Original Articles Urdu Articles

مابعد کربلاء مکتب علی شناسی کے چند ادوار : لاتاریخی رجحان و تکفیریت – عامر حسینی

1

Post Karbala Tragedy Era: Ahistorical Tendency and Takfirism

کے عنوان سے مقالے کی دوسری قسط شائع کی تو ایک مہربان کا فون آگیا جو خود بهی انتہائی پڑهے لکهے عالم فاضل دوست ہیں انہوں نے مری توجہ عطاء الحق قاسمی کے بیٹے عثمان قاضی کے پی ایچ ڈی کے تهیسس کی جانب دلائی اور ان کا کہنا تها کہ برصغیر پاک و ہند میں

Ahistorical tendency

کے پائنیر سرسید احمد خان تهے اور انہوں نے ایک کرانیکل جائزہ بهی پیش کیا یعنی سرسید سے اقبال اور اس سے آگے پرویز – اور حمید الدین فراہی سے امین احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی تک .- شاہ ولی اللہ سے دیوبند تک

سرسید

Enlightened , Progressive , Rationalist

تو تهے لیکن ان کا

Rationalism , Enlightenment

کی جڑیں مسلم تاریخ میں معتزلہ ، اشراقئین ، مسلم فلاسفرز و حکماء سے ترتیب پانے والی

Enlightened and rationalist tradition

میں تهیں اور میں اپنے مطالعے سے اس نتیجہ پہ پہنچا ہوں کہ مسلم عقلیت پسندی کی جو کلاسیکل روائت ہے اس نے سائنسی بنیادوں اور مسلمہ قوانین کا انکار کرنے والی خبروں اور روایات کا یا تو انکار کیا یا ان کی عقلی تعبیر کی روش اختیار کی لیکن وہ

Muslim history and its basis

کا انکار کرنے والے نہ تهے –معتزلہ ہوں یا بڑے مسلم فلاسفرز یا اخوان الصفاء کا گروہ ہو ان سب کا سیاسی مکتب فکر اس زمانے میں

Anti Monarchist

بنتا ہے اور معتزلی کے بارے میں یہ معروف تها کہ وہ یا تو حنفی ہوتا ہے یا جعفری فقہ کے باب میں اور سیاسی اعتبار سے قدری اور قدری سب کو پتہ ہے کہ

Anti thesis

تهے بنوامیہ کی جبری سیاسی فکر کے  اگر ہم

Classic Muslim Enlightened and rationalist tradition

کے بانیان کو دیکهیں تو شہادت عثمان سے لیکر واقعہ کربلاء تک اور واقعہ کربلاء کے بعد سے لیکر بنو امیہ و بنو عباس کے زمانے تک ان میں سے کسی ایک کا موقف مشاجرات صحابہ ہوں یا واقعہ کربلاء وہ نہیں تها جو امین احسن اصلاحی ، جاوید غامدی ، غلام احمد پرویز کا تها یا دیوبند میں چکڑالوی سمیت اہل قرآن گروپ کا ہے

اس گروہ کا

Source of inspiration
Classical Mutaizala movement

کی بجائے

So called rationalism of Ibn-i-Taymiyya and Ibn-i-Hazam

یے اور یہی وجہ ہے کہ تحریک اعتزال یا تحریک فلاسفہ کے برعکس ان کے ہاں

Anti-Sufi-ism and Anti Shiite

رجحان بہت طاقتور ہے اور یہ ابن تیمیہ ، ابن جوزی ، ابن قیم جیسے لوگوں کے اثرات ہیں کہ جب بهی ان کا رخ

Question of Cultural diversity and Pruralist social Phenomenon

کی جانب ہوتا ہے جیسے
وحدت الوجود کا تصور ہے
صلح کلیت ہے
مزارات ہیں
رقص ، غناء ، آلات موسیقی ہیں
بڑے مذهبی ثقافتی تہوار ہیں جیسے عید میلاد ، عاشور ، عرس ، میلے وغیرہ ہیں

تو یہ اعتزال یا فلاسفہ کے رجحانات کو نہیں دیکهتے بلکہ براہ راست ابن تیمیہ وغیرہ کی جانب دیکهتے ہیں ، غلام احمد پرویز تصوف اور مسلم ثقافتی رنگارنگی کو عجمیت ، ایرانیت ، ساسانیت سے جوڑ کر دیکهتا ہے اور اسے اسلام کے خلاف سازش قرار دے ڈالتا ہے ، جاوید احمد غامدی توحید کے باب میں صوفیاء کی بجائے ابن تیمیہ کو بہترین شارح قرار دیتا ہے

اب مجهے نہیں معلوم کہ سرسید کا برصغیر کی ثقافتی رنگارنگی کے بارے میں کیا موقف تها ؟ کیا وہ صلح کلیت کے خلاف تها ؟ کیونکہ میں نے سرسید کو جتنا پڑها اس میں سرسید نے اس موضوع سے براہ راست ڈیل نہیں کیا ان کے رفقاء میں محسن الملک ، راجہ آف محمود آباد سمیت کئی ایسے لوگ تهے جو شیعہ بیک گراونڈ سے تهے الطاف حسین حالی کا بیک گراونڈ بهی یہی تها یہاں تک کہ سنی بیک گراونڈ سے شبلی نعمانی اور سر ضیاء الدین ، سید اشرف بہاری جیسے سنی بریلوی بهی تهے ، یہ دونوں احمد رضا بریلوی کے خلفاء تهے جو مائل بہ اعتزال تهے اور ان کے ہاں فدک سمیت کئی اہم ایشوز پہ جمہور اہل تسنن سے ہٹ کر رائے پائی جاتی ہے ،وہ عاشق رومی تهے ، اقبال کے ہاں آغاز کار میں جب انہوں نے فلسفہ عجم لکهی تهی تو رجحان واقعی

Ahistorical

ملتا ہے لیکن جب ان کی شاعری میں رومی کے اثرات نمایاں ہوئے تو ان کا ٹریک

Ahistorical

نہیں رہا جبکہ خطبات مدارس میں انہوں نے ابن تیمیہ اور ابن حزم کی تعریف اگر کی ہے تو اس کی وجہ ان کی لاتاریخی روش نہیں بلکہ اجتہاد مطلق کے دروازے کهلے رکهے جانے پہ اصرار ہے

پهر معتزلہ کے ہاں مامون کے زمانے میں

Excommunicative tendency

کا ظہور ہوا اور انہوں نے اپنی ریشنلٹی کو خلق قرآن کے معاملے پہ ریاستی جبر کے زریعے سے منوانے کی کوشش کی جس کے انتہائی خراب نتائج نکلے اور مابعد مامون دور میں بنوعباس نے
روائیت ہرست سخت گیر حنبلیت کے سہارے نام نہاد زندقہ مخالف جابرانہ تحریک شروع کی اور سب حاصلات ضایع کرڈالے  بہرحال مرا کہنا یہ ہے کہ برصغیر میں

Muslim Enlightened rationalist progressive tradition

کے پائنیر سرسید تهے بالکل درست ہے لیکن سرسید کا براہ راست لنک مسلم کلاسیک تحریک اعتزال سے تها جبکہ انہوں نے اس کلاسیکل روائت کے مغربی احیائے علوم کی تحریک کے ساته تطبیق کی تهی لیکن ان کے

Rationalism

سے

Absolute ahistorical tendency or Takfirism
Emerge

نہیں ہوا تها اس کے برعکس ہمیں

Shah Ismail dehlvi

اور پهر دیوبند اور اس سے آگے اعظم گڑه میں حمید الدین فراہی ، امین احسن اصلاحی اور کئی ایک دیگر پنجابی مڈل کلاس دانشوروں کے ہاں

Ahistorical tendency
Emerge

ہوتی نظر آتی ہے اور جب گہرائی میں جاکر دیکها جائے تو وہ شاہ ولی اللہ کے زمانے میں روهیل کهنڈ اور اس کے گردونواح میں موجود فرقہ وارانہ کشاکش سے ابهرنے والی تهیالوجی اور عرب سے اٹهنے والی وهابی تحریک اور اس کی جڑیں شیخ ابن تیمیہ وغیرہ کے اندر نظر آتی ہیں اور اس طرح سے یہ رجحان کئی معاملات میں سلفی ازم ، دیوبندی ازم اور اس سے آگے تکفیریت کا ہمنواء نظر آتا ہے اور اس رجحان کے اسیر ہمیں کئی ایک لبرل اور مارکس واد بهی نظر آتے ہیں

یہاں پہ یہ دیکهنے کی ضرورت بهی ہے کہ ہمارے مسلم ریشنل تهیالوجسٹ شیخ ابن تیمیہ اور ان کے رفقاء کی تهیالوجی کے ریشنلسٹ اور روشن خیال ہونے پہ اصرار جو کرتے ہیں اور اس کا رشتہ زبردستی کلاسیکل مسلم عقلیت پسند فلسفہ اور تحریک اعتزال سے جوڑنے پہ اصرار کرتے ہیں کیا ان کا یہ ادعا ٹهیک ہے ؟

