Featured Original Articles Urdu Articles

جامعہ الاظہر کے سربراہ شیخ الازہر ڈاکٹر احمد طیب کا مسلک تشیع پر تاریخ ساز انٹرویو

 

12250036_1001143183257125_2240180273573044639_n

مصر کی عظیم تاریخی یونیورسٹی الجامعة الازہر عالم اسلام کی واحد جامعہ ہے جسے پوری دنیائے اسلام میں بہت عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ امت کے ہونہار اس عظیم تاریخی درسگاہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسکی نسبت ”الازہری“ اپنے نام کے ساتھ بڑے فخر سے لاحق کرتے ہیں۔ اس درسگاہ کا ہمیشہ امتیاز رہا ہے کہ اس نے مسلک اعتدال کے فروغ کے لیے امت اسلامیہ میں اہم کردار ادا کیا ہے مختلف مذاہب کو باہم جوڑنے میں اس جامعہ کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔

اس نے شدت پسندی، تکفیریت اور دہشت گردی کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی ہے۔ حال ہی میں اس جامعہ کے شیخ جناب ڈاکٹر احمد طیب نے مصر کے ایک مشہور ٹی وی چینل النیل کو بہت ہی اہم انٹر ویو دیا ہے جس میں چینل نے ان سے شیعہ مذہب کے بارے میں کچھ اہم سوالا ت کیے ہیں۔ جن کے جوابات شیخ الازہر نے بہت مدبرانہ انداز میں دیے ہیں۔ جو ہم قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

 سوال :     کیا آپ کی نظر میں شیعہ عقائد میں کوئی مسئلہ ہے؟

جواب:     نہیں کوئی مسئلہ نہیں ، پچاس سال قبل شیخ شلتوت نے فتوی دیا تھا کہ دیگر اسلامی مسالک کی طرح شیعہ پانچواں اسلامی مسلک ہے۔

سوال:      ہمارے بہت سے جوان شیعہ ہو رہے ہیں، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

جواب:     ہوتے رہیں، اگر کوئی شخص حنفی مسلک اختیار کر لیتا ہے تو کیا ہم اس پر اعتراض کرتے ہیں تو پھر یہ افراد بھی چوتھے مسلک سے پانچویں مسلک میں چلے گئے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

سوال :     شیعہ ہمارے رشتہ دار بنتے جا رہے ہیں اور ہمارے بچے بچیوں سے شادیاں کر رہے ہیں؟۔

جواب:     اس میں کیا حرج ہے، مختلف اسلامی مسالک کے مابین شادیاں کرنے کی آزادی ہے۔

سوال:      کہا جاتا ہے کہ شیعوں کا قرآن مختلف ہے؟

جواب:     ایسی باتیں بوڑھی خواتین کی خرافات ہیں، شیعوں کے قرآن کا ہمارے قرآن سے کوئی فرق نہیں۔ یہاں تک کہ ان کے قرآن کا رسم الخط بھی ہمارے قرآن جیسا ہے۔

سوال :     ایک ملک کے 23مولویوں نے فتوی دیا ہے کہ شیعہ کافر اور رافضی ہیں؟

جواب:     عالم اسلام کے مسلمانوں کے لیے فقط الا زہر فتوی دے سکتا ہے، ان مولویوں کے فتوے کی کوئی حیثیت نہیں۔

سوال :     پھر جو شیعہ و سنی کے مابین اختلافات بیان کیے جاتے ہیں وہ کیا ہیں؟

جواب:     یہ غیروں کی سیاست کے پیدا کردہ اختلافات ہیں، وہ شیعہ سنی میں افتراق ڈالنا چاہتے ہیں۔

سوال :     میں ایک اہم سوال کرنا چاہتا ہوں اور یہ کہ شیعہ جو کہ حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کو قبول نہیں کرتے، آپ کیسے انہیں مسلمان کہہ سکتے ہیں؟

جواب:جی ہاں وہ قبول نہیں کرتے لیکن کیا حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمر ؓ پر اعتقاد رکھنا دین اسلام کے اصولوں میں سے ہے۔حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمر ؓ کا مسئلہ ایک تاریخی مسئلہ ہے اور تاریخ کا عقائد کے اصولوں سے کوئی تعلق نہیں۔

سوال:      شیعوں پر ایک اعتراض یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے امام زمانہ ایک ہزار سال سے ابھی تک زندہ ہیں۔

جواب:     ایسا ہونا ممکن ہے اور کیوں ممکن نہ ہو البتہ یہ ضروری نہیں کہ ہم بھی یہ عقیدہ رکھیں۔

سوال :     کیا ممکن ہے کہ 8سال کا بچہ امام ہو؟ شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ آٹھ سال کا بچہ امام ہو گیا تھا؟

جواب:     جب ایک بچہ گہوارے میں نبی ہو سکتا ہے تو ایک 8سالہ بچہ امام بھی ہو سکتا ہے، اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں اگرچہ ممکن ہے کہ ہم اہل سنت کی حیثیت سے یہ عقیدہ نہ رکھیںلیکن یہ بات شیعوں کے مسلمان ہونے کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی اور وہ مسلمان ہیں۔

یہ خوش آئندہ بات ہے کہ عالم اسلام کے راہنما اتحاد امت کی بات کر رہے جبکہ عرب ممالک میں تکفیری تحریک زوروں پر ہے۔ عرب کے شدت پسندوں کو متشددرویہ رکھنے والے عرب علماءکے فتاوی کی حمایت حاصل ہے