Featured Original Articles Urdu Articles

مہدی حسن : جھوٹے روپ کے درشن – عامر حسینی

mehdi hasanMehdi-Hassan

مہدی حسن قطری حکومت کا ملازم ہے اور یہ قطر کی حکومت کے پروپیگنڈا ساز ہونے کا ساتھ اس حقیقت کے باوجود دے رہا ہے کہ قطر شام کے اندر سلفی – اخوانی – دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کی پوری پوری مدد کررہا ہے اور قطر مڈل ایسٹ میں امریکی پالیسیوں سے لگنے والی آگ اور اس آگ کا ایک شرارہ ” داعش ” کی تخلیق کا اتنا ہی زمہ دار ہے جتنی زمہ داری سعودی عرب اور ترکی پر عائد ہوتی ہے –

مگر مہدی حسن کو اپنی ” ساکھ ، اعتبار ” کی کوئی پرواہ نہیں ہے بلکہ وہ انکل ٹام اور اس کے اتحادیوں کی خوشی کے لئے ” طالبان ، القائدہ ، داعش ” کے ظہور اور ان کے جرائم کے لئے عذر تلاش کرتا ہے – وہ حقائق پر ابہام کا پردہ ڈال کر ، ان کو توڑ مروڑ کرکر اور کچھ حقیقتوں کو خارج کرکے غلط قسم کی مساوات قائم کرتا ہے تاکہ داعش بارے حقیقت پر پردہ ڈالا جاسکے اور اس حوالے سے امریکہ اور اس کے اتحادی عرب ممالک اور ترکی کے گھناؤنے کردار کو چھپایا جاسکے

میں ” مہدی حسن ” کے بارے میں یہ سب لکھنے پر اس لئے مجبور ہوا ہوں کہ حال ہی میں اس نے فیس بک پر اپنی وال پر یہ لکھا

“To have any credibility as a Shia, you have to be able to condemn Shia crimes against Sunnis, e.g. death squads in Iraq. To have any credibility as a Sunni, you have to be able to condemn Sunni crimes against Shias, e.g. death squads in Pakistan. We must stop this unthinking tribalism and sectarianism and the equally childish ‘two wrongs make a right’ and ‘they started it’ approaches.” http://www.shiapac.org/2014/10/18/mehdi-hasan-an-uncle-tom-shia-whitewashes-isis-crimes-against-humanity/

بطور ایک شیعہ کے آپ کی ساکھ اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب آپ ” شیعہ کے سنّیوں کے خلاف جرائم ” جیسے ” عراق میں ڈیتھ اسکواڈ ” مذمت کریں – اور بطور سنّی آپ کی ساکھ اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب آپ سنّیوں کے شیعہ کے خلاف جرائم کی مذمت کریں جیسے پاکستان میں ڈیتھ اسکواڈ کی

ایک تبصرہ نگار نے ” مہدی حسن ” کی جانب سے ” شیعہ – سنّی بائنری ” کو چونکانے والی بات کہا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ اس میں کچھ بھی چونکادینے والا نہیں ہے ، کیونکہ ایک وظیفہ خوار ، نوکر پیشہ آدمی کہاں معروض اور حقیقت کی تلاش کرتا ہے بلکہ اس کو پہلے سے لکھا گیا ایک سکرپٹ اپنے نام سے اور اپنی کرافٹنگ کی مہارتوں کے ساتھ پوسٹ کرنا ہوتا ہے جو مہدی حسن نے بھی کیا

اب مہدی حسن کو اس بات سے کیا لینا دینا کہ جب وہ ” داعش ” کو مجرد ” سنّی تنظیم ” لکھتا ہے اور اس کے بارے میں یہ مفروضہ گھڑتا ہے کہ وہ عراق میں ” شیعہ کے جرائم ” کی پیداوار ہے تو وہ اس حقیقت کو مسخ کرتا ہے کہ یہ داعش وہ تنظیم ہے جس نے عراق اور شام میں صحابہ کرام ، اہل بیت اطہار کے مزارات کو تباہ کیا ، اس نے صرف شیعہ کا قتل ہی نہیں کیا بلکہ اس نے ” سنّی قبائل ، کرسچن ، یزیدی ، اکالدیین اور کردوں ” کا بھی قتل عام کیا ،

ان کی عورتوں کو لونڈیاں بناکر خرید وفروخت اور جنسی تسکین کے لئے استعمال کیا –وہ سنّی جمہور کے نظریات و عقائد کی اتنی ہی سخت مخالف ہے جتنی وہ شیعہ یا دوسرے مکاتب فکر کی ہے اور حیرت انگیز طور پر مہدی حسن نے ایک مرتبہ بھی داعش و القائدہ و طالبان وغیرہ کو سلفی – اخوانی – دیوبندی تکفیری تنظیمیں قرار نہیں دیا ، اس سے اس کی اپنی ساکھ برباد ہوکر رہ گئی ، وہ جب ” شیعہ کے جرائم ” جیسی مطلق اصطلاح استعمال کررہا تھا تو اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ جب عراق میڑ رمادی و انبار کے اندر داعش نے قبضہ کیا تو وہآں سے آنے والے مسیحیوں اور یزیدیوں ، سنّیوں کے ۂغے حضرت علی ابن ابی طالب کے مزار کے دروازے کھول دئے گئے تھے جہاں انہوں نے قیام کیا اور نجف میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا روضہ نہ صرف شیعہ بلکہ ” سنّیوں ” کے لئے بھی مکّہ اور مدینہ کے بعد سب سے مقدس مقام ہے ؟