دوست احباب کا گلہ تھا کہ میں نے ” نہج البلاغہ ” تک اپنی ” علی شناسی ” بارے تحریروں کو روک دیا اور اس سے آگے کی جانب سفر نہیں کیا تو میں نے ان دوست احباب سے بھی عرض کیا تھا کہ ایک تو جن دنوں میں نے ” علی شناسی ” بارے لکھنا شروع کیا تھا تو مرے پاس تھوڑا سا وقت بھی تھا اور پھر شاید جیسے کہتے ہیں کہ وجدان اور القاء کی دیوی بھی مہربان تھی اس لئے غیب سے مضامین آتے اور مرے نام سے وہ لوگوں کی نظر سے گزرنے لگتے تھے لیکن اس کے بعد تیزی سے ” ٹریجڈی ” کا کینوس پھیلتا چلا گیا اور مجھے معاصر المیوں پہ اتنا کچھ لکھنا پڑا کہ تاریخ کی جانب میں نے جو سفر شروع کیا ہوا تھا اس سفر میں تعطل پیدا ہوگیا ، صوفیاء کے ہاں جسے روحانی انقباض کہا جاتا ہے اس میں شاید میں مبتلا ہوگیا تھا لیکن اس مرتبہ جب امام باقر کا یوم ولادت آیا تو مرا قلم خود بخود حرکت میں آگیا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح سے دو ہزار سولہ کا ایک بہترین مضمون سامنے آگیا اور میں سمجھتا ہوں کہ واقعہ کربلاء میں امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد ” مکتب علی شناس ” کو پھیلانے میں شریکۃ الحسین و ام المصائب زینب بنت علی ابن ابی طالب ، علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب سید الساجدین و العابدین و زینۃ الاصفیاء اور محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب الملقب بالباقر العلم نے بنو امیہ کی ملوکانہ اور جابرانہ حکومتوں اور ان کے افادیت و اباحت پسندانہ نظریات کو جیسے بے نقاب کیا اس نے ” مکتب علی شناس ” کی سرحدوں کو بہت وسیع کرنا شروع کردیا تھا –
واقعہ کربلاء کے بعد ایسے لگتا تھا کہ جیسے ” مکتب علی شناس ” اب تاریخ کے اوراق میں دفن ہوجائے گا اور اس تحریک نے اس وقت کی مسلم سوسائٹی کے اندر افتادگان خاک کو تبدیلی کی جو امید دلائی تھی وہ اب ایک یوٹوپیا ہی بن کر رہ جائے گی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی زمانے میں بنوامیہ کے جو سرکاری ، درباری مورخ تھے انہوں نے جناب علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی سیاست کو ناکام اور ان کی آئیڈیالوجی سے ابھرنے والے آدرشوں کو ایک ” یوٹوپیا اور مثالیت پسند خیال ” ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کردیا تھا اور اس طرح کی تاریخ کی تدوین نے تاریخ کے اندر ایک ایسے مکتب کا اضافہ کردیا تھا جس نے علی کے طرز سیاست اور ان قیادت کے حاصلات کو ” ناکامی ” سے تعبیر کرنے کی سعی شروع کردی تھی اور یہاں تک کہ اگر جدید مسلم دانشوروں میں اگر ہم ” واقعہ کربلاء اور اس سے پہلے جناب علی کرم اللہ وجہہ کے دور حکومت ” کے بارے میں ایک سلبی اور منفی فکر کو دیکھتے ہیں تو اس کی جڑیں بھی اسی سلبی مکتب تاریخ کے اندر ملیں گی –
میں محمود عباسی ، تمنا عمادی ، غلام احمد پرویز ، ڈاکٹر امین مصری اور امین احسن اصلاحی ، نظام الدین فراہی ، جاوید احمد غامدی کو اسی قبیل سے خیال کرتا ہوں اور یہ جو حنیف ڈار وغیرہ ہیں ان کو بھی اسی صف میں کھڑا دیکھتا ہوں اور ایک اور دلچسپ بات یہ بھی ہمیں نظر آتی ہے جناب علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور امام حسین کے قیام کی جانب جن دانشوروں کا رویہ سلبی اور ناقدانہ ہے ان کی اکثریت ایک تو جناب امام حسن کو اس تحریک میں ایک انحرافی آواز کے طور پر پینٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری طرف ان کے ہاں ‘تحریک خوارج ” کی طرف تعریفی و تحسینی رویہ نظر آتا ہے اور پھر اس سلبی مکتب تاریخ کے دانشوروں کی توجیحات کو لیکر جو تاريخ جدید کا ” تکفیری گروہ ” ہے وہ اینٹی علوی توجیحات کو ” رد رافضیت ” قرار دیکر اور اس میں مزید رنگ و روغن بھرکر اپنی ” تکفیری ایمپائر ” کی تعمیر کرتا ہے اور اسی سے ” عجمیت اور یہودی سازش ” جیسے مفروضات سامنے آتے ہیں – اور یہ حملہ اتنا سخت ہوتا ہے اور اس کا انٹلیگجوئل پوسچر
Intellectual Posture
اتنا گہرا ہوتا ہے کہ ایک زمانے میں ہم خود ڈاکٹر محمد اقبال کو اس سے متاثر ہوتے دیکھتے ہیں اور میں نے اہل تسنن کے ہاں مکتب علی شناس سے دور ہوکر خوارج کی طرف جھک جانے کی جو مثالیں دیکھتا
 ہوں ان میں سے اکثر اسی سلبی مکتب تاریخ کے انٹلیکچوئل پوسچر کے زیر اثر آکر تکفیریت کی طرف بڑھے اور مکتب اہل بیت سے دور ہوگئے –اور تو اور اس سلبی مکتب تاریخ نے ” مکتب علی شناس ” پر ایک
Elitist and ethnic focused school of thought
کا لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کی اور اس تحریک کو ساسانی اور ایرانی شاہی اشرافیہ کی اسلام کے خلاف ایک منظم سازش کے طور پر پیش کرنے کے لئے پورا زور صرف کردیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک جوکہ بنوامیہ کے دور میں خاص طور پر واقعہ کربلاء کے بعد علی بن حسین المعروف زین العابدین کے زمانے سے زیرزمین چلی گئی تھی اسے ” سازشی ” قرار دے ڈالا گیا اور کیا یہ گیا کہ جناب علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے کوفہ کو دارالخلافہ بنانے کے وقت سے لیکر کربلاء کے وقت تک جتنے واقعات رونما ہوئے اس تاریخ کو پہلے تو بالکل ہی چھپانے کی کوشش ہوئی لیکن جب ” مکتب علی شناس ” نے اس تاریخ کی تدوین کرڈالی تو تدوین کرنے والے اصحاب کو ہی غیر ثقہ قرار دے دیا گیا ،
میں نے اپنے ایک مقالے میں جو ” نصر بن مزاحم ” پہ لکھا تھا اس معاملے میں کافی روشنی ڈالی ہے – اگر ہم بنوامیہ کے سرکاری اور درباری مورخین کی کارگزاری کا ایک جائزہ لیں تو جناب عثمان بن عفان کی شہادت کے بعد رونماء ہونے والے واقعات میں انھوں نے ایسے لوگوں کے نام تو برملا پیش کئے جنھوں نے جمل ، صفین ، نھروان وغیرہ کی جنگوں میں سے کسی ایک بھی جنگ میں حصّہ نہ لیا بلکہ وہ ” غیرجانبدار ” ہوگئے اور پھر جمل ، صفین اور نھروان میں جو بصرہ و شام والوں کے کیمپ تھے ان کا تذکرہ بھی خوب ہوا لیکن جو علوی کیمپ تھا اس میں کون کون تھا اور اس کا درجہ کتنا بڑا تھا اسے چھپالیا گیا – کیا ایک عام نوجوان یہ جان سکتا ہے کہ ” مخنف بن سلیم ” کون تھے اور ان کا ” علوی تحریک ” کی تدوین میں کیا کردار تھا –
