اشفاق احمد و دیگر پر تنقید کی آڑ میں تصوف پر علی اکبر ناطق کی تنقید – عامر حسینی

20150408_121257-720x350

اشفاق احمد ، بانو قدسیہ ، ممتاز مفتی اور ان کی نت نئی اشکال عمیرہ احمد اینڈ کمپنی کے بارے میں ترقی پسندوں کے مقدمے کی مٹی کبهی ایسے پلید نہیں کی گئی ہوگی جیسی “علی اکبر ناطق ” نے کی ہے- میں علی اکبر ناطق کو اچها فکشن نگار اور شاعر اس کے باوجود مانتا ہوں کہ جو میدان ان کا تها ہی نہیں اس میں قدم رکهکر انہوں نے اپنی ‘حماقتوں ‘ کو سب کے سامنے عیاں کردیا ہے-

اشفاق احمد ، بانو قدسیہ ، ممتاز مفتی ، عمیرہ احمد ، نسیم حجازی اینڈ کمپنی پہ ترقی پسندوں کی تنقید اس وجہ سے نہ تهی کہ وہ “تصوف ” سے وابستہ تهے اور نہ ہی ترقی پسندوں نے “تصوف” کو یک رخا اور یک نوعی تسلیم کیا اور اسے انہوں نے صرف “درباری ” رنگ میں نہیں دیکها اور یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی تصوف کی روائت ہو یا مڈل ایسٹ کی یا شمالی افریقہ کی اس میں انہوں نے عوام سے جڑے ، حاکمیت کے خلاف مزاحمت کرنے والی روایتوں کو ڈهونڈ ڈهونڈ کر نکالا اور مجهے سجاد ظہیر کی ظ-انصاری کی حافظ پہ لکهی ہوئی تنقید کے جواب میں “تذکرہ حافظ ” یاد آرہی ہے اور علی سردار جعفری کی “کبیر بانی ” کی یاد آرہی ہے ، سبط حسن کے شاہ لطیف بهٹائی اور شاہ عنایت ٹهٹوی پہ لکهے مقالے یاد آرہے ہیں اور منصور حلاج سے لیکر بلهے شاہ ، شاہ حسین ، وارث شاہ ، میاں میر سمیت ہزاروں نام ایسے ہیں جن کی شاعری اور ان کے استعمال کیے ہوئے استعارے آج تک مظلوموں ، پسے ہوئے و محکوموں کو لڑنے کا حوصلہ دیتے ہیں اور تصوف ہو یا بهگتی تحریک ہو اسے براہ راست مذهبی پیشوائیت ، ملائیت کے مقابل ایک زندہ روائت کی شکل میں ترقی پسندوں نے دریافت کیا اور ظاہریت پسندی کے خلاف ایک احتجاج کے طور پہ متعارف کرایا- بهلا عثمان مروندی لعل شہباز قلندر ، سچل سرمست ، عبداللہ شاہ غازی کو کون “درباری ” کہہ سکتا ہے اور پهر یہ صوفی ، قلندر ، ملامتیہ ہی تهے جنهوں نے دربار سے انحراف کا راستہ سجهایا اور بہاءالدین زکریا ملتانی کی خانقاہ کے ساته متصل مندر تها اور صلح کل کا درس دیا جارہا تها اس زمانے میں جب ملا دربار میں کہیں شیعہ -سنی فساد ڈالے ہوئے تها اور پیورٹن ازم کی مہم چلائے ہوئے تها-برصغیر میں بهگتی اور تصوف کی روائت نے تو یہ بهی کیا کہ کئی حملہ آوروں کے گرد ایسی اسطور کو تعمیر کیا کہ وہ بالکل ہی بدل گئے-غازی مسعود سالار کا مزار آج ہندو، مسکمان ، سکه ، کرسچن سب کے لیے باب حاجات بنا ہوا ہے-

اشفاق احمد ، ممتاز مفتی ، بانو قدسیہ اور دیگر کی مذمت ایک تو اس وجہ سے ہوئی کہ ان کے ہاں تصوف جعلی اور ڈهونگ تها ، دوسری مذمت کا سبب یہ تها کہ انہوں نے ہر حاکم کے چلن کو دیکه کر اپنا بهیس بدل ڈالا اور وہ ہمیشہ سٹیٹس کو کے حامی رہے اور جب لوگ ظلم و جبر اور ستم کی چکی میں پس رہے تهے تو وہ حکمرانوں کی قربتوں سے فیض یاب ہورہے تهے اور انہوں نے مڈل و لوئر مڈل کلاس کے اندر اپنے Passive Discourse کو پروان چڑهایا اور یہ ڈسکورس حکمران طبقات کو بهی اپنے فائدے کی چیز لگا تو انهوں نے اس کو آگے لیجانے میں مدد فراہم کی-

لیکن اشفاق احمد ، ممتاز مفتی ، بانو قدسیہ کو ادیب نہ تسلیم کرنا ، ان کی ادبی قدر و قیمت سے انکار کرنا ایک بڑی حماقت سے کم نہیں ہے-ایسی ہی حماقت جیسے کوئی علی اکبر ناطق کی تنقید کے باب میں کی گئی حماقتوں کو دیکه کر ، سنکر یا پڑه کر ان کے افسانہ نگار اور شاعر ہونے سے انکاری ہوجائے

