Original Articles

Ghamidi is on a project to do the propaganda on behalf of Taliban/ISIS – Peja Mistri

ghamidighamdi1

For those, although I know they are only deobandi atheists/seculars, who think Ghamidi is some sort of a modern molvi with views ‘against’ extremism must remember few things about him:
1. Ghamidi subscribes to the same ideology which Taliban/ISIS molvis subscribe i.e. Wahabi sect.
2. He is simply an extremist Wahabi who follow ibn-e-Tamiya and Muhammad bin Abdul Wahab’s corrupt and heinous Islam.
3. He was a khateeb in a mosque in Lahore in Zia days and was considered a very bad guy ( a pedophile ).
4. He worked with the people like Moododi and Ameen Islahi both corrupt to the core ‘scholars’ particularly in their moral character.
5. He practices doctrine of best deception which means that in the way of Allah you can use all types of lies, deciets. He was trained in this by Ameen Ahsan Islahi himself.
6. People ask me but he is against Taliban ideology? I tell them his difference with them, first of all is according to the doctrine of best deception which means he can revert to correct Aqeeda at anytime(these are his own words). Secondly in his own words, his difference with Taliban is not because what Taliban do is wrong, in fact what Taliban practice is the real Islam of the salaf (سلف). What he wants is to find a way to align it with the realities of the world, until Muslims start ‘ruling’ the world again. For this purpose his job is to create a smoke screen and confusion such that people who are against Taliban think that he is against them, while Taliban get the recognition as real Islam in the eyes of common Muslims.
7. I call him Saleem Safi of molvis who apparently talks against Taliban but has deep rooted ties with them. His job is to create a softer image of Taliban in the media.

These days Ghamidi is on a project to do the propaganda on behalf of Taliban/ISIS whose objectives are;

A) Tell the common Muslims particularly Muslim youth in the West and developing Muslim countries that the heinous Islam that Taliban/ISIS follow is the real Islam and is accepted by all sects.

B) In the name of current narrative, he is striving to prove to youth that the ugly Islam in which they slit throats, kill children, burn the religious places of other religions, enforce Sharia, and all those heinous acts which are condemned by the civilised world are indeed committed by none other then Muhammad and his companions. He ‘proves’ that this version of Islam is what is agreed by all the sects.

C) With his twisted logic and deceptive arguments he ensured that youth grown up in west start accepting the crimes of Taliban/ISIS as part of Islam practiced by all the sects.

D) Then his objective is to ensure that Taliban are considered as good or bad as any other Muslim. In fact this is one of his primary objective. As it serves both purposes for non-muslims it blurs the boundaries between Islamism and Islam. And for Muslim youth it ensures that they can be easily recruited in the fold of Taliban for terrorists activities.

I have predicted that very soon Malaysia will become the biggest seeding ground for terrorists. Ghamdi has been sent there to prepare a new generation of terrorists to play havoc with the world.
World must remember that Afghanistan and Pakistan were relatively poor countries and the terrorists trained their could do only 9/11,7/7. Malaysia, US, UK are rich countries, a terrorist generation from there could easily by a danger to the whole human civilisation.

About the author

Guest Post

1 Comment

Click here to post a comment
  • جاوید احمد غامدی، طرز کہن اور طریق کوہ کن….
    علی ارقم