یہ سب سے قدیم مورخ لوط بن یحیحی بن مخنف بن سلیم الازد کے دادا اور اہل شام کے خلاف لڑی جانے والی ہر جنگ میں یہ جناب علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ رہے تھے ، اسی طرح سے نصر بن مزاحم نے یہ کیا کہ اصحاب امام باقر سے انھوں نے جمل ، صفین ، مقتل حسین سمیت اکثر تاریخی ریکارڈ مخفوظ کرلیا تھا لیکن ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مخنف بن سلیم سے لیکر ابو مخنف تک اور وہآن سے نصر بن مزاحم تک سب کے سب غیر ثقۃ اور رافضی جلدا کے القاب سے سرفراز کردئے گئے ، ویسے کچھ لوگ علوی کیمپ کو ” عجمی کیمپ ” کہتے ہیں اور شامی کیمپ کو عربی کیمپ کہتے ہیں یہ بھی تاریخ میں ایک لطیف قسم کی ڈنڈی مارنے کی کوشش ہے –پہلی بات تو یہ ہے کہ علوی کیمپ بجا طور پہ اس وقت کے تمام بلاد اسلامی سوائے شام کے نمائندگی والا کیمپ تھا – اس میں فارسی تھے ، خراسانی تھے ، یمنی تھے ، عراقی تھے ، بصری تھے گویا پورا عالم اسلام اس زمانے میں شام کے خلاف برسرپیکار تھا
تاریخ میں علوی کیمپ کی پینٹنگ ، ان کے اصحاب اور ساتھیوں کی رونمائی کو سرکاری اور درباری کیمپ نے ایک طرح سے ممنوعہ شئے بنادیا تھا زرا اس فہرست پہ نظر ڈالیں جو کہ صفین میں جناب علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ تھے ،عمّار بن ياسر ، سهل بن حنيف ، قيس بن سعد ، عدىّ بن حاتم ،هاشم بن عتبة ، عبد الله بن بديل ، عبد الله بن عبّاس ، اُويس القرنى ، أبو الهيثم مالك بن التيّهان ،عبد الله بن جعفر ،خزيمة بن ثابت ، سليمان بن صرد الخزاعى ، عمرو بن حمق الخزاعى .یہ سب صحابی ہیں –
مسلم جمہور ان میں سے کتنے لوگوں کے افکار ، ان کے کام سے واقف ہے – عبداللہ بن عباس اگرچہ معروف نام ہے لیکن مکتب علی شناس سے ہٹ کر کتنے لوگ ان کے ان خیالات سے واقف ہوگا جو اس زمانے کے گرم ترین سیاسی ، معاشی ، سماجی ایشوز پر جناب عبداللہ بن عباس رکھتے تھے اور یہی معاملہ خزیمہ بن ثابت کا بھی ہے- ان کے بارے میں جمہور کے اندر ان کا ” ذوی الشہادتین ” یعنی دو گواہی والے صحابی ” ہونا تو مشہور ہے لیکن کتنوں کو پتہ ہے کہ یہ ” علوی کیمپ ” کے سرکردہ انصاری صحابی تھے جوکہ صفین میں شہید ہوئے اور ان کے خیالات اہل شام کے بارے میں کیا تھے ؟اور علوی کیمپ میں شامل اصحاب رسول کی فہرست پر اگر آپ نظر ڈالیں گے تو عرب قبائل کے اعتبار سے بھی یہ متنوع ہے تو یہ نسلی اعتبار سے بھی متنوع ملے گی اور تکثریت اس کے اندر بجا طور پہ نظر آئے گی اور تابعین کی فہرست میں ہمیں چند بڑے نام محمّد ابن الحنفيّة ، مالك الأشتر ، الأحنف بن قيس ، سعيد بن قيس الهمدانى ، حجر بنعدىّ ، أصبغ بن نباتة ، صعصعة بن صوحان ، شريح بن هانئ ، عبد الله بن هاشم بن عتبة، جعدة بن هبيرة ، زياد بن النضر وغیرہ نظر آئیں گے ان سب کے خیالات و افکار کی ایک قاموس تیار ہوجائے اگر میں بیان کرنے لگوں لیکن یہ قاموس مسلم تاریخ کے مین سٹریم دھارے سے باہر کردی گئی اور اسے بھلادیا گیا اور جنھوں نے اس کیمپ کے افراد کا تذکرہ مرتب کرنے کی کوشش کی ان کے کردار کو مسخ کرنے کی بری طرح سے کوشش کی گئی اور اگر آپ ان کے سماجی طبقاتی پس منظر اور اس زمانے کی
Social classes
کے اندر ان کا سٹیٹس دیکھنے کی کوشش کریں گے تو آپ کو صاف صاف دکھائی دے گا کہ اس زمانے کی جو دستکار ، درمیانے درجے کے ٹریڈرز ، کسان ، غلام اور سب سے بڑھ کر اس زمانے کی جو انٹلیکچوئل پرتیں تھیں یعنی شاعر ، ادیب ، نحوی وغیرہ تھے جو علوم اسلامیہ کے بانیان کہلائے سب کے سب ” علوی کیمپ ” سے جڑے نظر آئیں گے اور اسی ایک جائزے سے آپ کو علوی کیمپ کے کینوس کے وسیع ہونے اور اس کی بہت ہی متنوع اور تکثیری پینٹنگ بنتی نظر آئے گی –ویسے آپ انٹلیکچوئلٹی کی کسوٹی پہ اس زمانے کے پیچیدہ ذہنوں کی ایک فہرست صحابہ ، تابعین و تبع تابعین کی تیار کرنے بیٹھیں گے تو آپ کو صاف پتہ چلے گا کہ ان میں سے ایک بھی مائنڈ ایسا نہیں ہوگا جس کی اموی کیمپ سے بنی ہو یا بعد ازاں عباسی کیمپ سے بنی ہو –
یہاں تک کہ آپ اہل تسنن کے فقہ کے بانیان کو دیکھیں گے تو چاروں کے چاروں آپ کو علوی کیمپ میں کھڑے مل جائیں گے –اگر یقین نہ آئے تو خلافت علوی کے معاملے پر ان چاروں کے خیالات ملاحظہ کرلیں اور اسی طرح یزید کی جانشینی بارے اور پھر بنوامیہ کے خلاف زید بن علی کے پہلے خروج بعد از سانحہ کربلاء سے لیکر محمد نفس زکیہ اور دیگر خروج بارے ان کی آراء ملاحظہ کرلی جائیں – یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ امام مالک ، ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل کے ہاں نثر میں اور امام شافعی کے ہاں نظم میں کیوں ” حب علی و حب اہل بیت ” موضوع بار بار کیوں بنتا تھا اور یہ رجحان ہمیں اصحاب و تابعین و تبع تابعین کے اندر تواتر کی حد تک پہنچا نظر آتا ہے – کیا یہ صرف مناقب و فضائل کی روایت تھی یا اس کے کوئی سیاسی معانی بھی بنتے ہیں جب آپ اس تواتر اظہار حب اہل بیت کے سیاق و سباق کی تلاش کریں گے تو آپ کو خود معلوم ہوجائے گا کہ اس کا بڑا سیاسی تناظر اور سیاق و سباق تھا –یہاں تک کہ امام نسائی کو اگر ” خصائص نسائی ” لکھنی پڑی تو شام میں ان کو زبردست تشدد کا جو نشانہ بننا پڑا تھا اس نے بتادیا تھا کہ اس کی ایک بڑی سیاسی اہمیت تھی تو ہمیں ایک طرف تو تدوین تاریخ میں
Minus Alvi Camp or obfuscation of truth tendency
جو ملتی ہے وہ بتدریج
Ahistorical Tendency
میں بدلتی نظر آتی ہے اور یہی لا تاریخی رجحان ہمیں فرقہ پرستی کی زبان میں تکفیریت محض بنتا نظر آتا ہے اور مرا مشاہدہ یہ ہے کہ اسی کے بطن سے
Monolithic , anti-diversity , anti-plural mind set
جنم لیتا ہے اور اسی کے بطن سے خوفناک قسم کی دہشت گردی کا جنم ہوتا ہے جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر آپ شہادت عثمان کے بعد تاریخ کے بہاؤ پہ غور کریں تو جو شامی کیمپ تھا اس نے معاملات کو الجھانے اور کم از کم ایسی فضا پیدا کرنے کہ جس سے لوگوں میں الگ تھلگ بیٹھ جانے کا رجحان پیدا ہوا اور علوی کیمپ کو
Isolate, alienate and loneliness
کا شکار کرنے میں مدد ملی اور آج بھی ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایسے دانشوروں کی کمی نہیں ہے جو تکفیریت کے بارے میں ابہام پھیلانے یا اس کے
Stance
بارے عذر گھڑنے اور ایک خاص طرح کی
Seeking for apology
کا رجحان پیدا کرنے اور اس کے خلاف اٹھنے والے ردعمل اور مزاحمت کو
Binaries
کے زریعے سے متنازعہ بنانے کی منظم کوششیں جاری ہیں – حال ہی میں ہم نے جاوید احمد غامدی کو دیکھا کہ انھوں نے واقعہ کربلاء اور جناب حسین کے سیاسی موقف کی ماہیت قلبی کرنے کی کوشش کی اور یہاں تک خوارج کے کیمپ تک کی تعریف کرڈالی – اور اگر آپ گہرائی میں جاکر اسے دیکھیں گے تو یہ آپ کو اسی “لاتاریخی رجحان ” کا ایک تسلسل نظر آئے گا اور یہ جو تاريخ کا ” لاتاریخی رجحان ” ہے ایک تو یہ اپنی ماہیت میں بظاہر غیرجانبدار ، معروضی ، منظقی ، مبنی برانصاف اور گہری تحقیق و جستجو کے دعوؤں کے ساتھ استوار کیا گیا رجحان بتلایا جاتا ہے لیکن اس کے اندر تکفیریت پوری طرح سے گامزن ہوتی ہے –
