Original Articles Urdu Articles

عورتوں سے مصافحہ یر جاوید احمد غامدی کی رائے پر اعتراضات کے پس منظر میں: فقہ اسلامی میں غیر محرم لونڈی کے ستر وحجاب کے احکام – عمار خان ناصر

Post Banners

 

نوٹ: عورتوں سے مصافحہ یر جاوید احمد غامدی کی رائے پربعض افراد بشمول تکفیری دیوبندی لابی نے اعتراضات کیے، اس پس منظر میں علامہ عمار خان ناصر کی مندرجہ ذیل تحریر قابل غور ہے

ہمیں حقوق انسانی کے جدید تصور کا شکر گزار ہونا چاہیے جس نے ’’غلامی’’ کو غیر قانونی قرار دیا۔ جب تک یہ جائز تھی، ’’غیر محرموں’’ کے ایک پورے طبقے کے ساتھ مصافحہ تو کیا، اس سے بھی آگے بہت کچھ کرنے کی شرعی وفقہی طور پر باقاعدہ اجازت تھی۔ میری مراد لونڈیوں کے طبقے سے ہے۔

لونڈیوں کے جسم کا واجب الستر حصہ نہایت مختصر تھا، یعنی صرف ناف سے گھٹنوں تک۔ اس سے اوپر اور نیچے کسی بھی لونڈی کے جسم کا کوئی سا بھی حصہ دیکھنا غیر محرموں کے لیے جائز تھا۔ اور اگر معاملہ کسی لونڈی کو خریدنے کا ہوتا تو فقہی طور پر اس کے جسم کے اگلے پچھلے ابھاروں کو باقاعدہ ٹٹول کر چیک کرنا اور شرم گاہ کو چھوڑ کر جسم کے بیشتر حصوں سے کپڑا اٹھا کر معائنہ کرنا بھی عین امر محمود تھا، چاہے اس کے بعد بے شک اسے خریدا نہ جائے۔

خدا کا شکر ہے، اس دور پر فتن میں ’’غیر محرموں’’ سے تلذذ کے حرام طریقے تو بہت سے ہیں، لیکن یہ ’’حلال’’ طریقہ ہمارے تقوے کو خراب کرنے کے لیے موجود نہیں رہا۔ کس زبان سے اہل مغرب کا شکریہ ادا کریں۔ من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ

فقہ اسلامی میں غیر محرم لونڈی کے ستر وحجاب کے احکام

جمہور فقہا۶ کے نزدیک لونڈی کا ستر ناف سے گھٹنوں تک محدود ہے۔ اس کے علاوہ اس کے جسم کا ہر حصہ دیکھنا اجنبی مرد کے لیے جائز ہے۔

حنفی فقیہ امام جصاص فرماتے ہیں کہ
يَجُوزُ لِلْأَجْنَبِيِّ النَّظَرُ إلَى شَعْرِ الْأَمَةِ وَذِرَاعِهَا وَسَاقِهَا وَصَدْرِهَا وَثَدْيِهَا
’’اجنبی آدمی کسی کی لونڈی کے بال، بازو، پنڈلی، سینہ اور پستان دیکھ سکتا ہے۔’’
مالکی فقہ کی کتاب الشرح الصغیر میں ہے
فيرى الرجل من المرأة – إذا كانت أمة – أكثر مما ترى منه لأنها ترى منه الوجه والأطراف فقط، وهو يرى منها ما عدا ما بين السرة والركبة، لأن عورة الأمة مع كل واحد ما بين السرة والركبة – (الجزء الأول، ص 290.)
’’لونڈی، اجنبی مرد کا جتنا جسم دیکھ سکتی ہے، مرد اس سے بڑھ کر اس کا جسم دیکھ سکتا ہے۔ وہ صرف اس کا چہرہ اور ہاتھ پاوں دیکھ سکتی ہے، جبکہ غیر محرم مرد اس کی ناف سے گھٹنوں تک کے حصے کے علاوہ باقی سارا جسم دیکھ سکتا ہے۔
شوافع کا مختار مذہب بھی یہی ہے۔
المذهب أن عورتها ما بين السرة والركبة (المهذب في فقه الإمام الشافعي ,أبي اسحق الشيرازي، ص 96)

