Original Articles Urdu Articles

قاری حنیف ڈار ،محمود عباسی سبو خ سید ، غامدی اینڈ کمپنی دور حاضر کے جدید خوارج

ghamidi

Tahqeeq Mazeed Khilafat o Muawia o yazeed GF5xs hqdefault (1) hqdefault

قاری حنیف ڈار کو ہم ” اصلاحی مکتب فکر ” کا ایک سکالر کہہ سکتے ہیں اور اگر اس کو زرا زیادہ وضاحت سے بیان کریں تو وہ ” نظام الدین رفاہی ” کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور اس مکتبہ فکر کے بارے میں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس نے ” قرآن کریم ” کی عثمانی ترتیب کو ” خدائی ، الہامی اور توفیقی ترتیب ” خیال کرتے ہیں اور یہ ” ںزولی اور تاریخی ترتیب ” کے سب سے بڑے مخالف ہیں اور اس مکتبہ فکر کے بارے میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ مکتبہ فکر بہت زیادہ

” Ahistorical “

اسکول آف تھاٹ ہے اور کتنی عجیب و غیریب بات ہے کہ یہی قاری حنیف ڈار کی ایک تقریر محرم کے دنوں میں سامنے آئی اور تقریر کا عنوان ہے ” حسین کس کے ہیں ؟ اس تقریر کے آغاز میں وہ تمہید کے طور پر ” تاریخ ” پر ہی ایک ژطلق فلسفہ جھاڑتے ہیں اور اس دوران ” تاریخ کو کنفیوژن پھیلانے والی ،

misconception

, اور حکمت سے خالی قرار دیتے ہیں اور یہاں پر وہ اپنے خطاب میں ایک بہت ہی عجیب و غریب منطق سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ” قران ” میں سلمان علیہ سلام کی موت کا جو بظاہر توھین آمیز طریقہ اپنایا گیا اس کی حکمت قرآن میں یہ تھی کہ ” توحید بالصفات ” کی حفاظت کی گئی اور سبب یہ بتایا گیا کہ ان کے زمانے میں ” جنوں کو علم غیب ” کا عقیدہ پھیل رہا تھا اور یہ ” شرک فی الصفات ” تھا – حنیف ڈار کو ” تاریخ ” کے واقعات کی وہ تعبیر جو ان کے

” Ahistorical perspective “

کو سپورٹ نہیں کررہے تو وہ تاریخ کے اس

” narrative “

بیانیہ کو رد کرتا ہے اور ” ‍قرآن ” کے اندر ” تاريخی واقعات ” کے بیان کی ” اے ہسٹاریکل ” تعبیر کرتا ہے ——— اور زرا دیکھئے کہ اب جب وہ ” واقعہ کربلاء اور حسین کی شہادت ” کی حکمت بیان کرنے کا دعوی کرتا ہے تو اب کیونکہ واقعہ کربلاء حضور علیہ الصلوات والتسلیم کی وفات اور ” قرآن ” کے نزول کے بعد ہوا اور اس کا زکر تو قرآن کی نصوص قطعی سے مل نہیں سکتا اور اس کی ” اپنی من مانی اے ہسٹاریکل ” تعبیر کی نہیں جاسکتی تھی اور ایسی تعبیر جس سے وہ شیعت پر من گھڑت الزامات لگا سکتا جس کی خواہش اس کی اس پوری تقریر میں ہمیں نظر آتی ہے –
حنیف ڈار کہتا ہے کہ :

” علی اورامام حسین کی شہادت کے وقت دین کو کوئی خطرہ نہیں تھا ، دین میں کوئی تحریف نہیں ہورہی تھی اور وہ کہتا ہے کہ صحابہ کرام موجود تھے تو کوئی خطرہ اسلام کو نہیں تھا بلکہ ان کی شہادتوں کی وجہ یہ تھی کہ آنے والے دنوں میں ان کی وجہ سے دین خطرے میں پڑجائے گا ، کہ علی اور حسین کو لوگ ” خدا ماننے لگے ہیں “

