Original Articles Urdu Articles

تاریخ سے ایک ورق: شہید ملت لیاقت علی خان نے کانگریسی دیوبندیوں کے جاسوس فرقہ پرست مولوی شبیرعثمانی کو مسلم لیگ سے کیوں نکالا

12961753_820139184753345_7699420015081350306_n 12963623_820139391419991_8037699535574942509_n

کانگریسی دیوبندیوں کا جاسوس مولوی شبیر احمد عثمانی انتہائی عیار، فرقہ پرست، اور یا رسول الله کا مخالف شخص تھا – اس نے جھوٹی بشارت کا خواب سنا کر وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بہلایا اور قائد اعظم محمد علی جناح کے جنازے کی امامت کروانے بیٹھ گیا، قرارداد مقاصد میں اسی لعنتی شخص نے لبیک یا رسول الله کو پاکستان کا قومی نعرہ اور مشن بننے میں رکاوٹ ڈالی – لیکن بعد میں شہید لیاقت علی خان اس کے مذموم مقصد بھانپ گئے کہ یہ شخص پاک سرزمین میں اقلیتی تکفیری دیوبندی دھرم کو نافذ کرنا چاہتا ہے

یہی وجہ ہے کہ شہید ملت لیاقت علی خان نے مردود عثمانی دیوبندی کو مسترد کر دیا اور یہ مردود مسلم لیگ سے نکالا گیا اور تکفیری مقاصد کے لئے جمیعت علما اسلام کی بنیاد رکھنے پر مجبور ہوا

دیوبندیوں کا مولوی محمد فیاض سواتی لکھتا ہے

“علامہ عثمانی رح بھی بہت جلد ہی بھانپ گئے تھے ، جو لوگ ان کی قربانیوں کو کیش کرتے ہوئے ان ہی کے کندھوں پر سوار ہو کے اسمبلیوں میں پہنچے تھے ، سب سے پہلے ان ہی نے انہیں ڈھنسا تھا ، میں نے اپنے والد ماجد رح سے یہ بات سنی تھی کہ ” جب مولانا عثمانی رح اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے اور اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے یہ نقطہ اعتراض اٹھایا تھا کہ یہاں ارکان اسمبلی اپنی تقریریں انگلش کی بجائے اردو میں کریں تاکہ ہمیں بھی سمجھ آئے کہ کیا کہا جارہا ہے اور پھر ہم بھی اس بحث میں حصہ لے کر اپنی رائے کا اظہار کریں تو بجائے اس کے کہ ان کی اس معقول بات کو کوئی اہمیت دی جاتی الٹا ان کو توہین آمیز انداز میں یہ کہا گیا کہ مولانا آپ اپنی نشست پر بیٹھے رہیں ہم نے تو آپ کو صرف دعا کے لئے بلایا ہے ، اس ناروا سلوک پر صدمہ سے مولانا کئی دن تک بہت ہی روئے تھے اور پھر انہوں نے اپنے مخلص ساتھیوں اور شاگردوں سے فرمایا تھا کہ آپ لوگ میرے ارد گرد اکٹھے ہوجائیں تو انہوں نے جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھی تھی ۔ ”

مومن خان سواتی دیوبندی لکھتا ہے

“حضرت علامه عثمانی مرحوم جب آخری سفر میں بھاولپور آئے تو ایک شاگرد نے ان سے کها حضرت هم آپ کی صحت کے لئے دعاگو ھیں جس پر علامه نے حسرت بھرے لهجے میں فرمایاتھا که کونسی صحت اور کونسی زندگی کی بات کرتے ھو میں تو اس دن مرچکا ھوں جس دن آزادی کے بعد مجھے لیاقت علی خان نے کہا تھا مولانا، اب اسلامی یعنی دیوبندی نظام کے لئے زیاده سرگرمی دکھانے کی ضرورت نھیں آپ گھر بیٹھ جائیں جب کبھی ضرورت پڑے گی تو ھم آپ کو خود بلالیاکریں گے فرمایا میں تو اسی دن مرچکا ھوں”