Original Articles Urdu Articles

دہشت گردی، علماء اور حکومت کی ذمہ داری – امجد عباس

12509590_10153858697204561_6574214333273215666_n-768x576

حالیہ دہشت گردی کا بڑا سبب امریکہ و روس کی جنگ کو اسلام اور کفر کی جنگ بنا کر پیش کرنا تھا۔ اگر مذہب کو شامل نہ کیا جاتا تو شاید روس ایسے افغانستان سے نہ جاتا۔ افسوس کی بات ہے کہ امریکی ڈالروں کی چمک نے جہاں ہمارے حکمرانوں کی بصیرت و بصارت کو چندھیا کے رکھا وہیں بڑے بڑے مفتی صاحبان و اربابِ مدارس بھی اِس جنگ میں کود پڑے۔

امریکہ ایسے جنگجوؤں کو “مجاہد” اور “آزادی کا متوالہ” قرار دیتا تھا جو افغانستان میں حکومت یا روسی فوج سے لڑتے۔

علماءِ دیوبند ہاتھیوں کی اِس لڑائی میں خوب اُترے، انہوں نے پاکستانی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر پشتون پٹی میں جہاد کا علم بلند کیا، مدارس کے طلبہ کی اتنی بڑی تعداد اِس جنگ میں شریک ہوئی کہ اُن کا نام ہی “طالبان” رکھ دیا گیا۔

“طالبان” کی اعلیٰ قیادت ہو یا دوسرے، تیسرے درجہ کا قیادت، سبھی نے پاکستان میں ہی دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی۔ علماءِ دیوبند اور عرب جنگجوؤں نے اِن “مجاہدین” کا مکمل ساتھ دیا۔

وقت بدلا، امریکہ کی ضروریات بدلیں، انہی “مجاہدین” کو دہشت گرد قرار دیا گیا، اُسی سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں نے “طالبان” سے دستِ شفقت اٹھالیا، تب پاکستان نے بھی امریکی ایماء پر مدد ختم کر دی، ایسے میں انہی جنگجوؤں نے وطنِ عزیز کے خلاف “جہاد” شروع کر دیا۔

ہمارے ایک صحافی دوست کا کہنا تھا کہ تحریکِ طالبان پاکستان نے سب بڑے بڑے دیوبندی مدارس و مفتی صاحبان کو خط لکھا کہ جن وجوہات کی بنا پر افغانستان میں روس کے خلاف جنگ درست تھی، اب وہی صورتحال پاکستان میں ہے، اب یہاں “جہاد” کیونکر نا جائز ہے!

کسی ایک مفتی یا دارالعلوم نے کھلے انداز میں جواب دیا نہ ہی مذمت۔

جی بات درست بھی ہے، افغانستان میں امریکہ و روس کی جنگ تھی، اِسے اسلام و کفر کا معاملہ قرار دے کر، سادہ روحوں کو جھونکا گیا، اب حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بدلتی پالیسی کی وضاحت کرے اور سبھی علماءِ کرام اپنے سابقہ فتاویٰ سے دست بردار ہوں، سادی سی بات کی جا سکتی ہے کہ موجودہ حالات میں، حصولِ اقتدار کے لیے، کسی قسم کی مسلح جدوجہد کی تائید نہیں کی جا سکتی۔

“جہاد” کا فیصلہ صرف ریاست کر سکتی ہے، پرائیویٹ دینی مدارس و مفتی صاحبان، “جہاد” کے وجوب کا فتویٰ دینے کے مجاز نہیں ہیں۔

علماء کرام اگر معمولی معمولی باتوں پر، مخالفین کو “اسلام” سے خارج کر سکتے ہیں تو دہشت گردوں کو بھی کم از کم اپنے فرقے سے ہی خارج سمجھیں، لیکن حیرت کی بات ہے کہ جنسی زیادتی کی شکار چکوال کی طالبہ کا جنازہ نجائز قرار دینے والے علماء، اِن دہشت گردوں کے جنازے کس طرح پڑھاتے ہیں، اور اُن کی مکمل پشت پناہی کرتے ہیں۔

حکومت اور علماء کو کُھل کر، دہشت گردوں سے اعلانِ برائت اور اِن سے وہی سلوک کرنا ہوگا جو حضرت علی نے خوارج کے ساتھ اختیار کیا۔