Original Articles Urdu Articles

کہاں تک سنو گے، کیا کیا سنائیں؟ از عمار کاظمی

http://en.dailypakistan.com.pk/wp-content/uploads/2015/03/aps.jpg

آج سولہ دسمبر ہے۔ کبھی لوگ اس دن کو سقوط دھاکہ کے نام سے یاد کرتے تھے مگر اس بار اسے آرمی پبلک کے شہدا سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا۔ ایک سانحے نے دوسرے کو دھندلا دیا۔ نجی سکولوں سے لے کر سول سوسائٹی تک ہر جگہ اس دن کی تیاری کی جا رہی ہے۔ جب اس دن کو منایا جائے تو میری ہم وطنوں سے درخواہست ہوگی کہ جہاں تم یہ عہد دہرا رہے ہو کہ تم ان شہید بچوں کو کبھی نہیں بھولو گے وہیں ان کے قاتلوں کو یاد رکھنے کا عہد بھی کر لینا کہ قاتل کو بھلا کر مقتول کو یاد رکھنا ادھورا اور بے سود ہوتا ہے۔ اور مت بھلانا ان عقل کے اندھوں کو جو کبھی طالبان کے حمایتی اور وکیل ہوا کرتے تھے۔

آئی ایس پی آر نے گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی ایک میوزک وڈیو جاری کی ہے۔ گزشتہ برس کی وڈیو “بڑا دشمن بنا پھرتا ہے بچوں سے لڑتا ہے” بہت مشہور ہوئی تھی۔ اس بار انھوں نے اسی کو آگے بڑھا کر یہ پیغام دیا ہے کہ ہم دشمن کے بچوں کو تعلیم دیں گے۔ عجیب دانشور پال رکھے ہیں سرکار نے۔ جب طالبان آپ کے دوست تھے تو آپ انھیں اور ان کے بچوں کو عکسری تربیت دے رہے تھے اور آج جب وہ آپ کے دشمن ہیں تو آپ ان کے بچوں کو تعلیم دینے کی بات کر رہے ہیں۔ یعنی آپ کی دوستی سے تو آپ کی دشمنی ہی بہتر۔ اور پتا نہیں وہ کونسی تعلیم ہوگی جو یہاں غلط اور جانبدار ریاستی پالیسیوں کے بو وجود انتہا پسندی سے پاک امن پسند شہری پیداکر سکے گی؟ یعنی تعلیم دینے سے پہلے ذرا اپنے اُس نصاب پر تو نظر ڈال لو جو انتہا پسندی کا سبب بنتا ہے۔ مسخ شدہ تاریخ کے ساتھ ہر جگہ وجہ بے وجہ مذہب جوڑا گیا ہے۔ یعنی ایک موت کا خوف ہوتا ہے جو انسان کو کسی حد تک جرم سے روکتا ہے مگر مُلا نے حوروں کا لالچ دے کر وہ بھی ختم کر رکھا ہے۔

بہر حال ہم ہماری ٹیکس منی سے تنخواہ لینے والے ہمارے بچوں کو اپنا سمجھیں نہ سمجھیں، ہماری حفاظت کو اپنی ذمہ دار سمجھیں نہ سمجھیں، ہمارے قاتل کو اپنا قاتل سمجھیں نہ سمجھیں، ہم ان کے بچوں کو اپنے بچے ہی تصور کرتے ہیں۔ لہذا ہم آرمی پبلک کے بچوں کی یاد میں منائی جانے والی تقریبات میں بھرپور شرکت کریں گے۔ اور تقریبات میں شرکت کے سوائے ہم کر بھی کیا سکتے ہیں؟ برائے نام سول سوسائٹی زور و شور سے اس سانحہ کو منانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اچھی بات ہے۔ مگر یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ان کی سیاسی وابستگیاں ہمیشہ سے انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی رہی ہیں، یہ لوگ کب کسی حقیقی تبدیلی کی خواہاں رہے ہیں؟ انھوں نے کب اپنی قیادتوں سے کوئی سوال پوچھنے کی زحمت کی؟ ابھی چند روز پہلے ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ہی ملک کی تینوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور تحریک انصاف نے ملک کے مختلف حصوں میں کالعدم تنظیم سے سیاسی اتحاد کیے، اور مجال ہے جو کسی نے اس پر اپنی قیادت کو برا کہا ہو۔ سب ایک دوسرے کو طعنے دیتے دکھائی دیے کہ مردہ ضمیر معاشروں میں اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے۔

