Featured Original Articles Urdu Articles

قاری حنیف ڈار ، سبو خ سید ، غامدی اینڈ کمپنی کو اہلسنت کا زبردست جواب ،

qari haneef12196321_974304929295571_9096883123800395155_n

محبت اہل بیت اور خارجیت جدید
عوام اہل سنت !
زمانہ جدید میں فتنہ خارجیت نے ایک مرتبہ پھر شد و مد سے سراٹھایا ہے اور اس فتنہ خارجیت کی کئی کیمپ سامنے ہیں – ایک کیمپ تو کھلے دشمن کے طور پر موجود ہے اور یہ کیمپ تکفیری دیوبندی اور تکفیری سلفی دھشت گرد تنظیموں کی شکل میں سامنے ہے ، جیسے القائدہ ، داعش ، تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار ، لشکر جھنگوی ، نصرہ فرنٹ وغیرہ اور ان کی حامی تنظیمیں سپاہ صحابہ پاکستان / اہلسنت والجماعت ( دیوبندی تکفیری ) ہیں جبکہ اس کے ساتھ ہی ایک کیمپ خارجیت کا وہ ہے جو اپنے آپ کو ماڈریت ، جدید ، قائل اجتھاد اور روشن خیال ، غیر فرقہ پرست اسلام کا داعی ظاہر کرتا ہے اور اپنے خیالات کو اہل سنت کے ٹھیک اور بدعت سے پاک خیالات ظاہر کرنے کا دعوے دار ہے ،

یہ کیمپ اپنے آپ کو جدید و قدیم تعلیم سے آراستہ بھی کہتا ہے لیکن اگر گہرائی میں اتر دیکھا جائے تو اس گروہ کی جڑیں ہمیں تاریخی اور ںطریاتی طور پر ” گروہ خارجیت ” میں ہی پیوست نظر آئیں گی اور ان کے نظریاتی استاد شیخ ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب اور دیوبندی مکتبہ فکر کے مائل بہ خارجیت مولوی حضرات ہی ملیں گے اور ان سب کا قبلہ و کعبہ ” سعودی عرب اور آل سعود ” ہی ہوں گے
جس جدید خارجی کیمپ کا ہم زکر کررہے ہیں ، اس میں آج کل ڈاکٹر جاوید احمد غامدی ، قاری حنیف ڈار ، سبوخ سید وغیرہ شامل ہیں اور یہ ایک طرف تو جماعت اسلامی کے بانی سید مودودی ، اخوان المسلمون کے امام التکفیر و الخوارج سید قطب اور امین احسن اصلاحی سے خیالات مستعار لیتے ہیں مگر جب ” اہل بیت اطہار ” کا معاملہ آئے اور ” یزید و بنو امیہ ” کا سوال آئے تو یہ ڈاکٹر محمود عباسی ، عبداللہ چکڑالوی ، احمد چار یاری دیوبندی ، عبدالشکور لکھنوی وغیرہ کے حلقہ بگوش ہوجاتے ہیں ، شیخ ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب نجدی ، شاہ اسماعیل دھلوی ، عبدالشکور لکھنوی وغیرہ سے یہ خيالات مستعار لینے لگتے ہيں اور ” اہل بیت اطہار سے محبت کے اظہار کو ” اہلسنت کے شعار ” کے منافی اور اسے ” بدعت و شرک ” ثابت کرنے لگ جاتے ہیں