فتاویٰ عالمگیری کے مطابق

غیر محرم باندی کے جسم کا جس قدر حصہ دیکھنا حلال ہے، اُس کا چھونا بھی حلال ہے بشرطیکہ اپنی ذات اور اُس کنیز کی ذات پر شہوت طاری ہونے کا ڈر نہ ہو۔
غیر محرم باندی کے ساتھ خلوت یا اس کو سفر پر ساتھ لے جانے میں مشائخ حنفیہ کے دو قول ہیں۔ مختار یہ ہے کہ ایسا کرنا درست نہیں، جبکہ شمس الائمہ سرخسی فتوی دیتے تھے کہ غیر کی باندی کے ساتھ سفر کرنا یا خلوت کرنا حلال ہے۔

مشائخ نے کہا ہے کہ لونڈی کو خریدنے کا ارادہ نہ ہو تو بھی لونڈی کے بازووں، پنڈلی اور سینے کو چھونا اور ان حصوں کو ننگا دیکھنا جائز ہے، بشرطیکہ شہوت کی حالت میں نہ ہو۔

فتاوی عالمگیری کے مطابق

اگر لونڈی کو خریدنا مقصود ہو تو پھر حنفی فقہ کے بعض متون کے مطابق پیٹ اور پیٹھ کے علاوہ اس کے جسم کے حصوں پنڈلی، سینہ، بازو وغیرہ کو دیکھنا بھی جائز ہے اور چھونا بھی، چاہے اس سے شہوت پیدا ہونے کا خوف ہو۔ بعض مشائخ کا کہنا ہے کہ دیکھنا تو درست ہے، لیکن اگر شہوت کا خوف ہو تو پھر چھونا نہیں چاہیے۔
مصنف عبد الرزاق کی کتاب الطلاق میں ’’باب الرجل یکشف الامۃ حین یشتریھا’’ کے تحت اس حوالے سے صحابہ وتابعین کے متعدد آثار نقل کیے گئے ہیں۔ چند حسب ذیل ہیں۔
سعید ابن المسیب نے کہا کہ لونڈی کو خریدنے کا ارادہ ہو تو شرم گاہ کے علاوہ اس کا سارا جسم دیکھا جا سکتا ہے۔
شعبی نے بھی کہا کہ شرم گاہ کے علاوہ اس کا سارا جسم دیکھا جا سکتا ہے۔
ابن مسعود کے شاگردوں میں سے بعض نے کہا کہ ایسی لونڈی کو چھونا اور کسی دیوار کا ہاتھ لگانا ایک برابر ہے۔

http://shamela.ws/browse.php/book-13174#page-14329


مصنف عبد الرزاق کے مذکورہ باب کی روایات کے مطابق

حضرت علی سے لونڈی کی پنڈلی، پیٹ اور پیٹھ وغیرہ دیکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ کوئی مضائقہ نہیں۔ لونڈی کی کوئی حرمت نہیں۔ وہ (بازار میں) اسی لیے تو کھڑی ہے کہ ہم (دیکھ بھال کر) اس کا بھاو لگا سکیں۔

عبد اللہ بن عمر کے تلامذہ بیان کرتے ہیں کہ انھیں جب کوئی لونڈی خریدنا ہوتی تو اس کی پیٹھ، پیٹ اور پنڈلیاں ننگی کر کے دیکھتے تھے۔ اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر دیکھتے تھے اور سینے پر پستانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر دیکھتے تھے۔

مجاہد کا بیان ہے کہ ایک موقع پر ابن عمر بازار میں آئے تو دیکھا کچھ تاجر لوگ ایک لونڈی کو خریدنے کے لیے الٹ پلٹ کر دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے آ کر اس کی پنڈلیاں ننگی کر کے دیکھیں، پستانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر اس کو جھنجھوڑا اور پھر خریدنے والوں سے کہا کہ خرید لو۔ یعنی اس میں کوئی نقص نہیں۔
مصنف عبد الرزاق الصنعاني • الموقع الرسمي للمكتبة الشاملة