اب زرا مجھے بتلائیے کہ اس رجحان کا دانشور جب یہ کہے کہ ہاں فلاں کافر اور فلاں مشرک ہے اور وہ مرتد ہوگیا لیکن اس کی سزا دنیا میں نہیں ہے بلکہ اخروی طور پہ وہ جہنمی ہے مگر ساتھ ہی وہ کہے کہ فلاں صدی کے فلاں عالم اور فلاں صدی کے فلاں ہندوستانی عالم اس ” فلآن مذھبی گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج بتلاتے ، ان کو کافر و مشرک کہتے اور ان کو مرتد کہتے تھے اور مرتد کی سزا قتل بتلاتے تھے اور وہ مجھ سے کہیں بڑے عالم تھے ، فقیہ تھے اور میں تو ان کے سامنے گنگو تیلی ہی ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ سننے والے راجہ بھوج کو دیکھے یا گنگو تیلی –یہ دسیسہ کاری ہے ، دین فروشی ہے اور اور مکتب قائلین قتال المرتد کی بالواسطہ تائید ہے اور یہ حقیقت میں مکتب باب شہر علم کی آئیڈیالوجی کی تردید کی کوشش ہے –
مرا مکتب علی شناس کے ایک طالب علم کے طور پہ پورا یقین رہا ہے کہ جب امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنے سیاسی ، سماجی نظریات کو باقاعدہ عملی سیاسی تحریک کے ساتھ جوڑنے کا فیصلہ کیا اور لوگوں کے اصرار پر انہوں نے حکومت سنبھال لی تو مکتب علی شناس کا جو سیاسی –سماجی تحریکی چہرہ تھا اس میں امامی –غیر امامی کی تقسیم نہیں تھی بلکہ یہ مسلم سماج کے جمہور کی تحریک تھی جس میں جناب کی امامت و قیادت کو منصوص من اللہ خیال کرنے والے اور منصوص من اللہ نہ خیال کرنے والے دونوں شامل تھے اور جیسا کہ میں نے اپنی کتاب ” علی شناسی ” میں اس نکتے کی وضاحت تفصیل سے کرتے ہوئے بتلایا تھا کہ ” شہادت عثمان ” کے بعد تاریخ ہمیں یہ بتلاتی ہے کہ ” افضل و مفضول ، تفضیل سمیت کئی اور ایشوز ” جو کہ بعد میں مسلم علم کلام کی تاریخ میں جدال کا مستقل سبب بنے سارے کے سارے شام والوں کی جانب سے اٹھائے گئے تھے جبکہ آپ نے انتہائی خالص سیاسی ایشوز پہ بات کی اور سب سے بڑھ کر آپ نے ” ظلم ، ناانصافی ، طبقاتی تفاوت ، نسل پرستی ، قبیلہ پرستی ، بیت المال کی لوٹ مار ، وسائل کے چند ہاتھوں میں ارتکاز ” جیسے سلگتے مسائل کے حل پہ زور دیا اور آپ نے ” لوٹا کریسی ” کے کلچر کو مسترد کردیا –آپ کے سامنے جس سیاست کا کلچر تھا اس کے دو جزو تھے –
ایک یہ اتنی دہشت ، خوف ، ڈر ، جبر ، ظلم ، خون ریزی کی جائے کہ لوگ ڈر کر اپنے آپ کو شام والوں کے سامنے سرنڈر کردیں ، دوسرا طریقہ تھا کہ دولت کی بارش کی جائے اور اپنے کیمپ کے امراء کو کسی قاعدے قانون کا پابند نہ رکھا جآئے اور ان دو طریقوں سے ہونے والے حاصلات کو ” عظیم کامیابی ” گردانا جائے – اب لاتاریخی رجحان کے لوگ اسی لئے شامیوں کے حاصلات گنواتے ہوئے ان کو سیاست اور میدان حرب کے دھنی ثابت کرتے ہیں اور وہ مکتب علی کی سیاست اور جنگ دونوں کو ناکام بتلاتے ہیں یا تاثر ایسا دیتے ہیں اور پھر وہ شہادت عثمان کے بعد دور علوی سے لیکر کربلاء تک اور مابعد کربلاء آئمہ اہل بیت کی سیاسی و فکری جدوجہد کو ایک خاص گروہ تک محدود کرکے اس کا جو بڑا کینوس ہے اسے تنگ کرکے فرقہ وارانہ بتلانے کی کوشش کرتے ہیں اور آج بھی ہم دیکھ سکتے ہیں کہ تکفیری کیمپ اپنی تکفیری فسطائی فتنہ گری کو اہل تسنن اور اہل تشیع کی جںگ بناکر دکھانے کی کوشش کررہا ہے اور اسے فرقہ وارانہ تنگنائیوں میں گم کرنے کی کوشش کررہا ہے –
ماضی میں ایسا ہوا کہ جمل ، صفین کی جنگوں کے حقیقی سیاسی – سماجی تناظر کو دھندلانے کے لئے ” حسن بن سباء ” کا افسانہ گھڑا گیا اور اس کے لئے ” سیف بن عمر تمیمی ” کا کردار سامنے لایا گیا اس پر حسن مرتضی عسکری نے جو بھی لکھا قلم توڑ دیا ہے اور آج کا سیف بن عمر تمیمی گروہ سعودی کنٹرولڈ میڈیا کے گماشتے ہیں جو ” شیعہ کریسنٹ ” تھیوری کے موجد ہیں اور جھوٹی بائنری تشکیل دیکر وہ اصل معاملے پہ پردہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہاں پہ ایک اور نکتہ جو میں سمجھا ہوں اسے
Elaborate
کرنے کی بہت ضرورت ہے کہ تاریخ کو جذبات اور تعصبات کی گرد میں گم کرکے
Zealots oriented sloganeer Path
پر ڈالنے والا بھی یہی مکتب علی شناس مخالف کیمپ ہے جو ہر وقت سازشی مفروضات کے گھٹیاپن کے ساتھ اس موضوع پہ سنجیدہ بحث و مباحثے کے آڑے آتا رہا ہے اور اس نے تاریخ میں ” درباری سٹیٹس کو ” برقرار رکھنے کی اپنی سی کوشش جاری رکھی ہے لیکن کیا یہ سٹیٹس کو برقرار رہا ؟ یہیں پہ مابعد کربلاء علی شناسی کی تحریک کے ادوار کا جائزہ لینے کی اہمیت ابھرکر سامنے آتی ہے اور ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جو تحریک جناب سید الساجدین و العابدین علی بن حسین کے زمانے میں سے انڈرگراؤنڈ ہوئی اور وہ کیسے امام جعفر کے زمانے میں امویوں کی حکومت کے خلاف بڑے انقلاب کا پیش خیمہ بن گئی اور امویوں نے ہر دانشور کی بولی لگائی اسے اپنےدربارر کا اسیر کیا اور جو نہیں مانا اسے اسیری ، کوڑے اور قید وبند اور پھر سولی شناس ہونا پڑا – امویوں کی کوشش تھی کہ وہ اس زمانے میں جو مابعداطبعیات تھی اسے سیاسی – سماجی و مادی معنوں سے محروم کردیں اور اس مابعدالطبعیات کے اندر سے ہی
Process of depoliticizing the masses
کو برآمد کریں اور جو سیاسی ایشو تھا اسے ایک کلامی ، تھیالوجیکل مسئلہ کی شکل دیکر بس حلقہ ماہرین علم کلام تک محدود کرڈالیں – کیا فسق یا بدعملی سے ایمان یا کفر کا سوال ” غیر سیاسی ” محض ایک کلامی معاملہ تھا ، توحید کا سماجی پہلو اور اس کا عدل سے تعلق ایک تھیالوجیکل ایشو تھا ؟ میں نے علی شناسی پہ اس پر بات کی ہے اور علی بن حسین نے اپنے سجدوں ، اپنی دعاؤں کو پیش کرنے کے اندر ہی
Relations between metaphysics and socio-politico materialist conditions and issues