ہم اہل سنت کے عوام کو ان ” خارجی بہروپیوں ” سے خبردار کرتے ہیں اور ان کو واضح کرتے ہیں کہ ” غم حسین ” کا اظہار ” رونے اور گریہ ” سے گرنا شعار اہلسنت ہے ، سبیل لگانا ، نیاز بانٹنا ، اور امام حسین اور ان کے ساتھی شہداء کی یاد میں منظوم کلام پڑھنا اہلسنت کا شعار اور طریقہ ہے جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ خارجی ہے اہلسنت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے
اہلسنت سے محبت کرنا عقیدہ اہل سنت ہے اور اس کا اظہار شعار اہلسنت ہے – جس کا دل محبت و مودت اہل بیت سے بھرا ہوا ہوگا وہ اس کا اطہار بھی کرے گا اور جو اظہار نہ کرے گا بلکہ اس کی مخالفت کرے وہ خارجیت زدہ ہے ” سنّی ” نہیں ہے – اہلسنت کی شناخت حب و تکریم اہلبیت اطہار و صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ہے اور ان دونوں سے ملکر حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شجر تناور بنتا ہے
جو شخص حضور علیہ الصلوات والتسلیم اور اہل بیت اطہار سے مجبت کا اظہار کرنے کو ” بدعت اور خلاف اسلام ” گردانے وہ شخص مسلمان تو کجا انسان بھی کہلانے کا مستحق نہیں ہے ، اہل بیت اطہار سے اپنی وابستگی ، عشق ، جذبات کا اظہار 1400 سال سے تاریخ اسلام میں ہمارے کل آغہ کا طریق ، مسلک ، مشرف ، شعار رہا ہے ، اہل سنت کے چاروں آئمہ فقہ امام اعظم ابو حنیفہ ، سیدنا امام مالک ، امام ابو ادریس محمد شافعی ، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالی کا مسلک ، مشرف ، شعار یہی رہا ہے اور ان آئمہ کے ماننے والوں نے بھی ان کے راستہ کی پیروی کی ہے
امام اعظم ابوحنیفہ اور عشق اہل بیت اطہار
امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو اہل بیت اظہار سے کمال کا عشق تھا ، آپ کے زمانے میں جتنے آغمہ اہل بیت اطہار حیات تھے آپ ان میں سے ہر ایک کے شاگرد بنے ، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ امام ابوحنیفہ کی جتنی بھی سیاسی فکر تھی وہ آغمہ اہل بیت اطہار سے مستعار لی ہوئی تھی تو غلط نہیں ہوگا اور حنفیت محبت اہل بیت اطہار سے سرشاری اور آپ کے دشمنوں سے بیزاری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
امام ابن ابی حاتم ، امام مزی ( تہذیب الکمال ) ، امام ذھبی ، علاقہ ابن حجر عسقلانی ، امام جلال الدین السیوطی اور دیگر آئمہ نے بیان کیا کہ امام اعظم ابو حنیفہ نے امام باقر بن علی بن حسین رضوان اللہ علیھم اجمعین کے سامنے زانوئے تلمذ طے کئے ، ان کے شاگرد بنے – امام اعظم ابو حنیفہ کے فضائل پر سب سے مربوط ، جامع اور مستند کتاب امام موفق بن احمد المکّی نے تحریر فرمائی جس کا نام ” مناقب امام ابی حنیفہ ” ہے اس میں عبداللہ بن مبارک معروف فقیہ محدث نے روایت کیا کہ
امام ابوحنیفہ جب مدینہ گئے تو آپ نے امام باقر رضی اللہ عنہ کی خدمت اقدس ميں حاضری دی اور آپ نے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا
فان لک عندی حرمۃ کحرمۃ جدک فی حیاتہ علی الصحابہ
بے شک آپ کی حرمت اور تعظیم و اکرام مرے نزدیک اتنا ہی ہے جتنا صحابہ کرام کے ںزدیک آپ کے جد امجد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھا
بحوالہ المناقب للموفق ص 168
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا شاگرد ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ، امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ کوفہ تشریف لائے تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو آپ کی تشریف آوری کا علم ہوا ، آپ اپنے درجنوں شاگردوں کے ساتھ امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے اور آپ کی مجلس میں آپ گھٹنوں اور پاؤں کے بل بیٹھے تو آپ کے شاگردوں نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا ، اس پر امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ نے استفسار فرمایا کہ یہ کون ہیں تو بتایا گیا کہ یا ابوحنیفہ ہیں ، یہ امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ سے امام ابو حنیفہ کی پہلی ملاقات تی ، اس کے بعد امام ابوحنیفہ نے امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ سے کئی ملاقاتیں کیں ، آپ کے بحر علم سے فیض اٹھایا اور آپ کے شاگرد رشید امام حسن بن زیاد لولؤی روایت کرتے ہیں کہ
سمعت ابا حنیفہ و سئل من افقہ من رایت ، قال ما رایت افقہ من جعفر بن محمد الصادق

