Original Articles Urdu Articles

اسلامسٹ بھائی عامر ہاشم خاکوانی کے نظریہ خلافت کے جواب میں – وجاہت مسعود

wajahat

مکالمہ برادر عزیز عدنان خان کاکڑ صاحب اور برادر عزیز عامر ہاشم خاکوانی صاحب میں جاری ہے اور دلائل کی ذمہ داری بھی ان دو محترم اصحاب ہی پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم موضوع اجتماعی زندگی سے تعلق رکھتا ہے اور برادرم خاکوانی نے حالیہ تحریر میں کچھ ایسے نکات اٹھائے ہیں جن کا خطاب اس گروہ سے ہے جس پر عمومی انداز میں لبرل ہونے کی تہمت دھری جاتی ہے۔ درویش بھی لبرل ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے اور اسے تحقیر کا استعارہ نہیں سمجھتا۔ میری رائے میں اردو زبان میں لبرل ازم سے قریب اصطلاحات فراخ دل، روشن خیال، روادار، انسان دوست اور وسیع المشرب ہیں۔ یہ سب تو مثبت صفات ہیں۔ ایک ہندو بھی فراخ دل اور انسان دوست ہوسکتا ہے۔ ایک ہندو تنگ نظر بھی ہوسکتا ہے۔ ایک کو گنگا رام، جواہر لعل نہرو، وی پی سنگھ اور آئی کے گجرال کہا جاتا ہے۔ دوسرے کو ولبھ بھائی پٹیل اور نریندر مودی کہا جاتا ہے۔

ایک مسلم وسیع المشرب اور روادار بھی ہوسکتا ہے، اسے محمد علی جناح، بیرسٹر آصف علی، ڈاکٹر ذاکر حسین، سیف الدین کچلو اور حسرت موہانی کہا جاتا ہے۔ ایک مسلمان متعصب اور تنگ نظر بھی ہوسکتا ہے۔ اسے شبیر احمد عثمانی، ڈاکٹر اسرار احمد اور منور حسن کہا جاتا ہے۔ ایک افریقی امریکی مارٹن لوتھر کنگ ہوتا ہے اور ایک افریقی امریکی میلکم ایکس ہوتا ہے۔ ایک یہودی موشے دیان ہوتا ہے اور ایک یہودی رابن اسحاق ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ رواداری، انسان دوستی اور روشن خیالی اخلاقی نصب العین ہیں۔ جو ان اقدار کو اچھا سمجھتے ہیں انھیں ان کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور اگر کوئی ان اقدار سے بے نیاز رہنا چاہتا ہے تو اسے انتخاب کا حق ہے۔ لبرل ازم کوئی قائم بالذات گروہ نہیں ہے اگرچہ معیشت میں لبرل ازم کا مکتبِ فکر موجود ہے جو اقتصادی سرگرمیوں میں ریاست کی کم سے کم مداخلت کا علمبردار ہے۔

اسی طرح فلسفے میں بھی روشن خیالی کی روایت موجود ہے۔ سیاست میں بھی رجعت پسندی کے مقابلے میں انسان دوست سیاست کی روایت موجود ہے۔ تاہم عمومی طور پر لبرل ازم فرد اور اس کی آزادیوں پر زور دیتا ہے۔ یہ درویش ان اقدار کو مثبت اور قابل تعریف سمجھتے ہوئے اس بحث میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں۔

محترم بھائی عامر ہاشم خاکوانی خود کو اسلامسٹ قرار دینا پسند کرتے ہیں۔ عاجز کی تفہیم یہ ہے کہ اسلامسٹ مسلمان مذہب کو ایک سیاسی نظام سمجھتے ہیں۔ سیاست بنیادی طور پر اجتماعی زندگی کے بارے میں پائے جانے والی مختلف آرا اور ترجیحات میں مسلسل مکالمے کا نام ہے۔ مکالمہ دلیل سے کیا جاتا ہے، دلیل میں دعویٰ نہیں ہوتا ہے۔ دوسری طرف عقیدہ تسلیم کرنے کا نام ہے۔ کسی بھی مذہب کا ماننے والا جو بھی دلیل پیش کرے اس سے اختلاف نہیں کیا جاتا۔ جہاں سے فرد کے لئے عقیدے کی آزادی شروع ہوتی ہے، خارجی دنیا کے لئے دلیل کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔

چنانچہ مذہب اور سیاست میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ سیاست میں دلیل کی اجازت ہے اور عقیدہ کو بغیر دلیل کے بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ عقائد کا اختلاف انسانوں میں ہمیشہ سے موجود ہے اور مستقبل قریب میں بھی مذہب کا تنوع ختم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ چنانچہ انسانوں کے لئے ایک راستہ یہ ہے کہ فرد کی مذہبی آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے دلیل اور اختلاف رائے کو سیاسی بندو بست تک محدود کر دیا جائے۔ اس کا متبادل یہ ہے کہ سیاست میں عقیدے کو دخل دے کر مستقل اختلاف اور نزاع کی صورت پیدا کی جائے۔ اسلام کو ایک مذہب کے طور پر دیکھا جائے تو دنیا میں ڈیڑھ ارب انسان امن کے اس مذہب کی پیروی کرتے ہیں اور دنیا میں ساڑھے پانچ ارب انسان اسلام کے پیروکار نہیں ہیں۔

اسلام کے ساتھ کسی مخاصمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کسی بھی مذہب یا عقیدے کی مخالفت ایک بے معنی سرگرمی ہے اور سیاسی طور پر غیر درست فکر ہے۔ البتہ اسلام ازم کی مخالفت کا حق ہر اس شخص کو ہے جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اسلامسٹوں کے تصور مذہب و سیاست سے اتفاق نہیں کرتا یا غیر مسلم ہے۔ کیونکہ اسلام ازم عقیدے کو ایک سیاسی بندوبست کی شکل دے کر تمام اختلافی عقائد اور آرا کے ماننے والوں کے یکساں سیاسی اور معاشرتی حقوق کے لئے خدشات پیدا کرتا ہے اور اس میں وہ مسلمان بھی شامل ہیں جو خود کو اسلامسٹ نہیں کہتے۔  اسلام ایک عقیدہ ہے اور ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ اسے تسلیم کرے اور اس کی پیروی کرے۔ اسلام ازم ایک سیاسی نکتہ نظر ہے جس سے اختلاف کا حق عقیدے کی مخالفت نہیں بلکہ انسانوں کی جائز سیاسی اور معاشرتی آزادی کا اظہار ہے۔

محترم عامر ہاشم خاکوانی نے مستقبل میں مسلم اکثریتی ریاستوں کے اتحاد کا تصور پیش کیا ہے۔ امید رکھنی چاہئے کہ اس اتحاد میں ایران اور سعودی عرب بھی شامل ہوں گے۔ تاہم اس اتحاد میں کسی ریاست کی شمولیت یا استخراج کا معاملہ اس مجوزہ اتحاد کا داخلی معاملہ ہے۔ چونکہ یورپی یونین کی مثال پیش کی گئی ہے لہٰذا یورپی یونین کے حوالے سے کچھ نکات ایسے ہیں جن پر خارجی دنیا کی نظر ہوگی کہ خاکوانی صاحب کا مجوزہ اتحاد یا خلافت ان پر کیا موقف اختیار کرتی ہے۔

  • متعین جغرافیائی سرحد۔۔۔ ماضی میں اسلامی ریاست کی کوئی ایسی مثال موجود نہیں جب ریاست کی متعین جغرافیائی حدود کو تسلیم کیا گیا ہو۔ ماضی قریب میں افغانستان کی طالبان امارت نے ڈیورنڈ لائین کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ تادم تحریر عراق اور شام کی سرحدیں ملیامیٹ ہوچکی ہیں، چناچہ اسلام ازم سے اتفاق نہ کرنے والے فرد اور ریاستیں بجا طور پر جاننا چاہیں گی کہ خاکوانی صاحب کی مجوزہ خلافت اپنی متعین جغرافیائی حدود پر اکتفا کرے گی یا اسکی حقانیت سرحدوں کو روندتی ہوئی دوسرے علاقوں تک توسیع چاہے گی۔
  • یورپی یونین میں قانون سازی کی بنیاد عقل عامہ ہے اور تمام شہری قانون سازی میں حصہ لینے اور کسی بھی ریاستی عہدے پر فائز ہونے کا حق رکھتے ہیں۔ یورپی یونین میں شامل ہر پارلیمنٹ قانون سازی کا مطلق اختیار رکھتی ہے۔ جاننا چاہئےکہ خاکوانی صاحب کی مجوزہ خلافت میں ان تین بنیادی نکات پر کیا اصول اختیار کیا جائے گا۔
  • انتقال اقتدار تاریخی طور پر کسی ریاست کے استحکام اور انتشار میں حد فاصل رہا ہے۔ چناچہ سوال کیا جانا چاہئے کہ خاکوانی صاحب کی مجوزہ خلافت میں اقتدار کا جواز کیا ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں حاکمیت کا جواز کیا ہوگا۔ (کیا عوام حاکمِ اعلیٰ ہوں گے؟) نیز یہ کہ انتقال اقتدار کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

