Newspaper Articles Urdu Articles

نہ کوئی شیعہ نہ کوئی سنی – عبدالقادر حسن

BHZmpS4CIAAMQvL-e1452067489760

مسلمانوں کے اندر شیعہ سنی مسئلہ اس قوم کے انتشار یا تفریق کا باعث بن سکتا ہے اور بنتا رہا ہے، ان دنوں اس تفریق کا پھر آغاز ہو رہا ہے۔ ہم مسلمانوں میں قومی قیادت کا فقدان ہے اور مسلمانوں کے پاس ایسے غیر متنازعہ رہنما نہیں ہیں جو کسی اختلاف کے وقت قوم کو سنبھال سکیں ، غلط فہمیاں دور کر سکیں اور ان کے حقیقی پس منظر سے قوم کو آگاہ کر کے اس کے اندر اتحاد پیدا کر سکیں۔

میں نے کبھی کسی برطانوی مصنف کی ایک کتاب پڑھی تھی۔ مصنف کا نام غالباً پروفیسر آرنلڈ تھا۔ اس نے ایک جگہ لکھا تھا کہ مسلمانوں میں اختلاف بلکہ دشمنی تک کے جذبات پیدا کرنے مشکل نہیں ہیں کیونکہ مسلمان کسی حد تک دو شدت پسند مذہبی گروہوں میں تقسیم ہیں، شیعہ اور سنی۔ کسی بھی وقت ان کے اختلاف کو بھڑکایا جا سکتا ہے جو بڑا آسان کام ہے کیونکہ یہ دونوں گروہ مستقل طور پر اپنے دلوں اور ذہنوں میں ایک دوسرے کے خلاف شدید نوعیت کے اختلافات رکھتے ہیں جو فرقہ وارانہ نوعیت کے ہیں۔

یہ اختلافات ابتدائے اسلام سے چلے آ رہے ہیں اور ان کے درمیان کبھی بہتری پیدا نہیں ہوئی جب کہ ایسے رہنماؤں کی کمی کبھی نہیں رہی جو ان کے اختلافات کو نرم کرنے کی کوشش بھی کرتے رہے لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکے اور یہ اختلافات اپنی شدت کے ساتھ جوں کے توں موجود ہیں اور خطرے کی علامت ہیں۔ ایک ایسا مستقل خطرہ جو مسلسل ہے اور اس میں شدت پیدا کرنا چنداں مشکل نہیں ہے۔ یہ عالم اسلام کی ایک مستقل بدقسمتی ہے اور کمزوری ہے۔

سنی اور شیعہ ہر مسلمان ملک میں موجود ہیں مگر بعض مسلمان ملک کسی فرقے سے خصوصی تعلق رکھتے ہیں جیسے ایران اور سعودی عرب ۔ اس وقت ایران اور سعودی عرب اس فرقہ واریت کے مرکز بنے ہوئے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک ملک کے عالم دین کو دوسرے نے موت کی سزا دے دی جس سے شیعہ سنی اختلاف پھر سے شدت کے ساتھ جاگ اٹھے کیونکہ مرحوم عالم دین شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی غیر قدرتی وفات دونوں فرقوں میں پہلے سے موجود قدیم اختلاف کو متحرک کرنے کا سبب بن گئی۔

اس وقت جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں شیعہ سنی اختلاف ایک خطرہ بن رہا ہے۔ اسلام سرتاپا ایک نظریاتی مذہب ہے اور اس کے نظریاتی ہونے کی وجہ سے اس میں نظریاتی اختلافات بھی قدرتی ہیں اور اس میں کئی نظریاتی گروہ پیدا ہو چکے ہیں۔ آپ کسی دوسرے مذہب میں ایسے اختلافات نہیں دیکھیں گے وجہ یہی ہے کہ دوسرے مذاہب میں نظریاتی بنیادوں پر اختلافات نہ ہونے کے برابر ہیں اور کتنے ہی مذاہب ہیں جن میں دو تین بڑے گروہ ہیں جیسے مسیحیت۔

مسلمانوں کا آغاز ایک کتاب سے ہوا اور یہ کتاب اسلام کی نظریاتی بنیاد بن گئی۔ یہ کتاب ایسے تمام نظریات کو باطل ثابت کرنے کے لیے آسمان سے اتری جو اس کتاب کے مطابق انسانوں کی گمراہی کے سبب تھے۔ اس کتاب نے دنیا میں ایک طاقت ور طبقہ پیدا کر دیا جس کی دھاک دنیا پر بیٹھ گئی۔ اس کتاب اللہ کے ماننے والوں کو جب اقتدار ملا تو انھوں نے جہانبانی کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کر دیں اور انسانوں کے درمیان انصاف اور عدل کے تصور کو زندہ کر دیا۔