کو ظاہر کردیا تھا – اسی لئے تو مسجد نبوی تک بظاہر محدود علی بن حسین کو زھر دلوایا گیا اور آپ کی شہادت کو ممکن بنایا گیا تو اس سے آگے امام باقر نے بھی اسی طریق کو اپنایا تھا اور جب امام جعفر صادق کا زمانہ آیا تو انھوں نے بھی اس تحریک کو زیر زمین منظم کرنا شروع کردیا تھا – مابعد کربلاء علی شناسی کی تحریک کو ایک تو سیاسی طور پر ایک جابر طبقاتی ملوکانہ طرز حکومت کے چیلنج کا سامنا تھا تو دوسری جانب فکری اور علمی محاذ پہ اس کے سامنے مکتب علی شناس کے ماخذ ہائے علمی و تاريخی سرمائے کو محفوظ بنانا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو قیس سلیم ہلالی ، مخنف بن سلیم سمیت کئی ایک بنیادی ماخذ ہائے تاریخ مکتب علوی بچ گئے اور ہمارے سامنے ماقبل اسلام و دور اسلام و مابعد رسالت ادوار کا ایک قابل قدر تاریخی ریکارڈ موجود ہے اسے بچانے میں علی بن حسین ، محمد بن علی بن حسین ، جعفر بن محمد بن علی بن حسین اور امام موسی کاظم کا خاص طور پہ بہت ہی اہم کردار بنتا ہے اور انہی کے رفقاء اور پھر ان رفقاء کے رفقا نے اسے محفوظ کیا اور تاریخ خاص طور پہ ابومخنف لوط بن یحیی ، نصر بن مزاحم ، واقدی ، ابن اسحاق اور ہشام جیسوں کی احسان مند ہے
مابعد کربلاء ایک طرف مکتب علی کی ایک ایک نشانی کو مٹانے پہ زور تھا تو امویوں کی پوری طاقت اس بات پہ صرف ہورہی تھی کہ کسی طرح سے اپنے اقتدار کا جواز حاصل کرلیا جائے اور لوگ ” آل محمد ” کے استحقاق کو بھلادیں – اس زمانے میں علی بن حسین سے لیکر امام جعفر تک سب نے اس منصوبے کے خلاف جدوجہد کی اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہشام بن عبدالمالک کے زمانے تک آتے آتے اس دور کے مسلم معاشروں اور علاقوں میں ایک ہی نعرہ گونجنے لگا تھا جسے ہم تاریخ میں ” دعوۃ الرضا من آل محمد ” کے نام سے جانتے ہیں اور بنوامیہ کے خلاف جو تحریک انقلاب کی شکل میں سیاہ جھنڈوں کے ساتھ سامنے آئی اس کا سب سے بڑا نعرہ تھا ” الرضا من آل محمد ” تو اموی ملوکیت کی یہ بہت بڑی شکست تھی کہ اسے ہر طرف سے یہی سننا پڑا کہ ان کو مسلم معاشروں کی قیادت و سیاست کا حق حاصل نہیں ہے اور اس زمانے میں کئی ایک موقعہ پر ایسے نظر آیا کہ ایک طرف سے مجبور ہوکر مسلح جدوجہد شروع ہوئی تو جناب علی بن حسین کو کہا گیا کہ اس کو جواز دیں تو ہم نے دیکھا کہ علی بن حسین کی جانب سے “مختار ” کے نہ تو اثبات میں اور نہ محالفت میں آپ کی جانب سے اعلانیہ کوئی بات سننے کو ملی اور ایسے ہی آپ نے عبداللہ بن زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کو بھی اعلانیہ حمایت نہ دی اور ہم نے دیکھا کہ زید بن علی بن حسین کا معاملہ سامنے آیا تو امام باقر نے اس پہ بھی اعلانیہ اقدام سے گریز کیا لیکن یہ وقفے وقفے سے اٹھنے والی مسلح بغاوتیں اور لوگوں کی جانب سے وقفے وقفے سے امویوں کو للکارنے کے سلسلہ کی ایک
Chronical study
ہمیں یہ بتلانے کے لئے کافی ہے اموی ” واقعہ کربلاء اور اس کے بعد حرۃ جیسے واقعہ ” کے بعد فتح عظیم خیال کررہے تھے وہ کتنی ناپائیدار تھی اور اپنی حکومت کو باقی رکھنے کے لئے عوام پہ زبردست جبر اور ظلم سے کام لینا پڑا تھا اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانے میں اگر تاجروں کی بغاوت سامنے آئی یا غلاموں نے اعلان جنگ کیا یا کسی علاقے کے لوگوں نے امویوں کی بیعت توڑی تو سب نے نعرہ ” الرضا من آل محمد ” ہی لگایا اور اس طرح سے ہم تاریخ میں دیکھ سکتے ہیں کہ سب کے سب ” علی ” کے گرد جمع ہوکر ہی مظلوموں اور محکوموں کی جنگ لڑنے میں مصروف تھے اور ایک لاتاریخی رجحان کا حامل دانشور ان تحریکوں کے بارے میں اور ان کو لیکر اٹھنے والی شخصیات کے بارے فتوے کے کند ہتھیاروں سے حملے کئے گئے اور مشرک ، کافر ، گمراہ کی رٹ لگائی گئی اور اسے ارتداد کہہ کر مسترد کرنی کوشش کی گئی – ویسے مجھے خیال آتا ہے کہ مختار کے حوالے سے دعوی نبوت کا جو قصّہ گڑھا گیا اور بابک خراسانی کو ایک مرتد کے روپ میں جو دکھایا گیا وہ بھی ان کی جدوجہد اور لڑا ئی کی سماجی مادی بنیادوں کو چھپانے کی شعوری کوشش تھی
امام جعفر الصادق کی خاموش پالیسی
میں نے مکتب علی شناسی اور اس کے مدمقابل مکتب تکفیر و مکتب ملوکیت کے بارے میں کافی اصولی باتیں وضاحت سے بیان کردی ہیں اور یہاں پہ میں ایک قول امام محمد باقر کا زکر کرکے بات کو آگے بڑھاؤں گا – آپ نے فرمایا
ثلاثة من مكارم الدنيا والآخرة:أن تعفو عمن ظلمك .وتصل من قطعك.وتحلم إذا جهل عليك
یعنی تین چیزیں دنیا و آخرت میں مکارم الاخلاق ہیں : اس سے درگزر کرنا جس نے تجھ پہ ظلم کیا ، جس نے قطع تعلق کیا اس سے جوڑنا اور جب جاہل سے سابقہ ہو تو حلم و نرمی سے کام لینا
لیکن ظالم سے بدلہ نہ لینا مکارم الاخلاق ہے لیکن ” ظلم ” سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی یہ بات ذھن نشین رہنی چاہئیے
اور امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا
فقد البصر أهون من فقد البصيرة
آنکھوں کی بنیائی کے ضایع ہونے سے کہیں زیادہ بڑا نقصان بصیرت کا کھوجانا ہوا کرتا ہے
اور آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ
أفضل النّاس أنفعهم للنّاس
تم سے سب سے بہترین شخص وہ ہے جو ” الناس ” یعنی عوام کے لئے سب سے زیادہ نفع بخش ہے
اور پھر آپ کے اس قول پہ بھی نظر ڈالیں
أفضل الجود إيصال الحقوق إلى أهلها
سب سے افضل سخاوت حقوق کو اس کے اہل تک پہنچانا ہے
آپ نے فرمایا
الجاھل میّت بین الاحیاء
کہ جاہل ایسا ہے جیسے زندوں کے درمیان مردہ
اور زرا اس قول پہ بھی نظر ڈالیں
إنّ أحببت أن تكون أسعد النّاس بما علمت فاعمل
اگر تو چاہتا ہے لوگوں میں سب سے زیادہ کامیاب و کامران ہو تو جو علم میں ہے اس پہ عمل کیا کر
اگر آپ ” دور اموی ” میں حکمران طبقات کے غالب نظریات اور افکار کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ وہ زمانہ تھا جب فقدان بصارت کو تو بڑا نقصان خیال کیا جاتا لیکن فقدان بصیرت کو کچھ بھی نہیں جبکہ اس سماج کے اندر خاص طور پر مابعد کربلاء دور میں سعادت کا معیار اپنے علم پہ عمل نہ کرنا ٹھہر گیا تھا اور جاہل اسقدر تھے کہ ان کے مقابلے میں زندہ شعور کے حامل بہت ہی کم رہ گئے تھے ، ایسے میں مکتب علی شناس کے کندھوں پہ زمہ داری یہ تھی کہ ایک تو وہ یہ واضح کردیں کہ مکتب علی شناس ” قریشیت ، عربیت ۔ شعوبیت ، ہاشمیت بمقابلہ عجمیت ، امویت ” نہیں ہے اور یہ کسی کینہ ، بغض یا بدلے کی آگ پہ پختہ ہونے والا مکتب نہیں ہے اور نہ ہی یہ اقتدار کی جںگ ہے اور اس میں کمزوروں کو طاقتور بنانا ہی مقصد ہے –
