Original Articles Urdu Articles

لاہور کے گلشن اقبال پارک میں ساٹھ سے زائد افراد کی شہادت اور ہماری دو عملی – از عمار کاظمی

12512250_10154043648324561_7587969574729832901_n

کل تبلیغی جنید جمشید کو دو تھپڑ پڑے اور سوشل میڈیا پر اس کے حمایتی سارا دن تھپڑ مارنے والوں کی فکری وابستگی اور تصویروں سے لے کر شجرہ نسب تک شئیر کرتے رہے۔ بے جنید جمشید کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا، بے شک ان کا عمل قابل مذمت تھا۔ مگر آج لاہور کے خود کش دھماکے میں ابھی تک 16 افراد مر چکے ہیں، دیکھتے ہیں کل کے واقعہ پر جہالت اور جنونیت کا شور مچانے والے اس خود کش حملہ آور کی کتنی تصوریریں، کتنا شجرہ اور کتنی فکری وابستگی بتاتے ہیں، خود کُش بمبار پیدا کرنے والوں کی مذمت کے لیے کتنی پوسٹس لگاتے ہیں۔ معروف سلیبرٹی کو دھکے دینے پر آںسو بہانے والے معصوم بچوں، خواتین اور عام شہریوں کے لیے کتنی انساانیت اور علمیت کا ثبوت دیتے ہیں۔

اگر اسی ہزار لوگوں کے قتل کرنے والے کی شناخت (تکفیری دیوبندی) کی بات کرو تو کہتے ہیں آپ فرقہ واریت کر رہے ہیں، خود ہمیشہ ہری پگڑی والوں کے (سنی بریلوی) عقیدے کا نام لے کر انھیں انتہا پسند، جاہل اور جنونی کہتے ہیں، تنقید کرتے ہیں۔ ایسا یکطرفہ رویہ کون قبول کرے گا؟ حالات کیسے بہتر ہونگے، مذہبی منافرت کیسے گھٹے گی؟ اپنی طرف کے لوگ خود کش حملے کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ سب تو ایک جیسے نہیں اگر یہ سب ایک جیسے نہیں تو کیا وہ سب سنی، صوفی، بریلوی ایک جیسے ہیں جو آج بھی پاکستان کی اکثریت ہیں۔ ایک طرف تھپڑ مارے جاتے ہیں دوسری طرف اسی ہزار لوگوں کے قتل پر بھی یہود کی سازش بیان کر دی جاتی ہے جبکہ سارے خود کُش حملہ آوروں کی فکری وابستگی کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ لیکن وہاں اگر مگر اور ڈرون کا ردعمل بتایا جاتا ہے۔ ایسی منافقت سے ایسا کچھ ہی پیدا ہونا تھا جو آج ہو رہا ہے۔ ہم سب کو منافقت، خود پسندی اور اقربا پروری سے پاک اور بلند غیر جانبدااری پر مبنی انصاف اور حق پرست رویوں کی ضرورت ہے۔