Original Articles Urdu Articles

کربلا – ایک عالمگیر ٹریجڈی – عامر حسینی

11641031486_663f2bf11c_b

کربلاء ایک ایسی ٹریجڈی ہے ، ایک ایسی المناک اسطور –

Myth

ہے کہ جس زمین اور جس خطے میں بهی گئی وہاں جو الم کی منظوم اور نثری روایت تهی اس نے اس کا روپ ڈهالا اور کچه اس روایت کو بهی تبدیل کیا اور پهر الم نگاری کی ایک بہت ہی جاندار ثقافتی روایت سامنے آئی ، سندهو وادی میں جب یہ قصہ ، مته ، اسطور سفر کرتا ہوا پہنچا تو یہاں پہلے سے ہی قتلام ، حملہ آوری ، لوٹ ماری ، جلانا ، خیموں کا جلادیا جانا ، لاشوں کا پڑا رہنا فلیش بیک کی طرح یہاں کے لوگوں کے حافظے میں موجود تها اور ان کو کربلاء میں ہوئی ٹریجڈی اپنے ساته ہونے والی ٹریجڈی کا عکس لگی ، یہ بهی اپنی زمین پہ ویسے ہی اخنبی بنادئیے گئے تهے جیسے کربلاء میں آل محمد کے لیے مسلم سماج اجنبی بن گیا تها –

مسلم بن عقیل کو کوفے میں جائے پناہ نہ ملی اور ایک نہر کے کنارے ان کے دو بیٹے عبیداللہ ابن زیاد کے ظلم کا نشانہ بن گئے ، قاسم وہ نوجوان جس کی شادی جناب حسین کی صاحبزادی سے طے تهی تو اس کی شادی کی تیاریاں تهیں اب اس کو سندهو وادی میں کیسے دیکها گیا ، وادی سنده میں جب کسی نوجوان کی شادی کے دن قریب آتے ہیں تو اس کے گهر ڈهولک کی تهاپ پہ خوشی کے گیت گائے جاتے ہیں ، پهر اس کی مہندی کی تقریب ہوتی ہے اور وہ سہرے با ده کر برات لیکر جاتا ہے ، قاسم کی شہادت کے گرد جو منظوم ثقافتی بیانیہ تشکیل پایا اس میں یہ سارے منظر ہمیں دیکهنے کو ملتے ہیں -ملتان یا قدیم زمانے کا ملوہا ایک زبردست

Tragic Narrative

المیاتی بیانیہ خود بهی رکهتا ہے یہاں پورے پورے شہر یہاں جلائے جاتے رہے ، ملتان کئی بار جلایا گیا ، ملوہا نے کئی بار بربادی دیکهی اور پهر جب محمد بن قاسم آیا تو عرب حملہ آوری کا سامنا ہوا اس خطے کے باسیوں نے اس ساری تباہی و بربادی کو اپنی آنکهوں کے ساته مشاہدہ کیا اور ہزاروں برس کا یہ قتلام ان کی اجتماعی یاداشت بنکر محفوظ ہوگیا تها ، ملوہا کے باسیوں نے عرب سے آنے والے حملہ آوروں کے مہابیانیہ کو قبول کرنے کی بجائے کربلاء سے جڑے مزاحمت ، الم ، ٹریجڈی ، مظلومیت ، انکار کے بیانیہ کو قبول کیا اور قبضہ گیری کو مسترد کیا ،ان کے ہاں هیرو ورشپ بهی ان شخصیات کی ہوئی جو ایک جہت سے مظلومیت کا استعارہ بن گئے تهے

محمود غزنوی کے ہاں ہم نے دیکها کہ اس نے ملتان میں موجود حکومت کو قرامطہ کہہ کر ختم کرنے کی کوشش کے دوران شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی تهی – اسی حزن و ملال و گریہ و آہ و زاری کے ساته گهلا ملا سرائیکی مرثیہ اور نوحہ کی روائت پروان چڑهی بلکہ مجهے تو سرائیکی کافی بهی اسی قبیل سے لگتی ہے ، زیر نظر ویڈیو میں بهکر کے شیرازیوں کی یہ حویلی کا ایک منظر ہے جس میں نئے مرثیے کی تیاری کی جارہی ہے جسے پهر باقاعدہ مجلس عزا میں پڑها جائے گا

