Original Articles Urdu Articles

اسلام آباد میں منعقدہ علمائے اسلام کانفرنس میں وحدت اسلامی اور رواداری کا عظیم مظاہرہ – امجد عباس

shia-sunni-unity

علامہ سید ساجد علی نقوی کے زیر اہتمام جامعۃ الکوثر اسلام آباد کے المصطفیٰ آڈیٹوریم میں یکم اپریل کو علمائے اسلام کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں تمام مکاتب فکر (بشمول بریلوی، شیعہ، دیوبندی، اہلِ حدیث) کے علمائے کرام نے شرکت کی جن میں مہتمم جامعۃ الکوثر علامہ شیخ محسن علی نجفی، پیر اعجاز احمد ہاشمی صدر جمعیت علماء پاکستان، پروفیسر محمد ابراہیم صدر ملی یکجہتی کونسل کے پی کے، آصف لقمان قاضی مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل، پروفیسر ابراہیم جماعت اسلامی، خالد محمود عباسی مرکزی رہنما تنظیم اسلامی، علامہ شیخ صالح کربلائی از کربلائے معلی عراق، علامہ عارف حسین واحدی مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان، سید ثاقب اکبرسربراہِ البصیرہ، حافظ رفیق طاہر رہنما جماعت اہلحدیث، فرحت حسین شاہ نائب ناظم تحریک منہاج القرآن، ڈاکٹر عبد الحفیظ فاروقی چرمین نظریہ پاکستان مومنٹ، عبداللہ گُل، مفتی نذیر قاردی صدر مجلس افتاء آزاد کشمیر، انجینیئر محمد علی مرزا سمیت تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کی کثیرتعداد شریک تھی

اس موقع پر علمائے کرام نے پاکستان میں اسلامی معاشرے کی خدو حال کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم مسلمانوں کو ان سازشوں سے بچائیں جو ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہی ہیں۔علمائے کرام نے اتحاد و وحدت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام مکاتب فکر ایک دوسرے کے قریب آ کر اور ایک دوسرے کو پہچان کر ہی فروعی اختلافات کو ختم کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں

علمائے اسلام کانفرنس سے صدارتی خطاب فرماتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی فرقہ واریت نہیں اور نہ ہی کوئی شیعہ سنی مسئلہ ہے۔ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید بزرگ علمائے کرام عملی طور پر متحدہ مجلس عمل اور ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پرمتحد ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملی یکجہتی کونسل تو بنی ہی فرقہ واریت کی نفی کے لیے جو لوگ فرقہ واریت کی نفی کرتے ہیں وہ اس میں شریک ہو سکتے ہیں فرقہ واریت سے بڑھ کر ہے تکفیری ہونا وہ کیسے اس میں آ سکتے ہیں وہ خود سوچی لیں کہ ان کو کیا کرنا چاہیےکہ وہ ملی یکجہتی کے اندر شامل ہو سکیں۔

علمائے اسلام کانفرنس کا اجمالی احوال:

جامعہ الکوثر، اسلام آباد میں منعقد "علمائے اسلام کانفرنس" کا اجمالی احوال:قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے زیر اہتمام جامعۃ الکوثر اسلام آباد کے المصطفیٰ آڈیٹوریم میں علمائے اسلام کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں تمام مکاتب فکر (بشمول بریلوی، شیعہ، دیوبندی، اہلِ حدیث) کے علمائے کرام نے شرکت کی جن میں مہتمم جامعۃ الکوثر علامہ شیخ محسن علی نجفی، پیر اعجاز احمد ہاشمی صدر جمعیت علماء پاکستان، پروفیسر محمد ابراہیم صدر ملی یکجہتی کونسل کے پی کے، آصف لقمان قاضی مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل، پروفیسر ابراہیم جماعت اسلامی، خالد محمود عباسی مرکزی رہنما تنظیم اسلامی، علامہ شیخ صالح کربلائی از کربلائے معلی عراق، علامہ عارف حسین واحدی مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان،سید ثاقب اکبرسربراہِ البصیرہ، حافظ رفیق طاہر رہنما جماعت اہلحدیث، فرحت حسین شاہ نائب ناظم تحریک منہاج القرآن، ڈاکٹر عبد الحفیظ فاروقی چرمین نظریہ پاکستان مومنٹ، عبداللہ گُل، مفتی نذیر قاردی صدر مجلس افتاء آزاد کشمیر، انجینیئر محمد علی مرزا سمیت تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کی کثیرتعداد شریک تھی۔ اس موقع پر علمائے کرام نے پاکستان میں اسلامی معاشرے کی خدو حال کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم مسلمانوں کو ان سازشوں سے بچائیں جو ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہی ہیں۔علمائے کرام نے اتحاد و وحدت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام مکاتب فکر ایک دوسرے کے قریب آ کر اور ایک دوسرے کو پہچان کر ہی فروعی اختلافات کو ختم کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔علمائے اسلام کانفرنس سے صدارتی خطاب فرماتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی فرقہ واریت نہیں اور نہ ہی کوئی شیعہ سنی مسئلہ ہے۔ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید بزرگ علمائے کرام عملی طور پر متحدہ مجلس عمل اور ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پرمتحد ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملی یکجہتی کونسل تو بنی ہی فرقہ واریت کی نفی کے لیے جو لوگ فرقہ واریت کی نفی کرتے ہیں وہ اس میں شریک ہو سکتے ہیں فرقہ واریت سے بڑھ کر ہے تکفیری ہونا وہ کیسے اس میں آ سکتے ہیں وہ خود سوچی لیں کہ ان کو کیا کرنا چاہیےکہ وہ ملی یکجہتی کے اندر شامل ہو سکیں۔(کانفرنس میں شرکت کرنے والے اپنے احباب کا شکریہ، بندہ اِس کانفرنس کے دوران علمائے کرام کے استقبال کے سلسلے میں ہی مشغول رہا، یہ کلپ ہماری مصروفیت بھی آشکار کیے ہے۔)

Posted by Amjad Abbas on Friday, April 1, 2016