Original Articles Urdu Articles

تکفیری دیوبندی شناخت پر اعتراض کرنے والے لوگ دھڑلے سے بریلوی دہشت گردی کی مذمت کر رہے ہیں – عامرحسینی

11

 

پاکستان میں “خودی ” کے نام سے ڈی ایف آئی برطانوی نیم سرکاری این جی اوز کی فنڈنگ سے چلنے والے پروجیکٹ کے مالک ماجد نواز نے برطانوی جریدے ڈیلی بیسٹ میں ایک آرٹیکل لکها جس میں انہوں نے سکاٹ لینڈ میں اسد نامی ایک پاکستانی نژاد برطانوی کے تنویر نامی شخص کے ہاتهوں قتل کے معاملے کو ڈسکس کیا ہے

ماجد نواز نے تنویر کا پروفائل دیتے ہوئے بتایا کہ وہ بریلوی ہے اور پهر پوری بریلوی قیادت کو ان کی بریلوی شناخت کے ساته اور پهر پوری بریلوی کمیونٹی کو ان کی بریلوی شناخت کے ساته ماجد نواز نے بلاسفیمر اور ان کو انتہاپسند اور دہشت گرد قرار دے ڈالا

عارف جمال ایک معتبر نام ہے لبرل صحافتی کیمپ کا انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی ، انتہاپسندی ، مذهبی جنونیت کو بریلویت کے ساته ان کی بریلوی شناخت کے ساته جوڑ کر بات کی –ایک اور صاحب ہیں کاشف چودهری صاحب انہوں نے بهی بریلوی کمیونٹی کو ان کے نام لیکر للکارنے کا کام شروع کررکها ہے – ضرار کهوڑو ہیں ڈیلی ڈان میں لکهتے ہیں پورا کالم لکها بار بار بریلوی لفظ کی گردان کی

لبرل کیمپ کے بڑے بڑے نام سب نے ممتاز اور اب تنویر کی جانب سے انتہائی اقدام کو لیکر اور پهر کسی عدنان شاہ نامی شخص کی ویڈیو کو لیکر بریلوی مکتبہ فکر کو دہشت گرد بریلوی نام لیکر کہا

اب آئیے زرا دیوبندی اور سلفی مکاتب فکر کی جانب اس لبرل کیمپ کے رویے کی طرف

مجهے یاد پڑتا ہے کہ ایل یو بی پاک جو کہ

Criticalppp.com

کے نام سے شروع ہوا تها پر کوئی صاحب تهے عبدل نیشاپوری کے قلمی نام سے لکهتے تهے انہوں نے دہشت گردوں ، ان کی دہشت گردی کا جواز پیش کرنے والوں کی نظریاتی اور مسلکی شناخت پہ بات کرنی شروع کی اور اس سلسلے میں ان کی جانب سے سب سے پہلے یہ خیال پیش کیا کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی ، شیعہ نسل کشی ، صوفی سنی ، کرسچن ، احمدی ، ہندو برادریوں کے خلاف منظم ، مربوط ، منصوبہ بند اور انسٹی ٹیوشنل دہشت گردی دیوبندی مسلک سے تعلق رکهنے والی دہشت گرد تنظیمیں کررہی ہیں

جن کا الحاق عالمی دہشت گرد نیٹ ورک سے ہے جس کی قیادت مسلکی اعتبار سے سلفی ہے اور یہ بحث جب شروع ہوئی تو میں ان لوگوں میں شامل تها جنهوں نے اس نکتہ نظر میں تهوڑی سی ترمیم کی کہ دیوبندی مکتبہ فکر میں یہ تکفیری رجحان ہے جو اصل میں برصغیر کے اندر شاہ اسماعیل و سید احمد بریلوی سے اور عرب میں شیخ ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوهاب نجدی کے تکفیری و خوارجی نظریات سے کامل اتفاق کے سبب شیعہ ، صوفی سنیوں کو مشرک ، کافر اور مرتد گردانتے ہوئے ان کی نسلی صفائی پہ یقین رکهتا ہے اور ان کے خلاف دہشت گردی کا مرتکب ہورہا ہے اور اسے میں نے تکفیری دیوبندی -سلفی دہشت گردی قرار دیا اور میں یہ کہتا ہوں کہ ایل یو بی پاک سے وابستہ جتنے لوگ تهے انہوں نے میری جانب سے