    مولانا مودودی کی کتاب اسلامی ریاست کی جو کاپی ہمارے بڑے ماموں کی لائبریری میں تھی اس کی جلد بندی میں غلطی ہوگئی تھی اس لئے جب آپ کتاب کھولتے تو وہ الٹی ہوتی، جب جماعت اسلامی والے ان سے سابق ساتھی ہونے کی بنیاد پر چندہ لینے آتے تو وہ کتاب اٹھا کے دکھاتے کہ مودودی صاحب کی اس کتاب کی جلد بندی تمھارے ظاہر وباطن کے فرق کی عکاس ہے۔
    بہر حال سابق جماعتی ہونے کی بنا پر ماموں کی مودودی صاحب کے بارے میں خوش گمانی اب بھی ہے بلکہ وہ تو کوثر نیازی صاحب کی آخری عمر کی زندگی میں تنہا رہ جانے کو مودودی صاحب کی بددعا کا نتیجہ ہی گردانتے ہیں ۔ کم و بیش یہی حالت دبستان مودودی کے خوشہ چینوں کی اکثریت کا ہے کہ ان میں سے نہ تو مولانا کی عقیدت جاتی ہے نہ ہی ان جیسی عادات ، بلکہ پوری جماعت اسلامی ہی ان عادات کا مرقع ہے
    جماعت اسلامی کی بابت بات کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں سردست ان کے دبستان کے ایک اور خوشہ چیں کی کرتے ہیں
    ہمارے جاوید احمد غامدی صاحب جو پرویز مشرف کے زمانے پر ٹی وی و الیکٹرانک میڈیا کے منبر پر ہمہ وقت ایستادہ نظر آتے تھے پھر فضا بدلی تو راندہ درگاہ ٹھہرے پھر بھی گاہے گاہے نظر آہی جاتے ہیں اور اب پھر فضا بدلنے کی نوید سنائی دیتی ہے اور برادرم ندیم فاروق پراچہ کو جنرل مشرف کے بعد ایک مرتبہ پھر راحیل شریف کی صورت میں بیانیہ بدلتا نظر آرہا ہے جس میں خالد احمد بھی ان کے مویّد ہیں اسی بدلتے منظر نامے میں غامدی صاحب بھی پھر سے ابھرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
    غالباً سہ ماہی تاریخ میں ایک مضمون پڑھا تھا کہ کس طرح سے مختلف فوجی حکمرانوں کو ڈاکٹر فضل الرحمٰن ، میاں طفیل ، ڈاکٹر اسرار وغیرہ کی صورت میں ایسے ہم نشینوں کا ساتھ حاصل رہا ہے جو مذہبی فکر کے میدان میں ان فوجی طالع آزماوں کے رجحان یا ضرورتوں کے نمائندہ رہے ہیں۔ اسی ضمن میں ہمارے دوست شہریار علی جاوید احمد غامدی صاحب کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا نیا پوپ قرار دیتے رہے ہیں
    غامدی صاحب اگرچہ محولہ بالا لسٹ میں موخرالذکر دو ناموں یعنی میاں طفیل اور ڈاکٹر اسرار سے بہت مختلف ہیں اگر چہ ڈاکٹر فضل الرحمان جیسے تبحر علمی سے بہرحال محروم ہیں البتہ روایتی مذہبی طبقے اور سیاسی مذہبی فکر کے حاملین کی ناپسندیدگی میں وہ ضرور ڈاکٹر فضل الرحٰن کے ہم سر ہیں ۔
    چوں کہ غامدی صاحب علمی حوالے سے پوسٹ اسلامسٹ ہیں اس لئے ان کا طرز فکر بھی نسبتاً متوازن ہے۔ اسی لئے سیاسی مذہبیت کی نمائندہ جماعتوں کے مخالفین یعنی لبرل احباب میں پسند بھی کئے جاتے ہیں اسی لیئے اس پسندیدگی کا جواب دیتے ہوئے وہ اس طبقے کے سیاسی رجحانات کے تحت آراء کے اظہار یعنی پاپولر پرسیپشن (مقبول تاثر) کا ساتھ دینے میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں ایسا کرتے ہوئے وہ اپنے ماضی کے برعکس رائے کے اظہار سے بھی نہیں چوکتے بلکہ کبھی کبھی تو حقیقت کے برخلاف وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ماضی میں بھی وہ یہی کہتے رہے ہیں جس کی ایک مثال جنرل ضیا الحق کے حوالے سے ان کی رائے ہے جیسے ایک ٹی وی پروگرام میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا. . .
    میں نے اس زمانے (روس افغان جہاد ) میں بھی اس طرف بڑی شدت سے توجہ دلائی تھی کہ ہم اپنے وجود میں بارود بھر رہے ہیں اور اپنی قبر کھود رہے ہیں . . . میرے نزدیک اصل جرم امریکا نے کیا کہ مذہبی بنیادوں پر لوگوں کو منظم کیا اور اس وقت کی اسٹبلشمنٹ نے کیا…. میں ہمیشہ یہی کہتا رہا ہوں۔ (سما ٹیلی ویژن ۔غامدی کے ساتھ ۔ 28 فروری 2014 اور اشراق…. ستمبر 1988
    جبکہ جنرل ضیا الحق کی موت پر ان کا ردعمل کچھ یوں تھا
    ”یہ قوم ان (جنرل ضیا) کی ہر بات فراموش کر سکتی ہے لیکن جہاد افغانستان کے معاملے میں جس طرح وہ اپنے موقف پر جمے رہے اور فرزندان لینن کے مقابلے میں حق کا علم بلند کیے رکھا، اسے اب زمانے کی گردشیں صبح نشور تک ہمارے حافظے سے محو نہیں کر سکیں گی۔ (اشراق ستمبر 1988
    لیکن ہمارا انتخابی معیار شاید حمید گل اور شجاع خان زادہ کی طرح اس معاملے میں بھی اس رائے کو فراموش کرنے کو تیار ہے جو کہ شاید درست بھی ہوتا اگر آج وہ اس حوالے سے اپنی رائے کے بارے میں معذرت خواہانہ انداز یا صریح جھوٹ کے بجائے دیانت دارانہ انداز میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے، جو ایک علمی شخصیت کے شایان شان بھی ہے
    اسی طرح جب پچھلے سال جب غامدی صاحب نے طالبان کی خون ریزی اور گلے کاٹنے کو قبائلی علاقے کے پختونوں کے کلچر کا حصہ ٹھہرایا اور اس پر پشتون دوستوں نے احتجاج کیا تو بھی غلطی کا اعتراف کرنے کی بجائے حیلے اور عذر تراشنے کے رویئے کا مظاہرہ کیا گیا۔
    پھر مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اس امر پر بات کی جائے تو ان حضرات کے بہت سے وکیل سامنے آجاتے ہیں جو اصل بات کے بجائے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ اینٹی ملا ہیں آپ ان کی مخالفت کیوں کرتے ہو تو بھائی آپ کے توازن فکر کے لئے یہ دلیل بہرحال کافی نہیں ہے کہ دراصل کٹ حجتی اور اپنی بات پر بے جا اصرار بھی تو وہی رویے ہیں جن پر ملاوں کو متہم کیا جاتا ہے، پھر امتیاز کا دعویٰ کیسا؟

    http://dunyapakistan.com/31425/ali-arqam/#.Vk6oHd_hDBJ