اگرچہ تاریخ کا حوالہ بعض محترم بھائیوں کو بہت ناگوار گزرتا ہے لیکن جب عزیز محترم عامر خاکوانی “جلدبازی میں خلافت قائم کرنے” کے خواہش مند عناصر پر افراتفری، انتشار اور قتل و غارت پھیلانے کا الزام لگاتے ہیں تو ان سے یہ پوچھنے کا جواز بنتا ہے کہ فروری 1989 سے ستمبر 1996 تک افغانستان میں مجاہدین باہم افراتفری انتشار اور قتل و غارت پھیلا رہے تھے تو دعوت اور تعلیم کا راستہ تجویز کرنے والوں نے ان کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ 2005 میں تحریک طالبان پاکستان کے قیام کے بعد جون 2014 تک پاکستانی طالبان کی عذر خواہی اور حمایت کیوں کی گئی؟

محترم عامر ہاشم خاکوانی فرماتے ہیں کہ “اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی زندگی کے مختلف شعبوں کے حوالے سے اسلام کا مکمل ماڈل، فکری اور عملی سٹرکچر اور رہنمائی کرنے والے اصول ہیں”

اس ضمن میں انہوں نے اسلام کے تصور معیشت کے بنیادی عناصر یاد دلائے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تصور معیشت بیرونی دنیا سے منقطع ہو گا اور صرف داخلی سطح پر اختیار کیا جائے گا۔ بوقت ضرورت بیرونی دنیا کے ساتھ معاشی معاملت میں معیشت کے ان داخلی تصورات کا اطلاق کیسے ہوگا؟

محترم دوست نے “اسلام کے مکمل ضابطہ حیات میں۔۔۔ حیا، حفظ مراتب اور تحفظ فروج کو اخلاق کے بنیادی اجزا قرار دیا ہے”۔ جاننا چاہئے کہ قانون میں حقوق اور آزادیوں کی اکائی فرد انسانی ہے۔ قانون میں گروہی حقوق کی فہرست خاصی محدود ہے جس میں ریاستوں کا حق خود ارادیت نیز بین الاقوامی تعلقات میں فریق  ریاستوں کے حقوق شامل ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے معیارات کی اکائی فرد انسانی ہے۔ مذہب کی آزادی ایک فرد کا حق ہے۔

مذہب کی آزادی ایک ناقابل انتقال انفرادی حق ہے یعنی کسی شخص کے  مذہب کی آزادی متعلقہ مذہبی گروہ کو منتقل نہیں کی جاسکتی۔ کسی مذہبی گروہ میں شمولیت اختیار کرنے میں فرد آزاد ہے لیکن اسے کسی گروہ میں شمولیت پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح “تحفظ فروج” فرد کے حق خلوت اور حق تحفظ سے تعلق رکھتا ہے۔ فرد کی آزادیوں کو معاشرے میں پائے جانے والے “تحفظ فروج” کے مفروضہ تصورات کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح فاضل دوست نے اقلیت کے تصور کا جس طرح ذکر کیا ہے اس سے خیال پیدا ہوتا ہے کہ کسی معاشرے میں مذہب، زبان اور نسلی اعتبار میں عددی اقلیت میں ہونا گویا کوئی تعزیر کا درجہ ہے۔ اور اکثریتی گروہ اقلیت پر بالادستی قائم کرنے اور اس کے حقوق متعین کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ یہ تصور عمرانی معاہدے کے ان بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے جن میں تمام انسانوں کو مذہب، زبان، نسل اور جنس سے قطع نظر برابری کا درجہ دیا جاتا ہے۔

یہاں پر جمہوریت میں مساوات کے اصول اور کثرت رائے کے طریقہ کار کو گڈ مڈ کیا جا رہا ہے۔ کسی ریاست میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد اجتماعی بندو بست میں شرکت، معاشی حقوق تک رسائی اور انفرادی آزادیوں کے تحفظ کا یکساں استحقاق رکھتے ہیں اور اس مساوات کو مسترد کرنے والے کسی بندوبست کی مخالفت کا تمام انسانوں کو پیدائشی حق حاصل ہے۔

Source:

http://humsub.com.pk/11212/wajahat-masood-55/

(2)

