Original Articles Urdu Articles

جرآت تحقیق و ہمت کفر ہوتی تو کیا بات تھی – عامر حسینی

اے دل زباں نہ کھول صرف دیکھ لے
ڈھول کا ہے پول صرف دیکھ لے

ساحر لدھیانوی

آپ میں سے کتنے لوگ ہوں گے جو یہ بات جانتے ہوں گے کہ آج کی معاصر جدید دنیا میں مسلمانوں کے اندر ولگر الحادیت کی تحریک کا بانی کسے خیال کیا جاتا ہے؟ ایک تنظیم ہے جو سابق مسلمانوں پہ مشتمل بتلائی جاتی ہے اور اس کا نام ہے ” فیتھ فریڈیم انٹرنیشنل ” اور اس کا بانی ہے ایک ایرانی نژاد سابق شیعہ مسلمان اور حال میں کینڈا میں مقیم اور کینڈین شہریت کا حامل علی سینا۔علی سینا کو جدید ملحدین کے امام ڈاکٹر رچرڈ ڈکنز کی جانب سے ہی سراہا نہیں گیا کہ جس نے اپنی کتاب

The God Delusion

کے انڈیکس میں علی سینا کی کتب کے حوالے لکھے ہیں۔بلکہ اسے ہالینڈ کے گیرٹ ولدرز کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔مسلم دنیا میں الحاد کو پھیلانے میں خصوصی دلچسپی لینے والے اور ابن وراق کے نام سے سرگرم ایکٹوسٹ نے اپنی کتاب

Leaving Islam: Apostates Speak Out

میں بھی فیتھ فریڈم انٹرنیشل کا زکر کیا اور علی سینا کی خدمات کو سراہا ہے۔فیتھ فریڈم انٹرنیشنل کی ویب سائٹ بارے پروفیسر جوناتھن زیٹرین اور بنجیمن ایڈلرمین نے بتایا کہ اسے سعودی عرب نے بین کیا اور رینکنگ ڈاٹ کوم کے مطابق یہ ویب سائٹ 70 ہزار سے 200000 کے درمیان جو ٹاپ ویب سائٹ ہیں ان میں سے ایک ہے۔علی سینا کو خاص طور پہ کرسچن اور یہودی پیشوائیت کے اندر کافی پذیرائی حاصل ہے اور اس کی کتابوں کو فنڈنگ بھی کرسچن اور یہودی مذہبی جنونیوں کی جانب سے زیادہ کی گئی ہے۔علی سینا نے نبوت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زات گرامی کو اپنا نشانہ تنقید بنایا ہے۔اور اس کی حالیہ کتاب کا عنوان ہے

Understanding Muhammad: A Psychobiography of Allah’s Prophet

اس کتاب کو پڑھنے کے آغاز ہی میں قاری یہ جان لیتا ہے کہ ابتدائی عیسائی اور یہودی مستشرقین کا جو اسلام پہ تنقید کا ڈسکورس تھا اس کی ہوبہو پیروی کی گئی ہے اور یہاں تک کہ پوری پوری عبارتیں جوں کی توں اٹھاکر کتاب میں شامل کردی گئی ہیں۔پامیلا گیلر ، رابرٹ سپنسر اور دیگر کے ساتھ مل کر علی سینا جیسے ولگر ملحد حقیقت میں اسلامو فوبیا کے شکار ہیں اور اس حوالے سے ایک امریکن خاتون دانشور

Sheila Musaji

کی تحریریں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ الحاد کے لئے کسی کا دیوبندی ہونا ، کسی کا شیعہ ہونا ، کسی کا اہلحدیث ہونا ،یہودی ہونا ، کرسچن ہونا یا کچھ اور ہونا یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ہند و پاک کی کمیونسٹ تحریک کے بانیان کی اکثریت یا تو شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھی یا ہندؤ برہمن جاتی سے بلکہ سبط حسن کے والد تو شیعہ مجتھد بنانا چاہتے تھے سبط حسن کو۔لیکن دور جدید میں ولگر ملحدین میں پاکستان اور بھارت میں خاص طور پہ ایسے لوگ سامنے آے ہیں جو ویسے تو دیانت اور امانت کے ڈنکے پیٹتے ہیں لیکن سعودی عرب کا سوال ہو یا شیعہ و صوفی سنّی نسل کشی کا سوال سامنے آئے تو ان کی جرآت تحقیق و ہمت کفر ٹھس ہوجاتی ہے۔