شیعہ – سنّی جھوٹی بائنری تلاش کرنے کی خاطر مہدی حسن نے مطلق ” سنّی جرائم ” کی اصطلاح پاکستان کے اندر مذھبی دھشت گردی کی وضاحت کرنے کے لئے استعمال کی – جبکہ اس اصطلاح کے زریعے سے مہدی حسن نے یہ حقیقت چھپا لی کہ پاکستان کے اندر مذھبی دھشت گردی کرنے والے جو تکفیری گروہ سرگرم ہيں وہ ایک تو دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں ، دوسرا ان کی دھشت گردی کا نشانہ صرف شیعہ ، ان کی امام بارگاہ اور جلوس و مجالس عزا ہی نہیں ہیں بلکہ وہ اہلسنت بریلوی و صوفی سنّی کمیونٹی جو کہ پاکستان کی مسلم اکثریتی کمیونٹی ہے کے مزارات اور جلوس ہائے میلاد اور ان کے علماء و مشآئخ کو بھی اپنا نشانہ بناتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے نشانے پر کرسچن ، احمدی ، ہندؤ بھی ہیں

مہدی حسن نے اپنی جھوٹی غیرجانبداری اور قبیلہ پرستی سے پرے ہونے کا ثبوت دینے کے لئے ایک طرف تو پاکستان کے اندر شیعہ کی نسل کشی کا تناظر ہی غارت کرڈالا اور ساتھ ہی اس کے سکیل اور پیمانے کو بھی محدود کردیا اور اسے ” ادلے کا بدلہ ” بنادیا – القائدہ اور داعش کا زکر مہدی حسن گول کرگیا جس نے دوہزار تین میں سینکڑوں ، ہزاروں شیعہ ، مسیحی ، سنّی کرد ، ترکمان ، کلاڈین اور دوسری کمیونٹیز کو شہید کیا تھا – اس نے داعش و القائدہ کی جانب سے مزارات ، مقابر ، چرچ اور دوسرے مقدس مقامات کی تباہی کا زکر گول کردیا جن کا تعلق عراق کے تمام مذاہب و مسالک سے تھا –

کیا یزیدی کروں نے سلفی دیوبندی داعش کی جانب سے نسل کشی کا سامنا کرنے کے باوجود کسی دھشت گردی کا مظاہرہ کیا یا اس سے پہلے کیا ہو ؟ لیکن مہدی حسن کے ںزدیک تو عراق میں 2006ء سے جو بھی ” دھشت گردی ” ہے وہ شیعہ میلیشیا کی جانب سے ہورہی ہے جبکہ وہ ” شیعہ مسلح گروہوں ” کے زیادتی کے اقدامات بارے شیعہ لیڈر آیت اللہ سیستانی کے مذمتی بیانات کو بھول جاتا ہے اور مہدی حسن یہ بھی بھول جاتا ہے کہ پاکستان میں ” شیعہ نسل کشی ” کو سپورٹ دینے والے تکفیری فتوے دیوبندی مدرسوں سے وقفے وقفے سے جاری ہوتے رہتے ہیں اور دیوبندی مولویوں میں سے کوئی ایک بھی مولوی ایسا نہیں ہے جو ” سپاہ صحابہ پاکستان ” کے شیعہ کے خلاف تکفیری فتوی مہم کی اعلانیہ مخالفت کرتا ہو –

عراق میں سنّی اپنی آبادی کے تناسب سے زیادہ نمائندگی رکھتے ہیں ، اور عراقی سنّی قبیلے عراقی فوج کے ساتھ ملکر داعش کے خلاف صف آراء ہیں اور وہ داعش کو سنّی تنظیم نہیں مانتے – لیکن وہابی عرب ریاستوں کے وظیفہ خواروں اور انکل ٹام کے تنخواہ داروں کی مجبوری ہے کہ وہ ” سنّی ” بغاوت اور ” سنّی مزاحمت ” کو ثابت کرنے کے لئے ” سلفی وہابی اخوانی دیوبندی ” عسکری دھشت گرد تںطیموں کو ” سنّی تنظیم ” بناکر دکھائیں –

جیسے امریکہ ، برطانیہ سمیت یورپ ، عرب ریاستوں بشمول سعودع عرب و قطر و ترکی کا نام نہاد اعتدال پسند باغی شامی فوج کا جنرل سالم ” نصرہ فرنٹ ” کو شامی سنّیوں کی حقیقی نمائندہ تنظیم بناکر پیش کرنے لگا ہوا ہے اور جب روس ، ایران ، شام نے ملکر داعش اور سلفی جہادی دھشت گرد گروپوں کی مار لگانا شروع کی تو حیرت انگیز طور پر امریکیوں نے شام ميں ” سنّی نسل کشی ” کا ڈرامہ رچانا شروع کردیا ہے جبکہ اس طرح کی نسل کشی کا واویلا ” داعش اور دیگر سلفی وہابی گروپوں ” کی جانب سے سنّی عرب اور سنّی کردوں کی نسل کشی کے موقعہ پر نہیں کیا گیا تھا ، یہ ایک منافقانہ رویہ ہے جو امریکی ، یورپی اور ان کے اتحادی عرب وہابی حکومتوں نے اختیار کیا ہوا ہے اور ان کے تنخواہ دار تجزیہ کار ” سلفی –دیوبندی تکفیری فاشسٹ یلغار کو ” شیعہ – سنّی جھگڑے کے طور پر دکھانے کی کوشش میں حقائق مسخ کرتے ہیں