Original Articles Urdu Articles

دھندے والی – عامر حسینی

prositutes

وہ مری اس وقت سے دوست ہے جب میں ایک ایسے رسالے کے لئے کام کرتا تھا جس کے سرورق پہ بڑی حد تک برہنہ دو عورتوں کی تصویریں ضرور شایع کی جاتی تھیں اگرچہ رسالے میں بہت سے سنجیدہ مضمون، فیچر اور تجزیے بھی شایع کئے جاتے تھے-یہ صحافت میں مرے طفولیت کا زمانہ تھا-ایڈیٹر نے مرے زمے لگایا کہ میں لاہور بادشاہی مسجد کے پہلو میں ٹبّی گلیوں میں جاؤں اور وہاں کوئی ایسا کردار تلاش کروں جسے تھوڑے سے فکشن کے ساتھ رسالے میں چھاپا جائے اور رسالہ ہاتھوں ہاتھ بکے-میں اس سے پہلے کبھی شاہی محلّے کی ٹبّی گلیوں میں گیا نہیں تھا-
فوزیہ وہاب کی “ٹیبو ” پڑھ رکھی تھی-بی بی سی کی دستاویزی فلم ” ود ڈانسنگ گرلز ” دیکھ رکھی تھی-طوائفوں جنہیں رانڈ کہا جاتا تھا میں کبھی براہ راست نہیں ملا تھا اگرچہ منٹو ، رحمان مذنب سمیت اردو کے کئی افسانہ نگاروں کے ہاں میں نے کئی کردار دیکھے تھے-ایک گبھراہٹ سی طاری تھی کہ کیسے جاؤں وہاں-ایک مرا دوست جو کہ ان گلیوں کا پرانا بنجارہ تھا اس سے میں نے بات کی اور اس نے مجھے کہا ! پیارے اسقدر بہانے بنانے کی کیا ضرورت ہے-سیدھے سبھاؤ کیوں نہیں کہتے کہ تم پہ اب جوانی آرہی ہے
 
مجھے غصّہ تو بہت آیا لیکن مجبوری تھی ، ٹبّی گلیوں تک جانے کا مرے پاس سوائے اس کے کوئی اور زریعہ نہیں تھا-میں نے جبری ہنسی سے کہا ! یار جو بھی سمجھو مجھے وہاں جانا ہے اور تم نے ٹبّی گلیوں سے مجھے واقف کرانا ہے- اس نے کہا ٹھیک ہے-دو دن بعد تیار رہنا
 
میں بھاٹی گیٹ کے اندر محّلے میں ایک نائی کی دکان کے اوپر بنے ایک ڈربے نما کمرے میں رہ رہا تھا کیونکہ جتنے پیسوں میں کرائے کا کمرہ ڈھونڈ رہا تھا اتنے میں یہی ڈربہ نما کمرہ مل سکتا تھا-ایک بلب اور ایک پنکھا چلانے کی اجازت تھی اور پانی سرکاری نل سے آتا تھا مگر بجلی ، پانی دونوں کا بل مجھے اکبّر نائی کو دینا پڑتا تھا-اس کا ایک بیٹا سانول پنجاب یونیورسٹی تک جانے اور وہاں سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا-
اور وہ بھی مرے ساتھ رسالے میں کام کرتا تھا اور ہالی ووڈ و بالی ووڈ سے ریلیز ہونے والی فلموں کے ریویوز لکھتا تھا اور پھر انگریزی رسالوں سے ادکاراؤں اور ماڈلز کے انٹرویو ترجمہ و تلخیص کرتا تھا –اس کا ایک کام اور بھی تھا اور وہ تھا گوسپ گھڑ کر ادکاراؤں اور گلوکاراؤں و ماڈلز کے سیکس تجربات کی کہانیاں لکھنا اور گوسپ ایسے گھڑتا تھا کہ جب آدمی پڑھتا تو اسے حقیقت کا گمان ہوتا تھا-میں جب اس رسالے میں نوکر ہوا تو سانول کے ساتھ میں بیٹھا کرتا تھا-میں جو سیاسی تجزیہ نگاری اور سیاسی رپورٹنگ کرنے صحافت کی دنیا میں آیا تھا اور اس رسالے میں ایک سیاسی رپورٹر و تجزیہ نگار کی ضرورت کا اشتہار پڑھ کر گیا تھا جب ایڈیٹر سے ملا تو باتوں ہی باتوں میں اس نے مجھے کہا کہ سیاسی رپورٹنگ تو تم کرہی لینا ساتھ ساتھ تمہارا ذوق دیکھ کر مجھے لگ رہا ہے تمہیں سانول کے ساتھ کام کرنا چاہئیے –تو مجھے سیاسی رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ کلچرل رپورٹنگ ڈیسک سے بھی نتھی کردیا گیا-میں اس رسالے کی نوکری کرنے سے پہلے میں ٹاؤن شپ میں ایک دوست کے پاس رہ رہا تھا جبکہ رسالے کا دفتر لکشمی مینشن ہال روڈ میں اس گھر میں تھا جو کبھی سعادت حسن منٹو کا گھر ہوا کرتا تھا –تو میں لکشمی مینشن کے آس پاس کمرہ تلاش کرنے میں لگ گیا مگر وہاں کرائے اتنے زیادہ تھے کہ میں کمرہ حاصل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا-
ایسے ہی ایک دن جب ميں نے سانول سے زکر کیا تو اس نے کہا کہ مرے ابّا کی دکان کے اوپر ایک کمرہ ہے جو کرائے پہ نہیں چڑھتا تم اسے دیکھ لو بھاٹی گیٹ میں ہے –میں نے کمرہ دیکھا اور مجھے یہ بھی غنمیت لگا –چار ہزار روپے کرایہ تھا اور 500 روپے لم سم پانی ، بجلی ، گیس کے دینے تھے-میں اوکے کردیا-مرا سامان ایک دری ، ایک کمبل ، ایک چادر ، چند کتابیں ، تین جوڑے کپڑے تھے جنھیں میں نے اس کمرے میں شفٹ کردیا-اور یہاں رہنے لگا-دوسرے دن رات آٹھ بجے وحید مرا دوست نیچے دکان پہ پہنچا اور اس نے مجھے آواز لگائی –میں نیچے آیا تو وہ اپنی پرانی فوکسی گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا-بوسکی کا کرتا اور لٹھے کی سفید براق شلوار اور تیل سے لتھڑے بالوں میں ٹیپکل تماش بین لگ رہا تھا-مجھے بڑا عجیب سا لگ رہا تھا-میں عام دنوں میں بنا ضرورت کے شاید اس کے ساتھ جانا بھی پسند نہیں کرتا-مگر مجبوری تھی سو گاڑی میں بیٹھ گیا
 
یار! خوش قسمت ہو ، ایک ایسا پیس آیا ہے شمائلہ بائی کے ہاں جس کی بوٹی بوٹی پھڑکتی ہے اور کمبخت بستر پہ تو کھا ہی جاتی ہے آدمی کو ۔۔۔ ترے جیسے چکنے لونڈے سنا ہے اسے بہت بھاتے ہیں ۔۔۔۔۔ وحید نے ایک آنکھ دبا کر مجھے اپنی طرف سے بہت بڑی خوشخبری سنائی –
کتنے پیسے ہیں ترے پاس —- اچانک وحید نے سوال کیا
 
سوال سنکر میں زرا گڑبڑا گیا ۔۔۔ یار چار سو ہیں بس ۔۔۔۔۔۔ میں نے جواب میں کہا
اوہ ایتھے رکھ ، سوہنیا گابھر نہیں ، ترا یار وحید جو ہیگا ، تینوں جنت دی سیر کرانی اے اور اوہ فری
وحید نے ایک دم حاتم طائی کی طرح چھاتی پھیلا کر کہا
وحید کی یہ فطرت میں نے کالج سے نوٹ کی تھی کہ کسی لڑکے نے پہلی بار شراب پینی ہو ، چرس کا سوٹا لگانا ہو یا کسی کے ساتھ ہمبستری کرنی ہو یہ اس کے لئے آسانیاں پیدا کرنے میں سب سے آگے ہوا کرتا تھا –یہان تک کہ جگہ تک کا انتظام کرنے میں بھی اس کا جواب کوئی نہیں تھا-مرا نام اس نے مولوی خشکا ڈال دیا تھا-اور اس کی منڈلی کے سبھی لڑکے لڑکیاں کالج میں مجھے اسی نام سے یاد کرتے تھے
اب بھی وہ بالکل نہیں بدلا تھا-اپنے تئیں جیسے وہ مجھے انٹرٹین کرکے کوئی بڑا کارنامہ کرنے جارہا تھا
 
