Original Articles Urdu Articles

پہلے کوئی تمثال ڈهونڈ کے لاوں تیرا – عامر حسینی

tft-14-p-1-f-600x400-1

نوٹ: ڈاکٹر حنا زکی غم اور دکه کی اس گهڑی میں اپنے غم اور دکه کو طاقت بناکر پیش کررہی ہیں اور ان کی اس ہمت سے شہیدوں کی مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں ، بیوائیں بهی ہمت اور حوصلہ پکڑ رہی ہیں ، یہ خرم زکی کی ڈائری کا 26 مارچ 2016ء کو لکها گیا ورق ہے جو انہوں نے اپنی سالگرہ کی رات کو شاید اس وقت لکها ہوگا جب انهیں دن بهر کی مشقت سے زرا دیر آرام نصیب ہوا ہوگا ، یہ ڈائری انہوں نے اسلام آباد اس وقت لکهی جب وہ اسلام آباد میں مولوی عبدالعزیز کے خلاف کاروائی کے لیے پولیس اسٹیشن سے لیکر عدالت تک کے دروازے کهٹکها چکے تهے ،

اگلے روز یعنی 27 مارچ کو اسلام آباد هائیکورٹ میں ان کی پیشی تهی جہاں پہ ان کے ساته وہی سلوک ہوا جو سیشن کورٹ میں ہوا تها اور وہاں پہ بدقسمتی سے اس کے دائر کردہ کیس کی سماعت بهی ایک ایسے جج کے پاس تهی جو کہ جماعت اسلامی کا کارکن رہا تها بلکہ اس کے تکفیری خیالات سے اسلام آباد کی کورٹ اور کہچری کے وکلاء اچهی طرح واقف تهے ، ڈائری کا یہ ورق ایک مرتبہ پهر کئی ایک باتوں کو بہت واضح کردیتا ہے ، خرم زکی کے حوالے سے ‘کچه یادیں ، کچه باتیں ‘ کے عنوان سے جو مضمون میں نے لکها تها اس میں بتایا تها کہ خرم زکی کی فکر اور ان کے ایکٹو ازم کا جو بنیادی هدف تها وہ ‘تکفیریت ‘ تهی نہ کہ انہوں نے ریاست کے کسی ادارے کو اپنا ہدف قرار دیا تها –

ہم مارکسسٹوں کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم ریاست کو طبقاتی جبر کا ایک ادارہ خیال کرتے ہیں جوکہ بالادست طبقات اور ظالم حکمران گروہ کی بالادستی اور ظلم کا دفاع کرتا ہے اور ہم اس کی طبقاتی تجزیہ و تحلیل پہ زور دیتے ہیں ، ساته ساته ہم فوج ہو یا ریاستی مشنیری کے دیگر کل پرزے ان کو نہ تو کوئی سماجی طبقہ سمجهتے ہیں اور نہ ہی انهیں طبقات سے ماوراء الگ سے آزاد ادارے خیال کرتے ہیں ، یقینی بات ہے کہ ایک مارکسسٹ جب بهی سرمایہ دارانہ ریاست پہ کوئی بات کرے گا تو وہ اسے طبقاتی سائنس کے آئینے میں دیکهے گا اور سرمایہ دارانہ ریاست کی جگہ وہ مزدوروں کی آمریت پہ مبنی ورکرز سٹیٹ کے قیام کی بات کرے گا اور اسے یہی طرز فکر دائیں بازو کے رجعت پسندوں ، یوٹوپئین سوشلسٹوں ، دائیں بازو کے لبرلز سے جدا کرے گا ،

خرم زکی بهائی مرے نزدیک بائیں بازو کے یوٹوپئین اسلامسٹ تهے جن کے ہاں سیکولر اقدار اسلامی فکر و آئیڈیالوجی سے متصادم نہیں تهیں اور ان کے اندر اگر لیفٹ ازم تها بهی تو وہ سنٹر لیفٹ ازم تها یا جسے لبرل لیفٹ کہا جاسکتا ہے اگرچہ عین وہ نہیں جس کی عکاسی یہ اصطلاح کرتی ہے تو ان کی اس ڈائری کے ورق میں ہم دیکه سکتے ہیں کہ وہ ایک طرف تو مکمل طور پہ ضرب عضب آپریشن کے حامی دکهائی دے رہے ہیں تو دوسری طرف وہ ایجنسیز کے متعلق مولوی عبدالعزیز کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیز کے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تعریف بهی کررہے ہیں اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے لبرلز کا جونکتہ نظر ہے اس سے خرم زکی سہمت نہیں تهے اور ڈائری کا یہ ورق بهی ثابت کرتا ہے کہ خرم زکی کن سے لڑ رہے تهے ،ایسے میں سید خرم زکی کو ‘حامد میر ‘ یا ‘سلیم شہزاد ‘ بنانے کی کوشش نہ کی جائے تو بہتر ہوگا

