انسانیت کی بات تو اتنی ہے “شیخ جی ” غلطی سے آپ بهی انسان بن گئے – عامر حسینی

13445380_10209970834815833_5026020578710580457_n 13509147_10209970833935811_9179490339078205356_n 13516484_10209970834415823_7797684018863006314_n 13516594_10209970833335796_2404014684349139329_n 13524379_10209970835335846_442035232266480219_n

موصوفہ کا نام ہے “سیدہ قدسیہ مشہدی ” اور اگر آپ ان کا فیس بک پیج وزٹ کریں تو اس پہ اقبال کا یہ شعر ملے گا

خیرہ نہ کرسکا مجهے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے مری آنکه کا خاک مدینہ و نجف

اب زرا ان کی گفتگو کے سکرین شارٹ بهی دیکه لیجیے، ان موصوفہ کو نجانے کون سا جلوہ دانش فرنگ تها جو خیرہ نہ کرسکا اور نجانے وہ کون سی معنوی خاک ہے جسے انہوں نے اپنی آنکه کا سرمہ بنایا ہوا کہ اس کے بعد سے ان کی انسانیت کہیں گهاس چرنے چلی گئی ہے ، اور باطن کا اندها پن ہے کہ مٹنے کا نام نہیں لے رہا ، لیٹ اس بلڈ پاکستان کو انہوں نے کہا کہ اگر آپ شیعہ کے ساته “قادیانیوں” ( احمدیوں ) کا زکر کریں گے تو اس سے شیعہ نسل کشی کے خلاف کوئی مدد نہیں ملے گی ، ان موصوفہ نے یہ بهی سوال کرڈالا کہ ہندو اس ملک کی سب سے زیادہ مظلوم و محکوم مذهبی کمیونٹی کیسے ہیں ؟ ان کی گفتگو سے لگتا ہے کہ پاکستان میں صرف اور صرف شیعہ پراسیکوشن پہ بات کی جائے یا زیادہ کیا تو بریلوی پہ آواز اٹهالی جائے لیکن ان کے ساته اگر احمدی ، ہندو ، مسیحی کا نام بهی لگایا تو یہ شیعہ کمیونٹی کے ساته زیادتی ہوگی-

وجے کمار کی عمر سولہ سال ، زات کا وہ کوہلی ( ہندو میں دلت جاتی ) اور میٹرک کا طالب علم ، اپنے باپ ، ماں اور دیگر کے ساته کهیت میں کام کررہا تها جب اس کے پڑوس میں بلوچ قبیلے چانڈیو سے تعلق رکهنے والے ایک شخص نے اس پہ چهریوں سے حملہ کیا اور اس موقعہ پہ اس گاوں کا وڈیرہ سومرا بهی ساته تها ، زخموں کی تاب نہ لاکر وجے کمار کوہلی ہلاک ہوگیا ، اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ وجے کمار کا چانڈیو قبیلے کی لڑکی سے عشق اس قتل کا سبب بنا-سنده ، سرائیکی وسیب ، بلوچستان کے اندر ہندو ، کرسچن ، احمدیوں کی لڑکیوں کو مسلمان بنانے ، ان کو اپنے عقد مسنونہ میں لانے کا جنون ہے بلکہ یہ وبا کی طرح ہے- ان کے لیے امداد ( سب ادارے نہیں ) بهی تبلیغ اور تبدیلی مذهب کی پیشکش کے ساته آتی ہے-شیعہ لڑکیوں کو بهی “مسلمان ” کرنے کا جنون آہستہ آہستہ پروان چڑه رہا ہے-