یار! کالج میں تم ہمیشہ ایسے کاموں سے دور رہے-اور یاد ہے وہ شبنم جس کا نام میں نے شبّو بلبل رکھ ڈالا تھا- عبداللہ کے گھر نیوائر نائٹ پہ اس نے سٹریپ ڈاؤن کیا تو ایسے لگا جیسے تمہیں ننگا کردیا ہو حالانکہ فل بلاؤز اور ہاف نیکر نیچے وہ پہنے ہوئے تھی –لیکن اس دن سب دوست تمہاری ورجینٹی کے پیچھے تھے –شبو بلبل نے تمہاری مولویت کے قتل کا حلف اٹھایا ہوا تھا-مگر تم طرح دے گئے –ایسے بھاگے کہ پھر کبھی نہیں آئے ایسی محفلوں میں —–اب اتنے سالوں کے بعد کیا ہوگیا ؟ کیا شبّو بلبل ٹبّی گلیوں کی “کھلی ہوئی مشینوں ” سے بھی کئی گزری تھی؟
وحید اپنی رو میں بولے جارہا تھا –میرا ضبط جواب دینے لگا تھا لیکن میں بڑی مشکل سے خود کو قابو کرکے بیٹھا رہا
مرے ذہن میں نجانے کیوں اپنشد کے یہ منتر گونجنے لگے تھے
مزا
خود کو جانیو رتھ کے ربّ کی مافق
شریر کو جانیو تو رتھ کے جیسا
متعصب عقل پہ رکھیوو دماغ کا کوڑا
دانا کہہ گئے
حواس ہیں اسپ بے مہار کے جیسے
خود غرض آشائیں ہیں وہ راستے جن پہ حواس گھوڑے دوڑیں ہیں سرپٹ
روح جب زہن ، حواس و خواہشات سے لتھڑ جائے تو مزا اور دکھ بھوگنے کا سمے آہی جاتا ہے
اور وحید مجھے لگتا تھا کہ رتھ کا رب بننے کی بجائے رتھ کو ہی اپنا رب بناچکا تھا –خیر پانچ منٹ کے بعد ہم محلے میں داخل ہورہے تھے-اور اندھیرا مکمل پھیل چکا تھا مگر محلے میں خوب چہل پہل تھی- درنک کارنر کھلے ہوئے تھے-سفید موتیا اور گلاب کے ہاروں کی فروخت اپنے عروج پہ تھی-لوگوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا-جھروکوں اور بالکونیوں سے کئی آوازیں کانوں میں پڑ رہی تھیں –اس محلے بارے میں منظر کشی رحمان مذنب کے افسانوں اور کہانیوں میں دیکھی تھی-
رحمان جس کا والد شاہی مسجد کا امام تھا اور اس نے آنکھ کھولتے ہی اپنے اردگرد کے ماحول میں طوائفوں ، رنڈیوں ، کسبیوں ، کنجریوں ، گشتیوں ، چھنالوں جیسے ناموں سے پکاری جانے والی عورتوں کی بھیڑ دیکھی تھی-اور اس کی کہانیوں کے کردار مجھے ایسے لگتا جیسے مرے اردگرد ہی چل پھر رہے ہوں –آج میں خود اس محلّے میں ” کہانی ” کی تلاش میں چلا آیا تھا- ایک گلی میں درمیان میں جاکر ایک پرانے مگر خوب آراستہ و پیراستہ مکان کے سامنے جاکر وحید نے فوکسی کھڑی کردی-مکان کے دروازے پہ ایک آدمی جس کی نو تیرہ کی مونچھ تھی اور آنکھوں ميں سرمہ ڈالنے میں کوئی کنجوسی نہیں برتی گئی تھی –کاندھے پہ رومال ڈالے ، پیروں میں کیمبل پوری جوتی ڈالے اور منہ کے ایک کلّے میں پانی کی گلوی دبائے کھڑا تھا – اس نے وحید کو دیکھا تو مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے عجیب سی آواز میں وحید کو خوش آمدید کہا
شمائلہ جی ہیں ؟ وحید نے پوچھا
جی جی ! آپ کی ہی منتظر ہیں ۔۔۔۔ گل بہار بھی بے تابی سے دروازے تکتی ہیں
دروازے پہ کھڑے آدمی نے رستہ دیتے ہوئے کہا
 
اندر سیڑھیاں اوّر جارہا تھیں جن پہ زرا تاریکی کا راج تھا-وحید نے کہا ! یار ! زرا سنبھل کے ، ڈگ نہ پئیں کدھرے۔۔۔۔۔
مرا دل نجانے کیوں دھڑکنے لگا تھا –حالانکہ کم از کم کتابوں میں تو بہت کچھ پڑھ چکا تھا اور کردار کبھی مجھے نہیں لگا تھا کہ کاغذوں میں بند منٹو یا راجندر بیدی سنگھ کے ذہنوں کی تخلیق ہی تھے-مگر آج پہلی بار کوٹھا چڑھنے لگا تو دل کی دھڑکن تیز اور ہاتھ کی انگلیوں کا ارتعاش بڑھ چکا تھا جبکہ اس ارتعاش کو روکنے کی کوئی کوشش بھی کامیاب نظر نہیں آرہی تھی
 
ہم سڑھیاں چڑھ کر جیسے اندر پہنچے تو سامنے ایک دروازہ تھا جسے عبور کر اندر گئے تو سامنے ہی ہال نما کمرہ تھا جس پہ چاندنی بچھی ہوئی تھی اور گاؤ تکئے لگے ہوئے تھے-سازندے ایک طرف بیٹھے تھے جبکہ ایک طرف چوکی پہ ایک ٹھسے دار عورت براجمان تھی جس کے بڑھاپے میں بھی دلکشی کے آثار غائب نہ ہوئے تھے-اس عورت نے وحید کو دیکھتے ہی کہا
زہے نصیب ! وحید میاں آج کیسے رستہ بھول گئے ؟اور یہ کون صاحبزادے ہیں ساتھ ؟
تمہیں کوئی بھول سکتا ہے شمائلہ جی ! اور یہ مرے دوست ہیں –ان کے لئے گل بہار کا کہا تھا آپ کو – وحید نے بھی اسی نستعلیق انداز میں جواب دیا
 
ہاں ہاں کیوں نہیں ؟
بچّی تو سر شام سے چوکھٹ سے لگی بیٹھی ہے-کیوں میاں گانا سنو گے ، رقص دیکھو گے یا تنہائی چاہئیے
میں نے زرا دیر کو سوچا اور کہا کہ ناچ گانا دیکھنے کو من ہے تو پھر مطلب کی بات نہیں ہوگی – فوری کہا کہ مجھے تنہائی درکار ہے-وحید اور شمائلہ بائی دونوں کے چہرے پہ مسکراہٹ آئیشمائلہ نے ہال کے بائیں جانے بنی ایک راہداری کی طرف اشارہ کیا کہ اس راہداری میں آگے جاکر سیڑھیاں آئیں گی –جہاں سیڑھیاں ختم ہوں گی اس کے دائیں طرف سب سے آخری کمرے میں چلے جائیں
 
وحید نے کہا کہ پوری رات یہ یہاں رہے گا-کھانا جب کہے منگوا دینا اور اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک لفافہ نکال کر شمائلہ بائی کے حوالے کردیا-لفافہ ہاتھ میں آتے ہی شمائلہ کورنش بجالائی –میں سیڑھیوں پہ چڑھ کر سامنے بنی ایک راہداری میں چل دیا-سات کمرے چھوڑ کر آٹھویں کمرے کے سامنے کھڑا ہوا اور دورازے پہ دستک دے ڈالی
دروازہ کھلا ہے –اندر تشریف لے آئیں

