Original Articles Urdu Articles

فخر اہلسنت امجد صابری کے قاتل نا معلوم نہیں – سنی فار پیس

13495036_1327325067297660_5476092022695726561_n

یہ وہی دیوبندی خوارج ہیں جنہوں نے اس سے قبل نشتر پارک میں اہلسنت سواد اعظم کے رہنماؤں اور علما کرام کا قتل عام کیا، سپاہ صحابہ، جماعت اسلامی، طالبان اور دیوبندی تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے یہ وہی خوارج ہیں جنہوں نے سرگودھا میں محفل سماع پر حملہ کر کے آئی ایس آئی کے بریگیڈیر ظہور فضل قادری اور ان کے بھائی کو شہید کیا تھا، یہ وہی تکفیری دہشت گرد ہیں جنہوں نے شرک، بدعت اور قبر پرستی کے جھوٹے الزام لگا کر داتا دربار، عبد الله شاہ غازی اور بری امام پر خون کی ہولی کھیلی، یہ سعودی وہابی خوارج کے وہی پالتو دیوبندی خوارج ہیں جہنوں نے لاہور میں ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو شہید کیا

کون نہیں جانتا کہ کراچی میں اورنگزیب فاروقی، مفتی نعیم اور رعایت الله فاروقی، لاہور میں شمس الدین امجد، جھنگ میں احمد لدھیانوی، اسلام آباد میں مولوی عبد العزیز، کوئٹہ میں رمضان مینگل، پشاور میں ابراہیم قاسمی اوران کے دیگر معاونین بشمول فیض اللہ خان اور عامر ہاشم خاکوانی وغیرہ منظم طریقے سے اہلسنت بریلوی اور دیگر مظلوم پاکستانیوں کے خلاف دیوبندی اور وہابی نفرت انگیزی اور فرقہ واریت میں مصروف ہیں

یہ قتل بارودی خوارج کے ہاتھوں آقا کریم صلی الله علیہ والہ وسلم کے عشاق کے قتل کا تسلسل ہے، یہ دیوبندی اقلیت کے ہاتھوں اہلسنت بریلوی اکثریت کا قتل ہے، اس کے علاوہ یہ قتل ثقافت کا ہوا ہے ، ایک ایسی صنف یعنی قوالی اور سماع کو قتل کرنے کی کوشش ہے جو پہلے ہی وہابیت اور دیوبندیت کی یلغار کے آگے دم توڑتی نظر آرہی ہے اور اس صنف میں نامور فنکار ہمارے پاس پہلے ہی نایاب ہوتے جاتے ہیں اور تکفیری فسطائیت نے ایک ایسی ہی آواز کو آج خاموش کردیا

ہمارے پاس شرمندگی سے دوچار ہونے اور عالمی سطح پہ ہمارے ہاں رونما ہونے والے بدنما واقعات پہ سر کو جهکادینے والے واقعات کی کمی تو پہلے بهی نہیں تهی مگر یہ ایک اور واقعہ ہمیں مزید زلیل اور مزید شرمندہ کرنے کا باعث بن گیا ہے

فہرست لمبی ہوتی جارہی ہے، ڈاکٹرز، انجئنیرز ،سکالرز ، آرٹسٹ ، قوال ، مصور ، بین القوامی شہرت کے حامل کهلاڑی ، بڑے قد کے حامل سیاستدان ، مذهبی سکالرز ، دانشور ، ادیب، استاد ، پروفیسرز، مقرر ، انسانی حقوق کے رضاکار، خواتین ، بچے ، اقلیتیں کوئی بهی نہیں بچا، سب تکفیری دیوبندی فاشزم کی بهینٹ چڑه گئے ہیں

کراچی کی ایک گلی تک قوالی پہلے ہی سکڑ سی گئی ہے اور ہمارے ہاں قوالی کا گلہ گهونٹنے میں سعودی عرب سے درآمد کیا گیا وهابی اسلام کافی مددگار ثابت ہوا ہے اور دیوبند سے نکلنے والی ایک اقلیتی شہری تکفیری خارجی لابی تو بارود اور گولی سے محافل سماع، عرس ، عاشور و مجالس ، کرسمس ، بیساکهی ، دیوالی ، ہولی جیسی ثقافتی تقریبات کا خاتمہ کرنے میں مصروف ہے

امجد صابری کو بهی خاموش کردیا گیا، اس کا قصور کیا تها؟ فقط یہ کہ اس کی آواز کا جادو سرچڑه کر بولتا تها اور اس کے ہاں جو مدح نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اہل بیت اطہار رضی الله عنہم کی جاندار روایت تهی اس کی جڑیں عوام میں پهیلتی دیکه کر ہمارے شہری دیوبندی اقلیتی حلقے کے ہوش اڑے جاتے تهے اور وہ تو اس روائت کا خاتمہ شرک و بدعت قرار دیکر ختم کرنا چاہتے تهے

آج کا دن پهر کئی ان سیاہ ترین دنوں میں سے ایک دن ہے جن کی سیاہی ہمارے معاشرے کے چہرے پہ اسقدر مل دی گئی ہے کہ اب بار بار دهونے سے بهی یہ کالک مٹنے کا نام نہیں لے رہی،مظلوم کا قبیلہ متحد نہیں ہے اور اس کیمپ کے لوگ اپنے اپنے لاشوں اور اپنے اپنے زخموں کو ہی بڑا بناکے دکهانے میں مصروف ہیں ، قتل ہونے والے قتل ہوجاتے ہیں اور ان مقتولوں کے جملہ حقوق اپنے نام ہونے کے دعوے داروں کے درمیان جوتیوں میں دال بٹتی ہے ، ایک گروہ کہتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ مظلوم اور دوسرا کہتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ مظلوم ، تیسرا کہتا ہے کہ بس اس کا دکه ہی دکه ہے اور کسی کا نہیں- کسی کو خیال نہیں کہ اہلسنت بریلوی، اہل تشیع، مسیحی، اور دیگر برادریوں اور اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے جوانوں کو قتل کرنے والا گروہ ایک ہی ہے یعنی دیوبندی خوارج – تمام مظلوموں کو چاہیے کہ دیوبندی خوارج اور ان کی پشت پناہ جماعتوں کے خلاف اکٹھے ہو جائیں