Original Articles Urdu Articles

امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ ملکر وہابی ازم کو پھیلانا پورے ایشیا کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ڈاکٹر کرسٹنا لین

 

0

نوٹ : ڈاکٹر کرسٹنا لین ایس اے آئی ایس۔جان ہاپکنز یونیورسٹی میں مرکز برائے ٹرانس انٹلانٹک ریلشنز کی ریسرچ فیلو ہیں جہاں وہ چائنا۔مڈل ایسٹ/میڈیٹرین ریلشنز میں سپشلائز کررہی ہیں اور وہ جین ز کیمکل ،بائیولوجیکل ،ریڈیالوجیکل اینڈ نیوکلئیر انٹیلی جنس سنٹر ائی ایچ ایس جین میں کنسلٹنٹ ہیں۔ان کا یہ مضمون امریکی کانگریس ویمن تلسی گیبرڈ کے امریکی سی آئی اے کے دہشت گردوں کی امداد کے خفیہ آپریشن پابندی لگوانے کے تناظر میں شایع ہوا ہے۔ لیکن یہ مضمون جنوبی ایشیا اور سنٹرل ایشیا کے معاشروں میں امریکی اشیر باد سے سعودی پیسے کے ساتھ وہابیت کی درآمد کے تباہ کن اثرات پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔جنوبی ایشیا اور سنٹرل ایشیا میں وہابی ازم سلفی اور دیوبندی اشتراک کار کے ساتھ پھیلایا جارہا ہے جس پہ توجہ دینے کی ضرورت ہے

Dr. Christina Lin is a Fellow at the Center for Transatlantic Relations at SAIS-Johns Hopkins University where she specializes in China-Middle East/Mediterranean relations, and a research consultant for Jane’s Chemical, Biological, Radiological, and Nuclear Intelligence Centre at IHS Jane

نومبر 2015ء میں کانگریس ویمن تلسی گیبرڈ نے امریکی ایوان نمائدنگان میں “آرمڈ سروس کمیٹی لیڈ بائی پارٹسین بل ایچ آر 4108 متعارف کرایا تھا تاکہ سی آئی اے کی جانب سے شام میں القاعدہ کے اتحادی گروپوں کو مسلح کرنے کے لئے امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم کو خرچ کرنے سے روکا جاسکے۔بدقسمتی سے یہ بل بلاک ہوگیا تھا لیکن اردن میں حال ہی میں جہادیوں کو تربیت دینے کے لئے مامور کئے گئے تین امریکی انسٹرکٹرز کی ہلاکت کے بعد اس سے ملتے جلتے بل کو دوابرہ ایوان کے سامنے لایا جانا ممکن ہوگیا ہے۔

سی آئی اے کا ٹمبر سائی کیمور پروگرام برائے تربیت جہادیان

نومبر میں امریکی پانجویں سپیشل فروس گروپ سے تین انسٹرکٹر میتھیو لیولین ، کیون مکاینور اور جمیس موریرٹی اردن کے ہوائی اڈے پرنس فیصل ائر بیس پہ داعش کے دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے۔یہ تینوں سی آئی اے کے حفیہ آپریشن ٹمبر سکائیمور کے تحت نام نہاد اعتدال پسند شامی باغیوں کی تربیت کرنے کے مشن پہ تھے۔