ایک نہایت ہی دلکش آواز کے ساتھ اندر سے جواب آیا

میں نے دروازے کو آہستہ سے دھکا دیا تو دروازہ کھل گیا
یہ سجا سجایا کمرہ تھا – دروازے کے دائیں جانب سامنے ایک بڑی سی مسہری پڑی تھی –اس مسہری کے ساتھ ہی دو صوفہ کرسیاں رکھی تھیں جبکہ ایک جانب بڑا سا آئینہ تھا اور دروازہ کے بائیں جانب باتھ روم بنا ہوا تھا-اس نے دیکھا ایک صوفہ کرسی پہ ایک عورت بیٹھی تھی جس کے چہرے پہ کم عمری کے آثار تھے اور وہ عورت کم لڑکی زیادہ نظر آتی تھی-لارج سائز نائٹی میں ملبوس عورت کی ٹانگیں سامنے مسہری پہ دھری تھیں اور اس کی پنڈلیاں ننگی تھیں –عورت دودھ اور شہدے کی سی رنگت سے شہابی شہابی لگتی تھی-دائیں ہاتھ کی لمبی لمبی انگلیوں میں اس نے ایک سگریٹ تھام رکھا تھا جس پہ فلٹر لگا ہوا تھا –اور پفنگ کرتے ہوئے دھویں کے لچھے بنائے جاتی تھی-بڑی بڑی آنکھوں سے وحشت جھانکتی تھی اور ماتھے پہ کھنچاؤ مگر سلوٹ کوئی نہ تھی-اپنی باڈی لینگویج ( بدن بولی ) میں وہ بہت ہی ٹھسے دار عورت نظر آرہی تھی-مری گھبراہٹ میں اور اضافہ ہوگیا-اور میں درواے میں عین درمیان میں کھڑا ہوگیا تھا-اور مجھ سے اگے بڑھا نہیں جارہا تھا-عورت کی دلکشی مجھے بھاگئی تھی مگر ہمت مفقود تھی
آپ وہاں کیوں کھڑے ہوگئے ؟ آئیے نا! ہچکچائیے مت
یہ کہہ کر وہ عورت اٹھ کھڑی ہوئی جسے وحید نے گل بہار کے نام سے یاد کیا تھا –وہ سیدھی مری طرف آئی اور مرا ہاتھ تھام کر مجھے مسہری کی جانب لے گئی اور مجھے مسہری پہ بیٹھنے کو کہا-میں نے صوفہ کرسی پہ خود کو گرادیا-ہاتھ اس نے ابتک نہیں چھوڑا تھا- مرے ماتھے پہ پسینے کی بونیں چمکنے لگیں تھیں –اور سانس تھوڑا تیز چلنے لگا تھا