کربلاء ایک ایسی ٹریجڈی ہے ، ایک ایسی المناک اسطور -Myth ہے کہ جس زمین اور جس خطے میں بهی گئی وہاں جو الم کی منظوم اور نثری روایت تهی اس نے اس کا روپ ڈهالا اور کچه اس روایت کو بهی تبدیل کیا اور پهر الم نگاری کی ایک بہت ہی جاندار ثقافتی روایت سامنے آئی ، سندهو وادی میں جب یہ قصہ ، مته ، اسطور سفر کرتا ہوا پہنچا تو یہاں پہلے سے ہی قتلام ، حملہ آوری ، لوٹ ماری ، جلانا ، خیموں کا جلادیا جانا ، لاشوں کا پڑا رہنا فلیش بیک کی طرح یہاں کے لوگوں کے حافظے میں موجود تها اور ان کو کربلاء میں ہوئی ٹریجڈی اپنے ساته ہونے والی ٹریجڈی کا عکس لگی ، یہ بهی اپنی زمین پہ ویسے ہی اخنبی بنادئیے گئے تهے جیسے کربلاء میں آل محمد کے لیے مسلم سماج اجنبی بن گیا تها ، مسلم بن عقیل کو کوفے میں جائے پناہ نہ ملی اور ایک نہر کے کنارے ان کے دو بیٹے عبیداللہ ابن زیاد کے ظلم کا نشانہ بن گئے ، قاسم وہ نوجوان جس کی شادی جناب حسین کی صاحبزادی سے طے تهی تو اس کی شادی کی تیاریاں تهیں اب اس کو سندهو وادی میں کیسے دیکها گیا ، وادی سنده میں جب کسی نوجوان کی شادی کے دن قریب آتے ہیں تو اس کے گهر ڈهولک کی تهاپ پہ خوشی کے گیت گائے جاتے ہیں ، پهر اس کی مہندی کی تقریب ہوتی ہے اور وہ سہرے با ده کر برات لیکر جاتا ہے ، قاسم کی شہادت کے گرد جو منظوم ثقافتی بیانیہ تشکیل پایا اس میں یہ سارے منظر ہمیں دیکهنے کو ملتے ہیں -ملتان یا قدیم زمانے کا ملوہا ایک زبردست Tragic Narrative المیاتی بیانیہ خود بهی رکهتا ہے یہاں پورے پورے شہر یہاں جلائے جاتے رہے ، ملتان کئی بار جلایا گیا ، ملوہا نے کئی بار بربادی دیکهی اور پهر جب محمد بن قاسم آیا تو عرب حملہ آوری کا سامنا ہوا اس خطے کے باسیوں نے اس ساری تباہی و بربادی کو اپنی آنکهوں کے ساته مشاہدہ کیا اور ہزاروں برس کا یہ قتلام ان کی اجتماعی یاداشت بنکر محفوظ ہوگیا تها ، ملوہا کے باسیوں نے عرب سے آنے والے حملہ آوروں کے مہابیانیہ کو قبول کرنے کی بجائے کربلاء سے جڑے مزاحمت ، الم ، ٹریجڈی ، مظلومیت ، انکار کے بیانیہ کو قبول کیا اور قبضہ گیری کو مسترد کیا ،ان کے ہاں هیرو ورشپ بهی ان شخصیات کی ہوئی جو ایک جہت سے مظلومیت کا استعارہ بن گئے تهےمحمود غزنوی کے ہاں ہم نے دیکها کہ اس نے ملتان میں موجود حکومت کو قرامطہ کہہ کر ختم کرنے کی کوشش کے دوران شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی تهی – اسی حزن و ملال و گریہ و آہ و زاری کے ساته گهلا ملا سرائیکی مرثیہ اور نوحہ کی روائت پروان چڑهی بلکہ مجهے تو سرائیکی کافی بهی اسی قبیل سے لگتی ہے ، زیر نظر ویڈیو میں بهکر کے شیرازیوں کی یہ حویلی کا ایک منظر ہے جس میں نئے مرثیے کی تیاری کی جارہی ہے جسے پهر باقاعدہ مجلس عزا میں پڑها جائے گا

Posted by Muhammad Aamir Hussaini on Thursday, May 5, 2016