پہلی بات تو یہ ہے ہمیں قاری حنیف ڈار کی اس تقریر سے پتہ چل گیا کہ قاری حنیف ڈار کو ” واقعہ کربلاء اور اس سے پہلے آل محمد و علی کرم اللہ وجہہ الکریم ” کے ساتھ جو واقعات رونماء ہوئے ان کے بارے میں جو تاریخی ڈسکورس ہے وہ قاری حنیف کو سپورٹ نہیں کررہا تھا تو انہوں نے اس تاریخ کو

” Confusion ، Misconception ”

سے بھرا قرار دے ڈالا اور پھر اس واقعہ کی تعبیر ایسے کی کہ حضرت علی اور امام حسین کی شہادت اور ان کی جملہ مشکلات اس لئے اللہ نے ان پر مسلط کی کہ ان سے ” ان کی رزالت ، زلت ( معازاللہ ) دکھائے تاکہ ان میں ” الوہیت ” کی نفی ہو – اس سے ضمنی طور پر قاری حنیف ڈار محمد بن عبدالوہاب نجدی اور شیخ اسماعیل دھلوی سے مل جاتے ہیں جنھوں نے ” انبیاء کی بشریت ” ثابت کرنے کے لئے معازاللہ ان کو چوڑے چمار سے بھی کمتر بدتر مخلوق عنداللہ ” قرار دیا
قاری حنیف ڈار قرآن میں انبیاء ، صالحین ، آل بیت ” پر اٹھنے والے مصائب اور مشکلات کو ان کی آزمائش کی بجائے یہ بتلاتا ہے کہ اس سے ان کو زلت اور ان کی کمتر مخلوق ثابت کرکے لزکزن کو ان کے حوالے سے شرک کرنے سے روکنا اور توحید کی حفاظت تھا ، یہ وہ

” Ahistorical ”

تعبیر ہے جو قاری حنیف ڈار نے کی ہے اور اپنے تعصبات اور اپنی گمراہ کن خواہش کو ” ‍فکر قرآن ” قرار دے دیا

قاری حنیف ڈار کے مطابق اللہ کو پتہ تھا کہ لوگ علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور ال محمد کو ” خدا ” مان لیں گے اور علی کو ” مشکل کشاء ” مان لیں گے اور اس عقیدے کو توڑنے کے لئے اللہ پاک نے ” علی اور آل محمد ” کو مشکلات کا شکار کردیا اور ان کی شہادت بھی اسی وجہ سے ہوئی

قاری حنیف ڈار کی اس بات کا ایک جواب تو یہ ہے کہ :

جناب علی کرم اللہ وجہہ کریم کو ” خدا ماننے والا ” گروہ بہت ہی قلیل تھا اور ایسے لوگ کبھی بھی اتنے طاقتور نہیں رہے کہ وہ مسلم سماج کا غالب چہرہ ہوجاتے اور آپ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی زندگی ميں بھی اسے لوگوں کا ثبوت تاريخ میں اکا و دکا ملتا تھا اور آج بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو ” الہ ” ماننے والے انتہائی قلیل ہیں ، شام کے اندر جو ” علوی ” ہیں ان کے بارے میں یہ کہنا کہ جناب علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو ” خدا ” کہتے انتہائی گمراہ کن ہے علویوں کی اکثریت ” حناب علی کرم اللہ وجہہ الکریم ” کو خدا نہیں مانتے ، اور اسد کی ایسی تصویریں موجود ہیں جس میں وہ ہاتھ باندھ کر دمشق کی جامع مسجد میں نماز پڑھ رہا ہے – تو قاری حنیف کا یہ دعوی غلط ہے کہ جناب علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی زندگی کے بعد ان کے عقیدت مندوں کی اکثریت نے ان کو کبھی ” خدا ” تو درکنار کبھی ” رسول ” بھی نہیں مانا بلکہ ان کو نائب امام تسلیم کیا
قاری حنیف ڈار نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ” مشکل کشا ” ہونے کے بارے میں بارے میں جتنی باتیں کی ہیں ، پہلی بات تو یہ ہے کہ علمائے اہل سنت کی اکثریت سوائے وہابیت اور نو دیوبندیت کے کسی نے بھی انبیاء کرام ، اہل بیت اطہار اور اولیائے کرام سے ” مسلم کشاء ، مدگار ” اور دیگر القاب لگانے کو خلاف شرک قرار نہیں دیا ، قای حنیف ڈار ” قرآن ” کے حوالے بہت دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ابوبکر نے دو سال کے عرصے میں جو مشکلات ” امت مسلمہ ” کی دور کی اس کے باوجود وہ ” ابوبکر ” کو ” مشکل کشاء ” نہیں کہیں گے