“ارے ! آپ کے ہاتھ ٹھنڈے کیوں پڑ رہے ہیں ؟ اور ماتھے پہ پسینہ کیسا ؟ یہ دیکھیں ! ہمارے پیر مڑے ہوئے نہ ہیں ، پچھل پیری نہ ہیں ہم ” اس نے اچانک اپنے پیروں کو مرے سامنے کرتے ہوئے اسقدر مضحکہ خیز منہ بنایا کہ مری بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی اور میں تھوڑا ریلیکس ہوگیا
مجھے کافی انوسینس لگی تھی وہ (جو مری بہت بڑی غلطی تھی )
میں نے خشک ہونٹوں پہ زبان پھیری اور گلہ کھنکھار کر صاف کیا اور کہا
میں یہاں “وہ ” کرنے نہیں آیا جو آپ سمجھ رہی ہیں
یہ سنکر وہ ہنسی (مجھے لگا جیسے مندر میں گھنٹیاں بجنے لگی ہوں-میں تھوڑا کھویا اس ہنسی میں اور یک دم خود پہ افسوس ہوا کہ یہ میں کیا سوچنے لگا ہوں )
ہاں جانتی ہوں تم “وہ ” نہیں بلکہ ” یہ ” کرنے آئے ہو-
نہیں ! میں نہ “وہ” اور نہ ہی “یہ ” کرنے آیا ہوں
میں نے فوری اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا
پھر کیا کرنے آئے ہو؟
اس نے ملائم ملاحت زدل لہجے میں پوچھا
اس کا بات کرنے کا یہ انداز مجھے کھٹک رہا تھا-لہجے کا اعتبار اور لفظوں کا انتخاب اسے پڑھا لکھا ظاہر کررہا تھا-وہ ہیومن ڈسٹ سوشل بیک گراؤنڈ سے نہیں لگ رہی تھی
مجھے لگتا ہے کہ میں تمہیں صاف صاف بتادوں
میں ایک صحافی ہوں اور ایک میگزین میں کام کرتا ہوں –مرے ایڈیٹر نے مجھے یہاں ایک عورت کا انٹرویو کرنے کو کہا ہے- (میں نے لفظ طوائف استعمال کرنے سے گریز کیا اور آدھی بات چھپا بھی گیا) وہ یہ سن کر بے اختیار ہنس پڑی
ہممممم –عورت ۔سیدھے سیدھے کیوں نہیں کہتے کہ تمہارے ایڈیٹر ( بالکل ٹھیک انگریزی تلفظ کے ساتھ ) نے ایک “دھندہ کرنے ” والی کی زندگی بارے تمہیں مواد اکٹھا کرنے کو کہا ہے جس پہ تم اپنے فیچر کی بنیاد رکھو گے اور اس طرح اپنے رسالے کی ریٹنگ بڑھالوگے-زرا کچھ کاپیاں زیادہ فروخت ہوجائیں گی
دیکھو ! اب یہ مت کہنا کہ تم اس بازار میں پہلی مرتبہ آئے ہو-اور تم کوئی عادی ” رنڈی باز ” نہیں ہو –اور تمہیں مرے جسم میں زرا دلچسپی نہیں ہے-آؤ یہاں مسہری پہ اور پہلے اپنی آگ بجھاؤ اور پھر کوئی کہانی تمہارے حوالے کردوں گی-مگر اس کے چارجز الگ سے ہوں گے-ڈانس دیکھوگے تو اس کے پیسے بھی الگ سے ہوں گے- شراب یا چرس درکار ہے تو ابھی بتادو-اور ہاں میں ” سنگل ” ہوں –ڈبل ان ون یا تھری ان ون نہیں ہوں –سٹائل بھی بس مشنری ہوگا –اور چ—— کے دوران گالیاں مت نکالنا ورنہ جواب میں ڈبل سنوگے –پھر نہ کہنا کہ مردانگی کی توہین ہوگئی –کنڈوم لائے ہو ؟ اگر نہیں لائے تو دراز میں سے نکال لو-اس نے مسہری کی ایک طرف لگی دراز کی جانب اشارہ کیا
اس نے اتنی تیزی سے کینچلی بدلی کہ میں ہکا بکا رہ گیا-اس کی آواز کی نرمی کہیں غائب سی ہوگئی تھی-اور مجھے لگا کہ وہ اس بازار میں اس کمرے کے اندر اپنے ضابطہ اخلاق کا کتابچہ پڑھ کر مجھے سنارہی ہو-ضابطہ اخلاق ۔۔۔۔۔۔ یہ الفاظ مرے ذہن میں کیا آئے کہ مرے لئے ہنسی روکنا ناممکن ہوگیا اور میں زور زور سے ہنسنے لگا
ہنسے کیوں ؟
اس نے زرا حیرانی سے پوچھا ؟
میں اب سنبھل گیا تھا اور تھوڑا فارم میں خود کو محسوس کررہا تھا-
ضابطہ اخلاق ۔۔۔۔۔ مرے منہ سے نکلا
کوڈ آف کنڈکٹ
کیا کوڈ آف کنڈکٹ ؟
اس نے رسانیت سے پوچھا
وہی جو تم نے ابھی بیان کیا-
میں نے کہا تو تھوڑی دیر کو وہ ساکت ہوئی اور پھر ایک دم اس نے زور سے قہقہ لگایا – میں دم بخود رہ گیا-
کمال کے آدمی ہو-بالکل ٹھیک لفظ استعمال کئے مگر پورے الفاظ نہیں بولے –شرماتے ہو ابھی –
‘“چ ۔۔۔۔۔۔۔ کا ضابطہ اخلاق “
چھی چھی چھی —- کسقدر گندی ہو تم ۔۔۔۔۔۔ اسے ” دھندے کا ضابطہ اخلاق ” بھی تو کہہ سکتی تھیں
میں نے اس کی بات کاٹی اور کہا’
ہاں کہہ تو سکتی تھی مگر بازار میں آنے سے پہلے اور بازار سے جانے کے بعد “چ ” کا لفظ بہت استعمال ہوتا ہے –اور عورت طوائف سے کہیں زیادہ ولگر الفاظ سے یاد کی جاتی ہے-اور مجھ تک آنے والے مردوں کی اکثریت تو مرے پیچھے سے یہ الفاظ ضرور استعمال کرتی ہے کیونکہ ان کی بیمار ذہنیت کے دباؤ سے ابھرنے والی گالیوں کی پوچھاڑ میں ہونے نہیں دیتی –
اس نے تھوڑی تیز آواز میں مجھے باور کرایا
تم پڑھی لکھی لگتی ہو ؟ انگریزی الفاظ کی ادائیگی بالکل پرفیکٹ ہے-
میں ایم اے انگریزی ہوں –
اس نے جیسے اچانک بم پھوڑا –
نہ کر ! مرے منہ سے بے اختیار نکلا-
چلو نہیں کرتی !
لیو اٹ ، کم ٹو دی پوائنٹ مائی بوائے !
اس نے مری توقع کے برخلاف کوئی بحث نہ کی
میں کچھ دیر چپ رہا –اور پھر اسے کہا-مرا مطلب یہ نہیں تھا کہ تم جھوٹ بول رہی ہو-بلکہ حیرت ہوئی کہ تم یہاں کیا کررہی ہو؟
می ماں بھی “دھندہ کرتی تھی اور اس کی ماں بھی اور شاید اس کی ماں بھی
اس نے کہا-(میں سوچ رہا تھا کہ وہ کہے گی کہ بس مجبوریاں یہ سب کرنے پہ مجبور کرتی ہیں ورنہ خوشی سے یہ سب کون کرتا ہے –لیکن اس نے مرے قیاس کو بالکل غلط ثابت کرڈالا )
تو انگریزی لٹریچر ہی کیوں ؟
ماں کہتی تھی انگریزی ادب آئے گا تو تھوڑا دھندا زیادہ اچھا چلے گا اور اس کا کہنا غلط نہیں تھا –کم پڑھے لکھے امیر تماش بین مری انگریزی کے سامنے بھیگی بلّی بن جاتے ہیں اور مہذب آنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں اور بہت پڑھے لکھوں کو سکون ملتا ہے
میں اس کی پرکھ اور تجربے کا قائل ہوگیا-
نام کیا ہے ؟ اور اصلی نام بتائیے گا
تم جیسے انٹلیکچوئل کم مین میں یہ بہت بیماری ہے-سمجھتے ہیں کہ اپنی آرٹیفیشل ڈیسنٹ ایٹی ٹیوڈ سے تم کسی بھی چھنال کو رام کرلو گے اور وہ تم پہ اپنا آپ کھول دے گی –اور زرا مجھے بتاؤ کہ اگر میں تمہیں کوئی نام اپنا بتادوں تو کیسے اندازہ لگاؤگے کہ وہی مرا اصل نام ہے-ایک رانڈ کا اصل نام “رانڈ ” ہی ہوتا ہے اور اس کا دھندا ہی اسے نام دیتا ہے
Whore, Prostitute
لفظ استعمال کیوں نہیں کرتی ہو جبکہ بار بار انگریزی کے لفظ بولتی ہو
میں نے زرا چڑ کر کہا
مرا چڑچڑا پن دیکھ کر وہ ہنسنے لگی –بس مردپنے پہ اترآئے ہو نا –زچ کرنا چاہتے ہو – مجھ سے تمہارا مطالبہ مودب ہونے کا ہے نا
ایسا کچھ بھی نہیں ہے-میں نے تمہیں سچ کہا مجھے ایک پیشے والی عورت کا انٹرویو درکار ہے اور تم اس کرائی ٹیریا پہ پورا اترتی ہو-اور مرے پاس چار سو روّے ہیں جس مين سے 3 سو روپے تمہیں دے سکتا ہوں باقی کے سو روپے سے دو دن مجھے گزارا کرنا ہے کیونکہ پگار دو دن بعد ملے گی-میں نے ایک سانس میں اسے یا سب بتایا
یہ سنکر وہ تھوڑا سنجیدہ ہوگئی –اور کہا ! مجھے لگتا ہے کہ تم واقعی سچ کہہ رہے ہو لیکن کیا ” بستر پہ انٹرویو کے بعد آؤگے
اس کا یہ سوال سنکر مجھے غصّہ آنے کی بجائے ہنسی آگئی
نہیں بابا ! نہ انٹرویو سے پہلے نہ انٹرویو کے بعد اور نہ یہاں سے جانے کے بعد دوبارہ کبھی آنے پہ یہ سب مرا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے-
تو کیا امپوٹنٹ ہو ؟
اس نے ایک اور سوال داغ دیا
میں نے جلدی سے کہا ! ہرگز نہیں –لیکن جلد ہی خود ہی اپنی اس حماقت پہ ہنسنے لگا( کیا ضروری تھا کہ اس سوال کا جواب دیا جاتا )
اچھا چلو شروع کرو انٹرویو ۔۔۔۔ اس نے کہا اور مسہری پہ بیٹھ گئی چوکڑی مارکر-اس کی آنکھوں ميں اب شرارت تھی-
تم اپنے بارے میں بتاؤ؟میں نے کہا
وہ شروع ہوگئی
میں اقراء تھی کبھی جب پیدا ہوئی تو یہی نام رکھا گیا جب جوانی کی سیڑھی چڑھی تو نام نتاشا ہوگیا اور اب گل بہار ہوں
تو ایسے میں اقراء عرف نتاشا عرف گل بہار سے ملا تھا – اس انٹرویو کے لئے اس کی دو تصویریں بھی لی تھیں – اس جھجک کے ساتھ بتایا کہ یہ تصویریں خاص ہونی چاہیں —- اس نے کہا نیوڈ یا پورنو گراف درکار ہیں —— تمہیں پورنو گراف نہیں دوں گی –نیوڈ بارے سوچا جاسکتا ہے-میں حیران رہ گیا تھا کہ اسے پورنوگراف اور نیوڈ آرٹ بارے فرق پتہ تھا
اس انٹرویو نے ہمارے رسالے کو بہت شہرت دی تھی –تصویر میں اس کی آنکھوں سےلیکر ماتھے تک کو بلر کردیا گیا تھا –اور سرورق پہ اپنی نیوڈ تصویر کو دیکھ کر پہلے وہ خوش ہوئی اور جب اس نے آنکھوں سے ماتھے تک اسے بلر دیکھا تو مجھے کہا
کیوں صاف دکھاتے ہوئے پھٹ رہی تھی تمہاری اور ایڈیٹر کی ؟
ہاں پھٹ رہی تھی ! میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا اور پھر اپنے جواب پہ خود ہی حیران ہوگیا-اور فوری وہاں سے بھاگ لیا-
پھر میں اس شہر سے بھاگ لیا اور کئی شہروں میں دھکے کھاتا پھرا اور اسے بھول بھال گیا
گزشتہ مہینے مرے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی –ایک ان ناؤن نمبر تھا –پہلے نظر اںداز کیا جب بار بار بزر بجنے لگا تو میں نے فون اٹینڈ کیا
بھائی کیسے ہو؟ فون کیوں نہیں اٹھارہے تھے ؟
میں نے کہا سوری ! کون ؟ میں پہچان نہیں سکا
واہ ! بڑے آدمی ہوگئے ہو –پہچانتے بھی نہیں ( آگے سے روایتی فقرہ سننے کو ملا تو میں اور خشک ہوگیا)
ہاں بھئی نہیں پہچانا ! بتادیں نا کون ہیں ؟ میں نے کہا
یار سلیم اوڈھ ہوں جذران سعودیہ والا !
ارے سلیم تم ہو – کہاں ہو؟ تمہارے گھر کے سامنے گاڑی میں