میں نے سنا کہ ابو حنیفہ رصی اللہ عنہ سے جب بھی سوال کیا گیا کہ جن قھا کو انہوں نے دیکھا ان میں سب سے زیادہ فقہیہ کون تھا تو ہمیشہ ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے امام جعقر الصادق رضی اللہ عنہ سے بڑا فقیہ روئے زمین پر کوئی نہیں دیکھا
مناقب ابی حنیفہ میں اور دیگر کتب میں درج ہے کہ امام ابو حنیفہ نے درج ذیل آغمہ اہل بیت اطہار سے ملاقات کی اور ان سے علم حاصل کیا
امام زید بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب ( یعنی امام زین العابدین کے بیٹے )
امام عبداللہ الباقر بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب ( امام زین العابدین کے دوسرے بیٹے )
امام عبداللہ بن حسن المثنی ( امام عبداللہ الکامل )
امام حسن المثلث ( امام حسن مجتبی کے پڑپوتے )
امام حسن بن زید بن حسن مجتبی
حسن بن محمد بن حنفیہ بن علی ابن ابی طالب
امام جعفر بن تمام بن عباس بن عبدالمطلب
امام ابو حنیفہ نے امام جعفر الصادق کے بارے میں فرمایا تھا
ان اعلم الناس اعلمھم باختلاف الناس
بے شک امام جعفر صادق لوگوں کے نظریاتی اختلاف بارے سب سے زیادہ جاننے والے تھے
امام اعظم ابو حنیفہ نے بنو امیہ اور بنو عباس کی حکومتوں کو ہمیشہ ناجائز خیال کیا اور آپ حکومت و ولایت کا حقدار اہل بیت اطہار کو گردانتے تھے ، جب حضرت زید بن علی بن حسین نے بنوامیہ کے خلیفہ ہشام کے خلاف بغاوت کی اور اعلان جہاد کیا تو آپ نے ان کی خدمت میں 12 ہزار درہم بھیجے اور آپ نے فتوی دیا کہ جو حضرت زید بن علی کا ساتھ دے گا اور اگر وہ شہید ہوگا تو جنگ بدر میں شریک شہداء کے برابر ثواب پائے گا ، آپ نے بعد ازاں بنو امیہ کے خلاف لوگوں کی بغاوت کو حق بجانب قرار دیا اور اسی طرح جب آغمہ اہل بیت اطہار نے عباسی خلفاء کے خلاف خروج کیا اور تحریک چلائی تو آپ نے اس کا بھی ساتھ دیا ، مالی معاونت کی ، اپنے حلقہ اثر کو اس میں شرکت کو کہا ، جب بنو عباس کو پتہ چل گیا کہ امام ابو حنیفہ اہل بیت اطہار کی حمایت کرتے ہیں تو انہوں نے ابو حنیفہ کو چیف جسٹس بننے کو کہا لیکن آپ نے انکار کیا ، یہ ایک بہانہ تھا آپ کو ” عشق اہل بیت ” کی سزا دینے کا ، آپ کو جیل میں ڈال دیا گیا اور اس جیل سے آپ کا جنازہ نکلا ،
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور عشق اہل بیت
امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ سچے عاشق رسول اور سچے عاشق اہل بیت تھے ، آپ اہل بیت کے عشق اور محبت میں فنا تھے ، امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ سے جب کوئی فقہی مسئلہ پوچھنے آتا تو آپ فرماتے
اذھب الی مالک عندہ علمنا
مالک کے پاس چلے جاؤ ، ہمارا علم اس کے پاس ہے
آپ کل آغمہ اہل بیت کے شاگرد تھے ،مالک بن انس حضرت امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ کی علمی اور اخلاقی عظمت کے بارے میں کہتے ہیں کہ میں ایک مدت تک جعفر ابن محمد کی خدمت میں زانوےادب تہ کیا کرتا تھا آپ مزاح بھی فرمایا کرتے تھے ہمیشہ آپ کے لبوں پر تبسم رہتا تھا۔ جب آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام مبارک لیاجاتا تو آپ کے چہرے کا رنگ سبز اور زرد ہوجاتا تھا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کی ہو اور وضو سے نہ ہوں۔ میں جب تک ان کے پاس آیا جایا کرتا تھا میں نے نہیں دیکھا کہ وہ ان تین حالتوں سے خارج ہوں یا وہ نماز پڑھتے رہتے تھے ، یا قرآن کی تلاوت کررہے ہوتے تھے یا پھر روزہ سے ہوتے تھے۔ میں نے نہيں دیکھا کہ آپ نے کوئي بے فائدہ اور عبث بات کی ہو ۔ وہ علماء زھاد میں سے تھے کہ جن کے دل میں خوف خدا گھر کرگیا تھا۔ ان کے پورے وجود سے خوف خدا عیاں رہتا تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں ان کی خدمت میں پہنچا ہوں اور آپ نے جس دری پرآپ بیٹھے رہتے تھے اسے میرے لئے نہ بچھا یا ہو
مالک بن انس امام جعفر رضی اللہ عنہ کے زھد و عبادت و معرفت کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ایک برس ہم امام صادق علیہ السلام کے ساتھ حج کرنے مدینے سے نکلے، مسجد شجرہ پہنچے جو اھل مدینہ کی میقات ہے۔ ہم نے احرام باندھا اور سب جانتےہیں کہ احرام باندھتے وقت تلبیہ کہنا یعنی لبیک اللھم لبیک کہنا واجب ہے۔ سب لوگ تلبیہ کھ رہے تھے۔ مالک کہتےہیں کہ میں نے دیکھا کہ امام صادق علیہ السلام تلبیہ کہنا چاہتے ہیں لیکن ان کا رنگ متغیر ہورہا ہے آپ کی آواز حلق میں پھنس رہی ہے آپ مرکب سے زمیں پر گرنا ہی چاہتےتھے ، میں آگے آیا اور کہاکہ کے فرزند رسول خدا یہ ذکر تو آپ کو کہنا ہی ہوگا جیسے بھی ہو اس ذکر کو زبان پرجاری فرمائيں ، آپ نے فرمایا یابن ابی عامر کیف اجسر ان اقول لبیک اللھم لبیک و اخشی ان یقول عزو جل لا لبیک و لاسعدیک

