Original Articles Urdu Articles

انگنت ابتلاؤں میں گھرا میری سالگرہ کا دن – عامر حسینی

 

14650120_10211080890046520_9186237526233175137_n-1-768x432

مری سالگرہ پہ جو لوگ مجھے مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کررہے ہیں میں ان سب کا شکر گزار ہوں اور یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ محرم کے اس ماہ میں عشرہ محرم گزرجانے کے بعد اور اربعین سے پہلے میں نے مبارکباد وصول کی ہیں اور گفٹ بھی وصول کرلیے ہیں اور گھر والوں کو بھی اجازت دے ڈالی کہ وہ بھی اپنی سی خوشی کرلیں اور مرے گھر والوں میں اکثریت اہل سنت کی ہے اور وہ محرم کے اول دس دن میں کوئی خوشی والا کام نہیں کرتے اور اس مہینے میں اور ماہ صفر میں یعنی خالی کے چاند میں ان کے ہاں رشتہ کرنے اور شادی کے دن مقرر کرنے کی روایت بھی نہیں ہے-جب سے اکتوبر میں محرم آرہا ہے میں اور مرے بیٹے شاویز کی سالگرہ اکتوبر کے مہینے میں آتی ہے اور ہم اسے نہیں مناتے تھے ، اس مرتبہ جب میں نے دیکھا کہ بہت سے لوگوں کے دل ٹوٹ رہے ہیں تو میں نے ان کو ایسا کرنے کی اجازت دے ڈالی

جہاں مجھے گفٹ دینے والوں کی اپنے آپ سے شدید محبت اور تعلق کا احساس خوشی پیدا کررہا ہے تو وہیں کئی چہرے مری نگاہوں میں گھوم بھی رہے ہیں- آج مری ایک دوست نے مجھے فون کرکے کہا کہ وہ مجھے اس موقعہ پہ ہیپی وشز اور مبارکباد دینا چاہتی تھی لیکن اسے ڈر ہوا کہ محرم ہے اور میں کہین اسے لیکچر نہ دے ڈالوں تو اس نے نہیں کہا لیکن جب مری فیس بک وال پہ مبارکبادوں کا ہجوم دیکھا تو اس نے مجھے ہیپی وشز سینڈ کردیں تو میں اپنے ان سب دوستوں کا شکر گزار ہوں جنھوں نے مجھے سالگرہ پہ یاد رکھا-لیکن میں صاف صاف کہتا ہوں کہ آج دن کے دن دوستوں کے خلوص نے مرے اندر خوشی کے زمزے کو بہنے تو دیا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اداسی اور غم کے بادل بہت گہرے ہیں جو اس زمزے پہ سایہ فگن ہیں

مرے چہرے پہ مسکان آتے آتے کہیں کھوجاتی ہے جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ واحد بلوچ کی بیٹیاں ، ان کی والدہ ، شبیر بلوچ کی بہنیں اپنے گھروں میں راتوں کو سو نہیں پاتیں ہیں-رات کے دو بجے تھے اور فیس بک پہ ہانی بلوچ کا سٹیٹس اسے آن لائن بتارہا تھا اور جب میں نے دل پہ پتھر رکھکر اسے کہا کہ جلدی سوجایا کرو تو اس نے کہا ” بھائی نیند ہی نہیں آتی ” تو مرا کلیجہ پھٹ گیا تھا” ایک دن پہلے جی ہاں ایک دن پہلے بی ایس او کا ایک اور نوجوان کارکن موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اسے کہا جارہا ہے مذہبی بنیاد پرستوں نے بلوچ حقوق کی آواز اٹھانے پہ مارا-

ابھی چالیس دن نہیں ہوئے استاد منصور زیدی اور نوجوان جواد حسین کو مرے ہوئے، ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ چالیس روز تک تو کفن بھی میلا نہیں ہوتا-4ہزار کے فریب بلوچ ہیں جو غائب ہیں ان کو زمین کھاگئی ، آسمان نکل گیا لیکن ایک بات طے ہے کہ ان کے گھر والوں کو ایک پل بھی چین کی نیند نہیں آتی ہے اور خوشیاں ان پہ حرام ہیں-