میں ایڈورڈ سعید کی اورئنٹل ازم ،کلچر اینڈ امپریل ازم اور طیب الحربی کی ” پیرابلز ان ارلی ہسٹری آف اسلام ” پہ بات کو آگے بڑھانا چاہتا تھا لیکن ایک نوجوان نے عمیر فاروق کی فیس بک وال پہ میرے ایاز نظامی بارے لکھے دوسرے آرٹیکل پہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں لفاظی سے کام لے رہا ہوں۔اگرچہ اس کے اس تبصرے نے مجھے یہ بتلادیا کہ اس نے میرے پہلے مضمون میں برصغیر میں فکری جدال کے دو بڑے خیموں – قدامت پرست و جدیدیت پرست – بارے میری معروضات کو غور سے نہیں دیکھا ورنہ وہ یہ بات کبھی نہ کرتے۔مجھے نہیں معلوم کہ آپ میں سے کتنے لوگ مصر کے فلسفی عبدالرحمان بدوی سے واقف ہیں۔اور ان کی کتاب “من تاریخ الالحاد فی الاسلام ” سے واقف ہیں۔اور ایسے ہی ایک اور مصنفہ ہیں جو یروشلم کی ہبریو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں

Sarah Stroumsa

اور ان کی کتاب ہے

Freethinkers of Medieval Islam: Ibn al-Rawandi, Abu Bakr al-Razi and their Impact on Islamic Thoughts

یہ کتاب 1999ء میں شایع ہوئی اور ایک لیجنڈری حثیت اختیار کرگئی۔

عرب میں عقلیت پسندی کی تحریک کے مختلف اقسام اور اشکال و رجحانات پہ کافی تفصیلی کام ہوا ہے اور اسی تناظر میں اسلام بھی زیر بحث آیا ہے۔یہ کس قدر پرانی تحریک ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ عبدالرحمان بدوی کی کتاب 1940ء میں شایع ہوئی تھی۔اور اسی طرح عرب فلسفی جابر العابدی کی کتاب ” دماغ عرب /فکر عرب” عرب کلچر میں ریشنل ازم کو ہی عربوں کی مرکزی ذہنیت قرار دینے پہ مبنی تاریخی شواہد سے مزید ایک کتاب جو آج ریفرنس بک میں شمار ہوتی ہے اور عرب میں عقلیت پسند تحریک کو آگے بڑھانے میں اس نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

آپ اگر عبدالرحمان بداوی کی ” اسلام میں الحاد کی تاریخ سے ” کا اگر مطالعہ کریں گے تو اس کتاب کے تعارف میں عبدالرحمان بداوی یہ دعوی کرتے ہیں کہ مغرب اور یونان میں جو الحاد کی تحریک تھی اس کا فوکس ” وجود باری تعالی ” کے انکار پہ مبنی تھا اور جبکہ مسلم عربوں مين جو الحاد پرستی تھی اس کا فوکس ” نبوت اور انبیاء ” تھے۔اور اگر آپ اس کتاب کا تفصیل سے مطالعہ کریں گے تو یہ بہت ہی کھل کر سامنے آئے گا کہ ایاز نظامی اور ان کے حواریوں نے کیسے اس سے ملتے جلتے لٹریچر سے انتہائی بھونڈے انداز میں چیزيں لی ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ میں نے اپنے طور پہ

Vulgar Atheism

بے ہودہ الحادیت کی اصطلاح گھڑلی ہے۔جبکہ اگر صرف گوگول بابا کا ہی استعمال کرلیا جائے تو پتا چلے گا کہ خود یہ اصطلاح مغرب کے بڑے نامی گرامی ملحد مفکرین نے استعمال کی ہے۔اور اس کا اطلاق آج کے بہت سے ملحدین پہ کیا جاتا ہے۔

عربوں میں لفظ الحاد کی جگہ “دھریہ ” اور پھر ایک زمانے میں زندیق کی اصطلاح استعمال ہوتی رہی ہے اور ان کے مدمقابل سب سے زیادہ عقلیت پسندانہ بنیادوں پہ فکری تحریک وہ تھی جسے معتزلہ کی تحریک کہا جاتا ہے۔اور اس حوالے سے کچھ مسلم فلسفیوں نے کافی کچھ لکھا۔علمی بحث کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ قرون وسطی کے ملحد مسلم فلسفیوں اور دانشوروں کا تذکرہ کررہے ہیں اور ان کی فکر سے نظریات کا تذکرہ کررہے ہیں تو پھر ان کے معاصر مسلم فلسفیوں اور دانشوروں نے جو جوابات دئے تھے ان کا تذکرہ بھی ضروری بنتا ہے تاکہ پڑھنے والا تقابل اور موازانہ کرنے کے قابل ہوجائے۔