عدل کی مثالی حالت کو پانا یہ ایک جدوجہد تھی مکتب علی شناس کی مابعد کربلاء دور میں بھی اور اس کے لئے ابتدائی طور پہ خفیہ زیر زمین تحریک کا آغاز کیا گیا –امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم ، امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنھم نے اپنے اپنے دور میں جدوجہد کی بنیاد اس امر پہ رکھی کہ ” تنازعہ ” قریش کی دو ذیلی شاخوں کی سرداری کا نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی بھی قسم کی نسلی جنگ ہے بلکہ یہ تو افتادگان خاک ، مستضفعین فی الارض (زمین پہ کمزوروں ) کی ملاء الارض زمین کے ناخداؤں کی مفروضہ خدائی کے خلاف جدوجہد ہے –اور یہ حق کو ابہام کے پردوں میں چھپانے والوں کے خلاف ایک جدوجہد ہے –آئمہ اہل بیت کے اقوال میں اکثر ہم ” جہالت ” کے خلاف بات پاتے ہیں اور ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جب آئمہ ” جہالت اور حسی مردنی ” کے درمیان تعلق پر زور دیتے ہیں تو ان کے نزدیک اس سے کیا مراد تھی –
امام جعفر صادق اکثر جگہوں پہ یہ واضح کرتے ہیں کہ ایک ظلم وہ ہے جو کسی صورت معاف نہیں ہوگا اور وہ ظلم شرک ہے ، دوسرا وہ ظلم ہے جو توبہ کرنے سے اللہ معاف کرسکتا ہے اور وہ ظلم ہے جو عبادات کے معاملے کے اندر ہوجائے جبکہ ایک ظلم وہ ہے جو بندوں پہ بندوں کی جانب سے روا رکھا جاتا ہے اور اس ظلم کو اللہ بھی معاف نہیں کرتا جب تک کہ مظلوم نہ اسے معاف کردیں تو امویوں کے زیر اثر ، ان کے دربار سے جڑے مفتیان عظام نے یہ کیا کہ ظلم کی معافی بارے صوابدید کو ظلم علی العباد تک بڑھا دیا کیونکہ اسی صورت میں وہ اپنے مظالم کا جواز تلاش کرسکتے تھے لیکن مکتب علی شناس نے اسی توسیع کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور ظالم و مظلوم کے درمیان بپا معرکے درمیان غیر جانبداری کے ڈھکوسلے کو مسترد کرڈالا – مساوات اور برابری کے مظاہرے کو پنج وقتی نماز باجماعت کے موقعہ تک محدود کرنے کی ڈاکٹرائن کو مسترد کردیا اور اس مکتب نے توحید کے اثبات کا عملی مادی ثبوت ” مساوات و برابری ” کی مادی اشکال میں طلب کیا اور یہی وجہ تھی کہ امویوں اور عباسیوں دونوں کو مکتب علی شناس نے باور کرانے کی کوشش کی کہ بیت المال ، سرکاری خزانہ “لوگوں کی امانت ” ہے اور ” المال الناس ” لوگوں کی اشتراکی ملکیت ہے ناکہ یہ ” مال للہ ” ہے کہ حاکم جیسے چاہے اسے خرچ کرنے کا مطلق اختیار رکھتا ہو
امام جعفر الصادق کے زمانے میں اموی سلطنت کھوکھلی ہوچکی تھی اور اب گری کہ تب گری جیسی کیفیت سے دوچار تھی اور اس زمانے میں جو عباسی خاندان تھا وہ بھی امویوں کے خلاف ابھر کر آنے والی ” اصلاح اور انصاف ” کی تحریک کے ساتھ کھڑا ہوگیا تھا اور وہ بھی الدعوۃ للرضا من آل محمد کا نعرہ بلند کررہا تھا اور مکتب علی کے ساتھ اپنی وفاداریاں رکھنے والے اس تحریک کے ساتھ جڑ ہی اسی بنیاد پہ رہے تھے کہ ان کے خیال میں اس تحریک کا مقصد امام عادل کو لیکر آنا ہے اور وہ جناب امام جعفر الصادق کی زات گرامی ہی ہوگی اور اگر ہم اس زمانے کی تحریک کا ہراول قائد دستہ دیکھیں تو اس میں ہمیں ابو سلمہ الخلال جیسا مکتب علی کا ایک سرکردہ رہنماء انتہائی اگلی صفوں میں ملتا ہے تحریک کے پالیسی ساز مرکز پہ اس کا ہاتھ پڑتا تھا وہ بھی یہی خیال کررہا تھا کہ تحریک کی کامیابی کی صورت میں امامت عامہ امام جعفر کے ہاتھ آئے گی اور امویوں کے خلاف انقلاب کامیاب ہوگیا تو اس وقت کے جو عباسی خاندان تھا اس نے اپنے آپ کو خلافت کا امیدوار کے طور پہ پیش کیا تو ایسے موقعہ پر ابوسلمہ الخلال نے اس فیصلے کے خلاف بغاوت کرنے کی کوشش کی تو امام جعفر صادق نے اس کو روک دیا
جب 749ء / 132ھ میں بنوامیہ کے خلاف اٹھنے والی تحریک کامیاب ہوگئی تو اس زمانے میں اس تحریک کے سرکردہ رہنماؤں میں سے عمر الاشرف اور عبد اللہ المہد نے امام جعفر صادق سے کہا کہ وہ زمام اقتدار سنبھالنے کی تیاری کریں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ امام جعفر صادق نے اسے نہ صرف مسترد کردیا بلکہ انھوں نے ابو سلمہ الخلال کا خط بھی جلاڈالا اور آپ نے عمر الاشرف و عبداللہ المھد کو اس طرح کے اقدام سے باز رہنے کو کہا
بنوامیہ کے خلاف جب تحریک اپنے عروج پہ تھی تو امام جعفر صادم کے ساتھ بنوعباس کے خاندان کے سرکردہ رہنماؤں نے ایک خفیہ ملاقات کی تھی – ملاقات کرنے والوں میں عباس السفاح و المنصور وغیرہ تھے – یہ ملاقات غالبا 737ء/120ھ میں مدینہ کے قریب کسی مقام پہ ہوئی تھی اور اس موقعہ پر بنو عباس نے جعفر صادق سے کہا تھا کہ ہاشمیوں کو بنو امیہ کے خلاف متحد ہونا چاہئیے اور سیدھے سبھاؤ بنوعباس چاہتے تھے کہ امام جعفر بنو عباس کے ساتھ کھڑے ہوجائیں –کتب تواریخ میں یہ درج ہے کہ اس ملاقات کے دوران سفاح نے تجویز پیش کی کہ آل حسن کے امامت کے دعوے کو قبول کرلیا جائے لیکن جعفر صادق نے اس تجویز کو مسترد کردیا اور مجھے یہ لگتا ہے کہ اس سمے جناب امام جعفر نے یہ ادراک کرلیا تھا کہ بنو عباس کے سرکردہ رہنماء بنوامیہ کے خلاف انصاف و مساوات کی تحریک کو خاندانی جھگڑے کے طور پہ متعارف کروانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کو معلوم تھا کہ اگر جناب جعفر کی جانب سے وہ بات کہی گئی جس کا تقاضا سفاح و منصور کررہے تھے تو بنوامیہ کے اقتدار کو گرنے میں دیر نہیں لگے گی
امام جعفر الصادق نے اس موقعہ پر یہ حکمت عملی اختیار کی کہ انھوں نے ایک طرف تو بنوامیہ کے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریک میں شامل اپنے ساتھیوں اور پیروکاروں کو شرکت سے نہ روکا کیونکہ بہرحال وہ بنوامیہ کی جابر حکومت کا باقی رہنا گوارا نہیں کرتے تھے لیکن انہوں نے بنوعباس سے اپنا فاصلہ بھی برقرار رکھا اور امام جعفر کے خدشات اس وقت ٹھیک ثابت ہوگئے جب بنوعباس نے ” الرضا من آل محمد ” کے نعرے کو پس پشت ڈالتے ہوئے خود حکومت سنبھال لی – حکومت پر کنٹرول کرنے کے بعد بنو عباس نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ ان کے مسلم سماج کی قیادت کے تخت پر براجمان ہونے کے جواز کو سب سے بڑا خطرہ اگر لاحق ہے تو وہ اب علوی کیمپ سے ہی ہے اور یہآں سے مکتب علی شناس کا ایک اور امتحان شروع ہوگیا –ڈاکٹر علی شریعتی نے بنو عباس کی ملوکیت پر دبیز تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بنوامیہ نے مکتب علی شناس کو زیادہ تر تشدد اور سنگین قسم کی سنسر شپ کے زریعے سے دبانے کی کوشش کی تھی لیکن ان کی جانب سے مکتب علی شناس کو کوئی بہت بڑا فکری ،علمی اور دانشورانہ چیلنج نہیں دیا گیا تھا لیکن یہ بنوعباس تھے جنھوں نے ایک باقاعدہ
Doctrinal oppression