ویسے وہ شمس الرحمان فاروقی کا نام بہت ادب سے لے رہے تهے جبکہ شمس الرحمان فاروقی اپنے وسیع مطالعے اور ادیبانہ و ناقدانہ وصف کے باوجود جاگیردارانہ سٹیٹس کو ، ادب میں دائیں بازو کی روائت کو برقرار رکهنے والے ادیب ہیں اور یہاں تک کہ وہ گیان چند کے معاملے میں مسلم شاونزم کا شکار بهی نظر آئے اور ان پہ ساجد رشید نے جو اداریہ لکه کر تنقید کی تهی اس کو پڑهنے کے بعد جس بنیاد پہ اشفاق احمد وغیرہ رد کیے گئے ،اسی بنیاد پہ شمس الرحمان فاروقی رد کیے جانے کے قابل بنتے ہیں

علی اکبر ناطق آصف فرخی ، مبین رشید وغیرہ کے ساته بہت نیازمندانہ تعلق رکهتے ہیں ان کی تعریف بهی کرتے رہتے ہیں اور ملتان کے کچه درباری و سرکاری ادیبوں سے بهی ان کے تعلقات بہت اچهے ہیں ، ان کے “گنگا گئے تو گنگاداس ، پنڈی گئے تو پنڈی داس ” والے کردار پہ ایک لفظ بهی نہ بولے تو سٹیٹس کو کے ایک پرانے طبقے کی مذمت اور زندہ حامیان سٹیٹس کو کے باب میں خاموشی کچه اچهی نہیں لگتی ، ویسے جیسے سیف اللہ خالد نے “شہاب بے نقاب ” لکهی ایسے ہی “وزیر آغا ” کے بارے میں پروفیسر وارث علوی مرحوم کا مضمون “خندہ ہائے بے جا ” میں پڑهنے سے تعلق رکهتا ہے-لیکن علی اکبر ناطق کی زبان پہ اس مضمون کا حوالہ نہ آیا اور “وزیر آغا ” کو انہوں نے ادیب مان لیا ، ایسے احمد ندیم قاسمی بهی بڑے ادیب تهے لیکن ” ہمسفر ضیاع الحق ” بهی تهے اور دونوں یعنی آغا جی اورقاسمی کے درمیان “ڈپٹی کمشنروں ” کو قابو کرنے کی دوڑ لگی ہوئی تهی-

ادبیت حلقہ ارباب زوق والوں میں بهی تهی اور ترقی پسندوں میں بهی اور جدیدیت و مابعد جدیدیت والوں میں بهی تهی ،اصل ایشو یہ ہے کہ معرکہ ظالم و مظلوم ، استحصال کنندگان و استحصال زدگان کے باب میں ان کا موقف کیا رہا؟ اور وہ آزمائش کے وقت کہاں کهڑے تهے-کون اورنگ زیب کے ساته تها؟ اور کون دار شکوہ کے ساته؟ کون دربار میں جا گهسا اور کون سردار چڑه گیا؟ تو یقینی بات ہے کہ سرمد و دارشکوہ ، میاں میر کو دربار عالمگیری میں کهڑے مولویوں ، فلسفیوں اور نام نہاد صوفیوں کے برابر کهڑا نہیں کیا جاسکتا- آپ حلاج کو قاضی حامد کے برابر نہیں ٹهہرا سکتے-

افسوسناک بات یہ ہے کہ علی اکبر ناطق نے نام لیے بغیر خواجہ غریب نواز پہ یہ الزام لگایا کہ انهوں نے نوے لاکه لوگوں کو اپنے گرد اکٹها کررکها تها جن کو وہ بے عملی اور بزدلی کا سبق پڑهارہے تهے- انهوں نے صبر ، تحمل ، برداشت ، قناعت جیسی اقدار کو منفی معانی پہنائے-جبکہ خواجہ غریب نواز کا سلسلہ چشت تو ملائیت کے خلاف سب سے بڑی مزاحمت بنکر سامنے آیا اور یہ غریب نواز اور ان کے خلفاء تهے جنهوں نے خانقاہ میں ہندو ، مسلمان سب کو اکٹها کردیا تها اور مولوی کیوں “سماع ” کا دشمن بنا ، خانقاہ سے اسے نفرت کیسے ہوئی ؟ یہ سب سوال یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ تصوف کی سب سے جاندار اور توانا روائت مزاحمتی تهی جو لوگوں کو عقیدے کی بنیاد پہ تقسیم کرنے والوں کے خلاف اٹه کهڑی ہوئی تهی- ہند اسلامی تہذیب میں جسے گونا گوں ، کثرت ، تکثیریت ، تنوع ، بقائے باہمی کہا جاتا ہے اس میں سے اگر تصوف ، بهگتی ازم نکل جائے تو کچه بهی باقی نہیں رہتا

مرے نزدیک انتہائی غیرمتوازن گفتگو کی علی اکبر ناطق نے اور انهوں نے تصوف کے اندر موجود ہیومنسٹ روائت کو سرے سے نظرانداز کرڈالا اور ایک گروہ کے بہروپ اور ڈرامے بازی کو انهوں نے پورے تصوف پہ منطبق کرڈالا،جس سے مقدمہ بجائے ٹهیک ہونے کے اور بگڑ گیا

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*