میں نے جب قاری حنیف ڈار کی یہ منطق پڑھی تو مرے سامنے قرآن کی یہ آیت آگئی

… قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا
کہا ( جبرائیل نے ) میں ترے رب کے طرف سے آیا ہوں تاکہ آپ کو ایک پاک صاف بچہ وہب کروں

قاری حنیف ڈار سے پوچھئے کہ زکریا علیہ السلام کو بچہ اللہ پاک نے دینا تھا اور یہاں جبرائیل نے کہا کہ وہ اپنے رب کی طرف سے آئے ہیں ان کو ایک پاک صاف بچہ وھب دینے آیا ہوں تو ” وہاب ” اللہ کی صفت ہے تو مجازی طور پر جبرائیل نے اس صفت کو اپنی طرف منسوب کرلیا ، حقیقی وہاب اللہ ہی تھا

سورہ مریم کا زکر قاری حنیف کو توحید بارے نظر نہیں آئیں ، اب زرا جناب عیسی ابن مریم کے بارے میں قرآن خود ان کے الفاظ زکر کررہا ہے

وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنْفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ ۖ وَأُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَأُحْيِي الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ اللَّهِ ۖ وَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ

اور رسول بھیجے بنی اسرائیل کی طرف ، بے شک میں تمہاری طرف اللہ کی ایک روشن نشانی بن کر آیا ہوں ، میں تمہارے لئے خلق کرتا ہوں مٹي ایک پرندے کی سی صورت اور پھر اس میں پھونگ مانتا ہوں تو وہ اللہ کے ازن سے پرندہ ہوجاتا ہے اور میں اندھے کو بینا کرتا ہوں اور اللہ کے حکم سے مردہ کو زندہ کردیتا ہوں اور جو تم کھاکر آتا ہو وہ بھی تمیں بتادیتا ہوں اور جو تم گھر چھوڑ آتے ہو اس کی بھی تمہیں خبر دیتا ہوں اور اس میں بے شک تمہارے لئے ” نشانی ” ہے اگر تم ایمان رکھنے والے ہو

یہ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 49 ہے اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عیسی ابن مریم نے اپنی طرف خلق سمیت وہ تمام صفات اپنی جانب منسوب کی ہیں جن کا مجازی طور پر منسوب کیا جانا قاری حنیف ڈار ” شرک ” قرار دے رہا ہے تو جناب علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی جانب ” مشکل کشا ” کی نسبت کی جانا کیسے شرک ہوسکتی ہے اور یہ عقیدہ سوائے ” وہابی اور دیوبندی ” کے دنیاء میں اہلسنت کا بھی نہیں ہے

سورہ قصص جس کا زکر قاری حنیف ڈار صاحب بڑے تزک و احتشام سے اپنی تقریر میں کررہے تھے اس میں سورۂ قصص میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے : ” فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِيْ مِنْ شِيْعَتِهِ عَلَی الَّذِيْ مِنْ عَدُوِّه” تو جو شخص اُن کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسیٰ کے دُشمنوں میں سے تھا موسیٰ سے مدد طلب کی
یعقوب علیہ السلام نے قمیص یوسف سے بینائی واپس آنا قرآن میں ہے

اذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَأَلْقُوْهُ عَلٰی وَجْهِ أَبِيْ يَأْتِ بَصِيْراً