 

Takfiri Deobandi Terrorism
Deobandi -Salafi Takfiri Fascism

کی اصطلاح کو قبول کرلیا ، بلکہ میں نے نوٹ کیا کہ بتدریج اس اصطلاح کو خود بریلوی ، شیعہ ، احمدی ، کرسچن ، ہندو برادریوں کے مذهبی سکالرز نے بهی استعمال کرنا شروع کردیا

علمائے دیوبند

علمائے دیوبند سے میرا مکالمہ ہوا ، وہ کہتے تهے کہ آپ تکفیری دہشت گرد یا خارجی دہشت گرد کا لفظ استعمال کریں تو ٹهیک ہے لیکن ان کے ساته دیوبندی کا لفظ مت لگائیں ، میرا ان سے صرف یہ مطالبہ ہے اور تها کہ آپ ایک اعلامیے کی شکل میں اخبارات ، ٹی وی چینلز اور اپنے مدراس و مساجد میں یہ اعلان کروائیں کہ تحریک طالبان پاکستان ، لشکر جهنگوی ، سپاہ صحابہ پاکستان -اہلسنت والجماعت سمیت جتنے دہشت گرد اور تکفیری عسکریت پسند گروپ ہیں ان کا سنی حنفی دیوبندی مکتبہ فکر سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وفاق المدارس سے ملحق کسی مدرسے میں ان تنظیموں کے کسی رہنماء ، سہولت کار ، ہمدرد کو آنے کی اجازت ہےتو میں تکفیری خارجی دیوبندی دہشت گرد ، انتہاپسند ، سہولت کار ، ہمدرد کی اصطلاح استعمال کرنا ترک کردوں گا لیکن کسی ایک دیوبندی عالم ، مفتی نے آج تک یہ اعلان کرنے کی ہمت نہیں کی

لبرل کیمپ ، سول سوسائٹی

پاکستان میں 2001ء کے بعد سے کراچی سمیت پورے ملک کے اندر شیعہ کا قتل شروع ہوگیا تها اور ٹارگٹ کلنگ سے بات آگے بڑهکر mass murders تک چلی گئی تهی ، اس زمانے میں پاکستان کا مین سڑیم میڈیا ، سول سوسائٹی ایک تو مرنے والوں کی شیعہ شناخت کا تذکرہ نہیں کرتی تهی اور اس کے لیے شیعہ نسل کشی کے لفظ کو استعمال کرنے سے گریزاں تهی ، پهر اس نسل کشی کو Sectarianism کہا جاتا اور اس حوالے سے Saudi-Iran Binary or Shia-Sunni binary کو استعمال میں لایا جاتا تها ، اس پر تنقیدی ڈسکورس بهی ایل یو بی پاک کی جانب سے آیا اور میں نے بهی اس ڈسکورس کو اپنے خیالات کے قریب پایا

لبرل کیمپ نے پہلے پہل شیعہ کلنگ ، شیعہ نسل کشی جیسی اصطلاحوں سے دوری اختیار کیے رکهی لیکن جب حقائق واضح ہوتے چلے گئے اور شیعہ کلنگ اسقدر ہوگئی کہ اب اس پہ بات کیے بغیر رہا جانا مشکل ہوگیا تو مرنے والوں کی مسلکی شناخت لکهے جانے کا عمل شروع ہوگیا

اب یہاں پہ ناقدین کی جانب سے یہ سوال اٹهایا جانے لگا کہ تجزیہ کار ، صحافی ، کالم نگار اور سول سوسائٹی کے ایکٹوسٹ شیعہ نسل کشی کی زمہ دار قوتوں کے لیے

Islamists , Muslim Sunni Extremists

جیسی اصطلاحیں جو استعمال کرتے ہیں کیا اس سے ان تنظیموں کی نظریاتی شناخت کا ٹهیک ٹهیک اندازہ لگایا جاسکتا ہے ؟ یہاں پہ مجه سمیت کئی ایک طالب علموں کا خیال یہ تها کہ اگر ہم دہشت گردوں ، انتہاپسندوں کی نظریاتی بنیادوں کو واضح کرنے والی اصطلاح استعمال نہیں کریں گے تو اس سے نظریاتی شفافیت بهی نہیں ہوگی بلکہ معاملے پہ یکساں موقف بهی نہیں بن پائے گا