شروع کیا اور یہ غیر محسوس طریقے سے جناب علی کرم اللہ وجہہ الکریم ، پھر امام حسن اور اس کے بعد امام حسین تک تو جواز خلافت آل محمد کے حق میں ثابت کرتے لیکن اس کے بعد اسے پھیلادیتے تھے اور علمی وفکری محاذ پہ انھوں نے اس وقت کے زندہ امام اور مکتب علی شناس کے رہبر اعظم امام جعفر الصادق کی امامت و قیادت پہ فکری حملے شروع کرڈالے – ہم دیکھ سکتے ہیں کہ شروع دن سے بنوعباس نے اپنے آپ کو غیر محفوظ خیال کرنا شروع کردیا اور انہوں نے امام جعفر الصادق کی جانب سے اپنے پیروکاروں سے ” خمس ” اکٹھا کرنے کو اپنے خلاف ایک سازش تصور کیا
بنوعباس کی سیکورٹی نے کیا یہ کہ ایک تو امام جعفر الصادق کو مدینہ ہی قیام کرنے پہ مجبور کیا پھر ساتھ ہی انہوں نے آپ کے پیروکار جو عراق ، مصر ، یمن اور ایران میں بہت زیادہ تھے ان کی سخت نگرانی شروع کردی – بنوعباس کا دور علوم اسلامیہ کی تدوین کا دور بھی ہے اور اسی زمانے کے اندر ہم نے ” جرح و التعدیل ” کے اصولوں کو بھی مرتب ہوتے دیکھا اور بنوعباس نے اس پورے تدوینی دور میں اپنی پوری کوشش اس جانب لگائی کہ ایک تو تاریخ پر کام کرنے والے ان لوگوں کا اعتبار پایہ ثقاہت سے گرادیا جائے جنھوں نے مکتب علی شناس کی تاریخی جڑوں کو مضبوط کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہو اور مامون کے آتے آتے ہم نے دیکھا کہ
Literalist tendency
نے غالب آنا شروع کرڈالا اور اس کی ایک وجہ ان تمام اخبار کو کریش کرنا تھا جو مکتب علی شناس کے تصور امامت و قیادت کو تقویت فراہم کرنے والی تھیں ، وہ سارے راوی جو مکتب علی شناس کی تاریخی جڑوں پہ کام کررہے تھے ان پہ ” کذاب ، مدلس ، واہی ” جیسے الزامات کثرت سے لگائے گئے اور اسی زمانے میں ” فقہ عراق ” کو اہل الرائے کی فقہ قرار دینے کی کوشش بھی کی گئی اور کوفہ کے بطور مرکز علم ہونے کی بجائے ” غداروں ، بے وفاؤں اور کذابوں ” کا شہر ہونے کا ایک لیبل چسپاں کردیا گیا جبکہ یہ امر بالکل فراموش کردیا گیا کہ کوفہ سمیت پورا عراق انتہائی جید ، فقیہ اور عالم صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کی علمی صحبتوں سے مستفید ہوتا رہا ہے –
جناب علی المرتضی ، عبداللہ بن مسعود ، خزیمہ بن ثابت ، عمار یاسر ، ابوزر غفاری ، امام حسن ، امام حسین سمیت ایسے لوگوں کا یہ مسکن رہا جن کا صحبت رسول اللہ کا دورانیہ کافی طویل تھا اور پھر باب شہر العلم ان کے درمیان رہا تھا اور جناب علی المرتضی نے اپنے علمی جواہر زیادہ تر اسی سرزمین عراق میں اپنے شاگردوں کو عطاء کئے تھے تو یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ عراق و کوفہ کی علمی روایت کو ” عجمی یا اسلام سے دور روایت ” قرار دے دیا جائے – یہاں سوال یہ بھی جنم لیتا ہے کہ آخر منصور کیوں مالک بن انس کی فقہ کو بنو عباس کے زیرنگین علاقوں پہ نافذ کرنے کی پیشکش کررہا تھا؟ کیا اسے جناب امام جعفر الصادق کی علمی عمارت نظر نہیں آرہی تھی ؟
میں سمجھتا ہوں کہ خود امام مالک و ابوحنیفہ و اوزاعی جیسے فقیہ شہیر بنوعباس کے بادشاہوں کی چال سمجھ گئے تھے تبھی تو انہوں نے ” قاضی القضاۃ ” چیف جسٹس جیسے عہدوں کی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا اور قید و بند کی صعوبتیں تک برداشت کرلیں تھیں – بنوعباس نے بھی اپنے دور اقتدار میں اسلام کی میٹا فزکس اور تھیالوجی کو سماجیات اور مادی حالات سے الگ کرنے کی کوشش کی اور یہی وجہ ہے اس زمانے میں دربار میں پہلے ” فلسفیانہ مباحث ” کو تجریدی بنیادوں پہ خوب خوب نشر کرنے کی پالیسی سامنے آئی اور مامون کے آتے آتے ہم نے دیکھا کہ کیسے ” کلامی مباحث ” ایک غالب ڈاکٹرائن کے ساتھ پورے مسلم سماج پہ چھاکر رہ گئے –بنوعباس نے اپنی سلطنت میں
Elitist ruling class based culture
کو فروغ دیا تھا اور ان کے زمانے میں اربن سنٹرز سے دور کے جو دیہی مراکز تھے وہآں کسانوں کا شدید استحصال ہورہا تھا جبکہ شہری علاقوں میں غلام اور دستکار بنوعباس اور ان سے جڑی اشرافیہ کی خدمات میں ہی مصروف تھے – یہ غلام ، دستکار ، کسان تھے جنھوں نے بنوعباس کے خلاف بار بار علم بغاوت بلند کرنا شروع کیا اور انھوں نے ملوکیت کو چیلنج کرنا شروع کردیا –سوال یہ جنم لیتا ہے کہ آخرکار وہ کیا وجوہات تھیں کہ بنوعباس نے ابویوسف کو چیف جسٹس بناڈالا اگر آپ قاضی ابو یوسف کی کتاب ” کتاب الخراج ” پڑھیں تو معاملے کی سمجھ آنی شروع ہوجائے گی – بنوعباس نے باہر سے ہی مکتب علی شناس پہ
Doctrinal attack
نہیں کیا تھا بلکہ دور جدید کی اصطلاح میں اگر کہا جائے تو بنوعباس نے خود مکتب علی شناس کے اندر
Enter-ism
کرنا شروع کردیا تھا – امام صادق نے بنوعباس کی حکمت عملی کو پہچاننے کے بعد جو پالیسی اختیار کی اسے ہم
Quiescent Policy
کہہ سکتے ہیں – یہ اصل میں
One step forward, two step backward tactics
تھی اور اس میں انتہائی پھونک پھونک کر قدم رکھنا تھا لیکن یہ بات خود مکتب علی شناس سے وابستہ بعض افراد سمجھنے سے قاصر تھے – ابوالخطاب جیسے کردار تھے جنھوں نے مکتب علی شناس کے اندر انٹرازم کرنے کا موقعہ بنوعباس کو فراہم کردیا – ابوالخطاب نے کوفہ کے اندر وقت سے پہلے بنوعباس کو چیلنج کرنے کی کوشش کی اور اس حوالے سے اس نے اپنی انقلابی لفاظی کو ” اسماعیل ” کے نام پر جائز قرار دلوانے کی کوشش کی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جناب جعفر نے اسے
Discredit
کرنے میں دیر نہیں لگائی لیکن ابوالخطاب کی غلطی نے کافی نقصان پہنچادیا تھا –بنوعباس کی پالیسی تھی کہ جناب جعفر صادق کے حامیوں کےکمیپ کے سب سے مضبوط حلقے عراق اور کوفہ کے اندر انتشار ، تقسیم پیدا کی جائے اور یہ تقسیم وہ پیدا کرنے میں کامیاب رہے – ایک طرف مکتب علی شناس میں تقسیم سامنے آگئی اور خطابیہ سامنے آئے اور پھر اس خطابیہ میں آگے تقسیم ہوئی – مسلم تاریخ ان کو کلامی فرقوں کے طور پہ یاد کرتی ہے اور صرف ” تھیالوجیکل ، کلامی اور مابعدالطبعیاتی ایشوز ” کے حوالےسے ان کی شناخت پہ بات کرتی ہے اور ہمیں بہت کم اشارے اس تقسیم کی سماجی- معاشی اور سیاسی – سماجی بنیادوں کے بارے میں ملتے ہیں جبکہ خود امامیہ مکتبہ فکر کے تھیالوجسٹوں نے ان کی کلامی اور مابعدالطبعیاتی جہتوں پر توجہ کی جبکہ ان کے تاریخی سماجی مادی حالات و واقعات پہ نظر نہ دوڑائی –