میری یہ قمیض لے جاؤ، سو اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا وہ بینا ہو جائیں گے
فَلَمَّآ أَنْ جَآءَ الْبَشِيْرُ أَلْقَاهُ عَلٰی وَجْهِه فَارْتَدَّ بَصِيْراً”پھر جب خوشخبری سنانے والا آ پہنچا اس نے وہ قمیص یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈال دیا تو اسی وقت ان کی بینائی لوٹ آئی۔ اور قراں پاک میں اللہ ، اس کے رسول اور ایمان والوں کو ” مسلمانوں ” کا مدد گار – ولی – قرار دیا گیا اور اس آیت کے شان ںزول کا سبب حضرت علی کرم اللہ وجہہ غالکریم کو جناب عبداللہ بن عباس نے قرار دیا ، قاری حنیف ڈار اسی لئے تاریخ کو ” مغالطہ آمیز اور غلط ” قرار دیتا ہے کیونکہ اس کی روشنی میں اگر قرآن کی تشریح و تعبیر ہوگی تو اس کے بیان کردہ ” فلسفہ شہادت امام علی وحسین ” کی دھجیاں اڑ جائیں گی

قاری حنیف ڈار نے ایک نظم بھی سنائی اس تقریر کے دوران ، لیکن اسے جرآت نہیں ہوئی کہ وہ شاعر کا نام بتاتا

یہ شاعر ہے طاہر جھنگوی اور یہ نظم مولوی حق نواز جھنگوی کے زمانے ميں ” انجمن سپاہ صحابہ پاکستان ” کے ہر ایک ” شیعہ مخالف ” جلسہ ” ميں سنانے کا سلسلہ شروع ہوا اور میں نے یہ نظم حق نواز سے ایثار القاسمی ، ضیاء فاروقی تا اعظم طارق تا محمد لدھیانوی تا ارونگ زیب فاروقی سب کے سٹیج پر سنی اور اس سے ایک تو یہ صاف پتہ چل گیا کہ قاری حنیف ڈار کی ” دشمنی اہل بیت و آل محمد ” کا ماخذ و منبہ کیا ہے ، دوسرا اس نے ” حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ” کی خلافت کی اپنے تئیں جو ناکامیاں گنوائیں وہ سب کی سب ” منھاج السنۃ ” سے لی گئی ہين اور یہ شیخ ابن تیمیہ کی بدنام زمانہ کتاب ہے جس ميں بغض علی کرم اللہ وجہہ الکریم کھل کر سامنے آیا ، اس کے علاوہ یہ باتیں دیوبندیوں ميں خارجیت کی بنیاد مضبوط کرنے والا ان کا امام ” عبدالشکور لکھنوئی ” کی کتابوں کا خلاصہ ہے

قاری حنیف ڈار ” نو دیوبندیت ، خارجیت ” کا جدید ایڈیشن ہے اور یہ تاریخ سے بالکل ” دشمنان علی ” کی طرح خوفزدہ ہے ، ميں نے ایک جگہ کہا تھا کہ ” خوارج جدید، تاریخ سے قرآن ” سے زیادہ ڈرتے ہیں اور اس لئے یہ تاریخی ” شعور ” کو برباد کرنے کے لئے آخری حد تک جاتے ہیں۔

قاری حنیف ڈار کو دراصل خلافتِ معاویہ و یزید نامی کتاب کے مصنف محمود احمد عباسی کا جدید Version کہنا غلط نہ ہوگا۔ ہمیں اگر بغور جائزہ لیں تو ہمیں قاری حنیف ڈار کے ہمخیال، یعنی جدید خارجی نظریات کے حامل، نام نہاد محقق اور روشن خیال جا بجا نظر آجائیں گے۔ سبوخ سید نامی صحافی بھی اِن میں سے ایک ہے۔ سبوخ سید آئی بی سی اُردو نامی ایک ویب سائٹ بھی چلا رہا ہے۔ سبوخ سید کی خارجیت پر مبنی رائے کے مطابق مسلمانوں کی رائے چرسیوں نے لکھی ہے۔ اس رائے کی بنیاد کیا تھی، اس کا تو ہمیں علم نہیں لیکن مقصد سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ اِس رائے کی بدولت آپ کو یہ سہولت مل جائے گی کہ آپ اپنے خارجی نظریات کو جس طرح سے چاہیں گے،