آج ہی مری نظر سے کسی ‘افشاں مصعب ‘ کا ایک مضمون خرم زکی پہ گزرا جس میں موصوفہ نے خرم زکی کے نام پہ خرم زکی مذمت کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کی وجہ خرم زکی کی پاکستان کے کئی ایک نامور لبرلز کے خیالات و افکار پہ تنقید اور ان کے خیالات کا تکفیریوں سے خیالات سے موازانہ ہے

میں نے آج سے پانچ سال پہلے لکها تها کہ ‘تکفیری فاشزم ‘ پاکستان کے ریاستی اداروں ، پاکستان کی سول سوسائٹی کے سیکشنز ، لبرل سیاسی جماعتوں ، صحافت کے ایوانوں ، مدارس کے ایک حصے میں ، ہماری یونیورسٹیوں ، کالجوں ، اسکولوں ، ہماری گلیوں ، محلوں ، دیہاتوں ، بازاروں کے اندر سرایت کرگیا ہے اور اس کے خلاف کام کی سبهی جگہوں پہ مشترکہ فرنٹ بناکر لڑنا ہوگا اور یہ فرنٹ اس ملک کے اندر ابهی تک نہیں بن پایا ہے اگرچہ بکهر کر ، الگ الگ ہوکر کام ضرور کیا جارہا ہے

سید خرم زکی پاکستان کی موجودہ ملٹری قیادت کے بارے میں جتنے پرامید تهے اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر سے کچه لوگ ان کے سامنے جو تصویر پیش کررہے تهے اس سے ان کی امید پرستی یا رجائیت اگر اپنے عروج پہ تهی تو اس کا جواز نظر آتا ہے لیکن ان سے پرائیویٹ گفتگو میں ، میں نے اس رجائیت پہ گاہے بہ گاہے شک کا اظہار بهی کیا تها لیکن وہ ازے میری ‘ مارکسی ادا ‘ کہہ کر ہنسی میں اڑا دیا کرتے تهے اور کہتے

‘تم دوده کے جلے ہو ، چهاچه بهی پهونک پهونک کے پیتے ہو ‘
لیکن ایک بار میں نے انهیں تهوڑا سا جل کر کہا تها کہ

‘میں چهاچه کو پهونک نہیں مار رہا ، دوده واقعی گرم ہے مگر لگتا ہے آپ کی زبان برداشت کرتی ہے ‘
پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے درمیان کہیں اختلاف اور کہیں اتفاق کی ملی جلی پالیسی کا چلن ہے ، یہ اگر چین -پاکستان کوریڈور پہ اکٹهے ہیں اور اس راستے میں آنے والی کسی بهی نیشنلسٹ مزاحمت کو کچلنے پہ متفق تو نیشنل ایکشن پلان پہ کئی نکات پر ان کے درمیان سرد جنگ جاری ہے اور علاقائی و بین الاقوامی صورتحال پہ بهی ان کے اختلافات موجود ہیں ایسے میں اگر کہیں کسی جگہ آپ کے کسی موقف کی حمائت یا موافق عسکری هئیت مقتدرہ نظر آئے تو اس سے رجائیت میں مبتلاء ہونا بنتا نہیں ہے خرم زکی کی ڈائری کو چهپنا چاہئیے یہ یقینا ‘تکفیری فاشزم ‘ کے خلاف جدوجہد کو تیز کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوگی
خرم زکی پہ لکهتے لکهتے مجهے عرفان صدیقی کی غزل یاد آگئی جو کل کسی سے بات چیت کرتے مجهے اس کے کسی خیال پہ یاد آگئی تهی ، اس غزل کا پہلا شعر تو خرم زکی کے نام کیے جانا بنتا ہے

عکس کیا آئینہ داروں کو دکھاؤں تیرا
پہلے تمثال کوئی ڈھونڈ کے لاؤں تیرا
کون پاسکتا ہے کھوئی ہوئی خوشبو کا سراغ
کن ہواؤں سے پتا پوچھنے جاؤں تیرا
تو مرے عشق کی دُنیائے زیاں کا سچ ہے
کیوں کسی اور کو افسانہ سناؤں تیرا
پچھلے موسم میں تری خوش بدنی یاد کروں
راکھ کے ڈھیر میں اک پھول کھلاؤں تیرا
تو مجھے کتنے ہی چہروں میں نظر آتا ہے
کوئی پوچھے تو میں کیا نام بتاؤں تیرا