مجوزہ ضابطہ حیات کی تشریح میں ہمارے ممدوح خاکوانی صاحب نے تصور علم کا ذکر بھی کیا ہے اور اس ضمن میں نکات اٹھائے ہیں کہ “علم کی کسی مسلمان اور اسلامی ریاست کے نزدیک کس قدر اہمیت ہونی چاہیے، علمی فضا، اہل علم کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے۔ علمی مہارت رکھنے والے اہل علم کی کس قدر توقیر کی جائے”۔ گزارش یہ ہے کہ علم جدید انسانی معاشرے میں ایک متحرک اجتماعی عمل ہے جو معیشت، معاشرت اور سیاسی بندوبست کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ علم دربار میں کسی عالم کے احترام کا معاملہ نہیں ہے۔ علم وہ روشنی ہے جس کی رہنمائی میں ریاست آگے بڑھتی ہے۔ ریاست علم کے پھیلائو اور سمت کو اختیار کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ علم ریاست کے تابع نہیں ہوتا۔ کسی خلیفہ کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ایک دن کسی پسندیدہ علم کو دربار میں اعلیٰ منزلت عطا کرے اور دوسرے دن اس کی سر بازار پٹائی کر کے قید خانے میں ڈال دے۔ علم کی آزادی خیال، تدریس اور اظہار کی آزادیوں سے جڑی ہوئی ہے اور ان آزادیوں کو بالا دستی دیئے بغیر کوئی معاشرہ ترقی کی دوڑ میں دوسری ریاستوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

محترم خاکوانی صاحب نے بتایا ہے کہ کچھ کمیونسٹوں کا یہ کہنا ہے کہ گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں کمیونزم ناکام نہیں ہوا بلکہ کمیونسٹ ناکام ہوئے تھے۔ یقیناَ ایسا موقف رکھنے والے کچھ افراد سے خاکوانی صاحب کی ملاقات ہوئی ہوگی اور اپنے موقف کا دفاع کرنے کی ذمہ داری بھی ان افراد ہی پر عائد ہوتی ہے۔ درویش کی رائے یہ ہے کہ جب کوئی معاشی اور سیاسی نظام ناکام ہوتا ہے تو دراصل اس نظام کے بنیادی اصول نظر ثانی کا تقاضا کرتے ہیں۔ اسی اصول کی توسیع مین برادر محترم نے فرمایا ہے کہ ” اگر ہم اسلام کے تصور معاشرت، اخلاق، علم ،شہریت اور معیشت کو واضح سٹرکچرڈ شکل میں جدید دور میں پیش نہیں کر پائے تو اس کا مطلب نئے سرے سے ، درست سمت میں بھرپور انداز سے محنت کرنا ہے نہ کہ اسلام ہی کو لپیٹ کر طاق نسیاں میں رکھ دینا ہے”۔   ایک اسلامسٹ ہوتے ہوئے خاکوانی صاحب کو اس نصب العین کی طرف بھرپور انداز میں پیش رفت کا حق حاصل ہے تاہم خیال رکھنا چاہئے کہ دنیا میں ساڑھے پانچ ارب انسان ایسے بھی ہیں جو خاکوانی صاحب کے اس نصب العین میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔

خاکوانی صاحب نے وسعت قلبی سے کام لیتے ہوئے اسلام ازم سے اختلاف رکھنے والے مسلمانوں کی تکفیر سے انکار کیا ہے تاہم انہوں نے اسی سانس میں ریاست کو تکفیر کا حق بھی دیا ہے۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ فرد اپنے عقیدے کا تعین کرنے، اسے قبول کرنے اور اس کی پیروی کرنے کا مطلق حق رکھتا ہے۔ ریاست کا کام شہریوں کے آزادیِ مذہب کے حق کا تحفظ کرنا ہے۔ تکفیر ریاست کا منصب نہیں ہے۔ تکفیر کے راستے پر چلنے والی ریاست نہ صرف اس عمل کا نشانہ بننے والے شہریوں کی بیگانگی اور مخاصمت کا نشانہ بنتی ہے بلکہ ترجیحی گروہ میں بھی تکفیر در تکفیر کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ایسی ریاست تباہی کا نسخہ ہے اور ایسے سیاسی بندوبست کی مخالفت کرنا ہر انسان کا حق ہے۔