تاریخ کے من پسند سانچے میں ڈھال دیں گے اور جہاں ضروت پڑے گی وہاں قاری حنیف ڈار کی طرح سرے سے واقعات کا حلیہ ہی بدل کر رکھ دیں گے۔ تاکہ کسی طرح توحید پرستی کا دکھاوہ کرکے مرتبہ مصطفی (ص) اور شانِ اہلیبیت کم کی جا سکے۔ ان دونوں کی نظریات اور خیالات میں تاریخ سے متعلق کم و بیش ایسے ہی افکار پائے جاتے ہیں جس کا اظہار اس تقریر میں کیا گیا۔ اسے قدیم خارجیت کی جدید شکل کہہ لیجے یا روشن خیال کے لبادے میں چھپی ہوئی اہلیبیت سے دشمنی، لیکن اِس فکر کا ماخذ برصغیر پاک و ہند میں پائی جانی والی وہ فکر ہی ہے جس کی بنیاد شانِ رسول (ص) گھٹانا، اہلیبیت سے دشمنی اور مستند تاریخی واقعات کو مبہم اور مسلمانوں کی مجموعی رائے کا چوٹ پہنچانا ہے۔ ہمارے نزدیک، محمود احمد عباس، ڈاکٹر اسرار احمد، امین اصلاحی، جاوید احمد غامدی، قاری حنیف ڈار اور سبوخ سید وغیرہ، یہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ جس طرح غامدی اپنے اوپر روشن خیالی اور جدت کا لبادہ چڑھا کر خارجیت کی اس نئی شکل کی ترویج کرتا ہے، قاری حنیف ڈار ٹھیک اُنہی خطوط پر اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ غامدی کے نظریات اور اُن کی شخصیت کی توصیف یہ وقتا فوقتا اپنی تحریروں میں کرتا رہتا ہے۔

اس پوری تقریر میں قاری حنیف ڈار ایک طرف تو قرآن میں بھی ” زاتی پسند اور ناپسند ” کا ارتکاب کرتا رہا ہے اور پھر اس نے ” مقتل حسین ” پر لکھی جانے والی کتب سے ایسے صرف نظر کی ہے جیسے ان کا وجود ہی نہ ہو

قاری حنیف ڈار کے مخاطب ” اسکول ، کالجز اور یونیورسٹی ” کے وہ طلباء و طالبات ” ہوتے ہیں جن کے سامنے نہ تو ” حقیقت اور مجاز ” کے فرق کا ” شیعی یا صوفی سنّی ” نکتہ نظر نہیں ہوتا اور ان کو تاریخ ، حدیث اور فقہ کی کتب اور روایات کے ماخذ بارے بھی علم نہیں ہوتا ، اب ان کے سامنے جب قاری حنیف ڈار جیسے چالاک لوگ ” من گھڑت ” تعبیرات کا ملغوبہ ” جدید اصطلاحات میں بیان کرتے ہیں تو اکثر ” سادہ لوح سنّی نوجوان ” اس سے متاثر ہوجاتے ہیں ، ہم اس لئے کہتے ہیں کہ “مسلم شعور ” ” شعور تاریخ ” پر جو زور دیتا ہے وہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔

قاری حنیف ڈار کی تقریر اس لنک پر سنی جاسکتی ہے

قاری حنیف ڈار ، جاوید غامدی اور اس قبیلے کے نام نہاد ” جدیدت پسند ” خوارجیت کا جدید ایڈیشن ” ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں اور یہ سب ” جدیدیت ” کے نام پر سب سے زیادہ تاریخ کا قتل کرتے ہیں اور ان کا مشن وہی ہے جو یزید کا تھا۔ گویا پرانی شراب نئی بوتلوں میں بند کرکے پیش کی جاررہی ہے اور ان کی تقریروں سے وہ سٹف تیار ہوتا ہے جو بعد میں ” داعش ، القائدہ ، لشکر جھنگوی ، جماعت الاحرار ” کے کام آتا ہے اور اس گروہ کی پاکستانی مڈل کلاس پیٹی بورژوا طبقے کی پروفیشنل پرتوں میں موجودگی کسی بھی ٹائم بم سے کم نہیں ہے اور یہ نام نہاد جدید اسکالرز پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کے پرائم ٹائم میں ایک غالب ڈسکورس کے نمائندے بنتے جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کا اثر بھی بڑھ رہا ہے ، ایسی صورت میں ہمیں اور تیزی کے ساتھ اپنے نوجوانوں کے اندر ” شعور تاریخ ” پھونکنے کی ضرورت ہے۔