مرا اصرار یہ تها کہ پاکستان کے اندر مسلم کمیونٹی کے اندر شیعہ اور صوفی سنی دونوں دہشت گردی کے متاثرہ فریق ہیں اور ان کی مساجد ، امام بارگاہوں ، عاشور و میلاد کے جلوسوں ، مزارات وغیرہ پہ دہشت گرد حملوں میں جو تنظیمیں ملوث ہیں وہ ایک طرف تو تکفیری خوارجی نظریات رکهتی ہیں دوسرا وہ شیلٹر لیتی ہیں دیوبندی مکتبہ فکر کے پیچهے تو ان کے لیے تکفیری دیوبندی کی اصطلاح ہی مناسب اور دیانتدارانہ ہے

لیکن لبرل کیمپ میں ایک طرف تو وہ تهے جنهوں نے دہشت گردی کو بذات خود اسلام سے ہی جوڑ دیا یا اسے فی نفسہ مذهب سے جوڑ دیا اور انہوں نے

War on extremism

کو

War on Islam or religion

میں بدل ڈالا اور ان کا نکتہ نظر قریب قریب اسلامو فوبک تها  دوسرا سیکشن لبرل کیمپ میں وہ تها جس نے تکفیری دیوبندی یا تکفیری سلفی دیوبندی اصطلاح کو فرقہ وارانہ قرار دیا اور اس کی بجائے

Sunni Extremists or Islamist terrorist

کی اصطلاح پہ زور دئیے رکها

لبرل میں یہ دونوں کیمپ ایک طرف تو تکفیری دیوبندی دہشت گردی یا انتہاپسندی کی اصطلاح کو فرقہ پرستانہ قرار دیتے لیکن دوسری طرف یہ حزب اللہ جیسی تنظیموں پہ جب بهی بات کرتے تو ان کے ساته شیعہ دہشت گرد تنظیم یا سنی تحریک کی بات کرتے تو اس کے ساته بریلوی انتہاپسند تنظیم جیسے الفاظ اور اصطلاح استعمال کرتے

طاہر القادری نے جب دهرنا دیا تو اس لبرل سیکشن نے طاہر القادری کی تنظیم اور کارکنوں کو بریلوی انتہاپسند ، دہشت گرد تک قرار دے ڈالالیکن یہ شاز و نازد طالبان ، سپاہ صحابہ پاکستان ، لشکر جهنگوی ، جماعت الاحرار ، عالمی ختم نبوت ، تبلیغی جماعت کے ساته لفظ دیوبندی کی اضافت کرتے

ممتاز قادری کے چہلم پہ جب سنی تحریک اور اس کے ساته کچه بریلوی تنظیموں کی جانب سے دهرنا شروع ہوا تو اس لبرل کیمپ نے یہاں تک کہ تکفیری وغیرہ کی اضافت کا تکلف کیے بغیر بریلوی دہشت گردی ، بریلوی انتہا پسندی کے الفاظ استعمال کیے اور ستم بالائے ستم کہ بریلویوں کے ہاں انفرادی دہشت گردی کے جملہ دو وارداتوں کو لیکر اس کو تکفیری دیوبندی -سلفی دہشت گردی کے عالمی نیٹ ورک کے برابر بهی قرار دے ڈالا

اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ فکری طور پہ یہ دونوں سیکشن لبرل کیمپ کے کتنے بڑے دانشوارانہ بد دیانت ، موقعہ پرست اور کمرشل ازم کا شکار ہیں ان کا تکفیری دیوبندی -سلفی فاشزم کی جانب رویہ کسقدر جانبدارانہ ہے

میں لبرل کیمپ میں دہشت گردوں کی تکفیری دیوبندی نظریاتی شناخت کو ظاہر کرنے کو فرقہ پرستی اور اینٹی پروگریسو یا اینٹی لبرل کہنے والے سیکشنز میں سے کچه کی فیس بک وال پہ پوسٹوں کے سکرین شاٹ دئیے ہیں خود ملاحظہ کرلیں

12 13 14 15