اے پسر ابی عامر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں جسارت کروں اور اس بات کی جرات کروں اور زبان پر لبیک کے الفاظ جاری کروں ، لبیک کہنے کے یہ معنی ہیں کہ خداوندا تو نے مجھے جو کچھ حکم دیا ہے میں تیری اطاعت کرتاہوں اور اس کی انجام دہی پر تیار رہتاہوں۔ میں بھلا کس طرح سے خدا کے حضور ایسی گستاخی کرسکتاہوں اور خود کو اطاعت خداوندی کے لئے پیش کرسکتا ہوں؟ اگر میرے جواب میں کھ دیا جاے کہ لا لبیک ولاسعدیک تو میں کیا کروں گا؟
مالک بن انس حضرت امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ کی فضیلت و عظمت کےبارے میں کہتے ہیں کہ ما رات عین ولا سمعت اذن ولا خطر علی قلب بشر افضل میں جعفرابن محمد۔

کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں خیال آیا کہ کوئي جعفر ابن محمد سے بھی افضل ہوسکتا ہے۔
امام مالک بن انس نے فرمایا کہ
کنت اذا نظرت الی جعفر ابن محمد علمت انہ میں سلالۃ النبیین وقد رایتہ واقفا عندالجمرۃ یقول سلونی سلونی
یں جب بھی جعفر ابن محمد پر نظر ڈالتاہوں تو سمجھ جاتاہوں کہ وہ پیغمبروں کی نسل سے ہیں ، میں نےخود دیکھا ہے کہ وہ منی کے ایک جمرے پر کھڑے ہوکر لوگوں سے فرماتے تھے کہ ان سے پوچھ لیں سوال کرلیں اور ان کے بے کراں علم سے فائدہ اٹھائيں۔
امام شافعی اور عشق اہل بیت
امام شافعی پر اہل بیت کے عشق کا اسقدر غلبہ تھا کہ خارجی ملّاؤں نے آپ کو رافضی قرار دے ڈالا ، امام شافعی نے اس فتوے کے جواب میں ایک رباعی لکھی
یا آل بیت رسول اللہ حبکم
فرض من اللہ فی القرآن انزلہ
یکفیکم من عظیم الفخر لکم
من لم یصل علیکم لا صلاۃ لہ
از کان رفضا حب آل محمد
فلیشہد الثقلان انّی رافض
اے رسول کے گھر والو ! تمہاری محبت
فرض کی اللہ نے قرآن میں جو اس نے نازل کیا
اور تمہارے لئے عظیم فخر کے طور پر یہی بات کافی ہے
جو تم پر درود نہ پڑھے نماز میں اس کی نماز نہیں
اور اگر حب آل محمد رفض ہے
تو سارا جہان جان لے کہ بے شک میں رافضی ہوں