ایسے ہی اشاعرہ اور ماتریدیہ جن کو کہا جاتا ہے انہوں نے بھی اس پہ کافی بات کی۔ایسے ہی ان سے ہٹ کر فلسفی جیسے ابن حزم ، ابو داؤد اور آگے چل کر ابن تیمیہ وغیرہ تھے یا صوفی فلاسفہ میں شیخ ابن عربی وغیرہ تھے انہوں نے بھی افکار کی عمارت کھڑی کی ہے۔اگر مسلم فلسفے اور فکر پہ کوئی بحث کی جانی مقصود ہے تو ان سب افکار اور ان کے حاملین کے بارے میں بات کرنا بنتی ہے اور اس سے بات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔لیکن اگر آپ تاريخ میں ابن الراوندی جیسے مزاح نگار کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی مرضی ہے کیونکہ الراوندی کے ماڈل کی پیروی مسلم سماجوں میں انارکی کو جنم تو دے گی اس سے کسی طرح کا صحت مند جدال مابین الافکار پیدا کرنا ناممکن ہوگا۔لیکن یہاں پھر کہہ دوں ابن الراوندی کا تذکرہ کرتے ہوئے ایاز نظامی نے ان کی کتابوں کے نام دئے ان کے مضامین سے ہمیں آگاہ گیا لیکن یہ تک بتانے سے انکار کرڈالا کہ الراوندی کی کتاب “فضیحۃ المعتزلۃ ” کے جواب میں جاحظ نے ” فضیلۃ المعتزلۃ ” لکھی تھی اور اس کی کتاب “الزمرز ” کے رد میں ” مجالس مویدۃ ” کا مخطوطہ موجود اور اس پہ ڈاکٹر حسین الھمدانی کا مقالہ سامنے آیا تھا۔

ابن جوزی نے اپنی کتاب ” المنتظم فی التاریخ ” میں الراوندی کی کتاب ” الدامغ ” کا زکر کیا جس میں قرآن پاک پہ اعتراضات کئے گئے تھے اور ان کا جواب بھی ابن جوزی نے درج کیا ہے اور ابن ندیم نے ” کتاب المفہرس ” میں الراوندی کے رد میں لکھی کئی ایک کتب اور ان کے مصنفین کا زکر کیا ہے۔میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایاز نظامی اور ان کے ساتھیوں نے شروع دن سے ہی تصویر کا ایک رخ دکھایا اور یہ کہنا شروع کیا کہ تاریخ میں مسلم ملحدین نے جتنی کتابیں رقم کیں اور جو اعتراضات اسلام اور اس کے دیگر چیزوں پہ اٹھائے ان کا کوئی مدلل جواب نہیں دیا گیا۔ان کا صرف یہ کہنا ہے کہ جواب میں گالی،تلوار ،قید و بند کی صعوبتیں ہی آئیں۔جبکہ تاريخ ہمیں کچھ اور بھی بتاتی ہے۔مسلم عربوں کی تاریخ میں اگر مسلم ملحدین کے نمایاں ناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سے اکثر طبعی موت مرے اور وہ بغداد ،قرطبہ میں ایک بڑے عرصے تک آرام سے رہتے آئے تاوقتیکہ کوئی بڑی جنونی حکومت نہ آگئی اور اس نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ان کے خلاف کریک ڈاؤن نہ کردیا جیسے 166ھجری کا زمانہ ہے۔

آج کے دور میں بھی ایاز نظامی اینڈ کمپنی کو سنجیدہ طور پہ علمی انداز سے جواب دینے کی بہت سے مثالیں موجود ہیں۔آپ گوگول بابا پہ سرچ کریں اردو میں بہت سے لنک ملیں گے اور آپ کو جواب مليں گے۔

فری تھنکرز اور جرات تحقیق و ہمت کفر جیسے مقبول القاب رکھ کر اس ولگر ملحد ٹولے نے اسلامو فوبیا کو فروغ دیا۔ اور یہی وجہ کہ یورپ اور امریکہ میں ان کو حیرت انگیز طور پہ کسی بائیں بازو کی مین سٹریم پارٹی یا گروپ نے سپورٹ نہیں کیا اور نہ ہی وہ ان لوگوں کو ” آزادی اظہار ” کے سمبل خیال کرتے ہیں۔ ہاں ان کو مغرب اور امریکہ کے اندر دائیں بازو کے نیو کانز ، نیو لبرلز اور اسلامو فوب نسل پرست جیسے گیرٹ ولدرز ہے ، فرانسیسی لی پین ہے وغیرہ کی کھلی حمایت حاصل ہے۔ پروشلم پوسٹ ان کو بہت سراہتا ہے اور مغرب میں دائیں بازو کی نسل پرست اور شاؤنسٹ تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