Original Articles Urdu Articles

غامدی کی دین فروشی، مکر اور تکفیری بہروپ کی کہانی، پیجا مستری کی زبانی

post-124178-0-68847300-1382438370-1

آپ لوگوں نے جاوید احمد غامدی کی وہ وڈیوز تو دیکھی ہوں گی جن میں اس نے کہا کہ تصوف، اسلام سے مختلف مذھب ہے، دوسرے لفظوں میں اس نے سنی صوفی اور بریلوی مسلمانوں کو خارج از اسلام یا کمتر مسلمان ثابت کیا، اسی طرح کے خیالات کا اظہار اس شخص نے شیعہ مسلمانوں کے بارے میں کیا اور یزید اور امام حسین کے درمیان کربلا کے سانحہ کو جس میں اہلبیت کا قتل عام کیا گیا، اس شخص نے ایک سیاسی جنگ قرار دیا وغیرہ

اب دیکھیے، اس ویڈیو میں کتنی صفائی اور عیاری سے شیعہ کو کافر، گمراہ اور جہنمی قرار دے رہا ہے – یہ شخص یقینی طور پر خیر الماکرین کا عملی نمونہ اور چلتی پھرتی تصویر ہے

جاوید احمد غامدی ایک بہروپیے، دین فروش ملا کے سوا کچھ نہیں ہے اور یہ شخص بہت بڑا بہروپیا ہے جس کے پاس مکر کے بے شمار تیر ہیں، اس ویڈیو کلپ میں غامدی ایک ہی سانس میں شیعہ کو دین سے پهرے ہوئے مرتد تو کہتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ کہتا ہے کہ اسے وہابیوں یا دیوبندیوں کی جانب سے ان کے ارتداد کے سبب ان کو قتل کرنے کے فتوے سے اختلاف ہے لیکن پهر امام التکفیر ابن تیمیہ ، شاہ ولی اللہ ، محمد بن عبدالوهاب اور مودودی کے عظیم ہونے بارے لمبی تقریر کرے گا اور ان سے اختلاف کا بہانہ کرکے اگلی سانس میں کہے گا کہ ان کے سامنے میری کیا حثیت، گویا اس کا کہنا یہ ہے کہ اس کے نزدیک شیعہ کافر، مرتد و مشرک ہیں لیکن ان کو سزا دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں ملے گی – لیکن غامدی کی جانب سے شیعہ کو مرتد اور اہلسنت صوفی و بریلوی کو گمراہ اور قبر پرست مشرک کہنے والے سلفی وہابی اور دیوبندی مولویوں کی قصیدہ گوئی ثابت کرتی ہے کہ اگر کوئی اس پہ عمل بهی کرے گا تو اسے اعتراض نہیں ہوگا

غامدی، شیعہ کو کافر و مشرک کہ کر جہنمی ہونے کا سرٹیفیکٹ دیتا ہے اور ان کے قتل کے فتوے دینے والے ابن تیمیہ اور ابن وهاب نجدی کی قصیدہ گوئی کرتے ہوئے جب یہ کہتا ہے کہ یہ بہت عظیم فقہا تهے اور میری ان کے آگے کیا حثیت تو گویا وہ شیعہ کو قتل کرنے والوں سے اپنا اختلاف محض فقہی سمجهتا ہے، یہ ہے کاریگری تکفیری ملا جاوید غامدی کی

اگر آپ غور سے اس کی بات کو سنیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ کیا کہنا چاہ رہا ہے – یہ اصل میں یہ کہہ رہا ہے کہ شیعہ کافر اور مرتد تو ہیں لیکن دوسرے صریح تکفیری دہشت گردوں سے اس کا اصل اختلاف کافر اور مرتد کی دنیاوی سزا پر ہےنہ کہ تکفیر اور ارتداد کے فتووں پر – شیعہ کے اخروی جہنم پر بھی اس نے ملفوف اشارہ کر دیا

اور پھر یہ ڈیڑھ گھنٹہ آپ کو یہ بتانے میں صرف کرے گا کہ ابن تیمیہ ، شاہ ولی اللہ دہلوی ، محمد ابن عبدل وہاب، امین احسن اصلاحی ناصبی، حمید الدین فراہی ناصبی، مودودی یانی آج کے دور میں تکفیری دہشت گردی کے اصلی بانی کتنے بڑے عالم اور فقیہان تھے – گو کہ ان سے اس کا اس معاملے پر اختلاف ہے لیکن اگلی سانس میں یہ بتانا بھی نہیں بھولے گا کہ ان کی راے کے مقابل میری راے کی کوئی حثیت نہیں اور عین ممکن ہے کہ میری راے غلط ہو – کمال عجز و انکسار ہے، دراصل مکاری کی انتہا ہے

مختصر بات یہ کہ یہ کہہ رہا ہے کہ شیعہ کے کافر اور مشرک ہونے میں تو کوئی اختلاف نہیں – بس اختلاف اس بات میں ہے کہ شیعہ کو اس کے کفر و شرک کی سزا اس دنیا میں دینی ہے یا آخرت میں – امید ہے آپ اس لفظوں کے کھلاڑی کی الفاظ گری خوب سمجھ گئے ہوں گے

https://www.facebook.com/saleha.hussain/videos/10207810261109002/?hc_location=ufi