وہ چار ہزارہ شیعہ عورتیں جن کو بس سے اتار کر مارا گیا ان کا کفن بھی ابھی میلا نہیں ہوا ہے-یہ ملک ایک ماتم کدہ بنا ہوا ہے اور میں کس کس کی بات کروں ، مرے دوست سید خرم زکی کے قتل کی فائل بند ہے اور لوگ اس شہید کی قربانی کو چھوڑ کر اس کے اندر سے ایک “ایجنٹ ” برآمد کرنا چاہتے ہیں، مرے اندر کئی طرح کے درد پوشیدہ ہیں جن کو میں نے کچھ لوگوں کے دل ٹوٹنے سے بچانے کے لئے اندر ہی چھپالیا ہے اور کیسے چھپایا ہے ، اتنا درد کیسے سہن کرلیتا ہوں اور پھر مسلسل اپنے زندہ ہونے کی رسید بھی فراہم کرتا رہتا ہوں—– یہی سوال سید ذیشان نقوی ! آپ کو جاننا ہے تو اس کے لئے “علی شناس ” ہونے کی کوشش کرنا پڑتی ہے —– کوشش اس لئے کہا کہ مجھ میں ہمت نہیں کہ خود کو علی شناس کہہ ڈالوں اور اتنے بڑے دعوے کی بعد میں لاج نہ رکھ سکوں اور لوگوں کی لعن طعن کا نشانہ بن جاؤں

یقین کریں آج کے دن اپنے دوستوں ، بھائیوں ، بہنوں اور چاہنے والوں کو بے وجہ اداس کرنا نہیں چاہتا تھا اور اپنے درد کو ان کے دلوں میں انڈیلنا نہیں چاہتا تھا مگر درد جب سوا ہو تو پھر اپنے اپنے کنویں کی منڈیر پہ بیٹھ کر اس درد کو بیان کئے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا اور مرا کنواں تو یہ فیس بک بن گئی ہے اور میں یہیں پہ اپنے دکھ کا بیان کرتا ہوں

میں نے یہاں ” شبیر دی بہن ، شبیر دی دھی اور اور” کسی اور کے غم اور دکھ کے زکر سے فضا کو اور بوجھل نہیں بنانا چاہتا اور میں بیگم نصرت بھٹو کی خود فراموشی تک پہنجنے اور پھر اس دنیا سے چلے جانے کا بھی تذکرہ یہاں نہیں کرنا چاہتا اور اپنے زاتی دکھ اور غموں کو تو بالکل بھی نہیں 

نہ ہی دادا ،دادی کا اپنی شیر خوار بیٹی کو فاضل کا بنگلہ کے قریب ایک کھیت کی منڈیر پہ دفن کرنے کا ، نہ ہی سیدہ ہما علی کی میت کا اور شہر بانو زھرہ سفید گوہر کا مٹی میں مل جانے کا کسی کا بھی نہیں ، بس مری وجہ سے کسی کا دل نہ ٹوٹے اور جس نے خوشی منانی ہے منالے – سوگ اور غم کا کوئی بھی موسم نہیں ہوا کرتا ، یہ ظلم کی آندھی کے پہلو سے مظلوموں کی آہوں ، سسکیوں اور چیخوں کو دبانے کی کوشش میں خود بخود ابھر آتا ہے اور کوئی تیروں سے چھلنی سینے پہ سونے کی ناکام کوشش کے دوران اس کی چادر سر پہ پالیتا ہے اور ہم ایسی روحوں کو کس منطق سے اداس ہونے سے روک پائیں گے بھلا؟میں نے اپنی شریک حیات سے گفٹ ملے کورین ساؤنڈ سسٹم کو آن کیا اور ” ایہہ کون رات کوں لاشے ودا لٹیندا اے-ایہہ کون مویاں کوں ول ول ودا مریندا اے ” تو یقین کیجئے اس موقعہ پہ اس کی آنکھوں میں حیرت کے ساتھ ساتھ “اداسی ” کے گہرے رنگ اترے جنھیں اگر میں مصور ہوتا تو کینویس پہ اتار کر آپ کو دکھاتا اور بتاتا کہ ” سارونیس آف ہیپی نیس ” کسے کہتے ہیں ،

مری بڑی بہن ثمینہ نے کہا ” عامر ! گفٹڈ ساؤنڈ سسٹم کا افتتاح ایسے ہوتا ہم نے پہلی بار دیکھا ہے ” آپ مجھے” سک پرسن ” کہیں گے تو مجھے زرا بھی برا نہیں لگے گا ،اسلام آباد کے کوفے میں سندھو جو رانی مجھے ایسے موقعہ پہ ياد آئے اور لیاقت باغ پہ ایک سولی پہ ذوالفقار کا لاشہ لٹکا نظر آئے اور اس موقعہ پہ تو عقل کے سورما مجھے ” سک پرسن ” کہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہیں اور میں یہاں پہ اپنی کفیت کو امام سجاد کی کیفیت سے نہیں ملاؤں گا اور اپنے آپ کو کسی اور کی ڈھال کے پیچھے نہیں چھپاؤں گا اوبر صاف کہتا ہوں کہ اپنی کیفیات پہ مجھے کوئی خود سے اختیار نہیں ہے اور ہاں جب مری سانس میں سانس ہے تو میں کبھی بھی اپنے اوپر نقاب نہیں چڑھاؤں گا