اگرچہ بنوعباس نے مکتب علی شناس کے اندر تقسیم کو گہرا کرنے میں کامیابی حاصل کرلی تھی اور کامیابی کے ساتھ انھوں نے جعفر الصادق کو مدینہ تک محدود کردیا تھا اور ان کے افکار کافی حد تک مسخ ہوکر عام عراقی عوام تک پہنچ پاتے تھے لیکن جناب جعفر الصادق کی موجودگی ان کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں تھی اور ایک اور وجہ سے بھی یہ وجود ان کو بری طرج سے کھٹکنے لگا تھا کہ جناب جعفر صادق نے مکتب علی شناس کو پھیلانے اور اس کی بنیادوں کو مضبوط رکھنے کے لئے زیر زمین ایک ایسا نیٹ ورک قائم کرلیا تھا کہ پیغام رسانی اور مکتب علی شناس کے پھیلاؤ کا کام پھر سے ہموار ہونے لگا تھا اور یہ بات بنوعباس کے لئے سخت پریشانی کا سبب تھی تو اسک لئے جناب جعفر صادق کو بھی زندگی سے محروم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور پھر ان کو ذہر دلوایا گیا اور اس طرح سے چھٹے امام کے حصّے میں بھی شہادت کا جام آیا-امام صادق کے زمانے میں سب علوی کیمپ کا سب سے مضبوط گڑھ کوفہ –عراق سخت انتشار کا شکار ہوا –
اسماعیلی اور پھر آگے فتحیہ جیسے گروہ سامنے آئے اور بنوعباس کو عراق پر زبردست فوجی جبر کرنے کا موقعہ مل گیا اور یہی وجہ تھی کہ جعفر الصادق نے اس زمانے میں مکتب علی شناس کو انڈرگراؤنڈ سرگرمیوں کو اوپن سرگرمیاں کرنے سے باز رہنے کی ہدائیت اور اس دوران بنوعباس نے پوری کوشش کی کہ جعفر مشتعل ہوں اور وہ غلطی کریں تاکہ ایک کھلا جبر اور کھلی جارحیت ان کے خلاف عمل میں لائی جائے لیکن وہ مشتعل نہ ہوئے اور ” خاموش پالیسی ” کو آگے بڑھاتے رہے –
جبر ، ظلم ، انتہائی تشدد اور پھر فکری اشتعال انگیز حملے مظلوموں پر کئی طرح کے نفسیاتی اثرات مرتب کرتے ہیں اور بعض اوقات تو یہ ہوتا ہے کہ ظالم ،متشدد جو لیبل مظلوموں پہ چسپاں کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں مظلوموں کا ایک سیکشن اسکی لیبل کو قبول کرتے ہوئے ” ہاں ، ہاں ” کرنے لگتا ہے اور اپنے قائد و امام کی محنت کو ضایع کرنے کا سبب بنتا ہے – جناب امام جعفر کے بعض محب اور پیروکار حلقوں نے یہی غلطی کی – وہ اپنے آپ کو کمپوزڈ رکھنے مین ناکام ہوگئے ، ان کی ہمت جواب دے گئی اور کچھ جناب جعفر کی مدینہ تک جبری محدودیت نے غلط افواہوں کو پھیلنے میں مدد دی-
جناب جعفر صادق کی کوشش تھی کہ مکتب علی شناس سے وابستہ لوگوں کی علمی ، فکری ، سیاسی ، سماجی اور نفسیاتی بنت کاری پختہ ہو اور پروفیشنل انقلابی کیڈرز سامنے آئیں اور لوگوں کو پتہ چلے کہ مکتب علی شناس کوئی تھیالوجیکل کلامی تنازعہ لیکر سامنے نہیں کھڑے بلکہ وہ سماج کی حقیقی حالت میں تبدیلی کے علمبردار ہیں اور وہ شیعی ڈاکٹرئن کو ” عربی بمقابلہ عجمی ” یا ” دو قبیلی جنگ ” بننے نہیں دینا چاہتے تھے اور وہ لوگوں کو یہ بھی باور کرانا چاہتے تھے کہ ” انقلاب ” محض بنوامیہ کے ہٹ جانے اور بنوعباس کے آجانے کا نام نہیں ہے اگر بنوامیہ کا قائم کردہ جبر اور استحصال کا سسٹم قائم رہتا ہے – غلام داری ، کسانوں پہ ظلم اسی طرح سے جاری رہتا ہے اور ایک ہی طبقاتی و سماجی پس منظر کے لوگ ہی حکمران بن جاتے ہیں مسئلہ اپنی جگہ پہ موجود ہے ” المال للہ کی جگہ المال الناس ” نہیں آتا تو پھر تبدیلی کیسی ہے ؟ یہی وجہ ہے کہ ہمیں مدینہ میں جعفر الصادق کے ساتھ ساتھ مالک بن انس اور کوفہ میں ابو حنیفہ و اوزاعی بھی بنوعباس سے ناراض دکھائی دیتے ہیں اور دربار سے دور نظر آتے ہيں –
میں یہاں بات سمجھانے کے لئے یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج معاصر دنیا میں ایک طرف آل سعود ہے جو مصر کے جنرل السیسی کے ساتھ ملکر اسرائیل کے حکمرانوں کے ساتھ ملکر کیمپ ڈیوڈ کو پھیلانے کی کوشش کررہی ہے اور ترکی میں رجب طیب اردوگان ہے جو شام اور عراق کا محاصرہ کررہا ہے یہ سب ملکر کردوں ، یمینیوں ، شامیوں ، لبنانیوں ، مصری ، ترکش عوام کے اندر حقیقی آزادی اور خودمختاری کی لہر کو تشدد سے دبانا چاہتے ہیں اور یہ اس کے لئے تکفیریت کے ہتھیار کو استعمال کررہے ہیں اور یہآں کی عوامی جدوجہد پہ فرقہ وارانہ لیبل بھی چسپاں کرنا چاہتے ہیں اور شدومد کے ساتھ خود کو ” سنّی اسلام ” کے طور پہ پیش بھی کرتے ہیں –
ان کی پوری کوشش ہے مڈل ایسٹ میں عوامی تحریکوں کے ابھار اور بدلے میں بادشاہتوں اور آمروں کے ظلم اور جبر کی پالیسیوں کو ” شیعہ – سنّی ” لڑائی کے طور پہ دیکھا جائے – ایک فرقہ پرستانہ تعبیر اور تشریح کی جائے اور جو کوئی ان کی وہابیت اور تکفیریت کا پردہ چاک کرے اس پر فوری طور پہ رافضی ہونے یا سنّی اسلام کو مغلوب کرنے والی قوت قرار دے دیا جائے – ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خود مظلوموں کے اندر ایسے گروہ موجود ہیں کہ وہ اس طرح کے فرقہ پرستانہ لیبل کو قبول کرنے لگے ہیں اور وہابیت کی پچ پہ کھیلنے والے ہيں – آل سعود اور اس کے اتحادیوں کا کیمپ ایسی صورت حال میں بغلیں بجاتا ہے – انقلاب مصر ، انقلاب شام ، انقلاب لیبیا ، انقلاب یمن کی بہاروں کو فرقہ پرستی کے کند ہتھیاروں سے کچلا گیا اور اسے فرقہ پرستانہ سول وار میں بدلا گیا – اس کے لئے اربوں ریال ڈالر خرچ کئے گئے اور مزید خرچ کئے جارہے ہیں –عوامی تحریکوں پر
Doctrinal attack
کئی چہروں کے ساتھ ہورہا ہے – ایک طرف جماعت اسلامی ، اخوان المسلون ، مودودی ازم ، قطب ازم وغیرہ ہے ، دوسری طرف جاوید احمد غامدی ، زاکر نائیک جیسے نام نہاد ماڈریٹ ہیں ، تیسری طرف کھلے تکفیری سپاہ صحابہ ، طالبان ، لشکر جھنگوی اور ان کے نظریہ ساز مولوی عبدالعزیز ، طاہر اشرفی ، ارشد مدنی ، فضل الرحمان جیسے لوگ ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ گروہ لبرلیان بھی ہے جو اپنے آپ کو الحاد ، سیکولرازم ، اشتراکیت کے لبادے میں چھپاتا ہے طارق فتح ، طارق علی ، المانہ فصیح ، بینا سرور جیسے لوگ اور ان کا ڈاکٹرنل حملہ غریب صوفی سنّی و شیعہ سماجی گروپوں پہ ہے اور یہ ان سب کا
Negative Posture
تشکیل دینے میں مصروف ہیں اور میں صاف صاف کہوں گا کہ ماڈرن پروفیشنل موقعہ پرست کمپراڈور مڈل کلاس یا پیٹی بورژوازی ایک یا دوسری شکل میں نیولبرل ازم کا دفاع ، منڈی کی معیشت کا تحفظ کرنے کے لئے سرمایہ دار یا عالمی سامراجی بورژوازی کی پالیسیوں سے پھیل جانے والی انارکی اور تباہی پہ پردہ ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور ان کا
Discourse of Criticism
بار بار شہری اور دیہی غریبوں کے کلچر اور ان کی زندگیوں کے ساتھ جڑے رسوم و رواج پہ حملہ آور ہوتا ہے اور تکفیری فاشزم کو رعایتی نمبر دیتا ہے اور بقول ریاض ملک حجاجی ایک اور 70 ہزار ہلاکتوں کے درمیان
False equation or Binary
بناکر اسے قبول کرنے پہ مجبور کرتا ہے اور مین سٹریم بورژواوی میڈیا پہ بھی انہی غلط خانہ ساز مساوات گھڑنے والے لبرلیان کا قبضہ ہے تبھی تو غامدی ، زاکر نائیک اور اشرفی جیسے تکفیری چینلوں پر چھائے نظر آتے ہیں