یہ ایک المیہ ہے۔اس کو رونما ہونے سے روکا جاسکتا تھا اگر پانجویں سپیشل گروپ کی شکائت پہ کان دھرے گئے ہوتے،جو ایک عرصے سے یہ شکائت کررہے تھے کہ نام نہاد اعتدال پسند باغیوں کی آڑ میں داعش اور النصرہ کے لڑاکوں کی تربیت کی جارہی ہے۔نظرثانی کا پروسس نقائص سے بھرا ہوا تھا۔چیکنگ کا عمل پرانے ہوگئے ڈیٹا بیس اور انٹرویو پہ مشتمل تھا اور اکثر تربیت کے لئے لائے گئے رنگروٹ نصرہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروپوں کے لئے حمائت کا اظہار کرتے پائے گئے
ترکی میں سی آئی اے کے خفیہ پروگرام برائے تربیت جہادیان سے جڑے ایک انسٹرکٹر نے بتایا کہ اس کو ایک شامی باغی نے کہا، ” مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ النصرہ کو پسند کیوں نہیں کرتے “۔اس انسٹرکٹر نے یہ تسلیم کیا کہ 95 فیصد نام نہاد اعتدال پسند شامی باغی یا تو دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ کام کورہے ہیں یا ان کے ساتھ ان کی ہمدردیاں ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ ایک اچھی خاصی اکثریتکو ان نام نہاد اعتدال پسند شامی باغیوں میں داعش سے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ان کو شامیوں اور کردوں سے مسئلہ ہے

حقیقت میں غیرقانونی سی آئی اے پروگرام کا مینڈیٹ شامی حکومت کو اکھاڑ پھینکنا ہے اور اور اس کا القاعدہ و داعش کے خلاف لڑنے والے انسداد دہشت گردی ہدف سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ سی آئی اے کے پروگرام برائے تربیت جہادیان و فراہمی ہتھیار نے القاعدہ کی حلیف النصرہ فرنٹ اور داعش کو اور زیادہ مضبوط کیا ہے۔جیسا کہ اس پروگرام کے لئے متعین سی ائی اے کے انسٹرکٹرز خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان کو معلوم ہے کہ وہ جہادیوں کی ایک اگلی نسل تیار کررہے ہیں۔اور آزاد شامی فوج نصرہ جیسے گروپوں کے کور کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔اور ان کو مغربی ہتیاروں اور سی آئی آے و سعودی انٹیلی جنس معاونت سے براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔

اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے کہ امریکی سپیشل فورسز اور سی آئی اے کے درمیان تعلقات میں تناؤ موجود ہے۔اور امریکی فوجیوں کا خیال ہے کہ سی آئی اے سپیشل فورسز کے ٹرنیرز سے ایک ڈی فیکٹو اثاثوں کے طور کے سلوک کررہی ہے۔اور اسے اس بات کا علم ہے کہ ان کو جہادیوں کو تربیت دینے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔تلسی گیبرڈ جو خود بھی امریکی فوج میں رہی ہے اس کی جانب سے ایسے خفیہ آپریشنز کی مخالفت کرنا سمجھ میں آتا ہے۔یہاں تک کہ گلف عرب کی بادشاہتیں بھی یہ سمجھ رہی ہیں کہ امریکی فوجوں کی وہاں موجودگی جہادیوں کو پھیلنے کا موقعہ دیتی ہیں۔سات جنوری 1991ء میں وال سٹریٹ جرنل نے ایک آرٹیکل ” خلیج فارس میں سفید فام غلام ” کے نام سے لکھا ماہر تاریخ آرتھر شلنگر جونئر کا شایع کیا جس میں ہ انکشاف تھا کہ ایک سعودی اہلکار سے جب کویت کو آزاد کرانے کے لئے امریکی قیادت میں فوجی اتحاد کی تشکیل بارے پوچھا گیا تو اس کا جواب تھا’تم یہ سوچتے ہو کہ میں اپنے ٹین ایجرز کو کویت مرنے کے لئے بھیج دوں؟ ہمارے پاس امریکی سفید فام غلام ہیں یہ کام کرنے کے لئے-اب ایسا نظر آتا ہے کہ سعودی شام میں وہابی حکومت قائم کرنےکے لئے سفید فام غلاموں کے زریعے سے نو فلائی زون کا قیام چاہتے ہیں۔

امریکی ٹیکس دہندگان جو کہ مشکل معاشی حالات میں اس ساری صورت حال سے پریشان تھے انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسا صدر منتخب کیا جو ان کی ٹیکس کی رقم میں باہر پراکسی جنگوں میں ضایع کرنے سے رک جانے کا عندیہ دے رہا ہے ہور وہ امریکی خون اور خزانے دونوں کو بچانا چاہتا ہے

