Original Articles Urdu Articles

سپاہ صحابہ کی شکست – از ایاز نظامی

12242185_10153653046722435_469597838_n

ادارتی نوٹ: دیوبندی مدرسے سے فارغ التحصیل پاکستانی ملحد ایاز نظامی نے زیرنظر مضمون میں کالعدم دہشت گرد گروہ انجمن سپاہ صحابہ بارے اپنے خیالات کا اظہآر کیا ہے جو قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے

پاکستان کے پڑوس میں ایرانی انقلاب کے برپا ہونے اور افغانستان میں نام نہاد جہاد کے آغاز نے پاکستان کو بہت بری طرح متاثر کیا انہی حالات کے تناظر میں پاکستان میں ایک شدت پسند (دیوبندی تکفیری) تنظیم انجمن سپاہ صحابہ کا آغاز ہوا، جس نے پاکستان میں فرقہ واریت کی سلگتی ہوئی چنگاری کو ایک شعلہ جوالہ میں تبدیل کرکے رکھ دیا، سپاہ صحابہ نے عسکری تربیت کے زعم میں آ کر یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ طاقت کے زور پر شیعہ اقلیت کو دیوار سے لگانے میں کامیاب ہو جائےگی، سپاہ صحابہ کے مقاصد میں سے احمدیوں کی طرح شیعوں کو سرکاری سطح پر کافر قرار دینا، پاکستان کو سنی اسٹیٹ بنانا اور خاص طور پر شیعوں کے عزاداری کے جلوسوں کو یکسر ختم کرانا شامل تھا۔

سپاہ صحابہ کی قیادت کا یہ سمجھنا تھا کہ شیعوں کے جلوسوں پر چند بم بھاڑ کر، ان کی مجالس میں دھماکے کرکے شیعوں کو خوف زدہ کر دیا جائے گا اور اس طرح وہ اپنی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور یوں ان کے مقاصد بآسانی حاصل ہو جائیں گے لیکن اس تمام تر دہشت گردی کا نتیجہ کیا نکلا ؟ پورا پاکستان دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بن کر رہ گیا۔ دہشت گردی کی کارروائیوں نے شیعہ برادری کو مزید منظم ہونے کا راستہ سجھایا، اپنے تحفظ اور وجود کے بقاء کیلئے انہوں نے بجائے کسی قسم کا دباؤ قبول کرنے کے مزید منظم طور پر اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ گویا ؏ الٹی ہوگئی سب تدبیریں کچھ نہ ”جفا“ نے کام کیا

میں اس تحریر کے ذریعے سپاہ صحابہ کی پھیلائی گی منافرت سے متاثرہ نوجوانوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ ذرا غور کریں کہ ان کے قائدین کی نفرت انگیز پالیسیوں نے اس ملک کو جسے وہ سنی اسٹیٹ بنانا چاہتے تھے کس قدر نقصان پہنچایا ہے کہ آج اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ معلوم نہیں کتنے لوگوں کو آپ نے اپنا ہم خیال بنایا لیکن اس سے کہیں زیادہ لوگوں کو آپ نے خود سے متنفر ضرور کرایا ہے۔ آپ اپنے طور پر خود کو سنی مسلک کا ترجمان سمجھ رہے ہوگے لیکن ان لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو آپ کو آپ کی متشددانہ کارروائیوں کی وجہ سے اسلام کا حصہ سمجھنے سے ہی انکاری ہیں۔

دنیا تبدیل ہوچکی ہے، اب تبدیلی کو سمجھیں، اور قومی دھارے میں شامل ہوں، کسی فرقے کو کافر قرار دینے سے یا انہیں دیوار سے لگا دینے سے قومیں آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ آج اقلیتوں کو حقوق دینے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کا دور ہے۔ آپ کی اس متشددانہ کارروائیوں نے جہاں شیعوں کو مزید منظم ہونے کا موقع فراہم کیا وہیں پاکستان کے سیکولر طبقے کو سیکولرازم کا مقدمہ بہتر طور پر پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ آپ اپنی تاریخ کا ذرا جائزہ تو لیں کہ آپ نے اس قدر خون خرابہ کرکے آخر حاصل کیا کیا ہے ؟ میرے نزدیک آپ، آپ کی تنظیم آپ کے ہمدرد گزشتہ تین دہائیوں کے بہترین لوزرز (شکست خوردگان) ہونے کے اعزاز کے قابل ترین مستحق ہیں