محترم بھائی عامر خاکوانی نے قرار داد مقاصد کو مملکت پاکستان کی ‘مشن سٹیٹمنٹ’ قرار دیا ہے۔ اگر یہ رائے درست ہے تو پاکستان کا مطالبہ کرنے والوں کو یہ مشن سٹیٹمنٹ قیام پاکستان سے پہلے واضح کرنی چاہئے تھی۔ 23 مارچ 1940 کی قرار داد میں “حاکمیت اعلیٰ” کی بنیاد پر شہریوں میں امتیاز کرنے والی اس مشن سٹیٹمنٹ کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ اپریل 1941 میں مسلم لیگ نے اپنے پٹنہ اجلاس میں مطالبہ پاکستان پر مبنی نصب العین کا اعلان کیا تو اس مشن سٹیٹمنٹ کو بیان نہیں کیا بلکہ مسلم لیگ نے باقاعدہ طور پر اعلان کیا کہ پاکستان کی مجوزہ مملکت میں مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ جولائی 1946 میں مسلم لیگ نے قرارداد لاہور پر نظر ثانی کی تو خاکوانی صاحب کی پسندیدہ مشن سٹیٹمنٹ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ تین جون  1947 کو مسلم لیگ نے تقسیم ہند کا منصوبہ منظور کیا تو اس مشن سٹیٹمنٹ کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ 19 جولائی 1947 کے قانون آزادی ہند میں اس مشن سٹیٹمنٹ کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کو پاکستان کی ریاست کا باقاعدہ افتتاح کیا تو اس مشن سٹیٹمنٹ کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔ جو لوگ پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں یا کسی بھی طریقے سے پاکستان کے شہری ہیں انھیں کسی ایسی مشن سٹیٹمنٹ کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا جسے اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ کے طالب علموں کی تقریروں سے یا انتخابی جلسوں سے استنباط کیا جاتا ہو۔

برادر عزیز خاکوانی صاحب فرماتے ہیں کہ قائد اعظم کی گیارہ اگست 1947 کی تقریر کی غلط تشریح کی جاتی ہے۔ خاکوانی صاحب سے التماس کیا جانا چاہئے کہ قائداعظم کی تقریر میں ان جملوں کی نشاندہی کریں کہ جن کی غلط تشریح کی جاتی ہے نیز یہ کہ کم علم شہریوں کو اس تقریر کے درست مطالب، معانی اور مفاہیم سے بھی آگاہ کریں۔

برادر محترم خاکوانی صاحب نے بالکل درست طور پر نشاندہی کی ہے کہ ہندوستان کے مسلمان سیکولرازم کی حمایت اس لئے کرتے ہیں کیونکہ بھارت میں سیکولر ازم کا متبادل ہندو بھارت ہے۔ ان سے اس وضاحت کی درخواست کرنی چاہئے کہ علم سیاسیات کے کن اصولوں کی بنیاد پر ہندتوا اور اسلام ازم میں امتیاز یا فرق کیاجاسکتا ہے؟ کس بنیاد پر ہندو بھارت کو مسترد کیا جائے لیکن پاکستان کے اسلامسٹ تصور کو گلے لگایا جائے؟

دوسروں کے عقائد کو بیان کرنے کے فراواں شوق میں محترم بھائی نے ماضی کے کمیونسٹوں اور آج کے سیکولر افراد کے درمیان امتیاز کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ درویش نہایت ادب سے عرض کرتا ہے کہ گزشتہ پینتیس برس میں سیاست کے طالب علم کی حثیت سے اسے آج تک کسی ایسے کمیونسٹ سے ملنے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی جو خود کو سیکولر نہ کہتا ہو۔ ماضی کے کمیونسٹ اور آج کے کمیونسٹ سیکولر تھے اور ہیں۔ آج کے لبرل ماضی میں جو بھی سیاسی شناخت رکھتے تھے، بہر صورت سیکولر تھے۔ کمیونزم یا جمہوریت میں انتخاب کا تعلق سیکولرازم کو اختیار کرنے یا رد کرنے سے نہیں ہے۔

اپنی سلیس اور شائستہ تحریر کے آخری پیرا گراف میں عزیز محترم عامر ہاشم خاکوانی نے درست فرمایا ہے کہ سیاسی بحث مباحثے میں غیر متعلقہ، طنزیہ اور حقارت آمیز لطائف و اشارات سے گریز کرنا چاہئے۔ واقعتاَ سیاسی مکالمے میں طنز و تشنیع مناسب بات نہیں ہے۔ ہمیں اپنی تحریروں میں قطعیت سے گریز کرنا چاہیے۔ محترم بھائی عامر ہاشم خاکوانی کو بھی ہر تحریر میں یہ کہنے سے گریز کرنا چاہئے کہ اس موضوع پر یہ ان کی آخری تحریر ہے۔۔۔ اس طرح کے بیانات سے غیر ضروری تفاخر، ادعائیت اور حتمیت کا اظہار ہوتا ہے۔ آج کے حریف کسی بدلی ہوئی صورتحال میں دوست ہوسکتے ہیں اور جو آج دوست ہیں، ان سے آئندہ اختلاف کا امکان موجود رہتا ہے۔ سیاسی مکالمے میں کوئی دلیل حتمی نہیں ہوتی، عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے۔

Source:

http://humsub.com.pk/11215/wajahat-masood-56/