Original Articles Urdu Articles

ایران اور تشیع – امجد عباس

amjediran_main_languages

اِس میں کوئی شک نہیں کہ ایران میں اثنا عشری شیعہ حکومت قائم ہے۔ جیسے طالبان نے اپنے دور میں افغانستان کا حکومتی مذہب “حنفی” قرار دیا تھا ایسے ہی ایران میں حکومتی مسلک “فقہِ جعفریہ” کو قرار دیا گیا ہے۔ شیعہ حضرات کی تعداد بھی وہاں 80/90 فیصد تک ہے۔

ایک بات قابلِ غور ہے کہ آج قومی ریاستیں وجود رکھتی ہیں۔ ایران بھی ایک ریاست ہے۔ ریاستوں کا مذہب اور مسلک نہیں ہوتا۔ یہی صورتحال ایران میں بھی ہے۔ ایران کی بحیثیتِ ملک، اپنی پالیسیاں ہیں، قطع نظر صحیح اور غلط ہونے کے، اِن پالیسیوں کا تعلق ریاستی مفادات سے ہوتا ہے۔ ایسے میں ایرانی حکومت کی ہر قومی پالیسی کو شیعہ مسلک کی پالیسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایران، شیعہ فقہ کا ترجمان نہیں نہ ہی پوری دنیا کے شیعوں کا ترجمان و پاسبان۔

پوری دنیا کے شیعہ ایران سے شیعہ سٹیٹ ہونے کے ناطے لگاؤ بھی نہیں رکھتے، ہاں کچھ لوگوں کو اس حوالے سے ضرور عقیدت ہو سکتی ہے، لیکن سبھی شیعہ حضرات کا موقف ایسا نہیں ہے۔

ایران اگر پوری دنیا کے شیعوں کا ترجمان یا قائد ہے تو پوری دنیا کے شیعہ حضرات کا وہاں داخلہ مفت ہونا چاہیے جبکہ میں احباب کو بتاتا چلوں ایرانی ویزا پالیسی سب کے لیے برابر اور انتہائی سخت ہے، میں خود دو سال تک ایران نہیں جا سکتا (کیونکہ کم از کم عمر 30 سال شرط ہے)۔

ایسے میں ہمارے دوستوں کا ایران کو شیعیت کا ترجمان سمجھ لینا، یا ایران اور تشیع کو برابر سمجھنا نادرست ہو گا۔

تشیع عالمی سطح پر پایا جانے والا اسلامی مسلک ہے، اسے جغرافیائی حدود میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ مذاہب کی تعلیمات کا تعلق انسانی اخلاقی اقدار سے ہوتا جبکہ ممالک کی پالیسیوں کا تعلق ریاستی مفادات سے۔ اہلِ تشیع پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔

میں ذاتی طور پر ایران کو سعودی عرب کی طرح ایک خالص قومی ریاست سمجھتا ہوں، جیسے سعودیہ دنیا بھر کے اہلِ سنت، بلکہ خود اہلِ حدیث (حنابلہ) کا ترجمان و نمائندہ نہیں ، بلکہ ایک ریاست ہے، جس کے باشندوں میں شیعہ بھی ہیں، اور اُن کے وہی حقوق ہیں جو وہاں کے ایک وہابی کے، ایسے ہی ایران ایک ریاست ہے جہاں سبھی شہریوں کے حقوق برابر ہیں۔

یہ دونوں ممالک اپنے شہری کے علاوہ اپنے ہم مسلک کو شہریت نہیں دیتے نہ مفت میں داخلہ کی اجازت دیتے ہیں۔

ہمارے دوستو! ہم پاکستانی ہیں۔ یہ ہمارا اپنا وطن ہے۔ اس کی نظر میں سبھی شہری برابر ہیں۔ ایسا ہی دیگر ممالک کا حال ہے۔

ایران شیعیت کا ترجمان و قائد نہیں نہ سعودیہ سنیت کا ترجمان و قائد۔

اِن کی پالیسیاں اپنے ریاستی مفادات پر استوار ہوتی ہیں نہ کہ مسلکی مفادات کے پیش نظر۔ اِن دونوں پر تنقید کو مسالک پر تنقید نہ سمجھا جائے۔

شاید کہ تیرے دل میں اُتر جائے مری بات!