ہم سچ چهپانا چاہتے ہیں- سیدہ قدسیہ مشہدی جیسے ایک نہیں سینکڑوں شیعہ ایسے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کی ٹارگٹ کلنگ اور احمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ میں فرق کیا جائے-وہ یہ بهی چاہتے ہیں کہ جہاں ان کی نسل کشی کا زکر ہو تو بهولے سے بهی “بلوچ نسل کشی ” کا زکر نہ آنے پائے-ان کا مطالبہ یہ بهی ہے کہ ہندو ، احمدی ، کرسچن کا نام متاثرین دہشت گردی و انتہاپسندی میں شیعہ کے ساته ساته نہ رکها جائے- کیوں؟ سیدہ قدسیہ مشہدی ہمیں بتاتی ہیں کہ “قادیانی غیر مسلم اقلیت ” ہیں جبکہ شیعہ مسلم —— دیکها آپ نے “کافر ، کافر شیعہ کافر ، جو نہ مانے وہ بهی کافر ” اور ” شیعہ ارض اللہ کی نجس ترین قوم ہے ” کے شور میں وہ کس خوش فہمی کا شکار ہیں-بهئی اس ملک میں جو احمدیوں ، ہندوں ، مسیحیوں کی مذهبی پرسیکوشن کررہے ہیں وہ اس کیٹیگری سے “شیعہ ” کو وسط الگ نہیں کرتے ، یہاں تک کہ وہ سنی بریلوی عوام کو بهی الگ نہیں کرتے جن کے مولوی احمدیوں ، مسیحیوں اور ہندوں کے باب میں اتنے ہی غیرانسانی ہیں جتنے دیوبندی مولوی شیعہ کے باب میں( لیکن استثنی موجود ہے )-ان کی انسانیت بهی کہیں گم ہوجاتی ہے-

یہاں پہ سوال یہ بهی جنم لیتا ہے کہ کیا کسی کے بنیادی انسانی حقوق اس کے مذهب سے متعین ہوتے ہیں ہیں اور کیا مظلوموں پہ ہونے والے ظلم کے ایک جیسے ہونے کے باوجود ہر دو مظلوموں کو الگ الگ درجے میں رکها جائے گا ؟
سیدہ قدسیہ مشہدی کی گفتگو سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ ایسے ہزاروں لوگ پاکستان میں موجود ہیں جو ان سوالات کا جواب “ہاں ” میں دیتے ہیں-

یوٹیوب پہ “سچ ٹی وی ” کے پروگرام میں مشہدی صاحبہ ” بی بی زینب رضی اللہ عنها ” کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کررہی ہیں-لیکن زرا دیکهیے کہ کیسے مظلوموں کی تقسیم پہ وہ مصر ہیں- حسینی برہمن یاد نہیں ان کو ؟ یہ کربلاء میں جلوس لیکر آنے والے حسینی برہمن ، کرسچن ، یہودی ، یزیدی کی تصاویر کیوں شئیر کی جاتی ہیں اگر ان کے ساته نام آنا اتنا ہی خطرناک ہے تو؟

کسی کے مسلم ہونے نہ ہونے ، اس کے عقیدے کے بارے میں اپنا خیال قائم کرنا حق ہے ہر انسان کا لیکن اس بنا پہ اس کے بنیادی انسانی حقوق چهین لینا بلکہ اس کے جینےکا حق چهین لینا فسطائیت ، وحشیانہ اقدام اور انسانیت کے خلاف جرم ہے-اور جو مظلوم ہوکر دوسرے مظلوم کے عقیدے کی بنیاد پہ اس کے ساته کهڑا ہونے سے کترائے تو اس کے پاگل ، مجنون اور عقل سے پیدل ہونے میں شک نہیں ہے-

شان تاثیر ، علی عباس تاج اور ہاں یاد آیا اپنے “شہید سید خرم زکی ” ، جبران ناصر، عمار کاظمی وغیرہ اور ایسے ہی ان کے بلاگ ، ویب پیجز یہ شیعہ مظلوموں کی مشکلات میں اضافہ کا سبب نہیں ہیں بلکہ ان کی مشکلات میں اضافہ وہ لوگ کرتے ہیں جن کو “احمدیوں ” سے یک جہتی کرنا اور ان کی ٹارگٹ کلنگ کی مذمت شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے ساته کرنے پہ “ملائیت و فتوی بازی ” کی الٹیاں لگ جاتی ہیں اور انسانیت کہیں ہزار پردوں میں گم ہوجاتی ہے-

ویسے آج کی جمہوری دانش افرنگ تو یہ کہتی ہے کہ آپ کسی بهی عقیدے سے تعلق رکهتے ہوں ، آپ کا

صنفی رجحان-Sexual orientation کوئی بهی ہو
آپ کا رنگ کیسا ہی کالا اب، سفید ، براون جو بهی ہو ، آپ کی زات پات کچه بهی ہو بنیادی انسانی حقوق سے آپ کو محروم نہیں کیا جاسکتا-اس دانش کو کیسے رد کیا جاسکتا ہے- اور اس سے کیسے فرار اس دور می ممکن ہے؟ آپ کو جان سے مارنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*