میں نے جلدی جلدی کپڑے بدلے اور نیچے پہنچا تو سلیٹی کلر کی نئی ہنڈا گاڑی میں سلیم اوڈھ بیٹھا ہوا تھا-وہ مجھے دیکھ کر گاڑی سے اتر آیا-بہت دبلا پتلا نظر آرہا تھا-میں نے گلے ملتے ہوئے کہا بہت سمارٹ ہوگئے ہو-کہنے لگا ہاں! جگر کا ٹرانسپلانٹ اچھے اچھوں کو سمارٹ کردیتا ہے-میں تھوڑا شاکڈ ہوا –کیسے ؟ یار ایک ماہ پہلے دہلی سے ٹرانسپلانٹ کرایا-60 لاکھ لگ گئے-نئی زندگی ملی ہے-تمہیں بار بار فون کیا –مگر تم نے نمبر ہی نہ اٹھایا-کہاں گم ہو بھائی ؟یہاں سڑک پہ سب باتیں نہیں ہوسکتیں – ایسا کرتے ہیں فورٹ ریسٹورنٹ چلتے ہیں –میں نے بھی کھانا نہیں کھایا اور تم نے بھی نہیں کھایا ہوگا-وہان چل کے بات کرتے ہیں –میں نے اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا
سلیم اوڈھ سے مری ملاقات جعفری کے ہاں ہوئی تھی-جعفری “جعلی بیوروکریٹ ” جو ایف سی سے اس زمانے میں پڑھا تھا جب اس چھوٹے سے شہر میں انٹرنس کالج میں جانا اعزاز سمجھا جاتا تھا اور اس کے کئی بیج میٹ اب سی ایس پی آفیسر اور باودری افسر تھے-وہ اگرچہ نکما ہی رہا –بی اے سے آگے نہ گیا اور واپس آکر زمیندارہ سنبھال لیا لیکن اس کا ایٹی ٹیوڈ اور نرت بھاؤ بیوروکریٹ والے ہی تھے-دوستوں نے اس کا نام “جعلی بیوروکریٹ ” رکھ ڈالا تھا-جعفری اپنے زیادہ تر دوست مڈل ایسٹ پلٹ یا وہاں گئے ہوئے مرفہ الحال لوگوں کو رکھتا تھا جن میں سے اکثر واجبی تعلیم والے ہوتے اور ان کو اکثر پی ۔سی ، آواری ، مریٹ ، ایمبیسڈر لیکر جاتا اور ان کو دیسی /کپّی کے چکر سے نکالتا اور بلیک لیبل ، ریڈ وائن ، شیوارز اینجل وغیرہ وغیرہ پہ لگاتا مگر خرچ سب ان کا ہوتا-اس دوران ہائی سوسائٹی کال گرلز کے درشن بھی کروائے جاتے-سلیم اوڈھ ایسے ہی اسے ٹکرا تھا-
جعفری جعلی بیوروکریٹ کی ملک کے ایک بڑے نامی گرامی سیاست دان سے بھی دعا سلام تھی جس کی پروجیکشن اور اس کے دشمنوں کے خلاف پیدل خبریں چھاپنے اور ٹیبل سٹوریز بنانے کے لئے وہ قلم توڑ صحافیوں کے پیچھے رہتا تھا-میں جب ایک انگریزی اخبار کے اندر اسلام آباد کی سیاسی بیٹ کو دیکھ رہا تھا تو جعفری جعلی بیوروکریٹ سے مجھے وزرات داخلہ ميں لگے سیکشن افسر مستعین علوی نے متعارف کرایا تھا-اور پھر جب میں ملتان چلا آیا تو جعلی بیوروکریٹ نے مجھے اس سیاست دان سے ملوایا-اور ان دنوں زرا مرے حالات پتلے تھے تو میں بہت سی ٹیبل نیوز اسٹوریز اور گٹھیا فیک سیاسی اینالسز اس کے لئے بنائے تھے-
جعفری جعلی بیوروکریٹ اس محنت کے عوض مجھے نودولتیوں کی اس لاٹ سے ملواتا اور ان کی جیب سے مجھے مہنگی شراب ، قیمتی سگار دلاتا تھا-کبھی کبھی مجھے “ٹبّی گلیوں ” میں لیجانے کی کوشش کرتا تو میں انکار کرڈالتا تھا-سلیم اوڈھ بہت پڑھا لکھا تو نہ تھا مگر بندہ شناس تھا-جلد ہی وہ جعلی بیوروکریٹ کو پہچان گیا اور اس سے الگ ہوگیا-وہ ہر سال سعودی عرب سے تین ماہ کے لئے سردیوں میں آتا تھا-مجھے اپنی سادگی اور صاف گوئی کی بنا پہ وہ پسند آیا-میں اس کا گلاس فیلو بن گیا تھا-پھر بیچ میں ایک گیپ آگیا-میں ہی گم ہوگیا-قریب قریب دو سال بعد سلیم اوڈھ سے مری ملاقات ہوئی تھی
فورٹ ریسٹورنٹ آگیا جناب ؟
سلیم کی آواز مجھے خیال کی وادی سے باہر لے آئی-
ہم کار سے اترے اور فورٹ ریسٹورنٹ کے اندر ہال میں جاکر ایک میز پہ بیٹھ گئے-
ابھی ہم بیٹھے ہی تھے کہ مینجر باجوہ اپنے آفس سے نکل آیا اور کہنے لگا !
زہے نصیب ! آج تو بڑی ہستیاں ہمارے ہاں پدھاری ہیں
میں ہنسنے لگا اور کہا کہ ایک جٹ کے منہ سے اتنی گاڑھی ہندی-مکس اردو اچھی نہیں لگتی –تمہاری پنجابی بہت خوبصورت لگتی ہے-سنیکس اور گرما گرم کافی پلوادیں –اس نے سپروائزر کو اشارہ کیا اس نے آڈر نوٹ کیا اور چلا گیا
انجوائے یور کمپنی سر! باجوہ نے شرارت سے کہا اور اپنے آفس کی طرف مڑ گیا-سلیم مری طرف بہت غور سے دیکھ رہا تھا

کافی ماہ گزر گئے ، اس کو میں قریب قریب بھول گیا تھا کہ ایک دن آفس میں بیٹھا تھا کہ آفس بوائے اسلم نے مجھے آکر بتایا

“آپ کی کال آئی ہے “

میں نے پوچھا کس کی ہے ؟ اس نے پتہ نہیں ، بس آپریٹر کہہ رہا ہے کہ آپ کو بلوادوں-آفس میں دو فون تھے-ایک ریسپشن پہ اور دوسرا ایڈیٹر کے کمرے میں-ریسپشنسٹ آپریٹر کا کام بھی کرتا تھا –ابھی موبائل فون آنے میں تین سال پڑے تھے-میں ریسپشن پہ پہنچا اور کریڈل اٹھایا تو اور ہیلو کیا تو دسری طرف سے آواز آئی

آداب ! گل بہار بول رہی ہوں ، کیسے ہیں آپ ؟

میں ٹھیک ہوں ، آپ سنائیں ؟

آپ تو اس دن کے بعد بھول ہی گئے ، کبھی گپ شپ لگانے بھی نہ آئے –

اس نے کہا

بس جی یہاں کام بہت تھا تو فرصت ہی نہ ملی

میں نے جواب دیا

اچھا ، آپ سے یہ کہنا تھا کہ آج رات ہمارے ہاں مجلس ہے ، آپ تشریف لائیے گا ، نیاز بھی بٹے گی

اس نے ایک دم کہا

میں تھوڑی دیر خاموش ہوگیا

اس نے اسی دوران پھر تیزی سے کہا

اچھا مت آئیے گا ، بھلا ہم جیسے لوگوں کا کیا حق کہ کسی کا غم منائیں اور شرفاء ہماری نیاز کھانے آئیں

یہ کہہ کر مجھے کھٹاک سے فون کا رسیور کریڈل پہ رکھے جانے کی آواز آئی –

میں سکتے میں آگیا-

اور واپس آکے اپنی سیٹ پہ بیٹھ گیا-گل بہار بانو کو بتانے لگا تھا کہ میں نہ تو نام نہاد شرفاء میں سے ہوں اور نہ ہی مجھے کسی مذہبی ثقافتی تقریب میں جاتے ہوئے کوئی عار ہے –میں خیالوں میں ڈوب گیا –

میں ایک ہریانوی بولنے والے ہندوستانی مہاجر سنّی بریلوی گھرانے میں پیدا ہوا تھا-ہمارے گھر میں ختم ، نیاز ، محافل نعت ، گیارہویں ، عید میلادالنبی ، شب برآت ، محرم میں شہیدان کربلاء کی نیاز اور زکر شہادت کی محافل بکثرت ہوا کرتی تھیں –مرے دادا ہندوستان کے سابق مشرقی پنجاب اور آج کے ہریانہ کے انبالہ ڈویژن کے ضلع حصّار میں نقشبندی سلسلے کے ایک بڑے معروف بزرگ عبدالصمد خاں نقشبندی کے مرید تھے-اور ان کے بیٹے تقسیم ہند کے بعد اوکاڑا کے قریب رینالہ خورد میں آکر بس گئے تھے خواجہ عبدالسلام نقشبندی –مرے دادا اکثر مجھے ان پیر صاحب کے پاس لیجایا کرتے تھے –

اور مرے والد کرنال کے قصبے شاہ آباد سے ہجرت کرنے والے ایک اور نقشبندی سلسلے کے بزرگ سید ولی محمد شاہ کے مرید تھے-سید ولی محمد شاہ ایک بری سی سفید چادر اپنے اردگرد لپیٹے رکھے رکھتے اور اسی مناسبت سے ان کو چادر والی سرکار کہا جاتا تھا-یہ سیالکوٹ کے قریب واقع علی پور سیداں کے مشہور نقشبندی پیر اور تحریک پاکستان کے ایک اہم کردار پیر جماعت علی شاہ کے خلیفہ مجاز تھے-ہمارا گھر ایک متوسط طبقے کے تاجروں کی بستی میں واقع تھا اور یہاں زیادہ تر غلہ منڈی ، فروٹ منڈی اور شہر کے بازاروں میں کپڑے اور منیاری کا کام کرنے والے رہائش پذیر تھے اور اکثریت میں سنّی بریلوی یہاں رہتے تھے جبکہ مشکل سے چار گھر دیوبندی سنّیوں کے تھے جبکہ ایک گھر سادات کا تھے جو شیعہ مسلک کا تھا لیکن سب اس سادات گھرانے کی عزت میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے-

