Original Articles Urdu Articles

علامہ راجہ ناصر عباس کی شیعہ نسل کشی کیخلاف بھوک ہڑتال، شفقنا اردو کی شفیق احمد طوری سے خصوصی گفتگو

شفقنا-اردو

پاکستان میں جاری شیعہ نسل کشی پر علامہ راجہ ناصر عباس نے اسلام آباد میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر احتجاج شروع کیا ہے جو اب تیسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے، اس سلسلے میں شفقنا اردو نے انسانی حقوق کے کارکن اور پاراچنار کرم ایجنسی کے معروف سماجی شخصیت جناب شفیق احمد طوری صاحب سے خصوصی نشست کا اہتمام کیا ہے، طوری صاحب عالم اسلام، مشرق وسطی اور پاکستان کے سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ آئیے طوری صاحب سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔

 

شفقنا اردو: طوری صاحب پاکستان میں جاری شیعہ کلنگ اور علامہ راجہ ناصر عباس کی بھوک ہڑتال کے حوالے سے کیا کہیں‌ گے؟

 

شفیق احمد طوری: شکریہ جناب آپ نے خیالات عوام تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔ پاکستان میں ایک منظم منصوبہ بندی کے کافی عرصہ سے تحت شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو قتل کیا جا رہا ہے لیکن انقلابِ افغانستان اور انقلاب ایران کے بعد اس میں تیزی آئی ہے اور شیعہ نسل کشی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ افغانستان، عراق، شام، یمن اور نایئجیریا میں بھی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو مختلف انداز میں نشانہ بنا کر قتل عام کیا جا رہا ہے اور مذکورہ ممالک میں مسلح گروہ، اسٹیبلشمنٹ اور حکومتیں شیعہ مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام میں ملوث رہے ہیں۔ نائجیریا کے شیخ زکزکی کو خاندان اور رفقاء سمیت فوج نے ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بناتے ہوئے نشانہ بنایا جس میں شیخ زکزکی کے بچے اور بیوی سمیت سینکڑوں لوگ شہید ہوئے اور شام، عراق، یمن کی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں۔

پاکستان کی طرف آتے ہوئے میں کہوں گا کہ پاکستان میں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت شیعہ مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ پاکستان کو دیوبندی اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو عالمی سامراج کے ساتھ عالمی تکفیری ریاستوں کے گٹھ جوڑ کا بہت پُرانا منصوبہ ہے اور ضیاءالحق نے اسے عروج پر پہنچایا جب ملکِ خداد پاکستان میں ہزاروں تکفیری مدرسے قائم کیئے گئے۔ پہلے جہاد کشمیر اور بعد میں افغانستان جہاد کے نام پر تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کی فیکٹریاں قائم کی گئیں جنہوں نے کشمیر اور افغانستان تو آزاد نہیں کرائے لیکن پاکستان میں اسی ہزار معصوم لوگ قتل کرکے پاکستان کی کمر ضرور توڑ دی۔ چونکہ یہ یہ سارے دہشتگرد ایک ہی نصاب پڑھتے ہیں اور ان کو پڑھایا جاتا ہے کہ شیعہ کافر ہیں اور واجب القتل ہیں اس لئے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ان کے خاص نشانے پر ہوتے ہیں یہ ایک طویل داستان ہے اور ابھی تازہ واقعات ہی لے لیں کالعدم تنظیموں لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور اہل سنت والجماعت سمیت درجنوں تکفیری دیوبندی دہشتگرد تنظیموں نے پوری پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کرکے قتل کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور پاراچنار میں پُرامن مظاہرین پر ریاستی دہشتگردی، پشاور میں اساتذہ، کوئٹہ میں بزنس کمیونٹی، لاھور، گلگت بلتستان اور کراچی سمیت پورے پاکستان میں شیعہ اساتذہ، ڈاکٹرز، پروفیسرز سمیت زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں شخصیات کو چن چن کر قتل کیا رہا ہے تو اس صورت حال میں مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس کا بھوک ہڑتال اور احتجاج نہایت اہمیت کا حامل ہے اور پاکستان میں شیعہ مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کیلئے بھی پرامن جدوجہد کا پلیٹ فارم مہیا کیا گیا ہے جس میں مختلف مذہبی، مسلکی اور سیاسی پارٹیوں سمیت اقلیتوں نے بھی بھرپور شرکت کرکے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔

 

شفقنا اُردو: علامہ راجہ ناصر عباس کی بھوک ہڑتال کو دو ہفتے سے زیادہ ہو گئے ہیں، آپ کے خیال میں اس اقدام سے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟

 

شفیق حسین طوری: علامہ راجہ ناصر عباس کی شیعہ نسل کشی کیخلاف بھوک ہڑتال ایک کامیاب ترین اور مؤثر ترین ہڑتال ہے جو اب ایک تحریک کی صورت اختیار کر گیا ہے بیرونی ممالک امریکہ، برطانیہ، بیلجئم، ایران سمیت پاکستان میں کراچی سے لے کر پاراچنار اور گلگت بلتستان تک نہ صرف عام لوگوں میں شعور بیدار ہوا ہے بلکہ سراپا احتجاج ہیں اور شہر، شہر احتجاجی جلوسوں اور جلسوں کا انعقاد کرکے دہشتگردی کے خلاف اور شیعہ نسل کشی کے روک تھام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

 

شفقنا اُردو: پاکستان میں جاری شیعہ نسل کشی پر ایک عام شیعہ کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

شفیق حسین طوری: جناب عالی! یہ جنگ صرف ناصر عباس اور مجلس وحدت مسلمین کا نہیں، صرف ناصر عباس اور مجلس وحدت مسلمین والے قتل نہیں ہو رہے بلکہ شیعہ قتل ہو رہے ہیں تو پہلے تو پاکستان کے ہر ذی شعور بندے کو خواہ ان کا کسی مکتبہِ فکر سے تعلق ہو اور انسانی حقوق کے تنظیموں کو ناصر عباس کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرکے احتجاج میں شامل ہونا چاہئیے اور شیعوں کی تو بہت بھاری ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جہاں بھی موجود ہیں وہاں احتجاج میں شامل ہوں اور اگر احتجاج وہاں نہیں ہو رہا تو وہاں ذمہ دار بن کر احتجاجی جلسے، جلوس، سیمینار اور والکس کا اہتمام کریں۔

 

شفقنا اُردو: پاکستان کے مختلف علاقوں‌ میں‌ اظہار یکجہتی کے لیے علامتی بھوک ہڑتالوں‌ کا سلسلہ بھی جاری ہے، ان تمام کاوشوں کا انجام کیا دیکھ رہے ہیں؟

 

شفیق حسین طوری: جی بالکل پاکستان کے مختلف علاقوں‌ میں‌ اظہار یکجہتی کے لیے علامتی بھوک ہڑتالوں‌ کا سلسلہ جاری ہے، ان تمام کاوشوں کا انجام ان شااللہ اچھا ہوگا۔ پاکستان غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا، حکومت کو مجلس وحدت مسلمین اور علامہ راجہ ناصر عباس کے ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل تیار کرنا پڑے گا جس طرح عمران خان اور خیبر پختونخواہ حکومت نے بیٹھ کر لائحہ عمل تیار کرنے کی حامی بھر لی ہے اور اس سلسلے میں اجلاس بھی منعقد ہوئے ہیں۔

 

شفقنا اُردو: بیرون ملک آباد پاکستانیوں کے لیے آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

 

شفیق حسین طوری: یہ بہت اہم سوال ہے اور اہم اس لیئے کہ بیرونی ممالک میں آباد لوگ ان مسائل سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں سوشل میڈیا نے ساری دوریاں مٹائی ہیں اور سیٹلائٹ چینلز نے دنیا کو ریموٹ کنٹرول بٹن میں سمٹ دیا ہے تو بیرون ملک آباد پاکستانیوں کے لیے میرا پیغام ہے کہ بیرونی مماملک میں موجود پاکستانی سفارتخانوں کے سامنے احتجاج منعقد کرکے مجلس وحدت مسلمین اور راجہ ناصر عباس کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سفارتی مشنوں کو یادداشت پیش کریں کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی ہو رہی ہے۔ مختلف بین القوامی فورمز پر آواز بلند کریں۔ چونکہ آج کل سوشل میڈیا خبروں اور تبصروں پر بہت زیادہ اثر انداز ہو رہا ہے اسلئے سوشل میڈیا پر منظم کمپین چلائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پیغام پہنچائیں۔

 

شفقنا اُردو چیف ایڈیٹر توقیر عباس : آپ کا بہت بہت شکریہ طوری صاحب آپ نے ہمیں وقت دیا اور ان شااللہ آپ سے مزید نشست ہوتی رہیں گی۔

 

شفیق حسین طوری: ان شااللہ آپ کا بھی بہت بہت شکریہ۔

Source:

http://urdu.shafaqna.com/UR/19837