Original Articles Urdu Articles

صبین محمود اور سانحہ صفورا میں ملوث جماعتی تکفیری دہشت گردوں کی سزاے موت –

13173933_10154166890354561_677103380202411084_n

پاکستان آرمی کے چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے دہشت گردی کی مختلف کاروائیوں میں ملوث پانچ دہشت گردوں کی سزاے موت کی توثیق کر دی گیی ہے – یہ دہشت سبین محمود کے قتل ، اسماعیلی کمیونٹی کی بس پر حملہ کرنے میں ملوث تھے جس میں سینتالیس لوگ شہید ہوگے تھے

2009 میں سعد عزیز کی دوستی علی رحمان سے ہوئی جب سعد عزیز نے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں انٹرنشپ شروع کی – علی رحمان عمرہ کرنے کے بعد کافی مذہبی ہو چکا تھا اور خود بھی تبلیغی جماعت کا رکن تھا – ایک سال کی دوستی کے بعد علی رحمان نے سعد عزیز کو حارث سے ملایا جو جماعت اسلامی کے ساتھ ساتھ القاعدہ کا بھی رکن تھا – 2011 میں سعد عزیز اپنے دوستوں کے ہمرا میران شاہ القاعدہ کے کیمپ میں ٹریننگ لینے گیا جہاں اس کی ملاقات القاعدہ رہنما احمد فاروق اور سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے کچھ دہشت گردوں سے ہوئی -چار ماہ کی ٹریننگ کے بعد جب سعد عزیز واپس کراچی آیا تو اس نے جماعت اسلامی اور سپاہ صحابہ کے لوگوں کے ساتھ مل کر ایک جہادی ویب سائٹ کا آغاز کیا جہاں شیعہ اور بریلوی مخالف مواد پوسٹ کیا جاتا تھا –

سعد عزیز کے ماں باپ بھی جماعت اسلامی کے سرگرم رکن ہیں جبکہ طاہر منہاس بھی اسی جماعت کا رکن تھا اور کشمیر میں دہشت گردی کی تربیت لے کر آیا تھا

ڈان رپورٹ: کراچی میں سماجی کارکن سبین محمود اور پینتالیس اسماعیلی شیعہ کے قاتل طاھر منہاس دیوبندی عرف سائیں کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا

یہ گروہ اہلسنت بریلوی، صوفی، شیعہ، مسیحی، احمدی، لبرلز، ملحدین اور دیگر پاکستانیوں کے علاوہ پاک فوج اور پولیس کے افسران کے نام پتے نوٹ کر کے طالبان اور سپاہ صحابہ کے ٹارگٹ کلرز کے حوالے کرتا ہے

روزنامہ ڈان میں مورخہ ١٤ مئی ٢٠١٦ کو امتیاز علی نے سبین محمود کے قاتلوں کی جو رپورٹ لکھی ہے اس میں ان تکفیری دیوبندی دہشت گردوں سے جماعت اسلامی کا تعلق واضح طور پر بیان کیا گیا ہے

 جماعت اسلامی لشکر جھنگوی کے مشترکہ دہشت گرد سیل کی شناخت ہو گئی

اطلا عات کے مطابق گزشتہ چار سال سے جماعت اسلامی پاکستان کے اندر ایک خفیہ گروپ لشکر جھنگوی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے جس میں لاہور سے شمس الدین امجد دیوبندی، کراچی سے اسد واصف، سعد و دیگر کے علاوہ بیرون ملک کے کچھ دیوبندی خوارج بھی شامل ہیں

سماجی کارکن سبین محمود کے قتل میں ملوث سعد عزیز دیوبندی اور طاہر منہاس کا تعلق اسی گروہ سے تھا – سعد عزیز کے ماں باپ جماعت اسلامی کے سرگرم رکن ہیں جبکہ طاہر منہاس بھی اسی جماعت کا رکن تھا اور کشمیر میں دہشت گردی کی تربیت لے کر آیا تھا – حال ہی میں سماجی کارکن خرم زکی کے قتل میں اسی گروہ کے ملوث ہونے کی امکان ظاہر کیا گیا ہے

اس گروہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ جماعت اسلامی کے ساتھ ساتھ لشکر جھنگوی کے لئے بھی کام کرتا ہے – سوشل میڈیا پر یہ گروہ مشعل، وار اگینسٹ لبرلز، جنرل حمید گل، اوریا مقبول جان آفیشل، روشنی لائٹ، اجالا، حق کی آواز، کمینی، تبلیغی بہن ایمن، مولوی روکڑہ، فری بلوچستان فرام انڈین ایجنٹس کے نام سے مختلف پیجز چلاتا ہے

یہ گروہ اہلسنت بریلوی، صوفی، شیعہ، مسیحی، احمدی، لبرلز، ملحدین اور دیگر پاکستانیوں کے علاوہ پاک فوج اور پولیس کے افسران کے نام پتے نوٹ کر کے طالبان اور سپاہ صحابہ کے ٹارگٹ کلرز کے حوالے کرتا ہے