یہان ایک گھر سلفی اہلحدیث کا تھا یہ پٹیالہ سے ہجرت کرنے والا ایک پنجابی گھرانہ تھا مگر یہ بھی صلح کل پہ عمل پیرا گھرانہ تھا-محرم آتا تو سب ہی گھروں میں نذر و نیاز کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا-گھر گھر ٹیپ ریکاڈر پہ شفیع اوکاڑوی ، شبیر حسین حافظ آبادی کی واقعہ کربلاء پہ مبنی تقریریں بجنے لگتی تھیں اور عمومی یہ ٹیپ ریکاڈر گھر کی بیٹھک جو باہر کی طرف رکھا جاتا تھا تاکہ گلی میں بیٹھے اور گزرنے والے بھی سن سکیں –نریلی ہندوستان سے ہجرت کرنے والے ایک گھر میں مٹّی کے پیالوں میں کھیر ٹھنڈی کرکے تقسیم کی جاتی –لوہارو ریاست سے آئے ایک گھرانے والے چاولوں کی دیگ چڑھاتے تھے –اور گھر گھر زکر شہادت حسین کی محافل ہوا کرتی تھیں-واحد سادات گھرانے کی جانب سے نیاز کا اہتمام ہوتا –پانی کی سبیلیں لگتی تھیں –اور وہیں ہمارے محلے میں تیسری گلی میں شفیعا لوہار رہا کرتا تھا –اور وہ بڑا لٹھ باز بھی تھا –

دس محرم الحرام شہر کے مرکزی چوک میں جب عشرہ محرم کا جلوس پہنچتا تو وہ اور اس کے شاگرد گتکے باز کا ایسا مظاہرہ کرتے کہ دیکھنے والے عش عش کر اٹھتے تھے-اور سنّیوں کا بھی ایک تعزیہ نکلتا تھا جو اسی چوک میں آکر عاشورہ محرم کے جلوس میں مل جاتا تھا-جلوس کے ساتھ بریلوی ، دیوبندی ، اہلحدیث علماء اور ان مسالک کے کرتا دھرتا بھی چلتے تاکہ کوئی تخریب کاری نہ ہو اور ایسے جلوس کربلاء شاہ خراسان جاکر ختم ہوجاتا تھا-اور عید میلادالنبی کے جلوس میں یہ ہوتا کہ دیوبندی اور وہابی تو اس جلوس کے ساتھ نہ آتے مگر شیعہ اس جلوس کا مختلف چوکوں اور چوراہوں میں پھول کی پتیوں سے استقبال کرتے اور نیاز بانٹتے تھے –

ہمارے محلے کے سادات گھرانے کے سربراہ سید بی –اے –عابدی اپنے بیٹوں اور چھوٹی بیٹیوں کے ساتھ اس جلوس میں آتے اور ان کے ساتھ کئی اور آدمی بھی ہوتے تھے-وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر بھی تھے اور ہر دل عزیز شخصیت تھے – ان کے ساتھ ایک بڑی گاڑی ہوتی تھی جس سے حلوہ و نان تقسیم کیا جارہا ہوتا تھا اور وہ وقفے وقفے سے نعرے لگاتے تھے-اور عید میلاد کے جلوس کے شرکاء ان کا گرم جوشی سے استقبال کرتے تھے –پھر ایک دن جب وہ اپنے گھر کے سامنے کھڑے بجلی کے میٹر کی ریڈنگ پڑھ رہے تھے تو دو موٹر سائیکل سوار آئے اور کلاشنکوف کے فائر کھول دئے جس سے وہ موقعہ پہ ہی ایک اور دکاندار کے ساتھ جاں بحق ہوگئے-میں تصوف ، مذہبیت پہ مبنی کلچرل ریتوں ، روائتوں اور رواج کے سائے میں پلا پڑھا تھا-لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور سٹریم بھی چل رہی تھی-

میں نے جن ، پریوں کی کہانیوں کو چھوڑ کر عصمت چغتائی ، سعادت منٹو ، رحمان مذنب ، راجندر سنگھ بیدی کی کہانیاں پڑھنا شروع کردی تھیں اور مجھے کالج میں کمیونسٹوں کے ایک اسٹڈی سرکل میں جانے کا موقعہ ملا اور وہیں مری دوستی کامریڈ ایم اے خان سے ہوگئی اور وہ مجھے مارکسی لٹریچر دینے لگے اور مجھے پتہ نہیں لگا کہ کب میں ناستک کمیونسٹ ہوگیا –اور کم از کم نام نہاد اخلاقیات کے ٹھیکے داروں سے کب کا آزاد ہوگیا تھا اور ہمارا محلّہ متوسط طبقے کے تاجروں کا محلّہ تھا اور یہاں یہ ریت تھی کہ نوجوان جو کہ واجبی سی تعلیم کے بعد باپ کے کاروبار کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے –

کپڑے ، سونے ، منیاری کا کام کرنے والے اور سبزی فروٹ و غلہ منڈی کی آڑھتوں سے جڑے اکثر سیکس ورکرز کے پاس آنے جانے لگتے تھے اور ان میں کنوارے و شادی شدہ سب ہی شامل تھے-کچھ شراب اور کچھ چرس کا شغل بھی کرلیتے تھے (مگر یہ بہت کم تھے ) اور بعض دکان پہ آنے والی عورتوں سے بھی تعلق قائم کرلیتے تھے-مگر ان مین سے اکثر پانچ وقت کے نمازی ، کثرت سے ختم و نیاز دینے والے اور کئی پیروں سے سلسلہ ارادت رکھنے والے بھی تھے-بلکہ ہنڈی ، منشیات

اور بلیک مارکیٹنگ کرنے والے بھی پیری مریدی اور سخت مذہبیت کے ساتھ جڑے تھے-جب کبھی کوئی مذہبی تناؤ پیدا ہوتا جو اکثر دیوبندی بمقابلہ بریلوی یا وہابی بمقابلہ بریلوی ہوتا اور کبھی کرسچن یا احمدیوں سے بھی پڑجاتا تو ان سے بڑی عاشق ، ان سے بڑا موحد ، ان سے بڑا ناموس کا علمبردار کوئی نہ ہوتا تھا-مذہبی جلوسوں میں  گلے پھاڑ کر غلام ہیں غلام ۔۔۔۔۔ کانعرہ لگانے والے اگلے روز کسی چکلے میں ہوتے یا نائٹ پہ لڑکی بک کرتے اور الگ سے کرائے پہ لئے مکان پہ اپنے ہوس کی تکمیل کررہے ہوتے اور فوری غسل کرتے اور نماز پڑھنے چلے جاتے

تھے-مرے کئی کپڑے ، سونے چاندی ، منیاری اور دیگر کاروباروں سے جڑے اپنے ہم عمر دوستوں سے تعلق تھا اور ان میں میں “زنخا ” مشہور ہوگیا تھا-ایک مرتبہ ان سب نے مجھے ملکر زبردستی ایک کمرے میں دھکا دیا اور باہر سے کنڈی لگالی –اندر ایک پکّی عمر کی عورت تھیجس نے مجھ سے چھیڑ چھاڑ کی مگر میں سرد رہا –اس نے باہر آکر کہا

ایس چھورے کے پلّے کجھ ناہیں ، سورا خالی سے ، ھیجڑو سے پر چکنو سے ، یو تھارے کام آوے گا ، چھورو کا پچھواڑا  بہت نرم سے اور گالاں تے جان نکال لیوے ہیں  ( اس لڑکے کے پاس کچھ نہیں ، سالا خالی ہے ھیجڑا ہے- )اور اس کے بعد مرا نام “زنخا ” گیا –ان میں سے کچھ لڑکے مجھ پہ نظر بھی رکھتے تھے مگر مرے دو بڑے بھائی ان کے ساتھ ہوتے تھے اور کئی ایک کزن بھی ان کی ٹولی میں تھے اس لئے ان کی ہمت نہ پڑتی تھی –

