Original Articles Urdu Articles

مئے لانا اشرفی کی پروفائل :فساد افغانستان کا پیدل سپاہی سے کمرشل لبرل مافیا کی ڈارلنگ بننے تک

commercialashrafi497217-TahirAshrafiINP-1358833430-553-640x480

شراب نوشی کو میٹھا پان کھانے سے تشبیہ دینے والا محمد طاہر اشرفی جب 12 سال کا تھا تو اس نے افغانستان میں برسرپیکار حرکت الجہاد الاسلامی میں شمولیت اختیار کرلی اور پھر اس تنظیم کی طرف سے اس نے افغانستان میں لڑائی لڑی اور یہ 1982ء کا سال تھا –

حرکت الجہاد الاسلامی افغان جہادی تنظیموں میں سعودی عرب کی سب سے پیاری اور عزیز ترین تنظیم تھی اور اسی تنظیم سے جلال الدین حقانی، یونس خالص اور پھر سیف اللہ اختر کا تعلق تھا اور یہی سیف اللہ اختر بعد ازاں کشمیری گروپ حرکت الانصار اور پھر جیش محمد کی تشکیل میں اہم کردار بنا اور ان تنظیموں نے سب سے زیادہ جہادی کیڈر لشکر جھنگوی کو فراہم کئے اور ان کی سپاہ صحابہ پاکستان / اہلسنت والجماعت کے ساتھ سب سے گہرے نظریاتی رشتے بھی استوار ہوئے اور یہی لوگ پاکستان کے اندر سنی بریلوی، شیعہ، احمدی، کرسچن پر حملوں میں ملوث رہے،

طاہر اشرفی نے درس نظامی جامعہ اشرفیہ لاہور سے کیا اور اسی دوران اس کی دوستی زاہد القاسمی سے استوار ہوئی اور یہ وہی زاہد القاسمی ہے جس کا والد ضیاء القاسمی سپاہ صحابہ کے بانیوں میں سے تھا اور آخری دم تک یہ سپاہ صحابہ پاکستان کی سپریم کونسل کا چئیرمین رہا اور ظاہر اشرفی اور زاہد القاسمی بھی سپاہ صحابہ سے منسلک ہوگئے اور جب مشرف دور میں سپاہ صحابہ پاکستان زیر عتاب آئی تو طاہر اشرفی اور زاہد القاسمی سمیت سپاہ صحابہ پاکستان سے وابستہ کئی مولویوں نے اپنے اوپر نقاب چڑھایا اور دکھاوے کے لئے یہ جھوٹے امن کے پیامبر ہوگئے –

اور اس آڑ میں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے لوگوں کو کور فراہم کرنا شروع کردیا اور طاہر اشرفی اور زاہد القاسمی دونوں کے دونوں شیعہ اور احمدیوں کے خلاف منظم مہم چلاتے ہیں اور ان کی بنائی ہوئی پاکستان علماء کونسل بظاہر امن اور مذھبی ہم آہنگی کی علمبردار ہے مگر ایک طرف تو یہ طالبان، لشکر جھنگوی وغیرہ کی حمائت کرتی ہے تو دوسری طرف یہ سعودی عرب کی ایک پٹھو تنظیم کے طور پر کام کرتی ہے اور یہ اشرفی تھا جس نے ملک اسحاق کی رہائی میں کردار ادا کیا،

طاہر اشرفی ہیوی مشینری کی خرید و فروخت سے کیسے وابستہ ہوا اور اس کے لئے درکار اتنا سرمایہ کہاں سے آیا یہ بھی ایک ملین کا سوال ہے، طاہر اشرفی اپنے تکفیری و خوارجی نظریات کے باوجود مینسٹریم میڈیا پر ایک ماڈریٹ مولوی کے طور پر پروجیکٹ ہوا اس حقیقت کے باوجود کہ اشرفی اور اس کے ساتھی شیعہ کو کافر بتلاتی رہے ہیں