دنیا پر چھا جانے کی اسلامی تاریخ سے ہر کوئی آگاہ ہے، اس قوم کی تعمیر میں ایک کتاب کا بنیادی کردار ہے جو مسلمانوں کے پیغمبر پر اتری تھی اور جسے ان کے پیغمبر نے مسلمانوں کے دلوں پر نقش کر دیا تھا۔ یہ نقش آج تک سلامت ہیں لیکن جیسا کہ دنیا جانتی ہے اسلام ایک نظریاتی مذہب ہے، ہندو ازم کی طرح محض روایات پر مبنی نہیں ہے اس لیے نظریات کی دنیا میں مختلف نظریات کے مطابق اختلافات بھی پیدا ہوتے رہے اور اسلام کے نام پر چند نظریاتی گروہ بھی تشکیل پا گئے، جو شیعہ سنی کے نام سے معروف ہیں لیکن معاشرتی زندگی میں لوگوں کا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا سب مشترک ہے۔

ایک عام سادہ مسلمان کے ذہن میں کوئی تفریق موجود نہیں ہے لیکن پھر بھی بعض مسلمانوں میں مسلکی تقسیم رائج ہے جسے سیاستدان اور حکمران اپنے اپنے مقاصد کے لیے ہوا دیا کرتے ہیں۔ رفتہ رفتہ بعض ممالک کسی خاص مسلک کے مرکز اور سیاسی ترجمان بن گئے ہیں جیسے ایران اور سعودی عرب لیکن پاکستان اس فرقہ واریت سے محفوظ ہے جب کہ اس میں شیعہ بھی ہیں اور سنی بھی لیکن دونوں فرقوں کے عوام کسی تفریق کے قائل نہیں ہیں صرف ان کے علماء ہیں جو معافی چاہتا ہوں اپنی اہمیت بنانے کے لیے ایک تفریق بنائے ہوئے ہیں جب کہ عام مسلمانوں میں نہ کوئی شیعہ ہے نہ سنی ہے سب سادہ مسلمان ہیں۔

ایک خدا ایک رسول اور ایک کتاب کے ماننے والے۔ اسلام چونکہ ایک نظریاتی ملک ہے جس کے تمام امور کسی نہ کسی نظریے کی پیروی میں چلتے ہیں اس لیے اس میں اگر کسی کو تفریق دکھائی دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کے اندر کوئی علیحدہ مذہب بن گیا ہے بلکہ یہ سب نظریاتی اختلاف ہوتا ہے جو کوئی الگ سا نام بھی اختیار کر لیتا ہے اور پھر کچھ عرصہ بعد اس کے پیروکار اسی نام سے پہچانے جاتے ہیں اور عام لوگوں کی نظروں میں یہ کوئی نیا اسلامی مذہب بن جاتا ہے۔

اس نازک موضوع پر چند سطریں لکھنے کی وجہ ان دنوں بعض مغربی ملک ایران اور سعودی عرب کے بعض باہمی اختلافات کو نہ صرف دو ملکوں بلکہ دو مسلمان نظریاتی ملکوں کے درمیان اختلافات کو کسی جنگ کی صورت میں دیکھ رہے ہیں اور ان کی شدید خواہش ہے کہ یہ دونوں ملک صرف زبانی کلامی اختلافات کی جنگ سے آگے بڑھ کر طاقت کے ذریعے حل کریں یعنی دونوں مسلمان ملکوں میں جنگ چھڑ جائے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلافات کی جو خبریں آ رہی ہیں وہ خطرناک ہیں اور یہ اختلافات دن بدن بڑھ رہے ہیں اور تلخ بھی ہوتے جا رہے ہیں۔

افسوس کہ اسلامی دنیا میں ایسے بڑوں اور بزرگوں کا فقدان ہے جو کسی تنازعہ کی صورت میں مصالحت کا راستہ دکھا سکیں۔ دونوں ملکوں کے دانشوروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ملک کے سیاستدانوں کو صلح اور اس کے راستے پر لے آئیں۔ ہم مسلمان جو ہر ملاقات میں اسلام علیکم کہتے ہیں تو اس کے معنی آپ پر سلامتی کے ہیں نہ کہ لڑائی جھگڑے کے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم مسلمانوں میں نہ کوئی شیعہ ہے نہ سنی سب ایک ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ سب ایک جیسے مسلمان ہیں۔

Source:

http://www.chutki.pk/5754