مگر ایک دن جب ہم سب نہر پہ نہانے گئے گرمیوں کے دن میں تو میں تیرتا ہوا کافی دور نکل گیا اور مرے ساتھ رؤف جیسے روفا قصائی کہتے تھے تیرتا ہوا آگیا اور اس نے مجھے زبردستی پیچھے سے پکڑ لیا اور مجھے بے اختیار چومنے چاٹنے لگا، مجھے سخت گھن آرہی تھی ، اس نے مرے منہ پہ ہاتھ رکھا ہوا تھا-وہ بہت طاقتور تھا اور اس کا آلہ تناسل مری پشت پہ چب رہا تھا –مجھے احساس ہورہا تھا کہ مرے ساتھ سخت غلط ہونے والا ہے-وہ مرا نیکر اتارنے کی کوشش کررہا تھا –میں نے اپنا پورا زور لگایا اس سے چھٹنے کے لئے اور اس کے ہاتھوں پہ کاٹ لیا اور اس نے درد سے بلبلا کر مجھے چھوڑ دیا اور میں کنارے کی جانب بھاگا اور نہر سے نکل کر میں نے دوڑ لگائی اور ساتھ چیخنے لگا –مری چیخیں شاید وہاں تک پہنچ گئی تھیں جہاں سب موجود تھے-سب سے پہلے مرے بھائی افتخار ، احسان مجھ تک پہنچے اور میں ان سے لپٹ گیا –بے اختیار رونا شروع کردیا-

اتنے میں مرے کزن خالد ، اشفاق اور پیرمحمد بھی وہاں آن پہنچے اور دوسرے بھی-میں نے ہچکیاں لیتے ہوئے اپنے پہ بیت گئی قیامت سے ان کو آگاہ کیا –مرا بھائی افتحار مجھے تسلی دیتا رہا –وہ بہت ہتھ چھٹ تھا-اس نے جہاں میں نے اشارہ کیا اس جانب دوڑ لگائی –لیکن وہاں رؤفا قصائی نہ تھا –اس کے گیلے پیروں کے نشان سامنے کھیتوں کی طرف جارہے تھے-سب نے اس جانب دوڑ لگائی –اور کھیت پار کرکے سڑک پہ دور رؤفا قصائی بھاگتا ہوا نظر آرہا تھا –بھائی افتخار نے اس کو دیکھا تو اسے جیسے پر لگ گئے اور اس نے اسے چار منٹ ہی میں جالیا اور اور اسے تھپڑوں مکّوں پہ رکھ لیا-جب ہم وہاں پہنچے تو اس نے اسے مار مار کر ادھ موا کیا ہوا تھا-

مرے کزنز اور دوسرے لڑکوں نے اسے ٹھنڈا کیا اور کہا کہ اسے کونسلر صاحب کے حوالے کرتے ہیں وہ پنچائت بلائیں گے-اور یوں رؤفا قصائی کو پنچایت کے سامنے  پیش کیا گیا-اور وہاں رؤفا قصائی نے ایسا پانسا پلٹا کہ سب کچھ تلپٹ ہوگیا-اس نے افتخار پہ الزام لگایا کہ افتخار کے اس کی بہن سے ناجائز تعلقات ہیں اور احسان تو اس کے ساتھ ملکر گلی ، اسکول کے کئی لڑکوں سے بدفعلی کرچکا ہے-اس نے ایک پنچ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کونسا پاکباز ہے اکبّر پنواڑی کی بیوہ کے گھر راتیں گزارتا ہے اور ابھی وہ ایک اور کی طرف مڑ ہی رہا تھا کہ کونسلر صاحب نے اسے جھڑکا اور پنچائت ختم کردی اور بعد میں کیا ہوا مجھے نہیں پتا-بس ہم وہاں سے لاہور آگئے تھے-اور میں سوچ رہا تھا کہ گل بہار ٹھیک ہی تو کہتی ہے ایک سیکس ورکر کے گھر بلکہ گھر بھی کہاں کوٹھے پہ اشراف اپنی گندگی گرانے تو آسکتے ہیں نیاز کھانے نہیں –

میں نجانے کب تک خیالوں میں کھویا رہتا کہ اسلم چائے لاکر مرے سامنے رکھ گیا-شام پڑنے لگی تھی-میں نے چائے کے گھونٹ بھرے اور جانے کا فیصلہ کرلیا-میں کرسی سے اٹھی اور سیدھا ایڈیٹر کے کمرے میں پہنچا اور ان سے کہا کہ آج سخت سردرد ہے اور ہلکا بخار بھی ہے-

“ارے تو جاؤ بھئی دوا لو آرام کرو ، پرسوں وہ زوالفقار گیلانی کی نئی آنے والی فلم کی پروجیکشن کے لئے آرٹیکل ، فیچر بھی تیار کرنے ہیں “

مرے بولنے سے پہلے ہی ایڈیٹر صاحب بول پڑے اور یہ چھٹی اس لئے ملی کہ پرسوں ان کو ایک پیڈ پروجیکٹ کرکے میں دے دوں ورنہ ایک دن کی تنخواہ کاٹ لی جاتی –اب مسئلہ یہ تھا کہ مرے پاس کل دو جوڑے تھے –ایک سوٹ دھلنے کو دھوبی کے پاس پڑا تھا اور وہ کل ملنا تھا-اور یہ سوٹ کافی میلا ہورہا تھا –ایسی حالت میں میں وہاں جانا نہیں چاہتا تھا –میں اپنے دھوبی نذیر کے پاس چلاگیا –اس کے سامنے اپنا مسئلہ رکھا تو اس نے کہا

“باؤ جی ! فیر تے تساں کالے کپڑے پاؤ ، میں دے دینا آں پر تسی اے اج واپس کرجانا پرسوں دے دیاں گیا ، اک وکیل دا سوٹ اے واشن وئیر تے سلیا وی سوہنا اے “

اس نے ایک استری ہوا کالا سوٹ ہنیگر سے نکال کر پیک کرکے مجھے دیا اور میں سیدھا بھاٹی گیٹ اپنے کمرے کی طرف آیا اور نیچے حمام میں  شیو بناکر اور نہاکر اوّر آکر وہ سوٹ پہن لیا-وہ تھوڑا کھلا تھا لیکن مجھے اچھا لگا-میں راستے میں ایک آرٹیفیشل جیولری کا ٹھیّہ لگائے آدمی سے پیتل کا کڑا بھی خرید لیا جس پہ چاندی کا پانی پھرا ہوا تھا –اور یوں ایک عزادار کا گیٹ اپ کرکے میں پیدل چلتا ہوا شاہی محلے میں داخل ہوگیا-مغرب کے تھوڑی دیر بعد کا وقت تھا لیکن آج تو اس بازار کے رنگ ڈھنگ ہی بدلے ہوئے تھے-پھولوں ،گجرے والوں کی دکانیں بند تھیں ، پان بیڑی سگریٹ کے بھی ایک دو کھوکھے کھلے ہوئے تھے-جبکہ ہر ایک گھر پہ سیاہ علم اور پنجہ کھڑا تھا اور جھروکے خالی تھے اور بالکونیوں میں کوئی نہیں کھڑا تھا –

ہر ایک کوٹھے سے ٹیپ ریکارڈر چلنے کی آوازیں آرہی تھیں جن پہ نوجے اور مرثیہ چل رہے تھے اور میں کئی عورتوں ، مردوں اور بچوں کو کالی قمیص ، سفید شلوار  پہنے دیکھا اور عورتوں نے کالا دوپٹہ اور کالی چادر اوڑھے دیکھا-عجب سی سوگواری اور اداسی شاہی محلّے پہ تنی کھڑی تھی-گھروں کے منڈیروں پہ کوئی چراغ روشن نہیں تھا-عین چوک کے درمیان ایک بہت بڑا علم عباس ایستادہ تھا جس کے گرد چراغ ہی چراغ تھے اور عورتیں ،مرد ، بچے اس علم کو ہلاتے ، منہ میں کچھ بڑبڑاتے اور کچھ دیر ٹھہر کر دعا مانگتے اور چل پڑتے-میں علم کے پاس سے گزرنے لگا اور بغیر رکے آگے جانے والا ہی تھا کہ پیجھے سے ایک آواز آئی

“بدبخت غازی عباس دے علم نوں چمے بنا جاندا پئا ایں ، کیوں آپنے بختاں نوں انھیر کرنا ایں “