(یہ منقبت خرم زکی کو پسند تهی ، اس لیے اسے ساته ہی اپ لوڈ کررہا ہوں )

شہید خرم زکی کی ڈائری کا ایک ورق

26th March 2016, Islamabad

فون کالز اور پیغامات کا ایک ڈھیر ہے، واٹس ایپ میسجز الگ اور فیس بک کا تو مت پوچھئیے، ایک سلسلہ ہے تمام دوستوں کے محبت بھرے پیغامات کا، دعاؤں کی سوغات، ہر ایک دوست اور محبت کرنے والے نے اپنی محبت کا اظہار دعا کے ذریعے کرنے کی کوشش کی ہے اور کیوں نہ ہو جناب ، یہ دن بھی تو سال میں ایک بار آتا ہے۔ درازی عمر اور صحت و سلامتی کی دعائیں اتنی تعداد میں دیکھ کر یقین ہو چلا ہے کہ اگلے کم از کم ۱۰۰ برس تو میں تکفیری دہشت گردوں سے محفوظ رہوں گا ۔ ہر ایک نے تحفے میں لمبی زندگی کی دعا دے ڈالی ہے، جب کہ میری خواہش تو یہ ہے کہ عمر لمبی ہو نہ ہو با مقصد گزر جائے۔

خیر اس وقت میں اپنی بیگم صاحبہ کی مبارکباد وصول کرنے کے بعد کی جانے والی خواہشات ملاحظہ کر رہا ہوں ۔ جی ہاں حضور ، ایک تو بیگم اور وہ بھی چہیتی ، انہوں نے جناب مجھے جنم دن کی مبارکباد دیتے ہوئے جہاں میرا جی خوش کیا وہیں ایک ضد بھی پکڑ بیٹھی ہیں کہ آئندہ چند دن بعد جب ان کے جنم دن کی مبارک ساعت ہو تو میں ان کی مرضی سے سیلیبریٹ کروں۔ ان کو سمندر کنارے جا کر اپنا جنم دن میرے سنگ یادگار بنانا ہے ، لیکن بیگم صاحبہ ذرا یاد رکھئیے ہمارا تو گڈانی کی حدود میں داخلہ بھی ایک خواب ہے، کیونکہ بلوچستان ایک شورش زدہ علاقہ میں تبدیل ہو چکا ہے اور مین نے جس حساب سے بلوچستان کیلئے لکھ لکھ اپنی رائے کا سوشل میڈیا پر اظہار کیا ہے ، تو ذرا خوش گمانی کم ہی رکھئے گا کہ میں آپ کو گڈانی کے ساحل کی سیر کرواؤں گا۔ میں کراچی پہنچ جاؤں اس مولوی برقعے کی گرفتاری یقینی بنا کر تو دیکھئے کیا طے پاتا ہے آپ کی سالگرہ کا بھی، یقیناً آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔

میری حیثیت تو اب اس مجاہد کی سی ہوچلی ہے جو محاذ پر اپنے گھر، محلے، گلیوں سے دور ہو، جو اہل خانہ اور اہل خانہ اس سے ملنے کیلئے بیتاب ہوں، اور یقین کیجئے اس کیفیت میں پہنچ کر مجھے ان تکیفری طبقہ فکر کے مولویوں اور دہشت گردوں سے مزید نفرت ہوچلی ہے جو اس مولوی عبد العزیز کی مانند ہماری ایجنسیز کے جوانوں کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔ جس کے زیر نگرانی چلنے والے مدرسے سے گھروں سے دور دہشت گردوں کیخلاف آپریشن میں بر سر پیکار جوانوں کی قربانیوں کو ہوا میں اڑا کر دنیا کی بد ترین انسان دشمن تنظیموں کو بیعت کی دعوت دی جاتی ہے۔

مجھے ان سب کو ان کے انجام تک پہنچانا ہے ، چاہے اب اس کیلئے مجھے اپنی قیمتی ترین شے یعنی ’’ زندگی‘‘ قربان کرنا پڑے۔ مجھے امید تو یہی ہے کہ یہ جو مجھ سے اتنا اظہار عقیدت سوشل میڈیا پر فرمایا جاتا ہے اگر میں نہیں بھی رہا تو اس میں سے کچھ افراد بھی میرا مشن لے کر آگے چلے تو سمجھئے میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوا اور میں نے اپنی سوچ منتقل کر دی۔ ارے بھیا میں بھی کیا تنہائی کے عالم میں داستان صد ہزار لکھنے بیٹھ گیا، یہ بہت آگے کی پلاننگ ہے، فی الحال تو اسلام آباد ہائیکورٹ کی آئندہ پیشی پر توجہ مرکوز کرنی ہے