرتکب عناصر کو جے یو آئی (ف) کے مالک خاندان (فضل الرحمن خاندان) کی سرپرستی حاسل ہے۔ اس دوسری رائے کے حاملین سے سوال کیا فضل الرحمن ایک سیاسی رہنما ہیں وہ کیوں قاتلوں کی سرپرستی کریں گے؟۔ان کا جواب تھا فضل الرحمن کے دو چہرے رکھتے ہیں

مقامی سیاست میں ان کاچہرہ اور ہے اور ملکی امور میں دوسرا، اس موضوع پر گفتگو کرنے والے کہتے ہیں کہ فضل الرحمن نے جس منظم انداز میں افغان پاوندوں اور قبائلی علاقوں کے لوگوں کو شہر میں لا بسانے کی حکمت عملی اپنائی اس کا مقصد شہر میں آبادی کے تناسب کو بگاڑ کر مستقل سیاسی ریاست قائم کرنا تھا

اپنے موقف کے حق میں درجنوں دلیلیں پیش کرنے والے ان شہریوں کا ایک شکوہ یہ بھی ہے کہ شہریوں کی نسل کشی پر فضل الرحمن کی طرح اداروں کی مجرمانہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں اندر سے ایک ہیں۔ دوران گفتگو ایک نوجوان نے کہا۔ آپ کو پتہ ہے کہ چشمہ، شوگر مل I اور II سے چُن چُن کر شیعہ ملازمین کو نکالا گیا۔ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو نکالنے کے لئے فیکٹری انتظامیہ کو خطوط طالبان اور لشکر جھنگوی نے لکھے تھے۔ حیران کن بات ہے کہ ایک مسلک کے لوگوں کے اس معاشی قتل عام پر مولانا اور ریاستی ادارے دونوں خاموش رہے ان کی خاموشی سے ہمارے موقف کی تصدیق ہوتی ہے۔

(جاری ہے)