میں نے مڑکے دیکھا تو دھاری جٹاؤں والا ایک ملنگ سبز قبا میں ملبوس ہاتھ میں بڑا سا ڈنڈا لئے اور ہاتھوں میں کئی کڑے ڈالے اور انگلیوں میں انگوٹھیاں ڈالے سرخ نگاہوں سے مجھے گھور رہا تھا –میں واپس پلٹا اور علم ہلایا اور علم کے کپڑے کو چوم لیا-یک دم مرے ذہن پہ جیسے کوئی بجلی کوندی ہو اور مجھے ایک سرائیکی شاعر یاد آئے جو کہتے تھے کہ خلق سے ملن رب آپے علامتوں میں سرایت کرتا ہے-اور مجھے یوں لگا کہ وہ حقیقت آج یہان اپنا آپ آشکار کررہی ہے –میں وجد میں آگے چلتا چلا گیا-گل بہار کے گھر کے سامنے پہنچا تو وہاں بجلی کے قمقے روشن تھے-بڑا سا علم گھر کے اوپر لہرا رہا تھا اور یاغازی عباس اس پہ لکھا نظر آرہا تھا-

اور مجھے وہی آدمی دروازے پہ نظر آیا اور مجھے لیکر وہ اوپر چلا آیا اور مجھے وہ ہال کمرے کے دروازے پہ چھوڑ گیا –اندر داخل ہوا تو ہال کمرے میں دو دو کی چار صفیں بنی ہوئی تھیں-دو صفیں دائیں طرف تھین جہاں سب مرد براجمان تھے تھے جبکہ دو عورتوں کی صفیں تھیں –سب نے سیاہ لباس پہنے تھے –سیاہ دوپٹے تھے –مردوں کے سر ننگے تھے-اور گل بہار بانو ، اس کی نائیکہ کے ساتھ میں دیکھ کر حیران ہوگیا کہ شام چوراسی گھرانے کے چشم چراغ اسد امانت علی اور معروف گلوگار سجاد علی بیٹھے تھے-اور ساتھ ہی ایک شیعہ عالم بیٹھے تھے جن سے میں واقف تھا-ان کی وہاں موجودگی مرے لئے کافی حیران کن تھی -گل بہار بانو نے آنکھ کے اشارے سے مرا سواگت کیا اور آگے آنے کا اشارہ کیا اور میں نے دیکھا کہ سب سے آگے بیٹھا ایک شخص اٹھا اور اس نے جگہ خالی کردی اور مجھے بیٹھنے کو کہا-میں وہاں آکر بیٹھ گیا-گل بہار بہت اداس نظر آتی تھی –اور نقابت کے فرائض بھی اس نے سنبھال رکھے تھے-وہ شروع ہوئی –چہرے پہ سوگ بے انتہا اور آواز میں درد بہت تھا :

پامال ہوگئی ہے قاسم دی نوجوانی –سہرے لٹاکے بیٹھا سنوگئے بن اچ حسن دا جانی

ہائے تیری راہواں وچ  بہہ کے  ہائے روندی آں –آجا اکبّر ۔۔۔۔دیر نہ لاویں تری راہواں تکدی آں

جیسے جیسے وہ مرثیہ پڑھتی سوگواروں کی ہچکیاں بندھتی چلی گئیں ، کیا مرد کیا عورتیں سب کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے-میں تھوڑی دیر تو اپنے آپ پہ قابو رکھا لیکن پھر مری آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہوگئے-مری نظر گل بہار بانو سے ملی تو مری آنکھوں کے بھیگے گوشے دیکھکر ایک لمحے کے لئے حیرت نظر آئی اس کی آنکھوں میں پھر اس نے نظر ہٹالی –مجلس ختم ہوگئی اور نیاز بٹنا شروع ہوئی –گل بہار بانو نے مجھے اشارہ کیا-میں اٹھ کر ہال کمرے سے باہر نکل گیا –اور میں اس کے پیجھے چلتا ہوا کمرے میں آگیا –کمرے کا حال عجیب تھا-آج وہاں بیڈ اور صوفہ کرسیاں موجود نہیں تھیں –کمرے میں صرف پانچ بڑے چراغ روشن تھے-دیواروں پہ سیاہ رنگ کی شیٹ لگی ہوئی تھیں اور کوئی بھی تصویر وہاں موجود نہ تھیں –فرش پہ بھی کوئی چیز  تھا اور میں نے دیکھا کہ وہاں کوئی بستر تک نہ تھا-

یہاں کوئی بھی چارپائی یا بیڈ پہ دس دن تک سوتا نہیں ہے-اور زمین پہ سوتے ہیں –اور سونے کے کمروں مین سوائے چراغ کے اور کوئی شئے روشن نہیں ہوتی-اس نے مجھے کمرے میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پایا تو کہا –اور کوئی دھندا نہیں ہوتا ہے-اور میں نے تمہیں اس لئے بلوایا ہے کہ یہاں پڑوس میں ایک حاجی عبداللہ رہتا ہے –اس نے مرے خلاف تھانے میں ایک جھوٹا مقدمہ درج کرایا ہے-میں نے عبوری ضمانت کرالی ہے-

وہ ایک جہادی تنظیم کو بھی چندہ دیتا ہے-وہ مجھے مستقل رکھیل رکھنا چاہتا تھا-پہلی محرم کو بھی آیا اور اس نے اپنے گھر چلنے پہ اصرار کیا-میں نے انکار کیا کہ ہم محرم دھندا نہیں کرتے-اس پہ وہ غضبناک ہوگیا اور زبردستی مجھ پہ چھپٹنے لگا تو یہاں فضلو اور رحمو نے اسے بڑی مشکل سے نکالا اور وہ جلاگیا اور واپس جاکر تھانہ انارکلی میں اس نے فضلو ، رحمو اور مرے خلاف پڑجہ کٹایا ہے ڈکیتی کا –فضلو رحمو تو جیل میں بند ہیں جبکہ میں عبوری ضمانت پہ ہوں –مری آپی  کے جو سرپرست ہیں وہ اس حاجی سے دبتے ہیں اور کہتے ہیں کہ گل بہار بانو کو بھیج دو اس کے پاس معاملہ ٹھیک ہوجائے گا-آپی نے مجھے دو دن دئے ہیں کہ اگر میں معاملہ سیٹل کرلوں تو ٹھیک ورنہ پھر مجھے جانا ہوگا ورنہ دھندا ٹھپ ہوجائے گا –

“تمہیں مولا حسین کا واسطہ ! مجھے اس مشکل سے نکالو “

وہ شاید مجھے شیعہ سمجھ رہی تھی –اس لئے ایسے واسطے دے رہی تھی –

تم فکر مت کرو میں کچھ کرتا ہوں-

میں وہاں سے نکلا اور شملہ پہازی آگیا اور سیدھا لاہور پریس کلب کے صدر کے کمرے میں گیا-صدر وائی اے مرا پرانا دوست تھا اور اس کی جیت میں میں نے بڑا کردار ادا کیا تھا-اس سے بات کی –اس نے اسی وقت فون ملایا –پہلے ایک جہادی تنظیم کے کسی عہدے دار سے بات کی اور اس کے بعد اس نے آئی جی لاہور سے بات کی –اور پھر مجھے  کہا

یار! بے فکر ہوجاؤ –حاجی دی بھین نوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وڑ گیا اے-ہن اوتھے دا رخ نہیں کردا

یہ کہہ کر اس نے دراز سے بوتل نکالی اور اور مری طرف دیکھ کر آنکھ دباتے ہوئے کہا :

“ایہہ لال پری پی تے غم غلط کر ، یار اوس کنجری تے ترا دل آگیا اے کیا ؟ میرا وی دل کردا اے اونھوں ویکھن دا جیس نے مرے مولوی یار نوں رند کردتا اے”

“میں محرم میں نہیں پیتا “

میں نے جھٹ سے کہا –

اس نے ایک قہقہ لگایا اور کہا “بلّے بھئی بلّے ،،،،،، ایک ناستک کدوں دا محرم اچ شراب توں انکار کرن لگ گیا اے

بس آج ہی سے یہ پابندی لگائی ہے-مری آنکھیں کھل گئی ہیں –یہ کہتے ہوئے مرے دماغ کی سکرین پہ شاہی بازار کے گھروں پہ لگے کالے علم اور مردوں و عورتوں کے سوگوار چہرے اور کانوں میں گل بہار کی درد سے بھری آواز گونج رہی تھی

سک دے ویلے جوان بچھڑے کوں پگ بنھیندا اے حسین تھک ویندا اے

(صبح کے وقت جوان بیٹے کو پگڑی باندھتا  ہوا حسین (علیہ السلام ) تھک جاتا ہے

یہ کہہ کر میں اس کے کمرے سے نکلتا چلا گیا