جہادیوں کا ایشیا کو مرکز بنانا
نئی امریکی انتظامیہ کو رجیم بدلنے کے نام پہ جہادیوں کی تربیت کے پروگرام کو بند کرنے اور مڈل ایسٹ میں غیر وہابی ریاستوں جیسے مصر اور اردن ہیں اور جنوبی ایشیائی ریاستوں میں دہشت گردی کے خلاف سرگرداں ریاستوں کے ساتھ ملکر کام کرنے سے شروع کرنا چاہئیے

امریکہ پہلے ہی عراق ، لیبیا اور شام میں حکومتیں بدلنے کے پروگرام سے ہونے والی تباہی و بربادی کی وجہ سے اپنا اعتبار کھوبیٹھا ہے۔اس کا تاریخ میں افعانستان اور مڈل ایسٹ میں سعودی عرب کے ساتھ ملکر جہادیوں کو سپورٹ کرنا تباہ کن ثابت ہوا ہے اور اس کا وہابی ازم کی ایکسپورٹ میں مدد دینے نے بھی اس کی ساکھ برباد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سنگا پور کے آنجہانی وزیراعطم لی کیوان نے کہا تھا کہ ایشیا میں دہشت گردی کی وجہ وہابی ازم کی آمد ہے جو امریکی حمائت سے سعودی عرب کررہا ہے۔

نہ صرف سنگاپور اس سعودی-امریکی وہابی گٹھ جوڑ سے متاثر ہوا بلکہ فلپائن کو بھی اس سے نقصان پہنچا وہ بھی امریکی پالیسی سے اپنے آپ کو فاصلے پہ کررہا ہے وہ پالیسی جو مڈل ایسٹ میں دہشت گردی کو امپورٹ کررہی ہے۔

سلینا سلیم جو کہ سنگار پور میں راجا رتنم سکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز سے وابستہ ہیں اسی لئے خبردار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہابی ازم جنوب ایشیائی مسلمانوں کے درمیان فرقہ پرستی کو پھیلارہا ہےس جو ابتک پرامن ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں اور ان کے تکثیریت پسند معاشروں کے لئے خطرہ بن گیا ہے اور ان کے درمیان معاشرتی دوریوں کو بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔اس کے زبردست آثار ملائشیا اور انڈویشیا میں دیکھے جاسکتے ہیں جہاں پہ داعکش اور القاعدہ دونوں کے مضبوط گڑھ موجود ہیں

سنٹرل ایشیا بھی اس کا شکار ہے خاص طور پہ اوبکستان جہاں سے ہزاروں جہادی شام میں سرگرم ہیں اور ایک دن وہ اپنے وطن لوٹیں گے۔ان کی بڑی تعدا حلب میں موجود ہے جن کو حلبی ازبک کا نام دیا جاتا ہے۔اور حال ہی میں ایک وڈیو بھی سامنے آئی جس میں ان حلبی ازبکوں نے علاقہ خالی کرنے کی بجائے لڑائی جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔

نیو دہلی میں سنٹر برائے پالیسی ریسرچ کے برہما چھیلانے کے مطابق دہشت کی اماں جان وہابی ازم کا نظریہ ہے ۔امریکہ کو یہ یقین دلانے کے لئے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے نہ کہ دیڈیکل اسلام کو علاقائی تنازعوں میں استعمال کرنے میں جو ملکوں کو تباہ کرتے ہیں واشنگٹن کو سعودی ، قطری اور دوسرے و

ہابی انڈسٹریل کمپلیکس سے دور ہونا ہوگا جو کہ جہادیوں کی اکسپورٹ کرتے ہیں اور اس کے لئے تلسی گیبرڈ کے بل کا پاس ہونا ایک بڑی علامت ہوگا۔یہ وقت ہے اس پاگل پن کو ختم کرنے کا اور یہ ہی وقت ہے دہشت گردوں کو ہتھیار فراہم کرنے سے باز آنے کا

Source of Article :

http://www.atimes.com/us-ends-training-al-qaeda-isis-coll…//