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور عشق اہل بیت اطہار
امام احم بن حنبل اہل بیت اطہار سے بے حد وحساب عشق کرتے تھے اور آپ سے جب ” یزید ” کے بارے سوال کیا گيا تو آپ نے فرمایا کہ
مر ے نزدیک یزید کافر ہے
آپ نے فرمایا کہ جو اہل بیت اطہار سے محبت و مودت نہ رکھے وہ مسلمان نہیں ہوسکتا
آپ جب بھی اہل بیت اطہار کا زکر کرتے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رو ہوجاتے اور آپ کے روتے روتے ہچکی بندھ جایا کرتی تھی امام عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ میں ، امام محمد جریر طبری نے جامع التاریخ طبری میں ، امام ابن اثیر نے ” الکامل التاریخ ” میں لکھا ہے کہ جب بی بی سیدہ زینب بنت علی ابن ابی طالب اور امام سجاد زین العابدین کا اجڑا اور لٹا پٹا قافلہ دمشق سے مدینہ واپس پہنچا تو ام لقمان بن عقیل بن ابی طالب اپنے خاندان کی عورتوں کے ساتھ باہر آگیں اور آپ سب نے ملکر گریہ کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے
ماذا تقولون ان قال النبی لکم
ماذا فعلتم وانتم آخرالامم
بعترتی و باہلی بعد مفتقدی
منھم اساری و قتلی ضرجو بدم
ماکان ھذا جزائی ازا نصحت لکم
ان تخلفونی بسوء فی زوی رحمی
لوگو ! جب نبی کریم تم سے سوال کریں گے کہ تم نے کیا کیا جبکہ تم آخری امت تھے ، مری عترت ، مرے اہل خانہ کے ساتھ مرے گزرنے کے بعد ، ان میں سے کچھ کو قیدی بنالیا ، کچھ کو قتل کردیا اور ان کا خون بہایا ، میں جو تمہیں نصحیت کی تھی کہ مرے بعد مرے اہل بیت سے بدسلوکی نہ کرنا تو اس کا یہ صلہ اور جزا دی ہے
البدایہ والنھایہ جلد 8 ، ص 198 ، ابن اثیر جلد 4 ص 89

یہ ساری باتیں کن سے مروی ہیں آئمہ فقھا سے ، دیکھیں کہ وہ عشق اہل بیت کا اظہار بھی کررہے ہیں ، آپ کے دشمنوں پر لعنت بھی کررہے ہیں اور غم حسین و اہل بیت میں گریہ بھی کررہے ہیں ، رو بھی رہے ہیں اور واقعہ کربلاء کی یاد بھی منارہے ہیں تو عشق اہل بیت کا اظہار اس ڈر سے بند کردیا جائے کہ قاری حنیف ڈار ، سبوخ سید ، محمود عباسی ، جاوید غامدی جیسے خارجی الذھن لوگ ، فتنہ پرور اس پر آپ کو شیعہ کہہ دیں گے ، آپ کو رافضی کہہ ڈالیں گے تو کیا ایسا ان کے کہنے سے ” آپ کی سنّیت خطرے میں پڑ جائے گی ، اہلسنت کی صف سے آپ خارج ہوجائیں گے ، تو ان جیسوں کے کہنے سے کچھ فرق نہیں پڑے گا ، ایک ہندؤ مدح حسین کرتا ہے ، مرثیہ لکھتا ہے ، غم حسین میں آنسو بہاتا ہے تو کیا وہ ہندؤ نہیں رہتا ،

کیا وہ اتنا کہنے سے شیعہ ہوجائے گا ، ہندؤ شعراء نے نعتیں لکھیں تو کیا یہ لکھنے سے وہ ہندؤ نہ رہے مسلمان ہوگئے تو قاری حنیف ڈار ، جاوید غامدی ، ، سبوخ سید کو ہمارا غم حسین منانا ، ہمارے شہدائے کربلاء کو خراج تحسین پیش کرنا ، حسین رضی اللہ عنہ کی پیاس کو یاد یرکے آنسو بہانا ، گریہ گرنا ، ان کی شان یں مںظوم کلام پڑھنا ، واقعہ کربلاء کو مںظوم کرنا ، سبیل حسین لگانا ، ںیاز کے چاول بانٹنا ، حلوہ اور نان پر شہداء کربلاء کی ارواح کو ایصال ثواب کے ۂغے قرآن پڑھنا اور بانٹنا اگر برا لگتا ہے تو لگے ، ان کو یہ شیعت اور رافضیت لگتی ہے تو لگے مگر یہ شعار اہل سنت ہے ،