تین روز قبل جب بم دھماکے کے بعد پارا چنار کے چوبیس شیعہ شہدا جن میں بچے بھی شامل تھے کے گوشت کے لوتھڑے زمین پر گر کر تڑپ رہے تھے، تو اس وقت نیشنل میڈیا کی ساری توجہ کراچی میں پانی کی پائپ لائن پھٹنے پر مرکوز تھی اور عجیب اتفاق کہ عین اسی وقت ڈان میڈیا گروپ کے زیر اہتمام “کتا شو” کی کوریج کے لیے وقت، دنیا، نیو اور دن نیوز کی گاڑیاں لاہور ایکسپو سینٹر میں گھنٹوں موجود رہیں۔ یہ وہ میڈیا ہاوسسز ہیں کہ جن کے دفاتر کے باہر غریب مظلوم عوام ہفتوں محض اس لیے بیٹھے رہتی ہے کہ ان کی چند سیکنڈ کی فوٹیج سے اُن کی آواز اقتدار کے اعلی ایوانوں تک پہنچ سکے گی۔ مگر موج میں ڈوبے لاہوری صحافیوں کو حقیقی عوامی مسائل سے کیا لگے؟ ان کے لیے تو امرا کا “کتا شو” زیادہ اہم ہے۔ گویا پنجاب کی باسٹھ فیصد عوام تو جنت میں رہ رہی ہے، کسی غریب مزارے کو اس کی عورت سمیت ننگا نہیں نچایا جاتا، اس پر تشدد نہیں کیا جاتا، کسی بیوہ کی زمین پر حلقے کے ایم این اے ایم پی اے کی پشت پناہی میں با اثر افراد قبضہ نہیں کرتے، کہیں کوئی پولیس گردی نہیں ہوتی، منہاج القرآن کی تنزیلہ اور شازیہ سمیت پنجاب کی تمام عورتیں اپنوں ہی کی گولیوں کا نشانہ بنتی ہیں۔ پولیس معصوم، ایم این اے ایم پی اے مظلوم۔ یعنی قاتل مظلوم اور مقتول ظالم۔ مگر یہ سب میڈیا کیوں دکھائے کہ منی پاکستان تو کراچی ہے اور پاکستان کی تمام مظلوم عوام وہیں آباد ہے۔ تمام ظالم حکمرانوں کا تعلق بھی سندھ سے ہی ہے۔ مطلب اگر سندھ میں کرپشن ختم ہو جائے تو پنجاب کے بھولے بھالے ایس ایچ او، تحصیل دار اور پٹواری تو خود بخود درست ہو جائیں گے۔ پنجاب کے طول و عرض میں پھیلے مدرسوں اور کالعدم تنظیموں کی پناہ گاہوں سے امن کی دھنیں بجنے لگیں گی۔

ضیا دور کا میڈیا آزاد نہ تھا، سینسر شپ اتنی سخت تھی کہ کبھی کبھار جب وقت کم ہوتا اور کوئی خبر وردی والوں کو ناگوار گزرتی تو وہ کاٹ دی جاتی اور عجلت میں اتنا حصہ خالی ہی چھپ جاتا۔ یعنی اخبار کا پیٹ بھرنے کے لیے کسی فلمی ہیروئن کی تصویر بھی نہ چھاپی جا سکتی۔ لیکن اس کے باوجود اس دور میں کچھ حریت پسند صحافیوں نے بڑِ تاریخ رقم کی۔ ذرائع ابلاغ کسی نہ کسی طریقے سے حقائق اور حق بات کچھ نہ کچھ عوام تک پہنچاتے رہے۔ مگر آج کا میڈیا آزاد ہے مگر پھر بھی موچی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ آزادی اتنی ملی ہے کہ ضمیر کی قید سے بھی رہا ہوگئے۔ لاہور میں بڑے بڑے برائے نام حریت پسند رپورٹر بیٹھے ہیں جن کے کریڈٹ پر پنجاب حکومت کے خلاف کوئی ایک بھی بڑی سٹوری نہیں، یہ گرو گھنٹال پنجاب حکومت کا کوئی ایک بڑا سکینڈل منظر عام پر نہیں لا سکے۔ اور لائیں بھی کیسے؟ فرشتوں سے گناہ کب سرزد ہوتے ہیں؟