یہ فتنہ پرور لوگ جن کا ایجنڈا اظہار محبت رسول و اہل بیت اظہار کو ختم کرنا ، ان کے زکر و ازکار کی محافل کو ختم کرنا ہے اور وہ ہمیں زکر حسین کا طعنہ دیتے ہیں تو دیتے رہیں ، کیا ہم ان کے منفی پروپیگنڈے سے ڈر کر ” غم حسین ” کی محافل کا انعقاد بند کردیں ؟ کیا اپنے اسلاف آئمہ اہل سنت کی روایت کی پیروی نہ کریں ؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے عشق اہل بیت اطہار کی خاطر قید قبول کی ، اور وہاں سے اپنا جنازہ اٹھنا قبول کیا مگر عشق اہل بیت اور اس کے اظہار کو نہ چھوڑا ، امام مالک نے اپنی فقہ کو عباسی سلطنت کی سرکاری فقہ بنانا قبول نہ کیا کہ کہیں عباسیوں سے ان کی وابستگی نہ ثابت ہو اور اس طرح سے آغمہ اہل بیت سے اپنا عشق ثابت کیا ،

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اوپر رافضی ہونے کی تہمت برداشت کی مگر عشق اہل بیت کا اظہار نہ چھوڑا تو ہم اہل سنت کیوں اپنا طریق چھوڑیں ، کیوں نا غم حسین کی محافل کا انعقاد کریں ، کیوں نہ برسر منبر قاتلان حسین پر لعنت کریں ، کیوں ہم گریہ نہ کریں ، کل اولیاء ، ، ابدال ، قطب ، غوث ، ولی مرتبہ ولایت نہیں پاسکتا جب تک اس کی ولایت کو سیدہ فاطمۃ الذھراء کی توثیق نہ لے ، کوئی شان ولایت کو نہیں پاسکتا جب تک مولا علی شیر خدا کی مہر نہیں لگتی کیونکہ وہی تو امام ولایت اور فاتح الولایت ہیں تو محبت و مودت اہل بیت ، اظہار عشق اہل بیت یہ صرف اہل تشیع کا شعار نہیں ہے بلکہ اہل سنت کا بھی ایمان ہے ، کوئی مکتبہ فکر ہو خواہ شیعہ ہو یا سنّی ہو ، جس کی نسبت تاجدار کائنات کے ساتھ ہے ، جو صاحب ایمان ہے وہ آقا علیہ السلام اور اہل بیت اطہار کی محبت اور اظہار کے بغیر مومن رہ ہی نہیں سکتا

ابو نعیم نے روایت کیا ہے کہ قاتلان حسین ایک منزل پر سر حسین نیزوں پر چڑھائے شراب پی رہے تھے کہ پردہ غیب سے ایک آہنی قلم نمودار ہوا اور اس نے خون سے یہ اشعار لکھے
اترجو امۃ قتلت حسینا
شفاعۃ جدہ یوم الحساب
اے گروہ قاتلان حسین

کیا اب بھی تجھے امید ہے کہ حسین کے نانا کی یوم قیامت تجھے شفاعت نصیب ہوگی اللہ تعالی کروڑ ہا سلام اور رحمتیں نازل کرے امام حسین ان کے اہل اور ان کے اصحاب پر اور اللہ ان پر اپنی لعنت کرے جنھوں نے امام حسین ، آپ کے اہل اور آپ کے اصحاب کو شہید کیا

About the author

Guest Post

2 Comments

Click here to post a comment
  • جس کسی کو یہ شک ہے کہ تقلید حرام ہے تو وہ کسی بھی حدیث کو اپنی تحقیق سے صحیح صابت کر کے دکھا دے میں مان جاوں گا کہ تقلید حرام ہے اگر غیر مقلد بھی اپنی بیان کی ہوئی حدیث کی صند امام بخاری سے لیتے ہیں تو وہ بھی مانیں کہ وہ بھی مشرک ہیں کیونکہ وہ امام بخاری کی تقلید کر رہے ہیں

  • Brelvi hazrat kabi bi ahl a sunat ni ho sakta, kyon k wo gustakh a rasool hen, wo bry dheet or maqaar hen, aashiq a rasool kahlvaty hen or Piary Nabi pak k nalen mubark k naam par joty p salaat or Nabi pak ka naam likh k apny gustakhana saboot dy rhy hen.